ایک اور سفر ...جرگہ…سلیم صافی



  • http://jang.net/urdu/details.asp?nid=611428

    میاں نوازشریف کو ڈاکٹر کرمانی کی صورت میں ذاتی معاون بھی ایسا ملاہے کہ جواپنے والد احمد سعید کرمانی کی طرح سراپا شرافت ہیں۔ 5/اپریل کو انہوں نے فون پر بتایا کہ میاں نوازشریف کی خواہش ہے کہ کل (6/اپریل) کو ان کے دورہ پشاور کے دوران‘ میں بھی ان کا ہم سفر بن جاؤں تاکہ راستے میں تبادلہ خیال ہوسکے۔ میاں نوازشریف اس روز امیرمقام کو اپنی جماعت میں مقام دلوانے کیلئے پشاور جارہے تھے۔ وہ امیر مقام جنہوں نے چند سال کے مختصر عرصے میں اپنے لئے وہ مقام پیدا کیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کی پوری مسلم لیگ(ق) ان کی مٹھی میں بند ہوگئی اور جسے اب انہوں نے میاں نوازشریف کے قدموں میں لاکے رکھ دیا۔ ہم پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے پشاور کے لئے روانہ ہوئے تو میاں نوازشریف کے دور حکومت میں خیبر پختونخوا کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے رہنے والے سردار مہتاب احمد عباسی یہاں بھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئے۔ ساتھ والی نشست پر میاں صاحب تشریف فرما تھے جبکہ پچھلی نشست پرویز رشید ‘ میجر عامر اور میرے حصے میں آئی تھی۔ میاں صاحب نے چونکہ عمران خان کے ساتھ میاں والی کے سفر سے متعلق میرے کالم کو پڑھ لیا تھا ‘ شاید اسلئے ہمارے کھانے پینے کے بارے میں اس دن ضرورت سے زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرکے پورے سفر کے دوران ہماری مہمان نوازی کرتے رہے حالانکہ بار بار ہم یہی فریاد کرتے رہے کہ خیبر پختونخوا میں وہ مہمان اور ہم میزبان ہیں۔لیکن یہ فرق واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ عمران خان کے ساتھ میاں والی کے سفر کے دوران زیادہ وقت میاں نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن کا تذکرہ ہوتا رہا لیکن پشاور کے سفر میں میاں نوازشریف نے ایک بار بھی عمران خان کا ذکر نہیں کیا۔ گاڑی میں کھانے پینے کی دیگر اشیاء کے ساتھ ساتھ عربی قہوے کا بھی انتظام کیا گیا تھا جسے وقتاً فوقتاً میاں صاحب کی فرمائش پر پرویز رشید ہمیں پیش کرتے رہے۔ بیٹھتے ہی میاں صاحب نے حسب عادت محبت بھرے انداز میں مجھ پر فقرے کسنے شروع کئے تو میں نے جواباً امیرمقام جیسے پرویز مشرف کے ماضی کے بھائی کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پر طنز کرنا شروع کیا۔ عرض کیا کہ میاں صاحب چندسال قبل میں نے آپ سے گزارش کی تھی کہ چوہدری صاحبان سمیت پورے مسلم لیگ (ق) کے ساتھ صلح کر لیں اور عملی سیاست کے تقاضے کے طور پر سب کو معاف کردیں لیکن آپ کہہ رہے تھے کہ جس نے پرویز مشرف کے ساتھ ہاتھ بھی ملایا ہو‘ وہ قابل معافی نہیں لیکن آج جنرل پرویز مشرف کے پستول بردار ساتھی کو اپنی جماعت میں شامل کرنے جارہے ہیں،کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ میاں صاحب ہنسے اور کہنے لگے کہ امیر مقام نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ وفا ضرور کی ہے لیکن میرے ساتھ بے وفائی نہیں کی۔ اس دوران میرے ساتھ بیٹھے بڑے بھائی میجر عامر جوگزشتہ بیس سال سے میاں نوازشریف کی فی سبیل اللہ وکالت کررہے ہیں‘ میدان میں کود پڑے ۔ کہنے لگے کہ سلیم!جنرل مشرف کا ساتھ دینے والے مسلم لیگی تین قسم کے ہیں۔ ایک وہ جنہیں میاں نوازشریف نے عزت اور منصب دیا تھا لیکن انہوں نے بے وفائی کی اور جنرل پرویزمشرف کے ساتھ جاکر تمام اخلاقی حدود پھلانگ گئے، یہ لوگ کسی صورت قابل معافی نہیں ۔ دوسرے وہ تھے کہ جوامیر مقام اور محمد علی درانی کی طرح پہلے کبھی میاں نوازشریف کی جماعت میں نہیں رہے تھے۔ وہ ایک اور پس منظر سے سیاسی افق پر نمودار ہوئے اور اپنے سیاسی کیرئیر کو بنانے کیلئے انہوں نے پرویز مشرف کا ساتھ دیا۔ ان لوگوں نے میاں صاحب کو دھوکہ دیا ہے اور نہ وہ کسی بے وفائی کے مرتکب ہوئے ہیں، یہ لوگ اگر آتے ہیں تو انہیں عزت کے ساتھ گلے لگالینا چاہئے۔ تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو خصلتاً بے وفا اور کم ظرف نہیں لیکن پرویز مشرف کے جبر اور دباؤ کے سامنے ٹھہر نہ سکے، میرے نزدیک یہ لوگ بھی قابل معافی ہیں۔ غیرمعمولی روابط اور تعلقات رکھنے والے میجر عامر جو دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرنے کا فن جانتے ہیں‘ کے ان دلائل کے بعد میرے پاس بھی خاموشی کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا اور میاں صاحب کے ساتھ قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات جیسے ایشوز پر گفتگو شروع کردی لیکن میاں صاحب کے ذہن پر صدر آصف علی زرداری کا بیان سوار تھا ۔بار بار پوچھتے رہے کہ یہ زرداری صاحب کو کیا ہوگیا ہے اور انہوں نے میرے والد صاحب کے بارے میں یہ لہجہ کیوں اختیار کیا۔ میجر عامر کہنے لگے کہ یہ خود ہماری سمجھ سے بھی بالاتر ہے مگر یہ کہہ کر صدر صاحب نے اپنا قدچھوٹا کیا ۔ میں نے بیچ میں گرہ لگائی کہ میاں صاحب موجودہ دور میں سیاست کے اندراس روش کا آغازعمران خان اورخود آپ نے کیا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے میاں شہباز شریف صدر زرداری کے بارے میں جو سخت زبان استعمال کررہے ہیں‘ ہوسکتا ہے یہ اس کا ردعمل ہو۔ اس پر نوازشریف نے سردار مہتاب کو مخاطب کرکے کہا کہ سردار صاحب! میں تو بہت سمجھاتا ہوں لیکن آپ لوگ بھی شہباز شریف کو سمجھایا کریں کہ وہ ایسا نہ کریں۔ میں نے کل ان کا بیان پڑھا ہے کہ وہ زرداری صاحب کو صدر نہیں مانتے۔ مجھے یہ بیان جمہوری رویوں سے مطابقت رکھنے والا نہیں لگا۔ میں خود بھی ان سے بات کروں گا۔ شہباز وزیراعلیٰ ہیں اور ان کو ایسا نہیں کہنا چاہئے پھر مجھ سے مخاطب ہوکر کہنے لگے صافی صاحب! میرا مطمح نظر اقتدار نہیں، میں نے تجربات اور حالات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ جس اقتدار کے ساتھ اقدار اور اختیار نہ ہوں ‘ وہ اس ملک کے مسائل حل نہیں کرسکتا ۔ میری جدوجہد کا محور یہی ہے کہ اقتدار یہ نہ ہو کہ اہم فیصلوں کا اختیار کہیں اور ہو یا پھر اس کے ساتھ ہماری اقدار نہ ہوں۔ پھر کہنے لگے کہ صدر زرداری کے بیان پر میری بیٹی مریم کا ٹوئیٹر پر ردعمل آیا جس میں یہ بھی لکھا تھا کہ ہمارے پاس بھی بہت کچھ ہے لیکن ہم فی الحال خاموش ہیں۔ یہ پڑھ کر میں نے مریم کو فون کیا اور اس پر شدید ناراضی کا اظہار کیا اور مجھے خوشی ہے کہ اس نے اپنی غلطی تسلیم کرلی۔ میں تو خود پرویز مشرف کو بھی مشرف صاحب کہتا ہوں۔ پھر میں کیوں کر منتخب صدر کے بارے میں نازیبا لہجے کی تلقین کرسکتا ہوں۔

