فضائل درود شریف FAZAIL - e - DAROOD SHARIF



  • فضائل درود شریف

    جو مقام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عطائے فرمایا ہے اتنا مقام کسی اور کو نہیں بخشا، اس مقام تک آج تک نہ کوئی نبی پہنچ سکا ہے نہ کوئی فرشتہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کا اندازہ کل قیامت کے دن ہو گا، جب تمام انبیائے کرام علی نبینا وعلیہم الصلوٰة والسلام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے طلب گار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اورخصوصیات سے نوازا وہیں پر ایک خاصیت جو صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی خاص ہے وہ درود شریف ہے، جس میں نہ کوئی نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہے اور نہ کوئی فرشتہ، جو صرف اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی خاصہ ہے، یوں تو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفعت ذکر پر بحث کی جائے تو اس کے لیے دفتر چاہیے۔ لیکن پھر بھی بعد میں لکھنے والے کو لکھنا پڑتا ہے بعد از خدا بزرگ تو ئی قصہ مختصر۔

    تحر یرکرنا چاہتا ہوں بخاری شریف میں حضرت ابو جو مقام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عطائے فرمایا ہے اتنا مقام کسی اور کو نہیں بخشا، اس مقام تک آج تک نہ کوئی نبی پہنچ سکا ہے نہ کوئی فرشتہ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کا اندازہ کل قیامت کے دن ہو گا، جب تمام انبیائے کرام علی نبینا وعلیہم الصلوٰة والسلام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے طلب گار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اورخصوصیات سے نوازا وہیں پر ایک خاصیت جو صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی خاص ہے وہ درود شریف ہے، جس میں نہ کوئی نبی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہے اور نہ کوئی فرشتہ، جو صرف اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی خاصہ ہے، یوں تو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفعت ذکر پر بحث کی جائے تو اس کے لیے دفتر چاہیے۔ لیکن پھر بھی بعد میں لکھنے والے کو لکھنا پڑتا ہے بعد از خدا بزرگ تو ئی قصہ مختصر۔

    تحر یرکرنا چاہتا ہوں بخاری شریف میں حضرت سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ﴿ان اللہ وملائکتہ یصلون علی النبی…﴾“ تو ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ”کیف نصلی علیک؟“ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف کیسے پڑھیں، جب کہ ہم سلام بھیجنا سیکھ چکے ہیں جو تشہدمیں پڑھتے ہیں؟”السلام علیک ایھا النبی ورحمة اللہ وبرکاتہ“ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” قل: اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد… الخ“ (درود ابراہیمی) پڑھو۔ یہ آیت مبارکہ مدینہ منورہ زادھا الله شرفاً میں ماہ شعبان 2 ہجری کو نازل ہوئی، جس کی رو سے اہل ایمان کو حکم دیا گیا کہ میرے نبی حضرت محمد علیہ الصلوٰة والسلام پر درود بھیجو۔

    لائکہ کے درود بھیجنے کا مقصد آپ صلی الله علیہ وسلم کے حق میں الله تعالیٰ سے دعا کرنا کہ وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو اعلیٰ وارفع مراتب عطا فرمائے، آپ صلی الله علیہ وسلم کے دین کو غلبہ اور آپ کی شریعت مطہرہ کو فروغ بخشے اور اہل ایمان کے درود وسلام کا مطلب بارگاہ الہٰی میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی شان کی بلندی کی التجا کرنا اور آپ کی مدح وثنا کرنا ہے ۔ جمہور مفسرین نے یہی معنی لکھے ہیں۔

