Change faces and system both



  • <span>آج کل خود ساختہ قائد تحریک اور لندن کے مستقل رہائشی اور ہمہ وقت ارض پاکستان کے غم میں پھلنے پھولنے والےسول کپڑوں میں آمرانہ سوچ کے حامل <span> </span>محترم الطاف بھائی ( اب یہ معلوم نہیں کہ یہ بھائی ممبئی والا بھائی ہے،یا اہل زبان کا بھائی ) کے اس استقبالیہ بیان پر زور شور سے تذکرے،مذاکرے،اداریے اور کالم لکھے جا رہے ہیں،جس میں محب وطن بوٹوں والے اور وہ بھی ستاروں والے کو دعوت عام دی ہے کہ آؤ اور ایک دفعہ پھر مسند اقتدار پر براجمان ہو کر کھل کر کھیلو، کودو،موج اڑاؤ، اور تم ہمیشہ کی طرح ہمیں اپنا ہمسفر پاؤ گے۔ ہاں اس بارمارشل لاءکی دعوت کی کڑوی گولی کو چاکلیٹ کے ریپر میں لپیٹ کرپیش کیا گیا ہے، یعنی ملک کی سرحدوں کے رکھوالے پانچویں مرتبہ ملک کی قسمت سنوارنے اور جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی جیبوں میں سے غریب سے لوٹا ہوا سرمایہ واپس لے کر ملکی ترقی میں لگا کر اس کا فائدہ عام لوگوں تک پہنچانے کی خاطر آگے بڑھیں تو ایم کیو ایم اس نیک فریضے میں ان سے بھرپور تعاون کرے گی۔ توجناب یہ ہے جذبہ حب الوطنی اورعام عوام سے تعلق کا ایک انوکھا اور لازوال مظاہرہ، ہے ہمت کہ کوئی اس سے زیادہ کی بو لی لگا سکے،یا فلمی انداز میں " ہم سا ہو تو سامنے آئے "۔ اس بیان کے بارے میں صرف اتنا کہہ سکونگا،کہ یہ مجذوب کی بڑ ہے اور مجذوب کے بارے میں بزرگوں کا خیال ہے کہ ان سے دور رہا جائے،کیونکہ ان کے منہ سے بھلائی کی بات شاذونادر ہی برآمد ہوتی ہے،کیونکہ یہ دماغی خلل کے مریض ہوتے ہیں ،لہذا انہیں خود معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور ان کا مقصد کیا تھا۔ یہاں میں یہ بیان کردوں کہ اصل مجذوبوں کے لیئے میرے دل سے ہمیشہ دعا نکلتی ہے کہ اللہ پاک انہیں اپنے حبیب پاک کے صدقے شفایاب کرے۔ آمین ثمّہ آمین۔ اور جہانتک مجذوب کی اصطلاح کا استعمال ہے تو فوج کیلئے میرے دل سے دعائیں بلند ہوتی ہیں،اور میرے دل میں ان کی قدر اس سیلاب میں اور 2005 کے ہولناک زلزلے میں جس جانفشانی سے کام کیا،وہ ایک مشعل راہ ہونی چائیے<span> </span> ہمارےبددیانت اور بیوپاری سیاستدانوں<span> </span> کے لیئے،ان دو مواقع پر قوم کے ان سپوتوں کے کام کیبعد تو ان کی قدر نہ صرف میرے دل میںبلکہ تمام محب وطن پاکستانیوں کے دل میں اور بھی زیادہ ہوگئی ہے،توصاف ظاہر ہے کہ یہ اصطلاح میں ان کے لیئے تو استعمال کرنے سے رہا۔ باقی عقلمند کے لیئے اشارہ ہی کافی۔<span>  </span> اب جہانتک تعلق ہے اس مطالبے کا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے نظام بدلنے کی،اور لبرٹی چوک کے ہر کھمبے پر جاگیرداروں کی لاشیں لٹکانے کا،تو کیا سندھ کے جاگیردار بھی لٹکانے کی عرض سے لاہور لائے جائینگے،یا انہیں کراچی کےہی کسی پرہجوم اور وی آئی پی چوک پر لٹکایا جائیگا،نیز انہیں لٹکانے کا فریضہ کون انجام دے گا، یا یہ سب عمل بھی لندن سے براہ راست ٹیلیفونک خطاب سے سر انجام پائے گا؟ دوسرے جہانتک نظام بدلنے کی بات کی گئی ہے تو بدعنوان سرمایہ دار،بوری بند لاشوں کے موجد،بھتہ خور 12 مئی کےدندناتے ہوئے غنڈے اس بدلتے نظام میں سزا پائیں گے،یا انہیں استثناء حاصل ہوگا،اور یا ان کے لیئے کوئی اور نیشنل ریکنسیلیشن اور فنڈ کولیکشن آرڈر آئیگا؟۔ یہاں یہ سوال بھی اہم ہوگا کہ اس نئے قانون کا تخلیق کنندہ اور کاتب کون ہوگا،اور جمع کیا گیا فنڈ نائین زیرو جائیگا،یا لندن؟ ویسے اس سے فرق تو کوئی پڑتا نہیں ہر دو صورتوں میں رہے گا تو گھر میں ہی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ نظام بدلنے کی بات ہورہی ہے لیکن چہرے بدلنے کے بارے میں کوئی منہ سے بھاپ تک نکالنےکو تیار نہیں۔ اس کی وجہ اور کوئی بتائے یا نہ بتائے میں بتاتا ہوں کہ نظام بدلنے کا بیان تو وارہ کھاتا ہے،لیکن چہرے بدلنے کی بات کرنے کیصورت میں تو اپنے</span><span><span> </span><span>سمیت اور بھی کئی برج الٹ جائیں گے، اور برج الٹ گئے تو طافو کیا کرے گا،جہانتک نظام کے بدلنے کا تعلق ہے تو کہنے میں کیا حرج ہے؟ ویسے بھی <span> </span>ملک کی ترقی ایک مسلسل عمل ہے اور اس عمل کی کوئی حد نہیں، لیکن جس طرح ہر شعبے ميں عمر کی ایک حد ہوتی ہے،دوسرے یہ ایک آفاقی سچ ہے کہ مسلسل کام کرنے کی صورت میں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسانی اعضاء کمزور پڑنا شروع ہو جاتے ہیں،اور اس موقع پر دوسروں کو آگے آنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے،بالکل اس طرح جیسے باپ کی عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے بیٹا آگے آتا ہے،کام کی زیادتی کی صورت میں بیٹی ماں کا ہاتھ<span> </span> بٹاتی ہے،ایک بھائی دوسرے بھائی کا ہاتھ بٹاتا ہے۔ مگر یہ کم بخت سیاست ایک ایسا کام ہے کہ جو جس جگہ بیٹھا ہے اس سے اوپر جانے کو تو اپنا حق تصور کرتا ہے،لیکن نیچے سے کسی کو اوپر آتا نہیں آنے دیتا۔ یہ سیاسی بیوپاری جب ایک دفعہ کاروبار سیاست میں سرمایہ کاری کر دیتے ہیں تو ہندو بنیاء اور یہودی بھی اس سے بہتر منافع کے گر سیکھنے کی خاطر ان کی شاگردی قبول کر لیتے ہیں۔ میں صرف الطاف بھائی جان سے صرف ایک سوال کرنا چاہتا ہوں ۔لیکن سوال کرنے سے قبل بھائی جان کہنے کی تشریح کردوں کہ یہ لفظ اس وجہ سے استعمال کیا ہے کہ مجھے بوری میں رہنے کی عادت نہیں۔ ہاں تو میرا سوال ہے کہ نظام بدلنے کی خاطر چہرے بدلنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے،کیونکہ اگر یہ ہی چہرے باربار آتے رہیں گے تو نظام کبھی نہیں بدل سکتا اور اس کے بدلنے کی خاطر چہرے بدلنے کی بھی ضرورت ہے،کیونکہ ہمارے ملک کا سیاسی کلچر ہے کہ ایک دفعہ پارٹی بنا لو،پھر تم،تمہارے بعد تمہارا بیٹا یا بیٹی،پھر اس کا بیٹا یا بیٹی، پھر اس کے بعد اس کے بعد اور بعد بعد۔ یہ تو ہے بقول آپ کے سیاسی بازیگروں کی سیاسی گریاں،لیکن صد معذرت کے ساتھ کیا آپ نے اپنی گریاں دیکھی ہیں کہ 1978 میں روز قیام سے لیکر آجتک قائد تحریک کون ہے،آجتک قومی اسمبلی میں آنے والے چہرے کتنی بار تبدیل ہوئے،آجتک وزارتوں کی بندر بانٹ میں<span> </span> سے ملنے والی وزارتوں پر کتنی دفعہ مختلف چہرے آئے، ڈاکٹر گورنر کی آمد کے بعد کتنے اور ڈاکٹر گورنر آئے، ناظم کراچی کتنے تیدیل ہوئۓ،اور جماعتی الیکشن اور جماعتی نمائندگی ميں تبدیلی کا ایک مسلسل عمل جاری ہے،کیا بابرغوری کے علاوہ بھی کوئی وزارت پورٹ اینڈ شپینگ کا وزیر نامزد ہو سکے گا،اور اگر نہیں تو بار بار یہ ہی کریم اتار کر مختلف ادوار میں بننے والے حکومتی کیک پرلگاتے رہنگے گے،اور اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو نہ چہرے بدلیں گے،اور جب چہرے نہیں بدلیں گے تو نظام کیسے بدلے گا، تشریح درکار ہے۔ ویسے صد معذرت کا لفظ استعمال کرتے ہوئے یہ کہنے کی جسارت کرونگا، کہ احتساب اور نظام کی تبدیلی کے عمل کی مفصل صورتحال کے بارے میں جاننے کیخاطر جماعت اسلامی کا منشور اور خوداحتسابی کے عمل کا مطالعہ کر لیں۔ افاقہ شرط ہے۔</span></span>

    <span>تسنیم احمد صدیقی</span>



  • Kindly post a link to the source of above article.