چیف جسٹس کمپیوٹر سکیم فراڈ میں شہباز شریف کے خلاف نوٹس لے کر کروائی کریں



  • Yeh Power rental se bara case ha, aur es fraud mein ziadah strong evidences mojood hein. Daikhana yeh ha ke aaya, koi es corruption kee investigation kar ke, Shabaz Sharif aur dusary zimadaroon ke khalaf karwai karnay ko tiyaar ha.

    http://www.topstoryonline.com/mpas-demand-judicial-probe-into-laptop-scam

    لیپ ٹاپ سکینڈل تحقیقات ہائی کورٹ سے کرانے کا مطالبہ

    Published on 08. Apr, 2012

    لاہور ( نعیم ملک ) پنجاب میں ایک ارب ستر کروڑ روپے کے لیپ ٹاپ سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کے ایک سینئر جج سے اس کی تحقیقات کرائیں اور اس سلسلے میں پنجاب اسمبلی میں ایک تحریک پیش کر دی گئی ہے جس پر بحث کرانے کے لیے اب تاریخ مقرر ہونا باقی ہے۔


    ’لیپ ٹاپ سکینڈل، ایک ارب ستر کروڑ کا گھپلہ‘


    پنجاب اسمبلی میں یہ تحریک پاکستان مسلم لیگ (ق) کے تین ارکان اسمبلی نے پیش کی ہے جن کا مطالبہ ہے کہ ایک ارب ستر کروڑ کے اس سکینڈل کی تحقیقات لاہور ہائی کورٹ کا کوئی جج کرے تاکہ اس سکینڈل کے مرکزی کرداروں کو سامنے لایا جائے جنہوں نے راتوں رات ایک پرائیویٹ کمپنی کو ایک ارب ستر کروڑ روپے کا فائدہ دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان یا لاہور ہائی کورٹ از خود اس سکینڈل کا نوٹس لیں تا کہ ریکارڈ طلب کرکے اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ کرے کہ اس میں کس نے کتنا مال کمایا ہے اور بھلا کیسے ایک نجی کمپنی کو چار ارب روپے کی نقد رقم دے کر کہا گیا کہ وہ مہنگے لیپ ٹاپ پنجاب حکومت کو سپلائی کرے۔ جو کام خود کیا جا سکتا تھا اس کے لیے کیوں ایک پارٹی کو چار ارب روپے کا کنٹریکٹ دیا گیا۔

    اس سے پہلے ڈیلی ٹائمز لاہور میں چھ اپریل میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ ایک لاکھ دس ہزار لیپ ٹاپ کم از کم ایک ارب ستر کروڑ روپے مہنگے خریدے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک مخصوص نجی کمپنی کو نوازنے کے لیے ڈرامہ رچایا گیا تھا۔

    ادھر وفاقی وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت صرف شہروں میں رہنے والے طالبعلموں میں چار ارب روپے کی لاگت سے خریدے گئے ایک لاکھ دس ہزار لیپ ٹاپ بانٹ رہی ہے جب کہ دیہاتوں میں رہنے والے طالبعلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا گیا ہے جو اس طرح کی جدید سہولتوں سے پہلے ہی محروم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح شہروں میں رہنے والوں کو لیپ ٹاپ دے کر دیہاتی علاقوں کے طالب علموں کو تعلیمی میدان میں بیک ورڈ رکھا جارہا ہے۔ دیہاتی پہلے ہی شہروں میں میسر تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں اور کسی قسم کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہیں اور اب شہروں میں ریوڑیوں کی طرح لیپ ٹاپ بٹنے سے وہ مزید پیچھے رہ جائیں گے جس سے شہری دیہی تفریق مزید بڑھے گی۔

    جب یہ سکینڈل سامنے آیا تو پنجاب اسمبلی کے تین ارکان نے ایک تحریک پنجاب اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس تحریک پر جن ارکان نے دستخط کیے اور اسے اسمبلی سکرٹریٹ میں جمع کرایا ان میں عامر سلطان چیمہ، سیما کامران اور قمر حیات کاٹھیہ شامل ہیں۔ اس تحریک میں ان ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے انہیں یہ بتایا جائے کہ جب چار ارب روپے کے لیپ ٹاپ خریدے جارہے تھے تو اس کے لیے درمیان میں ایک پرایؤیٹ پارٹی کو کیوں کنٹریکٹ دیا گیا۔ کیا Dell کمپنی سے براہ راست بات چیت کرکے یہ لیپ ٹاپ خریدے جا سکتے تھے اور ایک ارب روپے سے زیادہ رقم بچائی جا سکتی تھی جو اب اس کنٹریکٹر کی جیب میں چلی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ دس ہزار لیپ ٹاپ کوئی معمولی تعداد نہیں تھی بلکہ اس کے لیے اگر کمپنی سے بات کی جاتی تو وہ خوشی سے آدھی قیمت پر فراہم کرنے پر تیار ہو جاتی اور سب سے بڑھ کر وہ تین ماہ کی بجائے ایک سال کی گارنٹی فراہم کرتی۔

    ان تین ارکان نے اپنی اس تحریک میں یہ بھی کہا ہے کہ اسمبلی کو بتایا جائے کہ جب یہ لیپ ٹاپ ہائر ایجوکیش ڈپارمنٹ تقسیم کررہا ہے تو پھر انہیں محکمہ پلاننگ اور ڈویلپمنٹ کے ذریعے ایک نجی کمپنی سے کیوں خریدا گیا۔ پلاننگ ڈویژن کا کام منصوبہ بنانا ہوتا ہے نہ کہ سودے کرنا ہوتا ہے۔

    تحریک کے آخر میں شہباز شریف سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر وقت گڈ گورنس کا پرچار کرتے رہتے ہیں اور کرپشن فری پنجاب کی بات کرتے ہیں تو کیا وہ اس سکینڈل کی تحقیات لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج سے کرانا پسند کریں گے اور ان جج صاحب کی مدد کے لیے آئی ٹی کے ماہرین کی ایک کمیٹی بھی بنائی جائے جو کہ اس پورے سکینڈل کی تحقیقات کرے اور بتائے کہ کیسے بیس ہزار روپے کا لیپ ٹاپ سترہ ہزار روپے مہنگا خرید کر ایک نجی کمپنی کو ایک ارب ستر کروڑ روپے کا فائدہ دیا گیا۔

    پرنٹ کریں


    **

    Closed by Moderator**

    **

    Similar topic already exists.Continue there

    **

    **http://pkpolitics.com/discuss/topic/punjab-government-laptop-scheme-is-a-scam

    **