    فائدہ: قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے اندر یہ بات نہایت واضح طور پر موجود ہے کہ الله تعالیٰ نے سیدنا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو جو خصائص اوصاف ،مناقب عطا فرمانے تھے، عطا فرما دیے، مثلاً رفعت ذکر، غلبہ دین، رسالت عامہ الی یوم القیامة، ختم نبوت ، مقام محمود ، شفاعت عظمی،گو کہ ان میں جن کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے وہ اس وقت وقوع ہوں گے تو پھر ملائکہ یا اہل ایمان کی دعاؤں کا کیا مقصد کہ وہ اعلیٰ وارفع مراتب کے لیے بارگاہ صمدیت کے اندر سراپا عجز وانکساری بنے ہوئے ہیں؟ تو علمائے محققین نے سمندر کے اندر غواصی کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ملائکہ او راہل ایمان دعا نہ بھی کرتے، جو درود سے مراد ہے ، توپھر بھی پروردگار نے جو جو فضیلتیں بخشی تھیں وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو بخش دیں لیکن ملائکہ اوراہل ایمان کو درود کا حکم دے کر اپنے نبی کی شان بیان کردی کہ ملائکہ اور اہل ایمان درود پڑھ کر اپنے کسی اور مقصد کی دعا نہیں کرتے بلکہ درود پڑھتے ہوئے میرے نبی صلی الله علیہ وسلم کے لیے دعا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور الله کی رحمت حاصل کرتے رہتے ہیں۔ علامہ سید محمود آلوسی رحمة الله علیہ نے ایک اہم بات اس آیت کے ضمن میں تحریر فرمائی کہ کسی نبی کی امت کو پرودرگار نے حکم نہیں دیا کہ وہ اپنے نبی پر درود سلام بھیجیں، سوائے اس امت کے کہتم اپنے نبی پر درود وسلام بھیجو اور یہ بات اگر خاص ہے تو صرف سیدنا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ خاص نظر آتی ہے، جس سے جہاں پر ایک طرف حضور علیہ الصلوٰة والسلام کا مقام نظر آتا ہے، وہیں پر اس امت کے ساتھ الله تعالیٰ کی محبت بھی نظر آتی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ اس امت کو کسی نہ کسی صورت میں ہر وقت نوازنا چاہتے ہیں اور الله کی رضا حاصل کرنے کے لیے اتباع رسول صلی الله علیہ وسلم اور درود پاک سے بڑھ کر کوئی اہم عمل نہیں، کیوں کہ پرورد گار بھی اس عمل کے اندر اپنے ملائکہ اور اپنے بندوں کے ساتھ شریک ہو جاتے ہیں ۔ تمام دین کے کامو ں کے اندر الله تعالیٰ فرماتے ہیں ﴿لقد کان لکم فی رسول الله اسوة حسنة﴾ ساری زندگی ایک انسان، خاص کر مسلمان کیسے گزارے الله تعالیٰ نے بیان کر دیا ہے اور نمونہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی ذات کوبنایا ہے، لیکن درود پاک عمل ہے جس کے لیے نمونہ ملائکہ، انبیاء یا کسی اور کو نہیں بنایا، بلکہ اپنی ذات مبارکہ کو بنایا ہے کہ﴿ان الله وملائکتہ یصلون علی النبی﴾ کہ لوگو! آؤ آج اپنے الله تعالیٰ کی اتباع کرو۔ اور اپنے نبی پردرود بھیجو اور اس عمل مبارک کے اندر اپنے رب کے ساتھ شریک ہو کر خدا کی رحمت حاصل کرنے کے حق دار بن جاؤ۔﴿ان الله وملائکتہ… ﴾ جملہ اسمیہ ہے لفظ ان شروع میں ہے، تاکید بھی ہے، تفسیر کبیر میں امام رازی فرماتے ہیں کہ جملہ اسمیہ استمرار کا فائدہ دیتا ہے، گویا یہ عمل جب سے الله تعالیٰ کی ذات ہے شروع ہے اور آج بھی جاری ہے او رہمیشہ جاری رہے گا۔ ہر چیز کی ایک ابتدا ہے او رایک انتہا ہے، لیکن درود وہ عمل ہے جس کی ابتدا تو ہے انتہا نہیں یہ عمل اس میں تھا، ہمیشہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

