فہمیدہ مرزا کا چہیتا افسر فراڈ کیس میں مطلوب



  • http://www.topstoryonline.com/speaker-national-assembly-favourite-official-wanted-by-fia

    اسلام آباد (مریم حسین) سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے سٹاف افسر شمعون ہاشمی ایک کروڑ بارہ لاکھ روپے کے ایک مبینہ فراڈ میں ایف آئی اے کو تفتیش کے لیے مطلوب ہیں جبکہ ان کے برادر نسبتی زیشان افضل جنہیں اس فراڈ کا مرکزی کردار بتایا جا رہا ہے مفرور ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی ٹیمیں لاہور اور اسلام آباد میں ان کے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مار رہی ہیں۔

    ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی مسلسل نوازشات کے بل بوتے پر شمعون ہاشمی کو چالیس سال کی عمر میں ملک کے سب سے کم عمر جوائنٹ سیکرٹری ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ ایف آئی اے کی ایک ٹیم نے اسلام آباد میں شمعون ہاشمی کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا لیکن وہ وہاں سے غائب ہونے میں کامیاب ہوچکے تھے، جس پر ایف آئی اے نے سیکرٹری قومی اسمبلی کرامت نیازی سے رابطہ کیا ہے کہ وہ شمعون ہاشمی کی گرفتاری میں مدد کریں۔

    تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اپنے چہیتے افسر کو ایف آئی اے کی گرفت سے بچانے کے لیے اپنا پورا زور لگائے ہوئے ہیں جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے افسروں کی جان پر بنی ہوئی ہے کہ اگر شمعون ہاشمی اور زیشان افضل کو گرفتار نہ کر پائے تو پھر بارہ اپریل کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں پیشی کے موقع پر اس مقدمے کی سماعت کرنے والا بینچ ان پر چڑھائی کر دے گا جو پچھلی سماعت پر یہ کہہ چکا ہے کہ اس مقدمے کے اصل ملزمان اس لیے گرفتار نہیں ہو رہے کیونکہ وہ بہت اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔

    ایف ائی آے کے ایک اعلی عہدے دار نے ٹاپ سٹوری آن لائن سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وہ ایک کروڑ بارہ لاکھ فراڈ کیس میں شمعون ہاشمی کو تلاش کر رہے ہیں کیونکہ اس فراڈ کے قدموں کے نشان ان کے گھر تک جاتے ہیں۔ انہوں نے شمعون ہاشمی کی گرفتاری کے سلسلے میں سیکرٹری قومی اسمبلی سے رابطے کی بھی تصدیق کی ہے۔

    شمعون ہاشمی خود ایک صحافی کے بیٹے ہیں۔ ان کا قومی اسمبلی میں آنا بھی سفار ش کا کرشمہ تھا ۔ شمعون ہاشمی کی قسمت اس وقت کھل گئی گئی جب ڈاکٹر فہیدہ مرزا سپیکر قومی اسمبلی بنیں اور وہ انہیں کے آر ایل ہسپتال سے ڈپیوٹیشن پر قومی اسمبلی لے آئیں ۔ شمعون ہاشمی کے آر ایل ہسپتال میں ایک معمولی پبلک ریلیشن افسر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ لیکن انہیں گریڈ سترہ سے اٹھا کر گریڈ اٹھارہ میں لایا گیا اور پھر بغیر کسی تجربے کے قومی اسمبلی میں ڈپٹی سیکرٹری لگادیا گیا۔ شمعون ہاشمی کو قومی اسمبلی میں کام کرتے ہوئے زیادہ عرصہ بھی نہیں ہوا تھا کہ پچھلے دنوں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے حیران کن طور پر نہ صرف انہیں قومی اسمبلی میں مستقل ضم کر دیا بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے انہیں گریڈ بیس میں ترقی دے کر جوائنٹ سیکرٹری بھی لگا دیا ۔

    پاکستان میں پہلے اس طرح کبھی نہیں ہوا کہ کوئی دو سال پہلے قومی اسمبلی میں ڈپیوٹیشن پر لایا گیا ہو اور اسے چوبیس ماہ کے اندر پہلے ڈپٹی سیکرٹری اور پھر جوائنٹ سیکرٹری لگا دیا جائے۔ وہ موصوف اس وقت بڑے فخر سے اپنے آپ کو پاکستان کا سب سے کم عمر ترین جوائنٹ سیکرٹری کہتے ہیں۔ یوں لاہور یونیورسٹی سے انجنیرنگ کی ڈگری لے کر کے آر ایل میں پی آر او کی نوکری کرنے والے شمعون ہاشمی پچھلے دو سالوں میں جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر پہنچ گئے۔ موصوف اس وقت سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کے دفتر مین جوائنٹ سیکرٹری ہیں اور پورا قومی اسمبلی کا سیکرٹریٹ چلا رہے ہیں۔

