خلاصہ حالات حاضرہ



  • بلوچستان کے حالات سے متعلق آگاہی دیتے ہوئے، 'دی نیوز' کراچی کے نمائندے، ساجد حسین بلوچ کا کہنا تھا صوبے کے حالات کئی اعتبار سے 'دگرگوں' ہیں، جس میں لاقانونیت، لاپتا افراد کا معاملہ، قتل و غارت، دہشت گردی اور آئے دن کے فسادات شامل ہیں۔اُنھوں نے بتایا کہ اب تک 'آغاز حقوق بلوچستان' کے حکومتی اقدامات کا عام سطح پر بہتری کی صورت میں کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا اور یہ کہ 'وفاق کے خلاف مایوسی اور نفرت کا عنصر بڑھتا جارہا ہے'۔ دوسری طرف، صوبے کے غیر تسلی بخش حالات اور لاقانونیت کا فائدہ قدرتی طور پرعلیحدگی پسند عناصر کی مخصوص فکر کو پہنچ رہا ہے۔

    اس ضمن میں اُنھوں نے 'قدیر بلوچ کا بیٹا' کے عنوان سے کالم نگار و مصنف محمد حنیف کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مکران اور تربت کاعلاقہ جو کسی سردار کی جاگیر نہیں ہے، وہاں بھی آئے دن لوگ اغوا اور قتل ہو رہے ہیں اور 'غم و غصے، نفرت اور بدلہ لینےکا جذبہ ' بڑھ رہا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں، ساجد بلوچ کا کہنا تھا کہ صوبے کے حالات کو درست کرنا 'ناممکن نہ سہی لیکن مشکل ضرور ہے'۔ اُنھوں نے کہا کہ صرف روزگار کے چند مواقع فراہم کرکے مسئلے کا حل تلاش کرنا ممکن نہیں رہا، اور ضرورت اس بات کی ہے کہ 'لاپتا ہونے اور لاشیں ملنے کا سلسلہ' بند کیا جائے اور اعتماد سازی کو یقینی بنا کر عام بلوچ کو معاشرے میں عزت کا مقام دیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچی اوربراہوی زبانیں بولنے والے درحقیقت ایک ہی ہیں، اُنھیں الگ شناخت کرکے پیش کرنا درست نہیں، جب کہ صوبے میں پختون آبادی کی تعداد نسبتاً کم ہے، اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنا مبالغہ آرائی ہے۔ اُن کے بقول، ' ہر خاندان کا یا تو کوئی فرد لاپتا ہے یا مارا جاچکا ہے۔ نفرت کا عنصر اس حد تک ہے کہ اسکولوں میں پاکستانی جھنڈا لہرانا مشکل ہوگیا ہے، اور قومی ترانے کی جگہ بلوچ قوم پرستی کا گن گانے والے بلوچی ترانے نے لے لی ہے۔'

    سوات کے حالات کے بارے میں مالاکنڈ سے جیو کے بیورو چیف، محبوب علی نے بتایا کہ پاراچنار میں فساد یا بچیوں کے اسکولوں پر حملوں کا معاملہ، اس میں کمی ضرور آئی ہے لیکن یہ یکسر ختم نہیں ہوئے۔

    فاٹا میں شدت پسندی کے معاملے پر اظہار خیال میں، اعظم خان نے، جن کا تعلق 'فاٹا رسرچ سینٹر' اسلام آباد سے ہے، کہا کہ 2008ء اور 2009ء میں جو حالات تھے اور جو غلطیاں سرزد ہوئی تھیں، اُن کی یاد لوگوں کے دلوں میں اب بھی باقی ہیں۔

    اعظم خان نے بتایا کہ ایک انتہا یہ تھی کہ شدت پسند بچیوں کے اسکولوں پرحملے کیا کرتے تھے، جب کہ اب دوسری انتہا یہ ہے کہ موسیقی اور فیشن کے نام پر کچھ خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے جن میں بے انتہا آزاد خیالی کا اظہار کیا گیا ہے۔ اُن کے الفاظ میں، سوات کے لوگ معتدل خیالات کے داعی اور حامی ہیں، اور وہ کسی طرح کی انتہا اور شدت پسندی کو قبول نہیں کرتے۔

