ججوں کی سیاسی بحالی نے، انہیں سیاسی، خودسر اور آیین سے باغی کر دیا ہے.



  • http://www.topstoryonline.com/pakistani-courts-media-trial-by-nadeem-saeed

    Does not matter, It is issue of constitutional amendment, constitutional immunity for president, equal justice, equal fundamental rights, impartiality or political judicial activism, present judiciary is rebelling against rule of law and constitution.

    They believe that their restoration was under public and political pressure. So they have higher mandate and supremacy than parliament and executive. They think, they can ignore any rule of law and constitution to establish their supremacy.

    وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمہ کی سماعت کے دوران ان کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن نے بنچ میں شامل بعض ججوں کے بار بار ٹی وی پروگراموں، اخباری خبروں اور رائے عامہ کے حوالوں پر آخر کا ر کہہ ہی دیا کہ ججوں کو اتنا بھی باخبر نہیں ہونا چاہیے۔حیران کن طو ر پر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے جج مقدموں کی سماعت کے دوران صحافیوں، اینکر پرسنز اور خبروں کے حوالے دے رہے ہوتے ہیں۔

    اصغر خان آئی ایس آئی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے یونس حبیب کو کہا کہ مقدمہ عدالت میں چل رہا ہے اور آپ ہر وقت ٹی وی پر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ چیف صاحب کے اس مشاہدے کا دوسرا پہلو یہ نکلتا ہے کہ موصوف خود بھی ٹی وی دیکھتے رہتے ہیں۔موجودہ ’آزاد عدلیہ‘ کی اسی روش پر تبصرہ کرتے ہوئے وکلاء تحریک کے سرکردہ رہنماء علی احمد کرد نے کچھ عرصہ پہلے تبصرہ کیا تھا کہ عدالتیں ٹی وی ٹاک شوز اور صبح کے اخبار پڑھ کر فیصلے کر رہی ہیں۔

    امریکہ اور برطانیہ سے ایسی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں جہاں عدالت نے جیوری اس بات پر برخاست کر کے نئی جیوری بنانے کی درخواست کردی کہ عدالت کے علم میں یہ بات آئی کہ اس کے کچھ ارکان ٹی وی دیکھتے ہیں۔ عدالت نے ان کی اس بات کو درخور اعتناء نہیں جانا کہ وہ اس مقدمہ کی خبر یا اس پر تبصرہ نہیں سنتے جس کے لیے وہ جیوری کا کام کر رہے ہیں۔

    ڈاکٹر ڈیلس نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے جان بوجھ کر ملزم کے بارے انٹرنیٹ پر تحقیق نہیں کی تھی

    چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججوں نے اعتزاز احسن اور یونس حبیب سے میڈیاپر ان کی حاضریوں کے حوالے سے جن باتوں پر اعتراض کیا ہے وہ دراصل ’چیف جسٹس بحالی تحریک‘ کا ورثہ ہے۔

    اس سے پہلے زیرسماعت مقدموں کی میڈیا عدالتیں نہیں لگا کرتی تھیں۔ جب چیف صاحب کی بحالی کا مقدمہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی عدالت میں زیرسماعت تھا تو ایک طرف مدعی افتخار چوہدری وکلاء اور عوام سے خطاب کرتے پائے جاتے تھے، یہ خطاب بیشتر ٹی وی چینلز پر براہ راست دکھائے جاتے تھے، اور دوسری طرف اعتزاز احسن، منیر اے ملک، حامد خان، اطہر من اللہ اور جسٹس طارق افتخار چوہدری کی طرف سے روزانہ ٹاک شوز کے اکھاڑوں میں اس وقت کی حکومت کے وکلاء اور نمائندوں سے زور آزمائی کرنے جلوہ افروز ہوتے تھے۔ اس وقت عدالتی اخلاقیات کے کسی چیمپیئن کو سرشام لگ جانے والی میڈیا عدالتوں کو خیال نہیں آیا۔

    وکلا ء تحریک اور پھر سڑکوں پر سراپا احتجاج اور عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے افتخار چوہدری کی بطور ’ عوامی چیف جسٹس ‘بحالی نے ریاست کے اداروں میں عدم توازن تو پیدا کیا ہی ہے، اس سے میڈیا ٹرائل کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے اس کے منفی اثرات کی تپش معزز جج حضرات کو پہلی دفعہ ’وزیراعظم توہین عدالت کیس‘ اور ’اصغر خان آئی ایس آئی کیس‘ میں محسوس ہوئی ہے، وگرنہ عدلیہ ’آزاد‘ ہونے کے بعد این آر او، پی سی او ججز، حج سکینڈل، این آئی سی ایل کیس وغیرہ میں بھی میڈیا نے اپنا متوازی ٹرائل جاری رکھا۔



  • Chief justice ko pechalay 4 saal se Zardari aur Yusaf Raza ke khalaf talk shows par tao koi Ihtaraz nein ha. Balkeh en talk show kee bunyaad par sou moto action liay jatay hein aur faisaly kiay jaatay hein.

    Laken agar koi Shakhas Nawaz Sharif ko media par aa kar benaqab karay ya Yusaf Rasa ko defend karay tao Phir chief justice aur dusary Judges ko en TV shows mein appearance par Ihtazara ha.

    Laken en sab se sangeen baat yeh ha keh koi judge Khud TV shows Daikhay aur Akhbar parhay. Aur phir agaly din court mein aa kar na seraf en ka Hawala de balkeh en kee madad se faisalay karay.



  • Shahji, CJ ko tu aapki gundi leadership haath laga hee nahi saktee, tu phir rona kis baat ka?



  • siddiqi73@

    Judicial dictatorship, politicize judiciary and partial judiciary is worse than any martial law or any kind of dictatorship.

    If peoples keep supporting this kind of politicize and partial judiciary for their political benefits, that will soon destroy whole system.

    This is proving us as a failed nation, whom can not even manage to have standard impartial judiciary.