    شمعون ہاشمی کو ایف آئی اے کیوں ڈھونڈ رہی ہے اس کے پیچھے ایک لمبی کہانی ہے۔

    ایک سال قبل لاہور کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی پی سی ایس آئی آر میں ایک کروڑ بیس لاکھ ستر ہزار پانچ سو روپے کا فراڈ ہوا۔ جب اس ہاؤسنگ سوسائٹی کی نئی انتظامیہ نے مئی دو ہزار گیارہ میں اس کا چارج سنبھالا تو کچھ دنوں بعد بنک الحیبب کا ایک چیک چوری ہو گیا اور انہیں پتہ نہ چلا۔ اس چیک کے چوری ہونے کے ایک ماہ بعد بنک آف پنجاب مین گلبرگ برانچ میں ایک نیا بنک اکاوئنٹ کھولا گیا جو کسی خالد محمود کے نام پر تھا۔ یہ بنک اکاؤنٹ بنک آف پنجاب کے ایک پرانے افسر کے ریفرنس سے تیس مئی کو کھولا گیا۔

    گیارہ جون دو ہزار گیارہ کو یہ چوری کیا گیا چیک وہاں جمع کرایا گیا اور تیرہ جون کو خالد محمود کے اکاؤئنٹ میں ایک کروڑ بیس لاکھ ستر ہزار پانچ سو روپے ٹرانسفر ہو گئے۔ چودہ جون کو ایک شخص محمد زمان بنک آکر ایک کڑور بارہ لاکھ روپے نکلوا لیتا ہے۔ جس دن یہ پیسے نکلوائے گئے اس دن کی بنک کے پاس گفتگو کی ریکارڈنگ موجود نہیں ہے حالانکہ اتنی بڑی رقم دیتے وقت اس طرح کی گفتگو ریکارڈ کی جاتی ہے۔ پندرہ جون کو اس ہاؤسنگ سوسائٹی کو پتہ چل جاتا ہے کہ ان کے اکاؤنٹ سے ایک کروڑ بیس لاکھ روپے نکل گئے ہیں اور نکلوائے بھی اس چیک سے گئے ہیں جو کہ چوری ہو گیا تھا۔ وہ فوری طور پر یہ سارا معاملہ بنک آف پنجاب کے نوٹس میں لے کر آئے۔

    اگلے دن محمد زمان باقی ماندہ رقم آٹھ لاکھ روپے کی رقم نکلوانے کے لیے دوبارہ بنک گیا تو بنک والے پہلے سے ہی تیار بیٹھے تھے اور انہوں نے اسے وہیں بٹھا لیا اور ساتھ ہی پولیس کو اطلاع کر دی۔ پتہ چلا کہ خالد محمود قصور کا رہنے والا تھا۔ اس کے ساتھ ہی بنک آف پنجاب کے اس افسر کو بھی بلالیا گیا جن کے ریفرنس دینے پر وہ اکاؤنٹ کھولا گیا۔ دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ تھانہ ستوکتلہ لاہور میں ایک ایف آئی آر نمبر 819/11 درج ہوئی لیکن حیرانی کی بات ہے کہ یہ رپورٹ صرف چیک چوری کی درج کی گئی اور اس کے ساتھ ہی سب انسپکٹر شبیر کو یہ تفتیش دے دی گئی اور اس نے بندوں کو گرفتار کرنا شروع کیا۔

    جب گرفتار ہونیو الے لوگوں سے پوچھ گچھ شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ ایک کروڑ بارہ لاکھ روپے میں سے بیاسی لاکھ کسی ملک اسلم طاہر کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے گئے تھے۔ ملک اسلم کا تعلق ملتان سے تھا۔ جب تفتیش آگے چلی تو پتہ چلا کہ ملک اسلم کے اکاؤنٹ سے اگلے روز نو لاکھ روپے اسلام آباد کے ایف الیون مرکز میں واقع فیصل بنک کے ذریعے آن لائن کسی ذیشان افضال کو ٹرانسفر کیے گئے۔ پندرہ جون کو پھر ذیشان افضال کے فیصل بنک کی بلیو ایریا برانچ میں ایک اور بنک اکاؤنٹ میں بہتر لاکھ روپے آن لائن ٹرانسفر کیے گئے۔

    تاہم لاہور پولیس نے روایتی سستی سے کام لیا اور انہوں نے لاہور کے ملزمان پر تو تفتیس کی لیکن انہوں نے اسلام آباد کو جانے کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ پتہ کرتے کہ یہ زیشان افضال صاحب تھے جنہیں یہ رقومات بھیجی گئی تھیں۔ اس دوران پولیس نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے اکاونٹنٹ کو بھی گرفتار کر لیا جس کی تحویل میں بنک کی چیک بک تھی اور وہ چوری ہو گئی تھی جس کے زریعے بعد میں ایک کروڑ بیس لاکھ روپے سوسائٹی کے نکلوائے گئے۔

