بنگالیوں کی شکست اور ہمارے بھنگڑے؟ رؤف کلاسرا کا کالم



  • http://www.topstoryonline.com/anti-pakistan-sentiments-on-rise-in-bangladesh

    رؤف کلاسرا

    ایشیا کپ میں پاکستان میں بنگلہ دیش کی شکت پر منائے گئے بھرپور جشن نے مجھے آج سے تین سال قبل ڈھاکہ کی ایک شام یاد دلا دی جب میں وہاں خالدہ ضیاء کی پارٹی کے ایک سرکردہ ممبر پارلیمنٹ صلاح الدین چوہدری کے گھر ڈنر پر مدعو تھا وہ مجھے بتا رہے تھے کہ کیسے پاکستان کے خلاف وہاں حالات بہت بدل رہے ہیں کیونکہ بنگالی ابھی تک آزادی کی جنگ سے باہر نہیں نکل سکے۔ رہی سہی کسر حسینہ واجد کے انتخاب جیتنے کے بعد پوری ہو گئی ہے اور وہ بیٹھے یہ پیشن گوئی کر رہے تھے کہ اب ان جیسے پاکستان کے لیے ہمدردری رکھنے والے بنگالی سیاستدانوں کے لیے برے دن آنیوالے ہیں۔ میں دو ہزار نو میں وہاں بنگلہ دیش کے ہونے والے نئے انتخابات کی کوریج کے لیے جنگ گروپ کی طرف سے بھیجا گیا تھا۔ حسینہ واجد کی پارٹی الیکشن جیت چکی تھی۔ پاکستان کو امید تھی کہ شاید خالدہ ضیاء جیت گئی تو پاکستان کے خلاف عوامی تحریک کے لیڈروں کی تقریروں کا توڑ کیا جا سکے گا۔ فوجی اور عدالتی قیادت کو توقع تھی کہ دونوں بیگمات نہیں جیت سکیں گی ۔

    کچھ دنوں بعد میں نے ششد ر کر دینے والی خبر پڑھی کہ صلاح الدین چوہدری کو ہی جنگی جرائم اور پاکستان سے ہمدردی رکھنے کے الزام میں گرفتار کر کے ان پر بدترین تشدد کیا جار ہا ہے۔ اس لیے جب میں نے پاکستان کی سڑکوں پر یہ جنوں دیکھا تو میں خود حیران رہ گیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔ کیا ہمیں کچھ اندازہ ہے کہ یہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے اقتدار میں آنے کے بعد جو پاکستان کے خلاف وہاں لوگوں کے جذبات اپنے عروج پر ہیں، کیا ہم ان باتوں سے بے پرواہ ہو چکے ہیں یا ہمیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بنگالی ہمارے بارے میں اب کیا اچھی اور بری رائے رکھتے ہیں۔ جہاں ستیاناس وہاں سوا ستیاناس۔

    وہاں کے ججوں اور فوجیوں کے تعاون سے چلنے والی حکومت کا خیال تھا کہ انہوں نے دو سال تک بنگلہ دیش کو کرپشن سے پاک کرنے کے نام پر جو ٹیکنو کریٹس کی حکومت چلوائی تھی وہ کامیاب تجربہ تھا۔ اس سے انہیں امید ہو چلی تھی کہ شاید بنگالی اب دوبارہ ان بیگمات کو ووٹ نہیں ڈالیں گے۔ تاہم جب رات گئے ریزلٹ آنا شروع ہوئے تو بازی پلٹ گئی تھی۔ حسینہ واجد کی جیت سے سب سے زیادہ وہ حلقے پریشان تھے جو پاکستان کے لیے سوفٹ کارنر رکھتے ہیں۔ اگلے دن میں خالدہ ضیاء کے ایک قریبی بنگالی لیڈر صلاح الدین چوہدری کے گھر بیٹھا تھا جو خود بھی چٹاکانگ سے منتخب ہو چکے تھے۔

    ان کے گھر اس وقت نگران حکومت کی پاکستان میں ہائی کمشنر خاتون بھی موجود تھیں۔ صلاح الدین چوہدری مغربی مشرقی پاکستان اسمبلی کے پہلے سپیکر قادر چوہدری کے فرزند ہیں اور وہ بہاولپو ر کے صادق پبلک سکول میں سینٹ کے سابق چیرمین محمد میاں سومرو اور اسحاق خاکوانی کے ساتھ پڑھتے رہے ہیں اور پاکستان کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ میری ان سے ملاقات پاکستان میں اسحاق خاکوانی نے ہی کرائی تھی اور یہ آئیڈیا صلاح الدین چوہدری کا تھا کہ میں بنگلا دیش کے آنے والے انتخابات کی کوریج کے لیے ڈھاکہ آؤں۔ یوں میں نے جنگ اور دی نیوز کے مالک میر شکیل الرحمن سے بات کی تو وہ اس آئیڈیے پر اچھل پڑے اور بولے کہ ضرور جاؤ اور انہوں نے سارے انتظامات بھی کرا دیے۔