    موٹروے پر پشاور کے سفر کے دوران ادبی ذوق رکھنے والے سینیٹر پرویز رشید حسب عادت زیادہ تر باادب بیٹھے دائیں بائیں ہرے بھرے کھیتوں کے نظارے سے مسحور ہوتے رہے۔ جب زیادہ مسحور ہوجاتے تو ہم سب کو بھی موٹروے کی دونوں جانب مناظر کے مختلف رنگوں اور مختلف رویوں کی طرف متوجہ کرتے۔ اس ملک کے حسن سے بات شروع ہوتی اور مستقبل پر جاٹھہرتی۔ صوابی میں میجر عامر کے فارم ہاؤس اور پھر رشکئی انٹرچینج کے قریب میرے بھائی اور عزیزوں کے گھروں کی موٹروے سے قربت کو دیکھ کرمیاں صاحب ہنسے اور کہنے لگے کہ لگتا ہے موٹروے سے سب سے زیادہ فائدہ آپ کو اور میجر عامر کو ہوا ہے۔ میں نے اثبات میں سرہلایا تو میاں صاحب کہنے لگے کہ صافی صاحب! اس موٹروے کی مخالفت اس وقت کے صدر غلام اسحاق نے بھی کی تھی اور قائد حزب اختلاف محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی۔ میرے خلاف چارج شیٹ میں موٹروے کی تعمیر بھی شامل تھی۔ آپ کو پتہ ہے یہ موٹروے اکیس ارب روپے کی لاگت سے بنی۔ آج اسکی صورت میں پاکستان کے پاس دو سو بہتر ارب روپے کا اثاثہ موجود ہے۔ میں نے سنا ہے کہ حکومت اس دوسو بہتر ارب روپے کے اثاثے کے خلاف بانڈز لانے والی ہے۔ یہ جو اربوں روپے آئیں گے‘ مجھے دکھ ہے کہ وہ اللے تللوں اور لوٹ کھسوٹ کی نظر ہوجائیں گے حالانکہ پہلی فرصت میں اس کی دوبارہ کارپیٹنگ ہونی چاہئے کیونکہ رولز کے مطابق دس سال بعد موٹروے کی دوبارہ کارپیٹنگ ضروری ہوتی ہے۔ یہ موٹروے اپنے اکیس ارب روپے کب کے اس وطن کو لوٹا چکی ہے۔ اس کے اطراف پر صنعتی زون بننے تھے اس نے تاشقند تک پہنچنا تھا۔ اس کے نتیجے میں جو رائلٹی ہمیں ملنی تھی اور جو معاشی سرگرمیاں وقوع پذیر ہونی تھی اس کا آپ اندازہ لگالیجئے۔ یہ پشاور جو اب دہشت گردی کی زد میں ہے ‘ یہ اس کی وجہ سے اب خطے کی تجارت کا مرکز ہوتا۔ یہاں کے لوگ آج تاشقند اور سینٹرل ایشیاء میں نہایت آسانی کے ساتھ کاروبار کرتے اور ہاں کسی ماہر نفسیات سے کبھی پوچھ لیجئے کہ اس موٹروے نے نفسیاتی عوارض کس قدر کم کئے ہیں۔ آپ اسلام آباد سے پشاور جی ٹی روڈ پر جائیں۔ پہنچنے کے بعد اپنا بلڈ پریشر چیک کریں اور پھر موٹروے پرسفر کرکے چیک کرلیں ۔ عام سڑک کا سفر مصیبت ہوتی ہے جبکہ اسکا سفر ایک پکنک ڈرائیو ہے۔ یہ موٹروے پشاور سے گوادر تک بھی بننا تھا اورکراچی تک بھی۔ اندازہ کرلیں کہ اس نے صوبوں کو کس قدر قریب لانا تھا۔ اس نے ہمیں آپس میں کتنا جوڑنا تھا۔کتنا روزگار‘ کتنا منافع اور کتنی معاشی سرگرمی‘ صحت اور ذہنی سکون دینا تھا۔ اس ایک موٹروے سے اس کا اندازہ لگائیں پھر ایک طنزیہ قہقہہ لگاتے ہوئے کہنے لگے سلیم!جس شخص کا بیس سال پہلے یہ معاشی وژن ہو‘ آپ سوچ سکتے ہیں‘ اسکے سینے میں آج کیسے کیسے خواب سجے ہوں گے اور اس ملک کے حوالے سے اسکے ویژن کی کیفیت کیا ہوگی ۔ان کے اس تقریر میں رکاوٹ نہیں ڈالی اور زیادہ تر میں اثبات میں سر ہلاتا رہا تو میاں صاحب نے نہایت معصومانہ انداز میں کہا کہ صافی صاحب! پھر بھی آپ سب سے زیادہ تنقید مجھ پر کرتے ہیں،کچھ تو خدا کا خوف کرو۔ آخر آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ میں نے بھی فوراً جواب دیا کہ ایسا میں قوم کے وسیع تر مفاد میں کرتا ہوں جس پر سب نے زبردست قہقہہ لگایا اور پھر موضوع بحث کچھ حساس معاملات بننے لگے۔



