موت



  • اب وہ مولانا فتنہ پرداز امروہوی کی قیام گاہ پر تھی۔ مولانا نے اسے خوش آمدید کہا، حلوے کی پلیٹ اس کے سامنے رکھی۔ وہ اسے اپنے ہاتھوں سے حلوہ کھلانا چاہتے تھے مگر موت نے کہا ”شکریہ میرے اپنے ہاتھ موجود ہیں“ مولانا جھینپ سے گئے، مگر فرمایا کوئی بات نہیں یہ بتایئے اس گناہ گار کی طرف کیسے آنا ہوا؟ “ موت بولی ”آپ گنہگار کہاں، آپ تو گنہگاروں کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں بلکہ آپ نے تو لاکھوں مسلمانوں کو عقائد میں اختلافات کی وجہ سے صرف گنہگار نہیں بلکہ کافر قرار دے رکھا ہے“ ۔ مولانا فتنہ پرداز امروہوی نے کہا ”آپ مجھے کیوں کانٹوں میں گھسیٹتی ہیں ، یہ گنہگار آپ کے ان تحسینی جملوں کا حقدار نہیں تاہم مجھ پر اللہ کا خاص کرم ہے کہ میں کافر کو کافر کہنے کی ہمت رکھتا ہوں کیونکہ کافر کو کافر نہ کہا جائے تو انسان خود کافر ہو جاتا ہے۔ اللہ نے مجھے اس کا اجر بھی بہت دیا ہے۔ کئی مسلمان ممالک کے سربراہوں کی طرف سے میری ان کاوشوں کے حوالے سے مجھے مالی معاونت بھی حاصل ہوتی رہتی ہے۔ موت بولی ”مردِ مومن کی نشانی کیا ہے؟“ مولانا نے مسکراتے ہوئے فرمایا ”بہت سی ہیں، ایک نشانی یہ بھی ہے کہ جب موت آتی ہے تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے“۔ موت نے ان کے نام کے آگے کراس لگایا اور حضرت کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی اور ان کی گردن ایک طرف کو لڑھک گئی

    موت نے اپنی جیب میں سے فہرست نکالی، اس میں اگلا نام ایک سیاستدان کا تھا۔ موت اس کی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہو گئی، سیاستدان نے اسے دیکھا تو اس کا دل باغ باغ ہو گیا لیکن موت نے جب اسے بتایا کہ وہ موت ہے اور اس کے پاس اسی حوالے سے حاضر ہوئی ہے تو ایک لمحے کے لئے وہ گھبرا گیا۔ مگر پھر اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا ”کوئی بات نہیں کل نفس ذائقة الموت، آپ تشریف رکھیں، چائے پئیں اور پھر حکم خداوندی کے تحت میری جان لے لیں“۔ سیاستدان نے اس کے لئے چائے بنائی اور اس دوران چپکے سے اس میں نیند کی گولی ڈال دی۔ چائے پیتے ہی موت گہری نیند سو گئی، اس کے سوتے ہی سیاستدان نے اس کی جیب میں سے موت کے حکم نامے کی فہرست نکالی، یہ پانچ سو افراد پر مشتمل تھی، اس نے فہرست میں اپنا نام چوتھے نمبر سے نکال کر سب سے آخر میں لکھ دیا۔ موت نیند سے بیدار ہوئی اور کہا ”میں تمہارے اخلاق اور مہمان نوازی سے بہت خوش ہوئی ہوں، چنانچہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہاری بجائے، میری فہرست میں جو سب سے آخری نام ہے میں وہاں سے اپنی کارروائی شروع کروں“ چنانچہ اس نے آخری نام پر کراس لگا دیا اور سیاستدان کی گردن وہیں لڑھک گئی

    http://jang.net/urdu/details.asp?nid=609704



  • really liked that article by Qasmi.

    btw, which columnist/journalist he was referring to in his article?

    I definitely remember reading this book name parliament se bazar-e-husn in some article long time ago but cant remember whose column was it.



  • عبید صاحب

    بقول گوگل پارلیمنٹ سے بازار حسن تک کسی ظہیر احمد بابر نے لکھی تھی

    میرے خیال میں قاسمی براہ راست کسی کو ہٹ نہیں کرتا، باقیوں کی طرح صحافی کا بھی فرضی خاکہ محسوس ہوتا ہے



  • thats possible Easy...

    btw, did you note Hamadd Mir's article of the same day. He seemed to have taken a soft approach towards ISI when he implied that ISI is ordered to do things it gets blamed for...

    Looks like Hamadd Mir knews Pasha is leaving so he was beating the dead horse to score points and settle scors for khwaja murder case and now he is testing waters to become his old establishment kaa ghulaam..

    we'll know about this shortly..



  • Obaid Sahib,

    My perception about Hamid Mir is an opportunist/blackmailer type journalist. Your assessment about his relationship with establishment is too true to argue.

    At times we see most of Jang media group aligning with the establishment and as such unreliable for a civil govt. May be that's why PPP helped to raise Express as opponent media group.