    صلاح الدین چوہدری کے گھر پر بات ادھر ادھر سے ہوتی ہوئی حسینہ واجد پر آ گئی۔ جب اس میز پر موجود خاتون ہائی کمشنر کو علم ہوا کہ میں اسلام آباد سے آیا ہوا پاکستانی صحافی ہوں تو انہوں نے باتوں باتوں میں کہنا شروع کیا کہ لگتا ہے کہ اسلام آباد کو ابھی بھی اندازہ نہیں ہے کہ یہاں حالات کا رخ کس طرف جا رہا ہے۔ وہ اشاروں میں بات کر رہی تھیں لیکن صلاح الدین چوہدری نے کھل کر کہا کہ رؤف اسلام آباد والوں کو سمجھاؤ کہ بنگلہ دیش میں دنیا بدل رہی ہے۔ حیسنہ واجد کے جیتنے کا مطلب ہے کہ اب بنگال میں ہر اس بنگالی کو لٹکا دیا جائے گا جو پاکستان سے دوستی کی بات کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حیسنہ واجد جنگی جرائم میں ملوث لوگوں کو لٹکانے کا مینڈیٹ لے کر اقتدار میں آئی ہیں اور یہ کسی کو نہیں بخشے گی۔

    خود صلاح الدین چوہدری کو بھی خیر نہیں تھی، جنہیں بنگلہ دیش میں پاکستان کا دوست سمجھا جاتا ہے اور بھارتی لابی ان سے شدید نفرت کرتی ہے۔ صلاح الدین اس بات کے خدشے کا اظہار کر رہے تھے کہ انہیں بھی جنگی جرائم کے نام پر گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ صلاح الدین نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے لوگ ابھی تک حالات کی نزاکت کو نہیں سمجھ رہے اور اب ایک ایسے شخص کو بنگلہ دیش کا ہائی کمشنر بنا کر بھیجا جا رہا ہے جس کے باپ خواجہ خیرالدین پر بنگالی حکومت جنگی جرائم پر مقدمہ چلانے کا سوچ رہی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ متوقع ہائی کمشنر خواجہ القمہ ( موجودہ وائس چانسلر بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان) بہت اچھے انسان ہوں گے لیکن ان کی تقرری بنگالیوں کے لیے قابل قبول نہیں ہو گئی۔ انہیں یہاں حسینہ واجد کی پارٹی غدار سمجھتی ہے۔

    صلاح الدین چوہدری کا خیال تھا کہ ان حالات میں جب جنگی جرائم پر پاکستان کے حامیوں کو پھانسیوں پر لٹکانے کا منصوبہ آخری مراحل میں تھا، اس وقت خواجہ القمہ کو ہائی کمشنر بنا کو بھیجنا خود ان کے لیے بھی پشیمانی کا سبب ہوگا۔ بنگالی خاتون ہائی کمشنر نے بھی ان کی ہاں میں ہائی ملائی اور کہا کہ پاکستان حکومت دو دفعہ ان کا نام ڈھاکہ منظوری کے لیے بھیج چکی ہے اور نگران حکومت نے یہ کہہ کر منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے کہ اس کا فیصلہ انتخاب کے بعد نئی حکومت کرے گی۔ ان کا بھی یہ خیال تھا کہ اب حسینہ واجد کبھی بھی خواجہ القمہ کو ہائی کمشنر لگانے کی منظوری نہیں دے گی لہذا بہتر ہوگا کہ پاکستان اس نامزدگی کو واپس لے لے۔

