Khilafat vs Democratic Political System



  • فارغ جذباتی صاحب

    آپ کی عنایات، نوازش ، مہربانی اور محبت کا میں تہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں

    آپ صاحب علم ہیں صاحب ایمان ہیں

    انتہائی مؤثر باتیں کرتے ہیں

    اور آپ کا حکم سر آنکھوں پر

    میری صرف دو باتیں اچھی ہیں

    میں اپنی غلطی اور برائیوں کو جانتا ہوں اور مانتا ہوں

    اور اگر کوئی درست کہے تو اس بات کو مان لیتا ہوں

    جہاں تک نام کا ذکر ہے

    میں ایک بہت برا اور منافق آدمی ہوں

    آپ مجھ سے ملے نہیں ہیں، مجھے جانتے نہیں ہیں

    لہٰذا مجھ پر مہربانی فرما رہے ہیں

    لیکن الله کو حاضر و ناظر جان کر سچے دل سے کہتا ہوں کے میں بہت برا منافق ہوں اور میرا نام میری درست ترجمانی کرتا ہے

    آپ بغیر کسی تردد کے مرے نام سے مجھ کو مخاطب کریں. نہ تو مجھے برا لگے گا اور نہ ہی یہ غیر موزوں ہو گا

    الله آپ کو اسی طرح سرخرو کرتا رہے

    آپ کی اچھا کہنے کی صلاحیت برقرا رکھے

    آپ کو ایمان کی راہ پر چلتے رہنے میں مدد دیتا رہے

    اور آپ کو خوش اور تندرست رکھے



  • سلام صاحب

    جو آپ سے اور سب سے سیکھا صرف وہ زندگی کا حاصل ہے

    جو میں سیکھی ہوی بات پر عمل نہ کر سکا وہ میری کوتاہی ہے

    اور میری طرف سے الله کی دی ہوئی زندگی سے اور الله کی مخلوق سےخیانت ہے



  • اب میں اس سے زیادہ اور کیا کہ سکتا ہوں کہ آپ سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اور جانتے ہیں

    اگر ہمارے لائق کوئی خدمت ہو تو ضرور بتائیں

    اپنی کمزوری کا ادرک ہونا اور پھر اس کا اظہار کرنا بہت بڑی خوبی ہے، یہی آپ سے سیکھا ہے اور کوشش کروں گا کہ اپنی کمزوری و کوتاہی کو مان لوں



  • منافق صاحب آپ تو پکے '' منافق '' نکلے۔۔۔۔۔۔

    بس آپ کے آگے بالکل بھی چون چرا نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔۔



  • جناب ہمدم

    آپ چاہیں نہ چاہیں ہم تو آپ کو کسی اچھے نام مثلاً ہمدم سے جانیں گیں اور بلائیں گیں

    صاحب آپ نے تو سخت شرمندہ کر دیا ، کاش کہہ اپنی کمیوں کوتاہیوں ، کج رویوں کو سرے عام تسلیم کرنے اور اپنی انا کے بت کو پاش پاش کرنے کی ہمت ہم میں بھی ہوتی ، آپ سے ضرور سیکھیں گیں کہہ انا اور برتری کے بت کو توڑنے کا طریقہ کیا ہے ، بس اس محفل کو چھوڑ کر جائیے گا نہیں ، اگر مصروفیت بھی ہو تو آتے جاتے رہئےگا . ہمیشہ اقبال کے اس شعر کو گنگناتے رہے ہیں شائد اب اس کی سمجھ بھی آ جائے

    برا ہیمی نظر مگر مشکل سے پیدا ہوتی ہے

    ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

    ویسے ہمیں تو کتاب کے پہلے صفحے نے ہی ڈھیر کردیا ، اب دیکھوں گا کہہ کتنی ہمت ہے مجھ میں باقی صفحات پڑھنے کی اور اس آئینے میں اپنا بدصورت چہرہ دیکھنے کی