    اس مقدمے کے دو ملزمان خالد محمود اور پرویز تو ابھی تک جیل میں تھے لیکن حیرانی کی بات ہے کہ محمد زمان جس نے بنک جا کر وہ ایک کروڑ بارہ لاکھ روپے نکلوائے تھے، اس کو لاہور کے ایک مجسٹریٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا جس پر سب کے کان کھڑے ہوئے کہ اس مجسٹریٹ نے کیسے ضمانت دے دی تھی۔ عدالت نے پچھلی پیشی پر اس مجسٹریٹ کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دیا۔

    اس دروان پرویز کی ضمانت کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل فائل کی گئی جسے جج جواد ایس خواجہ سن رہے ہیں۔ جب سپریم کورٹ کے بنچ نے دیکھا کہ اس کیس میں تو پولیس نے سرے سے کوئی کارروائی ہی نہیں کی اور اسلام آباد میں پیسے وصول کرنے والے زیشان افضال کو تو کسی نے پوچھا تک نہیں تو انہوں نے ایف آئی اے کو کہا کہ وہ اس کیس کی نئے سرے سے تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے۔ یوں سولہ مارچ دو ہزار بارہ کو سپریم کورٹ کے حکم پر ایف آئی اے نے پرچہ درج کر لیا۔ جب ایف آئی اے نے تفتیش شروع کی تو پھر اس سکینڈل میں نئی جان پڑ گئی۔

    اس تفتیش کے دروان پتہ چلا کہ زیشان افضال دراصل سپیکر قومی اسمبلی کے سٹاف افسر شمعون ہاشمی کا برادار نسبتی ہے اور اس کے شناختی کارڈ پر بھی شمعون ہاشمی کے جی نائین فور میں واقع گھر کا پتہ درج ہے۔ یہ شناختی کارڈ ایف آئی اے نے فیصل بنک سے لیا تھا جہاں اس کا بنک اکاونٹ تھا اور جہاں اس نے ایک کروڑ روپے کی رقومات لاہور سے آن لائن وصول کی تھیں۔ اس دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ زیشان نے فیصل بنک کی بلیو ایریا برانچ سے ایک گاڑی لیز پر لے رکھی تھی اور اس کے گارنٹر بھی کوئی اور نہیں بلکہ شمعون ہاشمی اور ان کے قریبی رشتہ دار ایک سینر صحافی تھے۔

    اس پر ایف آئی اے نے شمعون ہاشمی کے گھر پر چھاپے مارے تو زیشان افضال فرار ہو گیا۔ اس دوران ایف آئی اے نے مزید تحقیقات کیں تو انہیں اس سکینڈل میں شمعون ہاشمی پر بھی شک ہوا اور اسے کہا گیا کہ وہ شامل تفتیش ہوں۔ تاہم شمعون ہاشمی نے ایف آئی اے کو ملنے سے انکار کر دیا۔ اب ایف آئی اے نے سیکرٹری قومی اسمبلی سے رابطہ کیا ہے تاکہ شمعون ہاشمی کو بارہ اپریل سے پہلے گرفتار کیا جائے کیونکہ سپریم کورٹ میں اس دن پھر اس کیس کی پیشی ہے اور عدالت پہلے ہی ایف آئی اے پر برس چکی ہے کہ وہ ملزمان کو گرفتار کرنے میں سنجیدگی سے کام نہیں لے رہی۔



  • فراڈ کیس: شمعون ہاشمی شامل تفتیش ہونے پر راضی

    http://www.topstoryonline.com/national-assembly-official-agreed-to-cooperate-with-fia



  • ’ شمعون کو کلین چٹ دو، رحمان ملک کا FIA کو حکم‘

    http://www.topstoryonline.com/interior-minister-pressurised-fia-to-give-shamoon-clean-chit



  • credits goes to 200% friendly opposition

    amrikee ghulam fauj/estab



  • why so Junaid sb. ?



  • jabal sahab

    aap tau aisay phooch rahay hain jaisay yahan amerikii/estab. asherwaat kai baghair bhi hakoomatain giraee ya banaee ja saktee hain.



  • This whole diatribe by Rauf Klasra's two-bit blackmailing vehicle seems to be based on some personal grudge.

    Look at the story weaved here, it totally smacks of vandetta. Shamoon Hashmi is not "wanted" by FIA. He is not accused of any wrongdoing. FIA merely wants to question him because his brother in law is an accused in this fraud.

    Shamoon Hashmi, like his father is a typical piplya and nothing good can be expected from this ilk for Pakistan. But at least in this case, he seems to be the aggrieved party who is being targeted with a malicious intent apparently for reasons unrelated to this whole story.