    امام بخاری نے ابوا لعالیہ تابعی سے یہ اثر نقل کیا ہے کہ الله تعالیٰ کا صلوٰة سے مراد آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعظیم او رملائکہ کے سامنے آپ صلی الله علیہ وسلم کی مدح وثنا ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعظیم دنیا میں تویہ ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو بلند مرتبہ نصیب فرمایا۔ آپ کے ذکر کو اپنے ذکر کے ساتھ شامل فرمایا۔ اذان ، اقامت، نماز، درود وسلام، کلمہ طیبہ غرض ہر جگہ اپنے نام کے ساتھ آپ صلی الله علیہ وسلم کے نام کو شامل فرما لیا۔ قال حسان بن ثابت رضی الله عنہ #

    وضم الالٰہ اسم النبی الیٰ اسمہ

    اذ قال فی الخمس المؤذن اشھد

    وشق لہ من اسمہ لیسجلہ

    فذو العرش محمود وھذا محمد

    ” الله تعالیٰ نے اپنے نام کے ساتھ آپ صلی الله علیہ وسلم کے نام کو ملا رکھا ہے، جیساکہ پانچ وقت موذن اشھد کہتا ہے۔ الله تعالیٰ نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے اعزاز کے لیے آپ صلی الله علیہ وسلم کا نام اپنے نام سے مشتق کیا، چناں چہ صاحب عرش محمود ہے اور آپ محمد، صلی الله علیہ وسلم #

    صلوٰة الله کلام الله جہاں دیکھا تو یہ دیکھا

    اگر لکھا الله دیکھا تو محمد بھی لکھا دیکھا

    اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی یہ تعظیم بھی فرمائی کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے دین کو دنیا بھر میں پھیلا دیا اور غالب کر دیا۔ ﴿لیظھرہ علی الدین کلہ﴾․ آپ کی شریعت کو قیامت تک کی شریعت بنا دیا اور شریعت کی حفاظت بھی خود فرمانے کا وعدہ کیا۔ ﴿انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون﴾ اور آخرت میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعظیم یہ کی کہ آپ کا مقام تمام مخلوقات سے بلند فرما دیا۔

    حدیث کے الفاظ ہیں ”انا سید ولد آدم، ولافخر، وانا اول من تنشق عنہ الارض، وانا اول شافع، واول مشفع، ولافخر، ولواء الحمد بیدی یوم القیامة، ولا فخر“․

    میں ساری اولاد آدم کا سردار ہوں، قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر مبارکہ شق ہو گی اور حشر کے دن سب سے پہلے میں سفارش کروں گا، جو کہ قبول ہو گی اور قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہو گا او رمیں ان تما م باتوں پر فخر نہیں کرتا، بلکہ الله تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں ۔“( سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر الشفاعة)

    فائدہ! چاہیے تو یہ تھا کہ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام اور دیگر انبیائے کرام علی نبیا وعلیہم الصلوٰة والسلام کی قبور مبارکہ شق ہوتیں، لیکن آپ صلی الله علیہ وسلم کی قبر سب سے پہلے شق ہونے کی وجہ کیاہے؟ تو علمائے کرام نے نکتہ آفرینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں پر آپ صلی الله علیہ وسلم کی قبر مبارک کا شق ہونا آپ کے لیے باعث اعزاز او روجہ تعظیم ہے وہیں یہ امت کے گناہ گار جن کی زندگی گناہوں سے بھری پڑی ہے قیامت کے دن گناہوں کی وجہ سے پریشان ہوں گے اور قیامت کے دن ہوش وحواس تک جواب دے دیں گے تو ان کی نگاہ جب قبروں سے اٹھتے ہی محشر کے میدان میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے چہرہ انور پر پڑے گی تو ان کی تسلی کا سامان ہو جائے گا۔ سبحان الله! کہ یہ شفیع المذبین پیغمبر سامنے موجود ہے، جیسے ایک شخص کسی نئی بستی میں جائے تو وہاں اجنبیت کی وجہ سے وہ تھوڑا بہت تنگ ہوتا ہے، لیکن کوئی جان پہچان والا نکل آئے تو پھر اس کی یہ تکلیف دور ہو جاتی ہے، ایسے ہی محشر کا میدان بھی ایک نیا جہاں ہے اور ایک ایسی جگہ جہاں انسان کے ہوش وحواس کام کرنا چھوڑ دیں گے اور اس مشکل ترین مقام کے اندر سیدنا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے چہرہ انورپر نگاہ پڑ جائے تو خدا کی نعمت نہیں تو اور کیا ہے، جن کو دیکھتے ہی تمام مصیبتیں دور ہو جائیں اور بے قرار دل کو قرار آجائے، بلکہ اکابرین تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو عالم برزخ کے اندر رکھنا بھی خدا کی نعمت ہے، پرورد گار چاہتے تو قیامت تک زندہ رکھتے، لیکن اس جہاں کے اندر زندہ نہ رکھنے کی جہاں اور حکمتیں ہیں جو تحریرکرنا اس وقت مقصود نہیں، وہیں پر ایک حکمت آپ صلی الله علیہ وسلم کو برزخ میں پہنچا کر حیات برزخی دے کر اس امت کے مرنے والوں کے لیے مغفرت کا سامان مہیا کرنا ہے، کیوں کہ اسی زمین کے اندر جہاں آپ صلی الله علیہ وسلم کی امت کے آنے والے مدفون ہوں گے، وہیں پر اس زمین کے اندر سر کار دو عالم ،روح دوعالم، فخر دو عالم، اثاثہ دو عالم، سیدنا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم بھی تشریف فرماہیں، یقینا ان کی برکات جہاں پر دنیا والوں کو مل رہی ہیں، وہیں پر برزخ والوں کو بھی ضرور عطا ہوں گی۔