    FJ



  • فتویٰ دینے والا کوئی الله کا پیغمبر ہوتا تو

    پروا بھی کرتا۔۔۔۔۔۔۔

    ////////////////////////////////

    maazallah ghadmi aap k liye peghambar ka darja rakhtha ho ga..hamary aur akabir ulema ki tho joothy ki nook per hy...aur dekho kahan bhaag gaya hy Pakistan se..wapis nahi aa saky ga...akhir me merny se pehly zameen us per tang ker dee jaye gi.....

    gohar shahi,salaman rushdi and ghamdi,tasleema nasreen ik hi anjaam se dochaar hongy merny se pehly...aur kisi ki akhirat ka result dekhna ho tho dunya me us ki zindagi dekh lo......

    Musalaman ka result hamesha FATAH hua kerti hy akhir kaar dekh lo Muhammad SAWW k dor se ab tak.masaly athy hain un ko laikin result hamesha acha atha hy...

    laikin BATIL zaleel o khwar ho k phirta hy aur akhir kar zaleel hi mar jatha hy....

    I tried to explain you the basic islamic concept and try to learn it by heart......



  • @SufiSoul

    "laikin BATIL zaleel o khwar ho k phirta hy aur akhir kar zaleel hi mar jatha hy...."

    I agree that "Batil" will be in ultimate loss. The exception is defined in Sura Asr.

    All of us, who claim to be muslims, must look inside our self to assure that we do not become loser. Just doing Shahadat and our Prophet (pbuh) as last prophet will not take us out of the circle of "Batil".

    We must contemplate on the message of Islam, ask for help from Allah (SWT), strengthen our belief, identify and accept "Haq" and exhort others to “Haq” and “endurance”. This needs to be done with good manners and endurance, as there will be hardships in this path.



  • سلام صاحب

    اسلام علیکم

    آپ کی محبت کا شکریہ

    بس اپنے رب سے میرے لئے بھی التجا کرتے رہیے گا کے مجھ کافر پر بھی رحم کرتا رہے

    فارغ جذباتی صاحب

    آپ جس نام سے بھی پکاریں مجھے قبول ہے

    میں تو پہلے باوا صاحب کی مہربانی کے بدولت انکے نیازمندوں کی ایک لمبی قطار میں کہیں بہت پیچھے کھڑا تھا

    باوا صاحب کا اور کالی بھیڑ صاحب کا تو پہلے سے ہے مقروض ہوں اب آپ اور سلام صاحب کی عنایات کے وجہ سے اب آپ اور سلام صاحب کا بھی مقروض ہو گیا ہوں

    کوشش کروں گا کے اور آپ کی دل آزاری نہ کروں

    اگر کبھی کوئی بات بری لگے یا آپ کے میعار پر پوری نہ اترے تو بلا تامل مجھے تنہبیہ کر دیجیے گا

    میں اپنی نظروں میں تو بہت گرا ہوا ہوں مگر میرے لئے اب یہ بہت مشکل

    ہو گا کے باوا صاحب، کالی بھیڑ صاحب، سلام صاحب، آپ اور باقی حضرات کی نظروں سے گر جاؤں



  • hypocrite

    وعلیکم سلام

    نجانے کیوں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاید آپ نے اگر برا کیا ہے تو کسی مجبوری کی وجہ سے کیا ہو، ورنہ تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کوئی برائی پر افسوس بھی کرے لیکن چھوڑ بھی نہ سکتا ہو

    آپ چاہئیں تو اس سوال کو نظر انداز کر لیں کیونکہ شاید یہ تھوڑا نجی نوعیت کا ہے

    آداب



  • Siphai sahib

    This needs to be done with good manners and endurance, as there will be hardships in this path


    You have very succulently communicated a brilliant thought.

    In my humble opinion the following three steps are required:

    (1)Determination to take the first step towards pursuit of truth

    (2) Steadfastness to continue the journey

    (3) Willingness to change one’s thought on the way or at the end of the journey towards attainment of truth, if required.

