Pakistan ; Two Nation Theory Denial, Why??



  • Dr Shahid Masood sb is a great intellectual , sober and noble number one compare and columnist of Pakistan.

    Today I saw your program 'Shahid Nama' dated 25-08-2011 , sorry to say you gathered two personality Zaid Hamid Sb and a lady Marvi Sarmad with 'Bindi' . This bindi holder woman was a vulgar , indecent and rude woman.

    Dr sahib , you must think before calling the debaters. She does not match with Zaid Hamid Sb . She has no proper Pakistani or Islamic vision. she seams to be the agent of Indian thought.

    Please try to bring equal personalities. Who the hell she is , who denies two nation theories ,my GOD.

    Dr Shahid Masood sb , bindi woman type thousand ''Binidyan' are wondering here and there . Sorry sir , don't call such type of vulgar , indecent and rude woman in future. Who don't know what is Islam , Pakistan and morality. She is also against the Constitutions of Pakistan.



  • اس پروگرام کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب کا ماضی جاننا ضروری ہے کیونکہ انسان کی شخصیت پر اسکے ماضی کا گہرا اثر ہوتا ہے. ڈاکٹر صاحب اپنے زمانہ طالبعلمی میں پی ایس ایف سے وابستہ رہے ہیں اور اسی نسبت سے سیکولر نظریات رکھتے ہیں. وقت کے ساتھ انکے نظریات میں کچھ تبدیلی واقع ہوئی ہے لیکن ابھی بھی ذہن کے کسی کونے میں سیکولر ازم چھپا بیٹھا ہے جو کسی نہ کسی صورت میں باہر نکل آتا ہے. اسکے علاوہ ٹی وی چینلز کی کچھ کاروباری مجبوریاں بھی ہوتی ہیں. ملٹی نیشنل کمپنیاں اشتہارات دیتے وقت دیکھتی ہیں کہ پروگرام کس نظریے کو فروغ دے رہا ہے. لہٰذا صرف ڈاکٹر صاحب کو مورد الزام ٹھہرانا مناسب نہیں ہے. اس پروگرام میں دو انتہائی مخالف نظریات رکھنے والے لوگوں کو بلایا گیا ہے جو ایک طرح سے پروگرام کو متوازن کرتا ہے. خاتون کا تعلق ایسے لوگوں یا گروہ سے ہے جو شاید خود بھی مسلمان ہونے پر بھی شرمندہ ہیں اور زید حامد کا تعلق شاید ایجنسیوں سے ہے. شاید دونوں میں سے کوئی بھی دو قومی نظریہ کی اصل روح کو سمجھنے سے قاصر ہے

    دو قومی نظریۂ کے مخالف قائد اعظم رحمت الله علیہ کی گیارہ اگست انیس سو اڑتالیس کی تقریر کو جواز بنا کر ایک تو قائد اعظم رحمت الله علیہ کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسرے یہ کہتے ہیں کہ اس تقریر نے دو قومی نظریے کی نفی کر دی تھی یا قائد اعظم رحمت الله علیہ دو قومی نظریے پر یقین نہیں رکھتے تھے. ان لوگوں کو میں قائد اعظم رحمت الله علیہ کی ایک تقریر کے الفاظ یاد دلانا چاہتا ہوں جو قائد اعظم رحمت الله علیہ نے 8 مارچ 1944ء مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہے تھے. انہوں نے صاف بتا دیا تھا کہ دو قومی نظریۂ کیا ہے اور مسلمان قوم کی تعریف کیا ہے. آپ نے فرمایا

    مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمۂ توحید’ ہے۔ نہ وطن ہے اور نہ نسل۔ ہندوستان کا پہلا فرد جب مسلمان ہوا تو وہ اپنی پہلی قوم کا فرد نہیں رہا۔ بلکہ وہ ایک جداگانہ قوم کا فرد ہو گیا