    لہٰذا محشر کے اندر جو شخص سب سے زیادہ حضور علیہ الصلوٰة والسلام کے قریب ہو گا وہ، وہ خوش نصیب ہے جو متبع رسول ہو گا او رکثرت کے ساتھ درود پاک پڑھتا ہو گا۔

    سیدنا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم وہ عظیم ترین ہستی ہیں جنہوں نے کفار کے احسانات کابدلہ بھی دیا۔ کسی نے تھوڑی سی اچھائی کی اس کو دوگنا بدلہ دیا تو جو آپ صلی الله علیہ وسلم پر کثرت کے ساتھ درود پڑھے گا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کل اس کو کیسے محروم فرمائیں گے؟!

    یارب صل وسلم دائماً ابداً

    علی حبیبک خیر الخلق کلھم

    علامہ اسماعیل حقی آفندی رحمة الله علیہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف، تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں کہ جس طرح آپ صلی الله علیہ وسلم نے دین کی ترویج واشاعت کی، یہ آپ کا ہی خاصہ ہے، جو کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا بہت بڑا احسان ہے، جس کا شکر ادا کرنے کے لیے آپ کی امت کو درود وسلام کا حکم دیا گیا ہے۔

    علامہ قسطلانی رحمة الله علیہ نے مواہب لدنیہ میں ابن عربی رحمة الله علیہ کا قول نقل کیا ہے کہ درود پاک سے حضور علیہ الصلوٰة والسلام کے ساتھ دونوں جہانوں میں تعلق مضبوط ہوتا ہے۔

    علامہ آلوسی تفسیر روح المعانی میں رقم طراز ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی ذات اقدس تمام بنی نوع انسان اور مخلوق کے لیے الله تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، لہٰذا اس کے شکر ادا کرنے کی ایک شکل درود پاک ہے، جتنی بھی جسمانی اور روحانی عبادات ہیں۔ ترقیاں ہیں، وصال حق ہے۔ قرب پروردگار ہے، وہ سب آپ صلی الله علیہ وسلم کے طفیل ہے۔ لہٰذا ان کا صلہ اگر کسی صورت میں ہے تو وہ درود پاک ہے۔

    حضرت مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمة الله علیہ، جو حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمة الله علیہ کے خلیفہ ہیں ، فرماتے تھے کہ درود شریف ایک ایسی عبادت ہے جس میں منہ سے بیک وقت الله تعالیٰ کا نام بھی نکلتا ہے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا نام بھی نکلتا ہے ۔ الله تعالیٰ اور حضور صلی الله علیہ وسلم جس عبادت میں جمع ہو جائیں اس کا کیا کہنا ۔ الله تعالیٰ بھی راضی اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم بھی راضی۔

