Extraordinary



  • @sheranwala2016 jee

    I lived in Karachi for a long time, but that was the time when I was unwise.

    0_1484141532790_586d7a303c8e5.jpg



  • 0_1484141870879_5854839dd0b7e.jpg



  • Extraordinary PCB, selectors and players of Pakistan cricket

    پاکستانی کرکٹ کا نقطۂ انجماد

    ایک کھلاڑی سنہ 2003 میں ڈیبیو کرتا ہے اور اپنے کریئر کے پہلے دو سال ایک ہی تکنیکی خامی کے سبب با رہا آؤٹ ہوتا ہے۔ جب کرکٹ کی دنیا کی ہر ٹیم اس کی خامی کا بھرپور فائدہ اٹھا لیتی ہے تو اسے ڈراپ کر دیا جاتا ہے۔
    وہ واپس ڈومیسٹک کرکٹ میں آتا ہے اور ایک ہی سیزن میں رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیتا ہے۔ سلیکٹرز اس کی پرفارمنس کے پیش نظر اسے دوبارہ موقع دیتے ہیں۔ وہ پھر کچھ اچھی اننگز کھیلتا ہے مگر وہ تکنیکی خامی جوں کی توں رہتی ہے۔

    وہ پھر ڈراپ ہو جاتا ہے، پھر ڈومیسٹک میں آتا ہے، پھر رنز کے انبار لگاتا ہے، پھر سلیکٹ ہوتا ہے، پھر کچھ اننگز کے بعد فیل ہوتا ہے، پھر ڈراپ، پھر ڈومیسٹک، پھر سلیکشن، پھر ڈراپ اور پھر یہی سائیکل چلتا رہتا ہے۔
    جب وہ چار پانچ بار اس سائیکل سے گذر جاتا ہے تو وہ عمر کے اس حصے میں داخل ہو چکا ہوتا ہے جہاں پرفارمنس کی بجائے محض عمر کا لحاظ کر کے اسے ٹیم کا مستقل حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ پھر وہ پرفارم کرے یا نہ کرے، اسے کوئی فرق پڑتا ہے نہ اسے بار بار سلیکٹ کرنے والوں کو۔
    یہ وہ گھن چکر ہے جس میں پاکستان کرکٹ نجانے کب سے مسلسل گھومے جا رہی ہے۔
    آپ کو یاد ہے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2007 کے فائنل میں محمد حفیظ کیسے آوٹ ہوئے تھے؟
    آؤٹ سوئنگ، پاوں کریز میں منجمد، بیٹ ہوا میں اور گیند سلپ فیلڈر کے ہاتھ میں۔
    آپ کو یاد ہے ڈیل سٹین جیسا غصیلا بولر اپنے کریئر میں پہلی بار آن فیلڈ ہنسنے پر کیوں مجبور ہوا تھا؟
    آؤٹ سوئنگ، محمد حفیظ کریز میں منجمد، بیٹ ہوا میں، کیچ سلپ میں۔

    لیکن سٹین کی ہنسی کی وجہ یہ نہیں تھی کہ کوئی مستند بیٹسمین اتنی آسانی سے آؤٹ ہو گیا بلکہ وجہ یہ تھی کہ ایک ہی شخص، ایک ہی طرح کی گیند پر، ایک ہی بولر کے ہاتھوں 13 ویں بار آؤٹ ہو گیا اور اس ہنسی کے بعد سٹین نے اپنا منہ اس لیے چھپایا تھا کہ اس شخص نے صرف سٹین سے بچنے کے لیے اس میچ میں بیٹنگ آرڈر تک بدل دیا تھا مگر ہونی ہو کر رہی۔

