چوتھے ون ڈے میں انگلینڈ کی شکست



  • <span></span><span><span></span><FONT face="Times New Roman">کرکٹ راما کرکٹ کرشنا</FONT></span><span></span><span><span></span><FONT face="Times New Roman"> <span>چوتھے ون ڈے میں انگلینڈ کی شکست کے بعد<?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" /><o:p></o:p></span></FONT></span>

    <span><FONT face="Times New Roman">ہر آنے والے دن کے بارے میں میں ہمیشہ مثبّت اور تعمیری سوچ لیکر اٹھتا ہوں،اور نماز فجر کے بعد اللہ پاک کے حضور میں اور میرے جیسے ہی پاکستانیوں کی اکثریت صدق دل سے اس بات کی دعا کرتی ہے کہ پاکستان کی سیلاب اور دوسری معاشی، مالی اور اخلاقی مسائل میں گھ<span><span></span><FONT face="Times New Roman">کرکٹ راما کرکٹ کرشنا</FONT></span><span><span></span><FONT face="Times New Roman"> <span>چوتھے ون ڈے میں انگلینڈ کی شکست کے بعد<?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" /><o:p></o:p></span></FONT></span> ری ہوئی اس مجبور قوم کومشکلات سے نجات دلا۔ لیکن ہوتا کیا ہے کہ ہر روز کوئی نئی اور پہلے سے زیادہ بھیانک خبر آپکے انتظار میں پہلے سے موجود ہوگی،جو کہ آپ کے لیئے بیڈ ٹی اور صبح بخیر کا فریضہ سرانجام دیتی ہے،اب تو یہ قوم فکر نہ کر غم نہ کر کے فلسفے پر عمل پیرا رہتے ہوئے ایسی خبروں کی اس حد تک عادی ہو گئی ہے کہ حکومت وقت کی طرح چھوٹے چھوٹے مسائل اور چھوٹی چھوٹی خبروں پر پریشان ہونا ختم کردیا ہے، مثال کے طور پر امریکہ کے پاکستانی علاقوں میں دہشتگردی کے خاتمہ کے نام پر ڈرون حملوں میں ایک تواتر سے اضافے کے باوجود حکومت وقت کی مسلسل اور پراسرار خاموشی،کسی وزیر کی مالی بدعنوانی کے انکشاف کے باوجود عہدے پر برقرار رہنا، تیل،چینی، آٹے، گوشت سبزی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پر عوام کا "مٹی پاؤ کام چلاؤ " کا انداز ۔ لیکن ان تمام کارناموں کے باوجود یہ چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو ترسے ہوئے عوام کو جب کسی کرکٹ میچ میں کامیابی پر اس طرح خوش ہوتےدیکھتا ہوں،تو یہ معسوس کرکے خوش ہوتا ہوں کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس قوم میں ابھی بھی اچھے اوربرے، غم اور خوشی اور نفع و نقصان کو پرکھنے کی حس موجود ہے، لیکن شائد ملکی اشرافیہ کو اندرون ملک اورغیر ملکی اشرافیہ کو بیرون ملک اس عوام کی خوشی ہرگز قابل قبول نہ<span><span></span><FONT face="Times New Roman">کرکٹ راما کرکٹ کرشنا</FONT></span><span><span></span><FONT face="Times New Roman"> <span>چوتھے ون ڈے میں انگلینڈ کی شکست کے بعد<?xml:namespace prefix = o ns = "urn:schemas-microsoft-com:office:office" /><o:p></o:p></span></FONT></span> یں،اور انہوں نے اوچھے ہتھکندوں کا سہارا لینا شروع کر دیا۔ جب پاکستان نے آسٹریلیا کو پندرہ سال کے بعد ایک تیسرے ملک میں شکست دی تو ان نام نہاد اشرافیہ نے آنکھیں کھولی، کیونکہ یہ ان کے سکوت کے سمندر میں پہلا پتھر تھا،پھر اس کے بعد جب انگلینڈ میں انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ جیتنے کیبعد لگاتار دوسرا ٹیسٹ میچ جیت کر سیریز برابر کرنے کی پوزیشن میں آئے، اورگوروں نے یہ محسوس کر لیا کہ آصف اور عامر کو کھیلنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں،یا دوسرے معنوں میں یہ ماضی کے غلام ان کی ان کے گھر میں ہی درگت بنا رہے ہیں تو یہ توہین ان سے برداشت نہ ہو سکی اور آدم بو آدم بو کی مانند ان متعصب لوگوں نے فکسنگ بو فکسنگ بو کا نعرہ بلند کردیا، بالکل اس طرح جیسے ماضی میں وقار اور وسیم کی جوڑی پرعتاب نازل ہوا تھا،اور یا پھر عمران خان کے خلاف ایان بوتھم اورایلن لیمب کا مقدمہ اور اس میں انکی رسوائی زمانے کے سامنے ہے،لیکن شرم تم کو مگر نہیں آتی۔ اور اس مقولے پر گامزن رہتے ہوئے ایک بار پھر الزام الزام کا کھیل شروع کردی ۔ اور ثبوت کے طور پر دو ایسی وڈیوز کو سامنے لیکر آئے ،کہ جن کے بارے میں صرف اتنا کہہ دینا ہے کافی ہوگا، کہ بقول ایک پرانی اردو کہاوت کے کہ " <span> </span><span> </span>فقیر کے کشکول میں پڑے ہوئے سکے اور طوائف کی گود میں پلنے والے بچے کے صیح ورثاء کے بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں ہوتا"۔ بالکل یہ ہی صورتحال ہے ان جعلی اور بے نامی وڈیوز کی ہے، کیونکہ اگر ان وڈیوز کا<span> </span> تفصیلی جائزہ لیا جائے تو کئی قسم کے شبہات اور تحفظات جنم لیں گے،مثال کے طور پر جب بس میں رقم کا لین دین ہو رہا تھا تو کیمرہ اس بات کا پتہ دے رہا ہے کہ یہ تصویر کوئی تیسرا<span> </span> شخص بنا رہا ہے 'یا یہ کیمرہ بس کے پچھلے حصے میں نصب تھا ، دوسرے اس بات کا کس طرح تعین ہوا تھا کہ رقم لینے اور دینے والے کس طرح کیمرے کی رینج میں آنیوالی نشستوں پر براجمان ہونگے،تیسرے اگر یہ بس پلیئرز کے لیئے مخصوص تھی تو یہ حضرات اس میں سوار کس طرح ہوئے؟اور ان کے سوار ہوتے وقت ہوٹل سکیورٹی اور پلیئرز سکیورٹی آفیشل کہاں تھے؟ اور اگر یہ آفیشل موجود نہیں تھے تو یہ بھی تو میچ فکسنگ کیجانب پہلا قدم ہو سکتا ہے۔ اور اگر یہ ٹوپی ڈرامہ کسی پرائیویٹ بس کا ہے تو دونوں حضرات ایک سیٹ پر ہی کیوں نہیں بیٹھے، اور آخر<span> </span> اس دلالوں والی حرکت<span> </span> کے لیئے بس کا ہی انتخاب کیوں کسی طوائف کا چوبارہ کیوں نہیں؟ چوتھے ان ترقی یافتہ ممالک میں<span> </span> خودکارڈیجیٹل ٹائم ریکارڈ کا نظام اسقدر اہمیت کا حامل ہے کہ سکیورٹی خدشات کے تحت لگائے گئے ہر کیمرے میں دن، تاریخ اور ٹائم بمعہ سیکنڈوں اے ایم اور پی ایم <span> </span>کے ریکارڈ کرنے کا ایک خودکار نظام موجود ہوتا ہے،جبکہ اس وڈیو میں یہ وصف ومجود نہ تھا،اور اس بات کا ثبوت اس سے بڑا اور کیا ہو سکتا ہے کہ برطانیہ میں 2005/7/7 کے واقعات کو کو ن بھول سکتا ہے جب بقول ان کے سی سی ٹی وی کے ٹائم ریکارڈر کے مطابق پہلا دھماکہ صبح 8:50 اور دوسرا دھماکہ صبح 9:47 منٹ پر ہوا، اسی طرح 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ناکام حملہ 12:17:37 پر ہوا،اور 11/9 کا ہولناک واقعھ صبح 8:46 اور 9:03 پر ہوا، اور اس خود کارٹائم ریکارڈنگ کا طریقہ کار ایک ایسا سچ ہوتا ہے ،جس کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ جبکہ مظہر مجید<span> </span> اینڈ کو کی کسی بھی تصویر میں خودکار ٹائم ریکارڈنگ کیا،سرے سے ہی کوئی ریکارڈنگ موجود نہیں،کہ جس سے یہ پتہ چلایا جا سکے کہ موصوف بکّی کا جلوہ ميچ سے قبل کا ہے یا دوران کا ہے،یا بعد کا، یہ حال بس میں پیسے وصول کرتے ہوئے، میز پر پیسے سجاتے ہوئے اور ویسے بھی کوئی اتنا احمق نہیں ہوگا کہ یوں پیسے وصول کرے،اور گننے کی خاطر میز پر سجائے،ایسا تو پاکستان میں پیپلز پارٹی کا بکی آصف زرداری بھی نہیں کرتا۔ اور جہانتک تعلق ہے <span> </span>جیکٹ کی نمائش کا تو وقت تو اس پر بھی ریکارڈ نہیں ہے، اور کسی جگہ بھی ٹائم کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ دوسرے جیکٹ ڈرامے میں تو بادی النظر تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ایک اوچھا، سڑک چھاپ اور نو دولتیا اپنی جیکٹ دکھا کر شیخی بھگار رہا ہے،یا دوسرے معنوں میں " بھکا جٹ، کٹورا لبھا، پانی پی پی آپھرایا "۔ یہاں میری پیشگی معذرت قبول کریں کہ مجھے پنجابی زبان لکھنے پر عبور حاصل نہیں۔نیز اس عامیانہ طرز عمل سے اس بات کا ہر گز تعین نہیں کیا جا سکتا کہ موصوف نوٹوں کی چمک سے گیند کی چمک خریدنے کا عندیہ دے رہے ہیں،دوسرے ایسی کیا مجبوری مانح تھی کہ فوٹو گرافر نے فوٹو میں نوٹوں کا جلوہ نہیں دکھایا۔ <span> </span>اس آرٹیکل کے اختتامی لمحات میں ہوں اورپاکستان نے انگلینڈ کو شکست دےکر سیریز کو 2-2<span> </span> سے برابر کر دیا، اب معلوم نہیں کہ یہ انگلش پریس کے مطابق پاکستان کی محنت کا نتیجہ ہے یا انگلینڈ کی میچ فکسنگ کا شاخسانہ، یہ تو انگلش میڈیا ہی بتا سکتا ہے۔لہذا پانچویں اور آخری ون ڈے تک کے لیئے خدا حافظ ۔ اپنے اور پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیئے ہمیشہ دعاگو رہیں۔<o:p></o:p></FONT></span>

    <span><FONT face="Times New Roman">تسنیم احمد صدیقی<o:p></o:p></FONT></span>
    <span><o:p><FONT face="Times New Roman">
    <u>This is what you will see when people simply copy and past articles.</u>  </FONT></o:p></span>

    <span><FONT face="Times New Roman"><span> </span> <span> </span></FONT><o:p></o:p></span>



  • Kindly post a link to the source of above article.