ائر کنڈیشنز بند، وزراء کے پسینے اور جھاگ



  • http://www.topstoryonline.com/ministers-fury-over-lack-of-airconditioning

    اسلام آباد ( رؤف کلاسرا)کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے پچھلے جمعہ کو ہونیو الی میٹنگ میں اس وقت اس کے ارکان وزراء کے پسینے چھوٹ گئے جب پتہ چلا کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کے کابینہ بلاک کا ائرکنڈیشنگ سسٹم کام نہیں کر رہا کیونکہ ٹھیکیدار کے بلوں کی تین سال سے ادائیگی نہ ہو سکی تھی جس پر وزیرخزانہ حفیظ شیخ اتنے غصے میں آئے کہ انہوں نے میٹنگ کے دوران ہی سیکرٹری ہاوزنگ کو بلوالیا اور ان کی خوب کلاس لی۔

    پہلی دفعہ ملک کے حکمرانوں کو پتہ چلا کہ اگر ائر کنڈیشنر نہ چل رہا ہو تو کیا حالت ہوتی ہے جب کہ ایک عام آدمی کو لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بجلی سے چلنے والا پنکھا تک میسر نہیں۔ تاہم جب ای سی سی کی میٹنگ میں یہ پتہ چلا کہ وہاں بجلی تو ہے اور پنکھے بھی چل رہے ہیں لیکن ائرکنڈیشنگ سسٹم کام نہیں کر رہا تو ذرائع کے مطابق وزراء کی حالت دیکھنے والی تھی کہ بھلا پنکھے کے نیچے بیٹھ کر اجلاس کیسے ہوسکتا ہے۔ جسم پسینے میں شرابور اور غصے میں منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔

    ٹاپ سٹوری آن لائن کو ملنے والی سرکاری دستاویزات میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ جب میٹنگ شروع ہوئی تو وزیرخزانہ جو اس اجلاس کی صدارت کرتے ہیں کو گرمی لگنے لگی۔ انہوں نے پوچھا کہ ائرکنڈیشنگ سسٹم کیوں نہیں چل رہا تو پتہ چلا کہ جو ٹھیکیدار اس سسسٹم کو چلاتا ہے اس کو پچھلے تین سالوں سے پیسوں کی ادائیگی نہیں کی گئی تھی جس پر اس نے کام بند کر دیا ہے۔ یہ سننا تھا کہ حفیظ شیخ جو عمومی طور پر غصے میں نہٰیں آتے اور دھیمے مزاج کے شخص سمجھے جاتے ہیں شدید ناراض ہوئے اورانہوں نے کہا کہ وہ حیران ہو رہے ہیں کہ تین سالوں سے ٹھیکیدار کا بل ادا نہیں کیا گیا اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی تھی۔

    انہوں نے میٹنگ میں موجود سیکرٹری خزانہ واجد رانا کی طرف دیکھا کہ کہ وہ وضاحت کریں۔ واجد رانا نے انہیں بتایا کہ ان کے پاس ٹھیکدار کو بلوں کی ادائیگی کا کیس آیا تھا اور جہاں تک ان کو یاد پڑتا ہے کہ بل منظور کر دیے گئے تھے۔ تاہم واجد رانا نے یہ نہیں بتایا کہ بھلا تین سال تک کیسے وہ بل وزارت خزانہ کے پاس کلیرنس کے لیے پڑا رہا یا پھر وزارت ہاؤسنگ نے انہیں وہ بل تاخیر سے بنا کر کلیرنس کے لیے بھیجا۔ سیکرٹری خزانہ واجد رانا کا کہنا تھا کہ اب یہ کام وزارت ہاؤسنگ کا تھا کہ وہ اس ٹھکیدار کو ادائیگی کرتے کیونکہ سرکاری عمارتوں کی دیکھ بھال اور اس طرح کے بلوں کی ادائیگی کا سارا معاملہ وزارت ہاوسنگ کے پاس ہوتا ہے۔ واجد رانا کا کہنا تھا کہ اگر بلوں کی ادائیگی نہیں کی گئی تو پھر اس میں وزارت خزانہ سے زیادہ وزارت ہاؤزنگ کا قصور تھا۔

