رحمان ملک نے بدر کو زرداری سے ڈانٹ پڑوا دی



  • http://www.topstoryonline.com/zardari-admonishes-badar-for-questioning-benazir-murder-investigations

    اسلام آباد ( رؤف کلاسرا) پیپلز پارٹی کے راہنما سینٹر جہانگیر بدر کو نوڈیرو میں اس وقت بھری محفل میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں صدر آصف علی زرداری نے ان کے بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو گرفتار نہ کرنے کے سوال پر بری طرح جھاڑ دیا اور کہا کہ کیا ان کے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ ان کی حکومت کب کا اپنا یہ کام پورا کر چکی ہے اور اب یہ عدالتوں کا کام ہے کہ گرفتار قاتلوں کو سزائیں دے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی اسلام آباد سے خصوصی جہاز پر اس اجلاس میں شرکت کے لیے نوڈیرو پہنچے ہوئے تھے۔

    ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نوڈیرو میں پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر ہونے والی پارٹی میٹنگ میں اس وقت ایک عجیب سی صورت حال پیدا ہو گئی جب اجلاس کے شرکاء میں موجود جہانگیر بدر نے یہ بات شروع کی کہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو اب تک گرفتار نہیں جا سکا جو کہ پارٹی کے ورکرز کے لیے بہت پریشانی کی بات ہے۔ جہانگیر بدر کا کہنا تھا کہ چار سال سے زائد عرصہ گزر گیا ہے لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی بی بی کے قاتلوں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

    میٹنگ میں موجود ایک پارٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ جب جہانگیر بدر بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کے گرفتار نہ ہونے پر اپنا احتجاج پارٹی کے اجلاس میں نوٹ کرا رہے تھے تو اس وقت وزیرداخلہ رحمن ملک نے تیزی سے ایک کاغذ پرکچھ لکھنا شروع کیا اور لکھ کر انہوں نے وہ چٹ سٹیج پر موجود صدر آصف زرداری کو بھجوا دی۔ جونہی آصف زرداری نے وہ چٹ پڑھی تو انہوں نے جہانگیر بدر کو درمیان میں ٹوکا اور بڑی سختی سے کہا کہ وہ یہ بات کیسے کہہ رہے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے قاتل اب تک گرفتار نہیں ہوئے۔ صدر زرداری نے کہا کہ جہانگیر بدر کے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ رحمن ملک اس معاملے پر پوری تفصیل سے سب کچھ بتا چکے ہیں کہ کیسے بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کا پلان بنایا گیا اور کون کون اس میں شریک تھے۔

    صدر زرداری کا اشارہ رحمن ملک کی سندھ اسمبلی میں دی گئی ایک بریفنگ کی طرف تھا جو انہوں نے پچھلے ماہ دی تھی جس میں انہوں نے بڑی تفصیل سے اس بات پر روشنی ڈالی تھی کہ بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے والے کون لوگ تھے اور کس طرح یہ سب کچھ پلان کیا گیا تھا اور کن کن لوگوں نے اس میں کیا کردار ادا کیا تھا۔ سندھ اسمبلی کو بریف کرنے والوں میں رحمن ملک کے ساتھ جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم کے سربراہ خالد قریشی بھی تھے اور دونوں نے مل کر پہلے سندھ اسمبلی کو بریفنگ دی اور اس کے بعد انہوں نے ارکان کے سوالات کے جوابات دیے تھے۔

    رحمن ملک کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کا منصوبہ بیعت اللہ محسود نے بنایا تھا جب کہ قاتلوں کو مولانا سمیح الحق کے مدرسے میں پناہ دی گئی تھی جنہوں نے بعد میں راولپنڈی آکر بے نظیر بھٹو کو قتل کیا تھا۔ رحمن ملک نے جنرل پرویز مشرف کے بھی بے نظیر کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اس طرح رحمن ملک نے ناہید خان پر بھی اشارتاً قاتلوں کا ساتھ دینے کے الزامات لگائے تھے کہ بی بی اس دن لیاقت باغ جلسے سے خطاب نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن بعد میں ناہید خان انہیں زبردستی تیار کر کے لے گئیں۔ رحمن ملک نے یہ بھی حیران کن انکشاف کیا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی سکیورٹی کی ذمہ داری ناہید خان کے ذمہ تھی۔

