Which leader and party should be chosen.



  • ے

    دو ہی راستے ہیں ، نون لیگ ، پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتیں خود اپنے اندر جمہوریت گوارا کریں یا لیڈروں کی اس کھیپ کو بحیرہ عرب کے حوالے کردیا جائے ورنہ وہی افتاد ، وہی افتاد، وہی ادبار، وہی ذلت اور مسکینی، وہی کرپشن،وہی کشکول اور وہی خود ترحمی۔

    جماعتِ اسلامی کے مرکزی دفتر کی شاندار عمارت کے سامنے چوہدری غلام جیلانی چپ چاپ کھڑے رہے ۔ پھر انہوں نے یہ کہا"چرواہا چلا گیا اور بھیڑوں کو راستہ معلوم نہیں " بے باک اور دردمند غلام جیلانی سیّد ابو الاعلیٰ مودودی کے پرانے ساتھیوں میں سے ایک تھے۔ پارٹی کی نئی قیادت سے نامطمئن۔ اس سے قطع نظر کہ رائے عامہ نے سیّد صاحب کے فلسفے کو قبول نہ کیا، وہ ایک شاندار منتظم، لائق سیاستدان اور قابلِ احترام سکالر تھے۔ قادر الکلام، شائستہ اور بہادر ۔ اس سے بھی زیادہ یہ کہ وہ غور و فکر کرنے والے مضبوط اعصاب کے آدمی تھے۔ 1971میں ، امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے، آخری انٹرویو میں جب یہ سوال کیا گیا کہ ان کی زندگی کی سب سے زیادہ پر مسرت اور سب سے زیادہ درد انگیز ساعت کون سی تھی تو انہوں نے جواب دیا: میں جلد خوش اور جلد ناراض ہو نے والا آدمی کبھی نہ تھا۔

    لیڈر اہم ہوتا ہے۔ ایک چرواہے کی طرح نہ سہی لیکن ٹیم کے کپتان اور بعض اوقات فوج کے سپہ سالار کی طرح۔ آمنے سامنے کی قدیم جنگوں میں یہ اہمیت بہت زیادہ تھی۔ اتنی کہ بعض اوقات اس کی موت فیصلہ کن ہوتی۔ ہندو نفسیات میں یہ تصور اس قدر گہرا ہے کہ سالار کی موت کو شکست کا شگون سمجھا جاتا۔ گویا دیوتائوں نے لشکر کی قسمت کا فیصلہ کر دیا۔ فاتحِ عالم امیر تیمور چین کی تسخیرکے لیے روانہ ہوا لیکن راہ میں حالت بگڑ گئی۔ فتوحات کے جنون سے مغلوب آدمی نے اپنے نائبین کو وصیت کی کہ شہرِ ختاکو پامال کرنے تک اس کی موت کو خفیہ رکھا جائے۔ وہ جانتا تھا کہ تاتاری لشکر کو پتہ چل گیا تو حوصلے برقرار نہ رہیں گے۔

    دیومالائی کہانیوں کی بات دوسری ہے کہ وہ انسانی تجربات کی بجائے، خوابوں اور آرزوئوں سے پھوٹتی ہیں، ورنہ لیڈر بھی دوسروں جیسا ایک آدمی ہوتاہے، ایک سر، دوآنکھوں اور دو ہاتھ پائوں والا۔ پھر کیا چیز اسے ممتاز کرتی ہے؟ محض اس کی جسمانی قوت اور حوصلہ مندی نہیں بلکہ اعلیٰ تر کردار ، بہتر ادراک اور مقاصد سے ایسی وابستگی جو ہر حال میں ایثار پر آمادہ کرتی ہے۔معدی کرب اسلامی تاریخ کا ایک مشہور کردار ہے۔ ایک عام آدمی سے دو اڑھائی فٹ زیادہ بلند، پہاڑ چہاڑ سا آدمی۔ امیر المومنین عمر ابن خطاب(رض) نے پہلی بار اسے دیکھا تو یہ کہا: اللہ اکبر، انسان ایسا بھی ہوتاہے۔ نیزہ بازی، شمشیر زنی اور تیر اندازی۔۔۔فنون جنگ میں بھی وہ ممتاز تھا۔ ایک بار جب وہ دشمنوں کے نرغے میں گھوڑے کی پیٹھ سے گر ا تو چلا کر اس نے کہا تھا: میری مدد کو آئو کہ اگرمیں قتل کر دیا گیا تو تم کوئی دوسرامعدی نہ دیکھو گے۔ سرکار(ص) کی بارگاہ میں تربیت پانے والے اہلِ علم مگر زیادہ جانتے تھے۔ ضروری تربیت کے بعد جب فاروق اعظم(رض) نے اسے حضرت ابو موسیٰ اشعری(رض) کی خدمت میں روانہ کیا تو لکھا: میں ایک ایسے شخص کو تمہارے پاس بھیجتا ہوں، جو ہزار کے برابر ہے لیکن اسے ایک آدمی کی کمان بھی کبھی نہ دینا۔ معدی نے اس قول کو سچا کردیا۔ مالِ غنیمت کی تقسیم پر، رسول اللہ (ص) کے جلیل القدر صحابی جناب اشعری(رض) سے وہ الجھ پڑا۔ جنگجو کی کارکردگی کے علاوہ، سامانِ جنگ اور گھوڑے کو ملحوظ رکھا جاتا تھا۔ خود پہ نازاں معدی نے اپنے حصّے پر اعتراض کیا تو جنابِ ابو موسیٰ (رض) نے کہا: تمہارا گھوڑا دوغلا ہے۔ بپھرے ہوئے لشکری نے بدتمیزی کی ۔ان پاکیزہ اور سعید روحوں کی تربیت اخلاقِ مجسم(ص) نے کی تھی۔ گالی اور طعنے پر وہ برہم نہ ہوتے لیکن جب یہ اطلاع امیر المومنین(رض) تک پہنچی﴿ اور ملٹری انٹیلی جنس کا ادارہ اب موثر اور فعا ل تھا﴾ تو ایک خط میں انہوں نے معدی کو لکھا:یہ آخری بار ہے کہ تم نے رسول اللہ(ص) کے صحابی(رض) کی شان میں گستاخی کی۔