    Even for a selfish person like me who looks for only own's interest and return for investment all the time, this could be done as the journey starts from myself and ends at myself. There is nothing to lose but only to gain.

    The problem that I see for myself is whether I am willing to embark on something that requires unwavering faith, patience, discipline and a contains a risk (may be very remote but still there is a risk) that before I change the thinking of others, I might have to change my way of thinking .



  • سلام صاحب

    بہت عمدہ بات ہے.

    بسا اوقات مجھ جیسا آدمی مجبوری کا سہارا لے کر اپنے کرتوتوں کو درست سمھجتا ہے یا اس پر ندامت کا اظہار نہیں کرتا

    بس جس دن مجھے اپنے نفس پر قابو آ گیا میں برائی سے دور ہو جاؤں گا

    مگر نفس پر قابو پانا جتنا آسان ہے اتنا مشکل بھی ہے



  • حضور آپ نے مسلہ بھی بیان کر دیا اور حل بھی، اب ہم سوائے دعا کے اور کیا کر سکتے ہیں



  • سلام صاحب

    اکثر اوقات مندر جانا ہوتا تھا

    بہت سے خدا ترس لوگوں نے مندر کی تعمیر میں بہت پیسا چندے کے طور پر دیا. یہ لوگ چوں کے بہت مصروف ہوتے ہیں لہٰذا مندر میں صرف اس وقت آتے ہیں جب کوی سماجی تقریب ہو یا کوئی بڑا آدمی یا پجاری تشریف لاتا ہے

    ان لوگوں کی وجہ سے ایک شاندار عمارت تعمیر ہوی جو ایک بہت لمبے عرصے تک ہزاروں لاکھوں لوگوں کو انکے مذہب کے لئے ایک عبادت کی جگہ فراہم کرتی رہے گی

    خیر جب بھی مندر جانا ہوا پارکنگ کے اندر ایک لمبی قطار گاڑیوں کی دیکھی

    ہر گاڑی اپنی گاڑی سے عمدہ اور بڑی نظر آئی. دل وہیں دکھ سا گیا اور اپنے رب سے پہلا شکوہ کر ڈالا

    خیر اندر جانا ہوا اور کافی لوگ نظر آے. پہلی نظر انکے کپڑوں پر اور شکل پر پہنچی اور دیکھا کے ہر کوئی مجھ سے بہتر کپڑے پہنے ہوا ہے اور بہتر دکھائی دیتا ہے. سب کے رنگ مجھ سے صاف نظر اے. ہر کوی جسمی طور پر مجھ سے شاندار لگا

    . چلیں جی اپنے بھگوان سے میں نے پھر شکایات کی

    دوران پوجا کن انکھوں سے ان خواتین کی طرف دیکھتا رہا جو بھی وہاں پر پوجا کے لئے آئی ہوی تھیں. ہر کوی خوبصورت نظر آئی اور دل میں عجیب خیال جنم لینے لگے

    تو جناب دل کہیں اور دماغ کہیں اور مگر شکوہ صرف اپنے بھگوان سے کے مجھے یہ سب کچھ کیوں نہیں دیا

    خیر جب پوجا سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو ایک صاحب نظر آے

    جناب بہت ہی عام اور سادہ لباس میں تھے اور مندر سے باہر کھڑے تھے. ایک چھوٹے سے بچے کے پاس کھڑے ہو کر کچھ در انہوں نے کوئی بات کی. بچے کے چہرے پر ایک معصوم سی مسکراہٹ آئی

    یہ صاحب بچے سے بات کر کے فارغ ہوے تو دیکھا کے ایک نوجوان سے محو گفتگو ہیں. بات نجانے کیا کی مگر نوجوان کے چہرے پر ایک طمانیت سے بھرپور مسکراہٹ دیکھی