    کچھ لوگ دو قومی نظریے کے متعلق اوٹ پٹانگ اور طرح طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں. یا تو انہیں پتہ ہو نہیں کہ دو قومی نظریۂ کیا ہے یا پھر وہ جان بوجھ کر کنفیوزن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. دو قومی نظریۂ ہندوؤں کے ایک قومی نظریے کے اس دعوے کا جواب ہے کہ ہندوستان میں ایک ہی قوم آباد ہے اور وہ ہندو ہے. اسکے علاوہ ہندوستان میں کسی قوم کا وجود نہیں ہے اور باقی سب ہندو قوم کا حصہ ہیں. مسلمانوں نے ہمیشہ ہندوؤں کے اس دعوے کی نفی کی اور کہا کہ ہندوستان میں ایک نہیں دو قومیں آباد ہیں. ایک ہندو اور دوسرے مسلمان. سادہ ترین الفاظ میں یہی دو قومی نظریۂ ہے. دو قومی کو پہلے سمجھ لیں تو بات کو سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی

    انڈین نیشنل کانگریس یہ دعوا کرتی تھی کہ وہ ہندوستانیوں کی واحد نمایندہ جماعت ہے اور ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک ہے. ہندوستان کے مسلمانوں نے سب سے پہلے کانگریس کے پلیٹ فارم سے آواز اٹھائی کہ مسلمان ہندوؤں ہر لحاظ سے الگ قوم ہے اور انہیں ہندوستان کے اندر انکی آبادی کے لحاظ سے انکے جائز حقوق دیے جائیں. جب کانگریس نے انکار کیا تو انہوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا. آغاز میں وہ ہندوستان کے اندر رہ کر مسلمانوں کے جدا قوم ہونے اور انکے حقوق کی جدوجہد کی. ایک مقام پر مسلمانوں کو جدا قوم ماں کر جداگانہ انتخاب کا حق دے دیا گیا لیکن جب برطانیہ نے ہندوستان چھوڑ کر واپس جانے کا اعلان کیا تو مسلمانوں نے پھر کانگریس کے ساتھ مسلمانوں کے حقوق کے لیے بات چیت کی لیکن کانگریس کی ہت دھرمی سے مایوس ہو کر مسلمانوں نے ایک علیحدہ ملک کی جدوجہد شروع کی جو قیام پاکستان پر ختم ہوئی. دو قومی نظریے کا مطلب صرف اور صرف یہ تھا اور ہے کہ مسلمان ہندوؤں سے ایک الگ قوم ہے

    سرسید احمد خان نے 1883ء میں کہا

    ہندوستان ایک ملک نہیں’ یہ براعظم ہے اور یہاں مختلف نسلوں اور روایات کے لوگ آباد ہیں. ہندوستان میں دو بڑی قومیں آباد ہیں’ ہندو اور مسلمان

    علامہ اقبال رحمت الله علیہ نے بھی اپنے خطبہ الہ آباد میں یہی پیغام دیا تھا کہ مسلمان چونکہ ایک الگ قوم ہے اس لیے انکے اکثریتی علاقوں پر مشتمل سٹیٹس بنا کر انہیں ہندوستان کے اندر رہ کر خود مختاری دی جائے

    قائداعظم محمد علی جناح نے 8 مارچ 1944ء مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا

    پاکستان اسی دن وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان میں پہلے ہندو نے اسلام قبول کیا تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب یہاں مسلمانوں کی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی۔ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمۂ توحید’ ہے۔ نہ وطن ہے اور نہ نسل۔ ہندوستان کا پہلا فرد جب مسلمان ہوا تو وہ اپنی پہلی قوم کا فرد نہیں رہا۔ بلکہ وہ ایک جداگانہ قوم کا فرد ہو گیا۔ ہندوستان میں ایک نئی قوم وجود میں آ گئی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہندو اور مسلمان ایک ہی قصبہ اور ایک ہی شہرمیں رہنے کے باوجود کسی ایک قوم میں مدغم نہیں ہوسکتے۔ وہ ہمشیہ دو علیحدہ قوموں کی حیثیت سے رہتے چلے آرہے ہیں

    چند ماہ کے بعد قائداعظمؒ نے ہندوئوں کے لیڈر موہن داس کرم چند گاندھی کو 17 ستمبر 1944 کو ایک خط لکھا تو ہندوستان میں مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کی وضاحت ان الفاظ میں کی

    ہم مسلمان اپنی تابندہ تہذیب اور تمدن کے لحاظ سے ایک قوم ہیں۔ زبان اور ادب’ فنونِ لطیفہ’ فنِ تعمیرات’ نام اور نام رکھنے کا طریقہ’ اقدار اور تناسب کا شعور’ قانونی اور اخلاقی ضابطے’ رسوم اور جنتری’ تاریخ اور روایات’ رجحانات اور امنگیں… ہر ایک لحاظ سے ہمارا اپنا انفرادی زاویۂ نگاہ اور فلسفۂ حیات ہے۔ بین الاقوامی قانون کی ہر تعریف کے مطابق ہم ایک قوم ہیں