    اُنھوں نے مزید کہا کہ منگورہ میں لاشیں گرنے کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، اور حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے، لیکن حالات مکمل طور پرمعمول پر آنے میں دس سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اِس ضمن میں اُنھوں نے بچوں پر منفی نفسیاتی اثرات پڑنے اور مبینہ طور پر سکیورٹی اداروں کی طرف سے زبردستی شادیاں رچانے کی نئی روایت کا ذکر کیا، جن کے باعث، اُن کے بقول، وہاں کی معاشرت میں 'غلط اور منفی رویے' جنم لے رہے ہیں۔

    سندھ ٹی وی نیوز'، کراچی کے تعلق رکھنے والے مشتاق سرکی نے سندھ کے حالات بیان کرتے ہوئے صوبائی دارلحکومت کے حالات کو'غیر تسلی بخش' قرار دیا۔ اُن کے بقول، مختلف وجوہ کی بنا پر، جس میں مبینہ طور پرسیاسی دباؤ کا عنصر شامل ہے، میڈیا حالات کی درست تصویر کشی کرنے میں ناکام ہو رہا ہے۔

    اُن کے بقول، کراچی میں بھتہ خوری اور لاقانونیت کے باعث عام 'زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے'، جب کہ آزاد صوبے کےخیالات کے حامی اور قوم پرست شہری اور دیہی علاقوں میں سرگرم عمل ہیں۔

    اخبار 'ایکسپریس' کی رپورٹر، عمرانہ ساغر کا کہنا تھا کہ پنجاب میں رجعت پسندی اور تبدیلی کے حامی اپنی اپنی تگ و دو میں مگن ہیں، جب کہ جنوب میں سرائیکی صوبے کی تحریک کے لیے 'سیاست کی دکان' چمکائی گئی ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف 'سونامی کے نام پرنوے دن میں تبدیلی' لانے کی علمبردار ہو کر سامنے آئی ہے، جب کہ، عام طور پر اس سے 'نعرہ زیادہ اور انقلابی کام کم' کا تاثر ملتا ہے۔ اس سلسلے میں اُنھوں نے مخدوم جاوید ہاشمی اور مخدوم شاہ محمود قریشی کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ تحریک انصاف میں شامل تو ضرور ہوئے ہیں، لیکن اُن کے بقول، 'ان کا انداز جدا جدا ہے'۔

    قوم پرستوں اور انقلابیوں کا ذکر کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ مارکس کی کتابیں لے کر چلنے والے، 'عملی خیالات سے عاری اور خوش فہمی کا شکار لگتے ہیں'۔ اُن کے بقول، 'شاید، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انقلاب بغیر جستجو کے، بیٹھے بٹھائے برپا ہو جاتا ہے'۔

    ایک سوال کے جواب میں ساجد بلوچ نے کہا کہ جہاں عام بلوچ آبادی بے روزگاری اور غربت میں الجھا ہوا ہے، وہاں لاپتا افراد کا معاملہ روز بروز زور پکڑتا جا رہا ہے۔ اُن کے بقول، اب تک لاپتا افرد کی 350لاشیں مل چکی ہیں

    http://www.voanews.com/urdu/news/pakistan/Baluchistan-27Mar12-144412255.html



  • ایزی گو بھائی صاحب

    بہت شکریہ کے آپ نے ملکی حالت کی طرف ایک بار پھر توجہ دلانے کی کوشش کی

    بھائی

    یہاں پوری کتاب کھلی ہے اور لوگ بار بار پڑھ چکے ہیں مگر کوئی فرق نہیں پڑا

    اس خلاصے نے کیا حاصل کر لینا ہے


Log in to reply
 

Looks like your connection to Discuss was lost, please wait while we try to reconnect.