    کچھ دیر بعد دیکھا کے وہ صاحب ایک بزرگ سے ہم کلام تھے. چند لمحوں کے بعد نظر آیا کے وہ بزرگ جن سے یہ سادہ لباس صاحب بات کر رہے تھے ایک زندگی سے بھرپور قہقہہ لگا رہے تھے

    یہ صاحب کبھی مندر میں نظر نہیں اے مگر مندر کے باہر لوگوں سے مختصر بات کرتے ہوے نظر آتے تھے اور ہر بات کے اختتام پر ان کا مخاطب ممسکراتا تھا یا ہنستا تھا

    بہت بار نظر آیا کے یہ حضرت باہر پارکنگ والے علاقے میں پر کورا کچرا اٹھا کر ایک جگہ جمع کرتے تھے' اور اکثر اوقات یہ کور مجھ جیسے لوگ گاڑی کے باہر پھینک دیتے تھے

    اب مرے بھگوان کی جنت میرے لئے کھلی ہے کیوں کے میں مندر جاتا ہوں یا

    ان صاحبان کے لئے جنہوں نے مندر کی تعمیر کے لئے عطیات دیے یا

    ان صاحب کے لئے جنہوں نے مندر میں قدم نہیں رکھا مگر ہر کسی کے چہرے پر ہر بار اپنی بات سے مسکراہٹ پھیلاتے گئے

    صاحب جن برائیوں نے میرے دل میں گھر کر رکھا ہے ان پر میں ندامت ہی کر سکتا ہوں

    البتہ اتنا حوصلہ نہیں ہے کے اپنی نگاہ ، سوچ اور ہوس پر قابو پا سکوں



  • آپ کی کہانی پڑھی اور خوشی ہوئی کہ آپ نے اس قابل سمجھا کہ اپنے حالات سے اگاہ کیا

    آپ کی بہادری ہے کہ آپ اس طرح کھل عام اپنی کمزوری بھی پیش کرتے ہیں اور ندامت کا اظہار بھی

    ان باتوں سے تو یہی لگتا ہے کہ آپ نہایت شریف انسان ہیں



  • ابن صفی کا جمہوریت پر نکتہ نظر

    بشکریہ راشد اشرف



  • System chahe jamhori ho ya khilafat isse koi fark nhi parta , Sirf niyat aur dilon ka saaf hona zarrori hai phr system chahe koi bhi aajae vo her mushkilo ko cross kr le ga .



  • Another quote of Ibn safi (from rashid ashraf website)

    Especially for those who think having no qualification for representative of people is OK (the Likes of dasti and co)