    حفیظ کا کریئر پاکستان کرکٹ کا استعارہ ہے۔ جو کیفیت حفیظ کی اپنی کریز میں ہوتی ہے، وہی کیفیت کئی دہائیوں سے پاکستان کرکٹ پر طاری ہے۔
    دنیا بھر کی کرکٹ بدل گئی مگر پاکستان آج بھی ماڈرن کرکٹ کی کریز میں منجمد کھڑا باہر جاتی گیندوں کا پیچھا کر رہا ہے اور بار بار کی ناکامی کے باوجود اپنا جمود توڑنے کو تیار نہیں۔
    آج کیا ہوا؟
    ون ڈاؤن پر متواتر اچھی کارکردگی دکھانے کے باوجود بابر اعظم کو چوتھے نمبر پہ اس لیے بھیجا گیا کہ موصوف کی ٹیم میں جگہ بن جائے۔ مگر موصوف نے نہ تو اپنی بزرگی کی لاج رکھی نہ بابر کے ایثار کی۔
    آؤٹ سوئنگ، پاوں کریز میں منجمد، بلا ہوا میں، گیند سلپ میں اور دنیائے کرکٹ آج بھی ایک تاریخی اننگز دیکھنے سے محروم رہ گئی۔
    اتنا مستقل مزاج بیٹسمین اس وقت دنیا کی کسی اور ٹیم کے پاس نہیں ہے جو آج بھی اسی تکنیکی خامی کے سبب آؤٹ ہوتا ہو جس کی بنیاد پر اپنے 14 سالہ کریئر کے پہلے سال میں آؤٹ ہوتا تھا۔
    آپ وکٹ بدل لیں، بولر بدل لیں، فیلڈنگ بدل لیں، کیلنڈر بدل لیں، ہر ہر عہد میں آپ کو محمد حفیظ ایسے ہی آؤٹ ہوتے دکھائی دیں گے، ڈراپ ہوتے دکھائی دیں گے اور پھر کم بیک کر کے یہی سب کچھ کرتے دکھائی دیں گے۔
    اور صرف ایک حفیظ پر ہی کیا موقوف، عمر اکمل نے بھی آج کم بیک کیا اور حسب توقع پھر وہی کیا جس کی بنیاد پہ وہ ڈراپ ہوتے ہیں، غیر ذمہ دارانہ شاٹس۔

    عمر اکمل کا یہ ریکارڈ رہا ہے کہ وہ کبھی بھی ٹیم میں مسلسل ایک سال نہیں نکالتے۔
    سوال یہ ہے کہ کم بیک کروانے کی وجہ کیا ہوتی ہے؟ ڈومیسٹک میں پرفارمنس؟
    لیکن ایسی ڈومیسٹک پرفارمنس کا کون سا اچار ڈالا جائے کہ جس میں رنز کے انبار تو لگتے ہیں مگر تکنیک جوں کی توں رہتی ہے۔
    ایک طرف تو ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان ون ڈے کرکٹ میں اپنی اپروچ بدلنے کی راہ پر ہے، اسی لیے مکی آرتھر کو لایا گیا اور اسی کار خیر کی کامیابی کے لیے اظہر کو قیادت سے ہٹانا بھی ضروری ہے۔
    دوسری جانب یہ عالم کہ وہی آزمودہ چہرے بار بار کم بیک کرتے ہیں اور بغیر کسی بہتری کے دوبارہ ٹیم کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں۔
    پاکستان کو یہ معلوم ہی نہیں کہ انھیں اپنی اپروچ میں بدلاؤ لانے کے لیے کرنا کیا ہے۔
    ایک جانب نئے پلیئرز کو لانے کی بات ہوتی ہے تو دوسری جانب وہی گھسے پٹے کریکٹر ہر بار بلاوجہ کہانی میں شامل ہو جاتے ہیں۔
    ایک طرف جارحانہ کرکٹ کھیلنے کی بات ہوتی ہے تو دوسری طرف 40 ویں اوور میں پوری ٹیم پھڑک جاتی ہے۔ ایک طرف فٹنس پر 'نو کمپرومائز' کا نعرہ لگایا جاتا ہے تو دوسری طرف پلئینگ الیون کی دو تہائی اکثریت کا وزن ان کے وجود سے زیادہ دکھائی دیتا ہے۔
    مکی آرتھر نے اس دورے سے پہلے ارشاد کیا تھا کہ وہ اس دورے کی کارکردگی کو بنیاد بنا کر سنہ 2019 میں کھیلے جانے والے کرکٹ کے عالمی کپ کی تیاری کا آغاز کریں گے۔
    سوال یہ ہے کہ اگر اس سیریز کا مقصد آج سے دو سال بعد کی تیاری تھی تو ایک 37 سالہ پلئیر کو کم بیک کرانے کا مقصد کیا تھا؟
    0_1484329770913_1.jpg0_1484329848828_1.jpg


Log in to reply