  • nawaz baichara kitna afsos kr rha hai k kash zardari ko galay na lagaya hota

    ya mushi sai beek mang k baher na gaya hota thu meri popularity ko imran hijake na krta



  • @fanthoori

    Your comments above are reminds me of that famous proverb.

    بلّی کو خواب میں چھیچھڑے۔۔۔



  • @fanthoori... and also reminds me of a very rare proverb...

    تیل جلے تیلی کا، ____ جلیں مشعلچی کے۔۔۔



  • Salim Safi is an over-rated analyst whether he goes with IK or NS.



  • چلو ان چکروں میں سلیم صافی کی بن آیی ہے

    :)



  • Awein Tewein Loog Journalists bun jatay hein.



  • Awein Tewein Loog Journalists bun jatay hein <<<<

    Lol, Salim Safi was being compared with Late Mike Wallace by the Ilzami Band when he accompanied Lota Khan to Mianwali Jalsi.



  • ilzami band ka har shaks k baray main rozana update ata ha siddiqi bahi;



  • ^^ Hamay in KFC kay burger bachoon ki yehi tu adda pasand hai ju kay inkay leader mein bhee koot koot kar bhari hui hai....Taking U-Turns and not being consistent at anything :D



  • nahin nahin; bongion main woh bilkul consistent ha; yeh aap na kahin; how about

    ek rupa ek rupa ek rupa

    kia is main consistent nahin ha?



  • PK Discuss per Sub naaey Pml((n)) supporters ko Laptop Mubarak.



  • @siddiqi73

    I just watch this clip and found it to be consistent with your burger mantra.

    http://www.youtube.com/watch?v=sHjXyA0-GB8



  • @badar

    It's so enjoying.



  • @iamsowise

    PK Discuss per Sub naaey Pml((n)) supporters ko Laptop Mubarak.

    ++++++++++++++

    Thanks friend, best of luck for you as well :)



  • آپ کو پتہ ہے یہ موٹروے اکیس ارب روپے کی لاگت سے بنی۔ آج" اسکی صورت میں پاکستان کے پاس دو سو بہتر ارب روپے کا اثاثہ موجود ہے۔ میں نے سنا ہے کہ حکومت اس دوسو بہتر ارب روپے کے اثاثے کے خلاف بانڈز لانے والی ہے۔ یہ جو اربوں روپے آئیں گے‘ مجھے دکھ ہے کہ وہ اللے تللوں اور لوٹ کھسوٹ کی نظر ہوجائیں گے حالانکہ پہلی فرصت میں اس کی دوبارہ کارپیٹنگ ہونی چاہئے کیونکہ رولز کے مطابق دس سال بعد موٹروے کی دوبارہ کارپیٹنگ ضروری ہوتی ہے۔ یہ موٹروے اپنے اکیس ارب روپے کب کے اس وطن کو لوٹا چکی ہے۔ "

    zardari gonna sell motorway now, oooch.



  • @ badar..nice bro its very hilarious...



  • BNN is superb :) They are always hilarious and especially the news tickers in their shows are worth reading to laugh. No doubt they are best to copy the politicians.