    ایک چیز ذہن میں رکھنی چاہئیے کہ دوقومی نظریہ پاکستان کے قیام کی بنیاد ہے اور پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد نہیں ہے. دو قومی نظریے نے پاکستان کو جنم دیا ہے پاکستان نے دو قومی نظریے کو جنم نہیں دیا ہے. پاکستان کے قیام کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دو قومی نظریۂ ختم ہوگیا ہے جیسا کہ کچھ لوگ سیکولر لوگ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں. دو قومی نظریہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ بر صغیر ہند میں مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں. مسلمان ہندو قوم کا حصہ نہیں ہیں. بلکہ وہ سب سے الگ ایک قوم ہے. یہ نظریۂ پاکستان بننے سے پہلے بھی موجود تھا اور پاکستان بننے کے بعد بھی موجود ہے. اور اسوقت تک موجود رہے گا جب تک برصغیر میں ایک بھی مسلمان باقی ہے. پاکستان کا قیام یا بنگلہ دیش کا قیام کسی طرح بھی دو قومی نظریۂ ختم نہیں کر سکتا. دو قومی نظریۂ ملکی سرحدوں کا محتاج نہیں ہے. نہ تو پاکستان بننے سے مسلمانوں کا علیحدہ تشخص ختم ہوتا ہے اور نہ ہی بنگلہ دیش بننے سے. اگر پاکستان بننے سے دو قومی نظریۂ ختم ہو چکا ہوتا تو مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر اندرا گاندھی یوں بدبودار اور زہر آلود الفاظ میں مسلمانوں کو مخاطب نہ کرتی

    ہم نے مسلمانوں سے ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا۔ آج دوقومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق ہو گیا

    اندرا گاندھی کے الفاظ پڑھ کر سب پر عیاں ہو جانا چاہیے کہ دو قومی نظریۂ کیا ہے اور اسکا تعلق پاکستان یا بنگلہ دیش سے نہیں بلکہ مسلمان قوم سے ہے کیونکہ ایک ہزار سال پہلے نہ پاکستان کا وجود تھا اور نہ بنگلہ دیش کا. اندرا گاندھی نے ایک متعصبانہ ہندو ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانیوں کو نہیں، پاکستان کے مسلمانوں کو نہیں، پاکستان کے ہندوؤں کو نہیں، پاکستان کے عیسائیوں کو نہیں، پاکستانی فوج کو نہیں، پاکستانی حکومت کو نہیں بلکہ مجموعی طور پر برصغیر کے مسلمانوں کو مخاطب کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم (ہندوؤں) نے مسلمانوں سے ایک ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا ہے اور مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کا نظریۂ اٹھا کر خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے. اندرا گاندھی کے یہ الفاظ پاکستان کے مسلمانوں کے نہیں بلکہ علمائے ہند کے کانگریسی مسلمانوں کے منہ پر ایک طماچہ تھا. اسکے علاوہ یہ سیکولر بھارت کا راگ الاپنے والے سرخوں اور نام نہاد ترقی پسند سول سوسایٹی کے منہ پر بھی ایک زبردست تھپڑ ہے جو دو قومی نظریے کی مخالفت میں دن رات لگے رہتے ہیں. دو قومی نظریۂ کل بھی زندہ تھا، آج بھی زندہ ہے اور اسوقت تک زندہ رہے گا جب تک برصغیر میں ایک بھی مسلمان زندہ ہے

    مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے کسی طرح بھی اس دو قومی نظریے کو غلط ثابت نہیں کیا. کیا بنگلہ دیش کے مسلمانوں نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ مسلمان اور ہندو ایک قوم ہیں؟ کیا وہ دوبارہ سے ہندوستان میں شامل ہوگئے ہیں؟ کیا پاکستان بننے سے دو قومی نظریۂ کہ مسلمان اور ہندو دو الگ قومیں ہیں ختم ہوگیا ہے؟

    ایک چیز اور واضح کرتا چلوں کہ مسلمانوں کے نزدیک قومیت کا ایک بنیادی تصور یہ ہے پوری دنیا کے مسلمان ایک قوم سے تعلق رکھتے ہیں جو جغرافیائی سرحدوں کی پابند نہیں ہے

    چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا - مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

    اسکے علاوہ ایک قومیت کا نسبتا چھوٹا تصور ہے جو ملکی سرحدوں کا پابند ہے. پاکستانی، بنگلہ دیشی، ایرانی، برطانوی، امیرکن یا کینیڈین اسکی مثالیں ہیں. اسکے علاوہ دیگر چھوٹے چھوٹے قومیت کے تصور ہیں، مثلا پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹھان، مغل، جٹ، سید، آرائیں، شیخ وغیرہ وغیرہ



  • Baw(L)a copy paste from Pakistan studies



  • WHY ?????

    33 angels - Kid girls Shifted from Bajoor (North South Wajirastan ) to Karachi and so on to other NGO or corrupt parties.

    Why parents of these kids handed over these kids to UNRELIABLE PERSONS ? They never again met to these Kids. DO NOT HAND OVER THESE CHILDREN TO THEIR PARENTS WITH OUT INVESTIGATIONS ....

    Who are they ? and why they (Culprit) took them to KARACHI ????

    Is there any check on these low grade MADRISSA ,, WHO RUN THESE Madrissa <<<

    Why again these girls further handed over to an other person or Party ????

    It is first ever example and astonishing that when a person demands his loan from any body and in lieu punishment he hand over your 33 ( Thirty Three ) Girls to the Borrower , a shame full act .

    A complete and thorough investigations are required from their Loving and so called parents , Relatives ,, Madrissa owners , other sellers and purchasers ,, Also get medico legal expertise OF THESE GIRLS.

    Also investigate from terrorism angle.

    We pray for a peaceful and caring Pakistan free of TERRORISM , we also pray for our Pak Army which is fighting for eradication of Terrorism factors from PAKISTAN.

    Why All MARISSAS ARE OUT OF CONTROL OF GOVERNMENT ,,,

    WHAT THE HELL MINISTRIES OF RELIGIOUS AFFAIRS ARE DOING,, WHY THEY HAVE NOT REGISTERED ! THESE MADRISAS , WHO WILL CHECK THESE MADRISAS ,, A FEW AMONG THESE ARE ALSO PRODUCING and TRAINING TERRORISTS ALSO .. Make urgent arrangements for REGISTRATION AND CHECKING IN ALL ASPECTS INCLUDING TEACHING SYLLABUS



  • This post is deleted!


  • Image and video hosting by TinyPic



  • Two Ramdans back, Veena Malick appeared on a tv channel with a mullah for preaching. That seemed to be very laughable.



  • We condemn all Bomb Blast attacks by Taliban any where in Pakistan.

    Pak Army and Government is requested to Increase the intensity of Zarb E Azb and other security activities against these Taliban ;;;

    As Per ISPR reports , Some of the Taliban terrorists, who attacked the Army school and killed more than 160 students and staff, stayed in "House of a Imam Masjid " employee of "Irrigation Department' ,Peshawar (a government employee ) ;;;

    this is a terrible information ;; the

    Sympathizer / Facilitators / and

    Financiers

    are spread and hidden, residing in settled / residential areas with another face in all over Pakistan, They help the Terrorists as and when required ;;;

    this is not tolerable situation ;; to minimize the bomb attacks, We have to find out these real Taliban (Killers of Humanity) and enemies Of Pakistan ;;;

    In real sense these sympathizer / facilitators / and financiers more dangerous than bomber ;; because suicide bomber finishes after on attempt of killing,,,

    but these sympathizer / facilitators / and financiers are breeding / growing up /training /hiding nurseries for the terrorism with an endless job ;; they must be punished /crushed severely ;;;

    It is Observed that these type of Molvi (IMam) never Condemn the Bomb

    Blaster and suicide attackers in their prayers as the other peace loving

    Muslims pray and condemn the terrorists



  • Shahid Masood has already sold his faith to Goldsmith/Younus Al Goher. He has nothing to do with affairs of Pakistan. His prime mission is to create dissensions among Muslims of Pakistan and facilitate Pasha Party and Gullu Qadri Firqa in media.

    May gave any self branded intellectual view, bit since he is neither Pakistani and nor Muslim, we do not believe him.


Log in to reply
 

Looks like your connection to Discuss was lost, please wait while we try to reconnect.