    میں نے اس بریکنگ نیوز کو دی نیوز اور جنگ کے لیے فائل کیا تو مجھ سے خواجہ القمہ آج تک ناراض ہیں کہ میری خبر سے وہ ڈھاکہ میں ہائی کمشنر نہ لگ سکے۔ وہ آج تک سمجھتے ہیں کہ اگر میں وہ خبر فائل نہ کرتا تو وہ اگلی فلائٹ پکڑ کر ڈھاکہ جانے والے تھے۔ میں ان کی اس خوش فہمی پر ہنس پڑتا ہوں ۔ وہ بار بار ایک بات دہراتے تھے کہ ان کے باپ کو تو شیخ مجیب نے خود بنگلہ دیش بلوایا تھا اور ان کا ائرپورٹ پر استقبال بھی کیا تھا۔ خواجہ صاحب بھول گئے تھے کہ اب شیخ مجیب نہیں بلکہ ان کی انتقام سے بھرپور بیٹی کی حکومت تھی جو اس نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی کہ وہ جنگی جرائم میں ملوث لوگوں کو سزا دلوائے گی اور اس نے خواجہ القمہ کے والد خواجہ خیرالدین کا نام بھی اس فہرست میں شامل کر رکھا ہے جن کو وہ جنگی جرائم کا ذمہ دار سمجھتی ہیں۔

    وہی کچھ ہوا ۔ چند روز بعد حیسنہ واجد نے خواجہ القمہ کی نامزدگی مستر د کر دی اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کے حامیوں کو گرفتار کر کے ان پر مقدمات بنانے کا کام شروع ہو گیا۔ سب سے پہلے صلاح الدین چوہدری کو جنگی جرائم پر گرفتار کیا گیا کہ انہوں نے آزادی کی جنگ میں پاکستان فوج کی حمایت کی تھی حالانکہ ان دنوں وہ پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے اور وہاں سے لندن چلے گئے۔ گرفتار کر کے صلاح الدین پر بدترین تشدد کیا گیا۔ ان کے ناخن اکھاڑے گئے اور یہ سب کچھ حیسنہ واجد کے کہنے پر ہوا کیونکہ انہیں علم تھا کہ چوہدری کو پاکستان میں بہت عزت دی جاتی ہے۔ ایک سال سے اوپر گزر گیا ہے اور صلاح الدین چوہدری ابھی تک جیل میں ہیں اور ان پر پاکستان نواز ہونے کے جرم میں تشدد جاری ہے۔ مجال ہے کہ اس کے لیے اسحاق خاکوانی اور محمد میاں سومرو کے علاوہ پاکستان میں کسی نے آواز اٹھائی ہو۔

    اب ان حالات میں جب حسینہ واجد ہر اس شخص کو تشدد کرنے پر تلی ہوئی ہے جس کا پاکستان بارے سافٹ کارنر ہو، وہاں اس طرح بنگالیوں کی شکست پر جشن منانے کو کیسے سمجھداری قرار دیا جا سکتا ہے؟ کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ بنگالیوں کے ساتھ ہماری اپنی ایک تاریخ ہے۔ پاکستان بنانے کا سہرا ان بنگالیوں کے سر جاتا ہے جن کی شکست پر عوام اور میڈیا نے مل کر جشن منایا ۔ ایک طرف بنگالیوں کے آنسو دکھائے جارہے تھے تو دوسری طرف ڈھال ڈھمکے اور ڈانس کے مناطر۔ میڈیا نے بھی ایک لحمے کے لیے نہیں سوچا کہ بھار ت سے فتح کی حد تک اس طرح کے جشن سمجھ میں آتے ہیں لیکن اس وقت بنگالیوں کو یہ مناظر دکھانے کی ضرورت نہ تھی جب وہ رو رہے تھے اور ہم انہیں یہ پیغام بھیج رہے تھے کہ کیسے ہم مغربی پاکستان والے ان کی شکست پر خوش ہیں۔

    بنگالی انیس سو اکہتر کی جنگ میں پھنس کر رہے گئے ہیں اور وہ اس سے باہر آنے کو تیار نہیں ہیں، تو ہم بھی اس طرح کے جشن منا کر ان کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں اور ان کی کوئی مدد نہیں کر رہے تاکہ وہ اس زخم کو بھول کر موجودہ پاکستان کی طرف دیکھیں جہاں لاکھوں پاکستانی آج بھی بنگالیوں پر ہونے والے مظالم پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور کئی دفعہ معافی بھی مانگ چکے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس طرح کا جشن منا کر بنگلہ دیش میں اگر ابھی بھی کچھ حلقے پاکستان کے لیے کچھ جذبات رکھتے ہیں، وہ غور کریں گے کہ وہ اب کیا کریں۔ صلاح الدین چوہدری جیسے پاکستان دوست کے انجام اور اس پر پاکستانیوں اور حکومت پاکستان کی مجرمانہ خاموشی کے بعد اگر کچھ باقی بچ گیا ہے تو وہ اب پاکستانیوں کی بنگالیوں کی شکست پر جشن سے کسر پوری ہو گئی ہے۔