    اس پر وزیرخزانہ نے کہا کہ فوری طور پر سیکرٹری ہاؤزنگ کامران لاشاری کو ای سی سی کی میٹنگ میں پیش کیا جائے تاکہ ان سے جواب طلبی کی جا سکے۔ تاہم تھوڑی دیر بعد وزیرخزانہ کو بتایا گیا کہ سیکرٹری ہاؤزنگ کامران لاشاری ملک سے باہر تھے لہذا وہ اجلاس میں پیش ہو کر اپنی صفائی نہیں دے سکتے۔ اس پر وزیر خزانہ نے کہا پھر وزار ت کے کسی اور سینئر افسر کو بلوایا جائے تاکہ اس سے پوچھا جائے کہ وہ سب لوگ کیا کر رہے تھے اور تین سالوں سے ٹھیکدار کو ادائیگی کیوں نہیں کی گئی۔ اس پر وزارت ہاؤزنگ کے جوائنٹ سیکرٹری پیش ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ اگلے چند روز میں ائر کنڈیشن سسٹم بحال ہوجائے گا۔

    لیکن وزیر خزانہ حفیظ شیخ کا غصہ اس پر بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور ائر کنڈیشنر کی عدم دستیابی پر وہ اپنی ناراضگی کا بار بار اظہار کرتے رہے۔



  • While the govt is promoting several energy saving measures, they have overlooked an obvious one.

    There should be a ban on wearing 3 piece suits in offices. Everyone should come in Shalwar Kurta.



  • اللہ کرے ان کے گھر کے اے سی بھی اڑ جائیں اور گاڑیوں کے اے سی کا سسٹم خراب ہو جائے اور گیس ختم ہوجائے۔



  • اللہ کرے ان کے گھر کے اے سی بھی اڑ جائیں اور گاڑیوں کے اے سی کا سسٹم خراب ہو جائے اور گیس ختم ہوجائے۔

    Bro, most ministers and bureaucrats use Government provided and maintained houses and cars, so in the end the repair cost of these AC’s will be taken from your pocket :)

    So jaldee se apne alfaz wapis len Is se pehle k inhain sharf-e-qabooliat mil jae :)



  • Lol! I will surely be getting a run down on this meeting from my boss who is a member of the Economic Advisory Council and was very much present in this meeting which took place on Saturday and not Friday, as reported by Rauf Klasra.



  • So you are at Gul Ahmed. Nice.



  • Nope. There are a bunch of other members from the corporate sector besides Bashir Ali Mohammad of Gul Ahmed in the EAC ;)



  • LOL ...

    For some reason I cold not think of you working at a financial institution, so Gul Ahmed seemed natural.



  • Hehehehehe.....yeah, I sorta sound like some hired gun working for a private defence contractor :D



  • @siddiqi

    You only sound like hired gun of PML-N :D



  • ^^^ Na bro, there are a lot players out there who would pay an arm and a leg to avail my services but I don't sell my talent for a price ;)



  • sid..you do sound like a paid contractor...

    Can you get me some work too?? :)



  • @BS,

    I'm surprised at your perception! Anyway, we can always use extra help :D



  • well..if you are not then you are one heck of a nooner...



  • Nooner?? Khabardar jo Siddiqui bhai ko nooner kaha... is say to bahter tha aap un ko koi salawatain suna datay...;)

    Bus yeah samajh lain Siddiqui bhai undercover "sathee" hain... Obaid bhai kay liya bori dhonay ka kam asani say dilwa saktay hain....



  • bhai, maaf karo..aisee nokri nahi karnee. apnay haath se apni hee qabar.



  • sid, reason I said that is your untiring focus on IK



  • @Dusky,

    Yeh mera bhaiiiii!!!!!

    Hum Aadmi hain tumharay jaisay

    Ju tum karo gai woh hum karain gai

    :D :D

    @BS,

    Bhaijaan, aap bilwajah parishan na hoon, hum wafa karnay waloon ko apnay del mein bithatay hain...bori mein bund nahi kartay.



  • Siddiqui bhai ab to Obaid bhai ko aap say wafa karnee paray gee, warna to Obaid bhai ko anjam maloom hay:)

    Wasay Obaid bhai as the saying goes, if you can not beat them, join them.... aap bori nahee do saktay to Siddiqui bhai aap kay liya koi aur kam bhee bhoond saktay hain...



  • Ohhh yes yes.....whatever befits ones capabilities; Wall Chalking, erecting party flags on poles, community policing, sector operative etc. etc.


Log in to reply
 

Looks like your connection to Discuss was lost, please wait while we try to reconnect.