    درود شریف پڑھنے کا طریقہ

    وضو کرکے قبلہ رخ ہو کر دوزانوں ساری دنیا سے توجہ ہٹا کر پڑھنے والا یہ تصور کرے کہ میں سیدنا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے روضہٴ انور کے سامنے ہوں اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے روضہ انور سے جو انوارات پھیل رہے ہیں او رنکل رہے ہیں ان سے میں بھی مستفید ہو رہا ہوں۔ اورجو الفاظ زبان سے نکل رہے ہیں ان پر خصوصی توجہ ہو تو کچھ بعید نہیں کہ پڑھنے والا کل حضور صلی الله علیہ وسلم کی شفاعت سے مستفید نہ ہو سکے او راس دنیا کے اندر حضور صلی الله علیہ وسلم کی زیارت اس کا مقدر نہ بن سکے۔ خطیب اسلام حضرت مولانا محمد اجمل خان نور الله مرقدہ فرماتے تھے کہ نماز والا درود شریف روزانہ تین سوتیرہ بار پڑھ لینا چاہیے، اگر نہ ہو سکے تو تعداد کم کر لی جائے ،لیکن سو سے کم نہ ہو، چاہے تو کوئی اور درود شریف بھی پڑھ سکتا ہے، بالخصوص:”اللھم صل علی سیدنا ومولانا محمد وعلی آل سیدنا ومولانا محمد وبارک وسلم“․

    الله تعالیٰ ہمیں کثرت کے ساتھ حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم پر درود پاک پڑھنے والا اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے بتائے ہوئے مبارک ارشادات پر عمل کرنے والا بنائے۔

    یارب صل وسلم دائماً ابداً

    علیٰ حبیبک خیر الخلق کلھم



  • •الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یارسول اللہ ♥



  • مختلف مقامات اور اوقات میں درود شریف کا حکم

    حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن سب سے بہتر ہے اس میں حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن وفات پائی اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سخت آواز ظاہر ہوگی پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد کیسے آپ کو پیش کیا جائے گا؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاک میں مل چکے ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کرام علیھم السلام کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔:: سنن ابواداؤد،2 : 88

    حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو فرماتے اے اﷲ تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج پھر فرماتے اے اﷲ میرے گناہ معاف فرما اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب مسجد سے باہر تشریف لاتے تو فرماتے اے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج پھر فرماتے اے اﷲ میرے گناہ بخش دے اور میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔:: مسند،احمد بن حنبل،6 : 282، رقم : 26459

    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دو آدمیوں پر اپنی رضا کا اظہار فرماتے ہیں، ایک وہ جو دشمن سے ملے درانحالیکہ وہ اپنے ساتھیوں کے گھوڑے پرسوار ہو وہ تمام پسپا ہوجائیں مگر وہ ثابت قدم رہے، اگر قتل ہوگیا تو شہید اگر زندہ رہا تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رضا کا اظہار فرماتا ہے دوسرا وہ شخص جو نصف رات کو اٹھتا ہے حالانکہ اس کی کسی کو خبر نہیں ہوتی وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی حمد اور بزرگی بیان کرتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اور قرآن شریف سے فتح طلب کرتا ہے یہ وہ شخص ہے جس پر اللہ تعالیٰ اپنی رضا کا اظہار فرماتا ہے اور فرماتا ہے میرے بندے کو قیام کی حالت میں دیکھو کہ میرے سواء اسے کوئی نہیں دیکھ رہا۔:: نسائی شریف،6 : 217، رقم : 10703

    حضرت وہب بن اجدع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا صفاء سے (سعی کی) ابتداء کرو اور پھر بیت اﷲ کی طرف منہ کرکے سات تکبیریں کہو ہر دو تکبیروں کے درمیان اﷲ کی حمد بیان کرو اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو اور پھر اﷲ سے اپنے حق میں دعا کرو اور مروہ کے مقام پر بھی ایسا ہی کرو۔:: ابن أبي شيبه،3 : 311، رقم : 14501