    رحمن ملک نے اپنی بریفنگ میں دعویٰ کیا تھا کہ کل نو افراد بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کے منصوبے میں شامل تھے جن میں سے بیعت اللہ مسعود سیمت پانچ لوگ مارے جا چکے تھے جب کہ باقی چار گرفتار ہیں اور ان کا چالان عدالت میں پیش ہو چکا تھا۔ اس لیے جب رحمن ملک نے جہانگیر بدر کو پارٹی کی سینٹرل ایگزیکیٹو کمیٹی میں یہ کہتے سنا کہ ابھی تک بے نظیر بھٹو کے قاتل گرفتار نہین ہوئے تو ان سے رہا نہ گیا اور انہوں نے فوری طور پر ایک چٹ بھیج کر صدر زرداری کو خبردار کیا کہ وہ سب کو بتائیں کہ ان کی پارٹی پہلے ہی اس کیس کی تفتیش مکمل کر کے کیس عدالت میں بھیج چکی ہے لہذا یہ بات کرنے کی کوئی تک نہیں بنتی تھی کہ ابھی تک بی بی کے قاتل گرفتار نہیں ہوئے۔

    رحمن ملک کو یہ خوف تھا کہ اگر جہانگیر بدر کے اس سوال کے بعد پارٹی لیڈروں نے دوبارہ اس مسئلے کو کھول دیا تو پھر عوام بھی یہ سمجھے گی کہ پارٹی نے اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی اپنی لیڈر کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا، لہذا انہوں نے مناسب سمجھا کہ فوری طور پر صدر زرداری کو بتایا جائے کہ وہ اس حساس بات کو آگے نہ بڑھنے دیں اور جہانگیر بدر کو مزید بات کرنے سے روک دیں اور صدر زرداری نے بھی وہی کچھ کیا۔

    ذرائع کہتے ہیں کہ صدر زرداری نے جہانگیر بدر کو دانٹتے ہوئے کہا کہ کیا انہیں پتہ نہیں ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تفتیس کب کی مکمل بھی ہوچکی اور قاتل بھی گرفتار ہو چکے ہیں اور وہ ابھی بھی بیٹھے پارٹی میٹنگ میں یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ صدر زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت اور ان کی تفتیش کرنے والی ایجنسیوں نے اپنا کام کر دیا ہے ، اب یہ عدالتوں کا کام ہے کہ وہ گرفتار قاتلوں کو سزا دیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر زرداری کی ڈانٹنے پر جہاں جہانگیر بدر فورا چپ کر گئے، وہاں پارٹی کے کسی دوسرے سینئر لیڈر کو بھی جرات نہ ہوئی کہ وہ بھی جہانگیر بدر کی آواز میں آواز ملانے کی کوشش کرتا۔

    تاہم ایک مبصر کے بقول اگر پیپلز پارٹی کا ایک جہانگیر بدر جیسا قدآور لیڈر بھی یہ سمجھتا ہے کہ ا ن کی حکومت ابھی تک بی بی کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے تو پھر سوالات یقنیا پیدا ہوں گے کہ رحمن ملک نے کس طرح کی تفتیش کی ہے اور اپنے تئیں بی بی کے کون سے قاتل گرفتار کیے ہیں جن کے بارے میں اور تو اور ان کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں اور انہیں ڈنڈے کے زور پر منوانے کے لیے ملک صاحب کو زرداری صاحب کا دبکا دلوانا پڑتا ہے۔



  • waisay Klasra is the best-suited for a tabloid..