    ڈیڑھ برس قبل سینیٹر کیری کی موجودگی میں امریکی اخبار نویس خاتون نے صدر زرداری سے یہ کہا: کیا امداد کی کمی اور تاخیر کا سبب یہ نہیں کہ آپ کی حکومت کو بدعنوان سمجھا جاتا ہے؟صدر نے کہا"اس پراپیگنڈے کے پیچھے جمہوریت دشمن قوتیں کارفرما ہیں۔ کون سے جمہوریت دشمن؟ صدر زرداری کی آواز کانپ رہی تھی اور خود اپنے موقف پر انہیں یقین نہ تھا۔ ان کے دورِ اقتدار میں کرپشن کے ہولناک اور حیران کن واقعات ہوئے ہیں ۔ پاکستانی پریس کی گواہی اگر قابلِ اعتماد نہیں تو برطانوی اخبارات کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں؟ ڈیلی میل نے لکھا تھا "وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو مسٹر زرداری سے ملاقات کے بعد اپنے ہاتھوں کی انگلیاں گن لینی چاہئیں " بعض دوسرے اخبارات کے تبصرے اور بھی زیادہ سخت تھے۔اتنے سخت کہ نقل کرنے کو جی آمادہ نہیں۔

    معاشرے میں ہم آہنگی، امن ، استحکام ، ترقی اور فروغ کا انحصار سیاست پر ہوتا ہے۔ افسوس کہ سیاسی زندگی کو ہم نے ان پر چھوڑ دیا جو کسی نہ کسی طرح ہمارے سر پہ سوار ہو جاتے ہیں ۔ وہ معاشرہ کیسے نجات پائے گا جس نے بے نظیر بھٹو کو محض اس لیے لیڈر مان لیا کہ وہ بھٹو کی بیٹی ہیں ۔ محض اتفاق ہے کہ وہ کسی قدر سیاسی بصیرت کی حامل اور باہمت تھیں لیکن اپنے والد کی طرح مالی معاملات میں محتاط اور قوم پرست قطعاً نہیں۔ کیا صدر زرداری کا اس کے سوا بھی کوئی اعزاز ہے کہ وہ ان کے شوہرِ نامدار تھے؟ آخری برسوں میں محترمہ نے انہیں پارٹی اور سیاست سے الگ رکھا۔ تین برس تک ان سے پانچ ہزار میل دور وہ نیو یارک میں مقیم رہے جہاں امریکی اس نادرِ روزگار کی شخصیت کا مطالعہ فرماتے رہے۔جس نے زندگی کی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری پائی ہے۔ان فنون میں جو فقط انہی کے نزدیک معتبر ہیں۔ اسفند یار ولی کا کمال فقط یہ ہے کہ وہ عبدالولی خان کے گھر میں پیدا ہوئے۔ مولانا فضل الرحمٰن ، مفتی محمود کے فرزندِ ارجمند ہیں ؛چنانچہ دیوبندیوں کے سردار۔ جنرل محمد ضیا ئ الحق کی موت کے بعد افوا جِ پاکستان اور خفیہ ایجنسیوں نے طاقتور پیپلز پارٹی کی مخالف جماعتوں کا متحدہ محاذ بنایا اور میاں نواز شریف کو مسلط کر دیا ۔ چوہدری برادران کے سر پہ جنرل پرویز مشرف نے تاج رکھا۔ لیڈر کیا اس طرح چنے جاتے ہیں اور کیا وہ قوم فلاح پا سکتی ہے جو اس طرح کے رہنمائوں کو گوارا کرے۔صدر زرداری اور میاں محمد نواز شریف کا مشترکہ ہنر یہ ہے کہ اقتدار میں براجمان، ڈٹ کر انہوں نے دولت کمائی اور بیرونِ ملک اس کے ڈھیر لگا دئیے۔

    ہر گز نہیں ،آبرو مندی مطلوب ہے تو اپنے لیڈروں کا چنائو ہمیں خود کرنا ہوگا۔ بحث مباحثے ، غور وفکر اور یونین کونسل سے مرکز تک مرحلہ وار سیاسی عمل کے ذریعے۔ پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں کا کام باتیں بنانا اور کڑھنا نہیں ۔ گھروں سے باہر نکلنا اور انہیں سیاست میں حصّہ لینا ہوگا۔ صرف اسی طرح سیاسی جماعتوں کی جمہوری تشکیل ممکن ہے اور اس کے بغیر جمہوری نظام کی کامیابی ناممکن ۔اگر یہ نہیں تو اسی طرح ہم دلدل میںپڑے روتے رہیں گے۔ دو ہی راستے ہیں ، نون لیگ ، پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتیں خود اپنے اندر جمہوریت کو گوارا کریں یا لیڈروں کی اس کھیپ کو بحیرہ عرب کے حوالے کردیا جائے ورنہ وہی افتاد ، وہی افتاد، وہی ادبار، وہی ذلت اور مسکینی، وہی کرپشن،وہی کشکول اوروہی خود ترحمی۔

    ع یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ ئ محشر میں ہے

    Written by Haroon Rasheed