    FJ



  • پاکستانی" جمہوریت" اور "عوامی اختیار" کی اصل حقیقت

    پاکستان کی 8 سیاسی حکومتیں رجسٹرڈ ووٹرز کی اکثریت سے محروم رہیں

    لاہور (صابر شاہ) یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ 1970ء سے پاکستان پر 8مرتبہ حکمرانی کرنے والی سیاسی پارٹیاں حلقہ انتخاب کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتیں ، اس اَمر کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ 41برسوں کے دوران جماعتی بنیادوں پر ہونے والے 8انتخابات کے دوران ان پارٹیوں نے ڈالے گئے ووٹوں میں سے اوسطاً 39.14 فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ کل رجسٹرڈ ووٹرز میں سے صرف 19.84 فیصد نے ان پارٹیوں کے حق میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ دی نیوز کی طرف سے کی گئی تحقیق اور جمع کئے گئے اعدادو شمار سے اس اَمر کا انکشاف ہوا ہے کہ کامیاب پارٹیوں نے کل ڈالے گئے ووٹوں کا 1970ء میں19.5 فیصد، 1977ء میں 77.5فیصد،1988ء میں38.5، 1990ء میں37.4 فیصد، 1993ء میں 37.39فیصد ،1997ء میں45.9 فیصد، 2002ء میں25.7فیصد اور 2008ء میں 30.7 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ انتخابات کے وقت ملک میں کل رجسٹرڈ ووٹوں میں کامیاب پارٹیوں نے 1970ء میں کل ڈالے گئے ووٹوں کا 12.21فیصد، 1977ء میں 53.57فیصد،1988ء میں16.58 فیصد، 1990ء میں 20.67فیصد، 1993ء میں 15.54فیصد، 1997ء میں16.14فیصد، 2002ء میں10.74فیصد اور 2008ء میں محض 13.27فیصد ووٹ حاصل کئے ۔ دوسرے لفظوں میں 1970ء میں ملک کے پہلے عام انتخابات سے اب تک پاکستان کے رجسٹرڈ ووٹرز میں سے ہر 5 میں سے ایک ووٹر نے کامیاب سیاسی پارٹی کو ووٹ دیا ہے۔ کل رجسٹرڈ وورٹرز میں سے 19.84فیصد مینڈیٹ کے حصول کی مایوس کن صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ اگر معاشرے کا یہ نسبتاً کم سرگرم طبقہ اپنا ووٹ ڈالنے سے احتراز نہ کرتا تو گزشتہ 40سال سے اسلام آباد میں یکے بعد دیگر براجمان ہونے والی حکومتیں ہرگز ملک پر حکمرانی حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوتیں اور اگر کسی طرح کامیاب ہو بھی جاتیں تو وہ اپنے عوام کو اس قدر بے رحمانہ انداز میں ”سزا“ دینے میں کامیاب نہ ہوتیں، جس طرح سے وہ کرتی رہی ہیں، زیر جائزہ 41سال کے عرصے کے دوران لا تعلق ، مایوس اورخاموش رجسٹرڈ ووٹرز کی اکثریت کے ساتھ مختلف سماجی ، معاشی ، آبادیاتی اور ثقافتی عوامل کے باعث اہل پاکستانی ووٹرز کے مایوس کن ٹرن آؤٹ نے مختلف حکومتوں کو سیاسی جواز، خزانے کو لوٹنے کا لائسنس حاصل کرنے، عوام کی قیمت پر موج کرنے اور ان کی قسمت سے کھیلنے کا موقع حاصل کرنے میں مدد دی۔ درحقیقت پاکستانی عوام کو انتخابی عمل سے لا تعلق رہنے کی بڑی قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا گیا،سیاسی جواز /استحقاق زیادہ شرح ووٹنگ رکھنے والے معاشروں کی خصوصیت ہوتی ہے یا ارجنٹائن، آسٹریلیا، برازیل، چلی ، کانگو، ایکواڈور ، فجی ،Liechtenstein، پیرو، سنگا پور، بولیویا، ترکی یا یورا گوئے جیسے ممالک کی خصوصیت ہوتی ہے جہاں ووٹ ڈالنا لازمی ہے اور ووٹ نہ ڈالنے والے شہریوں کو مختلف سزائیں دی جاتی ہیں۔ 1970ء سے اب تک موجودہ حکمران جماعت پیپلز پارٹی 5مرتبہ یعنی 1970ء،1977ء ، 1988ء ، 1993ء اور2008ء میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ۔پی پی کے بانی ذوالفقار بھٹو اور ان کی مرحومہ بیٹی بینظیر بھٹو 2،2مرتبہ وزیراعظم رہے جبکہ ان کے وفادار یوسف رضا گیلانی اس وقت پاکستان کے وزیراعظم ہیں، اسی طرح آئی جے آئی اور ن لیگ 1990ء اور 1997ء کے انتخابات میں کامیاب ہوئی اور نواز شریف کو اپنے سیاسی کیریئر میں 2مرتبہ وزارت عظمیٰ حاصل کرنے میں مدد دی۔ اس دوران فوجی آمر پرویز مشرف کی زیر سرپرستی وجود میں آنے والی ق لیگ نے 2002ء سے 2007ء تک 5سال حکومت کی اور ظفر اللہ جمالی، چوہدری شجاعت اور شوکت عزیز نے مختلف اوقات میں وزارت عظمیٰ سنبھالی۔ 1970ء میں یحییٰ کے فوجی دورمیں ہونے والے ملک کے پہلے عام انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 19.5فیصد ووٹ حاصل کر سکی ، اس وقت کی یحییٰ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ 1970ء کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح63فیصد رہی ،جس کا مطلب ہے تقریباً 56.94رجسٹرڈ ووٹرز میں سے تقریباً 35.67ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ 1970ء میں 56.94 رجسٹرڈ ووٹرز میں سے تقریباً 31.21 ملین ووٹرز مشرقی بازو میں تھے جبکہ مغربی بازو میں 25.73ملین ووٹرز تھے۔ پولنگ والے روز ڈالے گئے 35.67ملین ووٹوں میں سے پی پی کے 120امیدوار صرف 19.5فیصد یا 6.95ملین ووٹ حاصل کر سکے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 120 پی پی امیدواروں میں سے 103نے صرف پنجاب اور سندھ کے حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے ۔ پی پی نے مشرقی پاکستان سے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا اور مغربی پاکستان سے تمام 81نشستیں حاصل کرلیں۔ شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے 170امیدوار کھڑے کئے ، ڈالے گئے 35.67ملین ووٹوں میں سے 38.3فیصد ووٹ حاصل کر کے مشرقی پاکستان سے 160سیٹوں پر کامیابی حاصل کی۔ تاہم عوامی لیگ نے مغربی پاکستان سے 8امیدوار کھڑے کئے گئے لیکن ان میں سے ایک بھی کامیاب نہ ہوا۔ دلچسپ امریہ ہے اور جیسا کہ اعدادو شمار سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ 1970ء کے انتخابات میں پی پی کے حاصل کردہ 19.5فیصد یا 6.95ملین ووٹ کل رجسٹرڈ وٹوں کا صرف 12.21 فیصد بنتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بھٹو کی پی پی نے رجسٹرڈ ووٹوں کا صرف 12.21 فیصد حاصل کر کے پہلی مرتبہ پاکستان میں اقتدار حاصل کرلیا ۔ ایسی صورت میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں کہ 1971ء میں پاکستانیوں کو سانحہ مشرقی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1977ء کے انتہائی متنازع انتخابات کے دوران جب ملک میں کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد30.89 ملین تھی اور سرکاری ووٹنگ کی شرح69فیصد یا 21.32ملین میں سے پی پی نے 16.52ملین یا 77.5فیصد ووٹ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔پی پی نے قومی اسمبلی کی 155نشستوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ پاکستان عوامی اتحاد کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کئے گئے ۔ 1977ء میں پی پی کی طرف سے حاصل کردہ 16.52 ملین ووٹ دراصل کل رجسٹرڈ ووٹوں کا 53.73فیصد بنتا ہے۔ 16 نومبر1988ء کا انتخابی عمل میں بے نظیر کی پی پی نے قومی اسمبلی کی 92سیٹیں حاصل کیں، الیکشن ٹرن آؤٹ 43.1فیصد تھا، جس کا مطلب ہے کہ 46.19 ووٹرز میں سے 19.90نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، پی پی نے 38.5فیصد یا 7.66 ملین ووٹ حاصل کئے ، دراصل پی پی نے ملک میں رجسٹرڈکل ووٹوں میں صرف 16.58ووٹ حاصل کئے تھے۔ 24اکتوبر 1990ء کے انتخابات میں آئی جے آئی نے 106 سیٹیں حاصل کیں۔ اس مرتبہ ٹرن آؤٹ 45.5فیصد تھا، جس کا مطلب ہے کہ 47.07 ملین رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 21.40ملین نے حق رائے دہی استعمال کیا۔آئی جے آئی نے ڈالے گئے ووٹوں میں 9.73ملین یا 37.4فیصد ووٹ حاصل کئے، جس کا ایک مرتبہ پھر یہ مطلب ہے کہ نواز شریف ملک میں کل رجسٹرڈ ووٹوں میں سے صرف 20.67فیصدووٹ حاصل کر کے اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اکتوبر 1993ء کے انتخابات کے بعد بینظیر ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بن گئیں ، ابتدائی گنتی میں اس کی پارٹی نے 86سیٹیں حاصل کیں، اس مرتبہ ٹرن آؤٹ 40.3فیصد رہا یا دوسرے لفظوں میں22.5ملین ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ اس وقت ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد55ملین تھی، پی پی کو 8.55ملین یا کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 37.9 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیابی ملی ۔ ایک مرتبہ پھر اگر ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز میں ہم پی پی کے حاصل کردہ ووٹوں کو دیکھیں تو یہ صرف 15.54 فیصد بنتی ہے ۔ فروری 1997ء میں نواز شریف دوبارہ اقتدار میں آگئے، اس مرتبہ ٹرن آؤٹ کی شرح 35.2فیصد رہی کیونکہ ڈالے گئے 54.189ملین ووٹوں میں انہوں نے 19.6ملین ووٹ حاصل کئے۔ ن لیگ نے 137سیٹیں حاصل کر کے بھاری مینڈیٹ بھی حاصل کرلیا، اگرچہ ن لیگ نے کل ڈالے گئے ووٹوں کا 45.9فیصد حاصل کیا اور اس طرح ملک میں کل رجسٹرڈ ووٹوں میں سے 8.747 ملین یا محض 16.14فیصد ووٹ حاصل کئے۔ 10اکتوبر2002ء کے انتخابات کے نتیجے میں پرویز مشرف کے زیر سایہ اقتدار حاصل کیا اور 126سیٹیں حاصل کیں، اس مرتبہ ٹرن آؤٹ 41.80فیصد رہا اور کل 71.36ملین رجسٹرڈ ووٹوں میں سے 29.83ملین ووٹ کاسٹ ہوئے تھے ۔ ق لیگ نے ڈالے گئے ووٹوں میں سے 7.66 ملین یا 25.7فیصد ووٹ حاصل کئے۔ 2002ء میں ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز میں سے ق لیگ کے ووٹوں کی تعداد بمشکل 10.74فیصد تھی۔ 18فروری 2008ء کے انتخابات میں آصف زرداری کی پی پی نے 97سیٹیں حاصل کیں اور30.7فیصد یا 10.61ملین ووٹ حاصل کئے ۔ اس الیکشن میں ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد35.61ملین یا 44.5فیصد رہی ، اہل ووٹوں کی تعداد34.665 ملین تھی، ملک میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد79.93ملین تھی، 2008ء میں رجسٹرڈ ووٹوں میں سے پی پی کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد محض 13.27فیصد تھی، مذکورہ بالا اعدادو شمار سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ٹرن آؤٹ کی زیادہ شرح پاکستانی عوام کے مسائل کو معجزانہ طور پر حل کر سکتی ہے ۔ اس نظریے کو ثابت کرنے کی ایک مثال یہ ہے کہ غلام سے نجات کے بعد1860ء میں سابق امریکی صدر ابراہیم لنکن کے دوران میں انتخاب کے دوران ٹرن آؤٹ کی شرح 81.2فیصد تھی۔امریکی ووٹروں نے لنکن کی غلامی کے خلاف موقف کی حمایت کی اور بڑی تعداد میں ووٹ دیئے اور ان کو اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے میں مدد دی۔ ابراہیم لنکن کے دور میں بعد ازاں تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے غلامی کو اس وقت ختم کردیا گیا جب اپریل 1864ء میں امریکی سینٹ نے انسداد غلامی بل پاس کیا اور جنوری 1865ء میں ایوان نمائندگان نے اس کی توثیق کی۔

    http://www.jang.net/urdu/details.asp?nid=521121

    Need I say more

    FJ


Log in to reply
 

Looks like your connection to Discuss was lost, please wait while we try to reconnect.