    ہو سکتا ہے ہم نے ایشیا کپ جیت لیا ہو، لیکن ہم نے بنگالیوں کو اس طرح کا جشن منا کر اپنے آپ سے مزید دور کر دیا ہے اور حسینہ واجد کو بھی سچا ثابت کیا ہے کہ پاکستانیوں سے نفرت میں ہی بنگالیوں کی بقاء ہے۔ فتح کے اس جشن نے شیخ مجیب کی انتقام سے بھری بیٹی کو بھی سنہرا موقع دیا ہے کہ صلاح الدین چوہدری جیسے پاکستان نواز بنگالی سیاستدانوں کو جیل میں ڈال کر ان کے ناخن اکھاڑنے کا کام جاری رکھیں اور ہم ڈھول کی تاپ پر بھنگڑے ڈالتے رہیں !!

    بشکریہ اخبار جہاں، کراچی



  • This relects that Bengalis r an alive nation who are prosecuting the culrprits even after 40 years.

    There is a lesson for pakisani nation that when we would hang the culprits who committed the war crimes and were responsible for fall of Dhaka ??



  • Sharif Aadmi..

    If bangali were alive nation then they wouldn't have asked Indian for help... This shows bangalis are like vultures who feast dead bodies of their own..



  • oblivion

    When hazrat Muhammad PBUH migrated to Medina , he made an alliance with jews of Medinah.



  • sharif aadmi..

    Your logic is very childish.. ... Did Prophet Muhammad used their alliance as mean to defeat his own people...



  • Oblivion jee

    U have no right to decide on BENGALIS behalf that who is their own and who is their enemey.

    Infact , its your "DHANSOO" logic which consider that bengalis fought their own people.



  • sharif Aadmi..

    Their's enemy was same at the division of Pakistan... The muslim got independence from Britisher and hindus... Are you saying India was more well wisher of them against Pakistan..



  • oblivion jee

    I have no right to speak on behalf of Bengalis. I m saying that bengalis thought someone (India) a friend and sought her help for their freedom fight against their enemy (West Pakistan) and it was their right to do so. ::)



  • I have no right to speak on behalf of Bengalis.

    Irony. It seems you're speaking as you are Bengali.. Nevertheless, Your support for traitors is nothing astonishing.



  • oblivion jee

    "t seems you're speaking as you are Bengali."

    Its not irony its your sheer blindness which can't see that Bengalis fought their freedom fight against West Pakistan with the help of indians.

    If quoting a well known fact makes me bengali , doesn't matter. and even if gives me a traitor certificate issued by u , most welcome :)



  • Did Mir Jaffer and Mir Sadiq also fight war of their freedom against tipu sultan...



  • oblivion jee

    Mir Jaffer didn't fight against Tipu sultan :) Please read some history :)



  • sharif aadmi..

    There is mention of Mir Sadiq, I can't force points into your brain... I thought you would pick them but Alas! your pride has destroyed you... Your childish levity is very exposing when you posted,Mir Jaffer didn't fight against Tipu sultan

    ;)



  • Oblivin

    It needs a "MAN" to conceede your mistake :)



  • اوبلویوں جی

    مجھے تو لگتا ہے ہم سب نے مختلف نمبر کی کالی عینک لگائی ہوئی ہے

    میرا نمبر سب سے زیادہ اسکے بعد آپ اور پھر شریف آدمی

    ہو سکتا ہے کوئی اچھا سا کلام پیش کرنے سے شریف آدمی رام ہو جایے

    :)



  • EasyGo

    Nice One.



  • It needs a "MAN" to conceede your mistake :)

    you're were mistaken in getting the point. again, irony.

    کوئی اچھا سا کلام پیش کرنے سے شریف آدمی رام ہو جایے

    گنجائشِ عداوتِ اغیار یک طرف

    یاں دل میں ضعف سے ہوسِ یار بھی نہی



  • It is good to see people like Shareef Admi and Sweet truth who are from central Punjab have anti-establishment ideas. But Pak Fauj is our army being a Sindhi I am saying that. We need to own them. Yes it needs reforms and improvement but we must not hate them.



  • pakistani47

    "We need to own them. "

    Yes, at the moment it reverse.

    Owning them doesn't mean that we should defend their crimes. Culprits need to be punished.



  • When Pakistan will be corruption free,prosperous and system based nation than every one will be friend of Pakistan otherwise by just words and diplomacy we can not achieve any thing and even poor countries like Bangladesh and Afghanistan will try to challene us.


Log in to reply
 

Looks like your connection to Discuss was lost, please wait while we try to reconnect.