بھارتی حکومت کا اپنی غریب عوام کے لیے ایک اچھا قدم، کیا ہمارے ہاں بھی یہ ممکن ہے



  • کیا ہمارے سیاستدان بھارتی حکومت کی طرح کچھ ایسا اقدام اپنی قوم کے غریب بچوں کے لیے کر سکتے ہیں؟

    بھارت کی سپریم کورٹ نے ملک کے بہترین سکولوں میں غریب بچوں کے لیے پچیس فیصد سیٹیں مختص کر کے اچھے سکولوں میں ان کی مفت تعلیم کی راہ ہموار کر دی ہے۔

    عدالت نے اپنے تاریخ ساز فیصلے میں کہا ہے کہ ملک میں اقلیتوں کے ذریعہ چلائے جانے والے ایسے سکولوں کے علاوہ، جو حکومت سے کسی قسم کی امداد نہیں لیتے، تمام نجی اور سرکاری سکولوں کو پچیس فیصد نشستیں غریب بچوں کے لیے مختص کرنی ہوں گی۔

    اس فیصلے پر آج (بدھ) سے ہی عمل کیا جائیگا۔ حکومت نے ملک میں تعلیم کو عام کرنے کے لیے دو ہزار نو میں ایک قانون وضع کیا تھا جس کا اطلاق یکم اپریل دو ہزار دس سے شروع ہوا تھا لیکن بہت سے تعلیمی ادارے اس پر عمل نہیں کر رہے تھے۔

    اس قانون میں بچوں کی تعلیم کی راہ میں آنے والی بہت سی رکاوٹیں ختم کی گئی تھیں لیکن نجی سکولوں کی کچھ تنظیموں نے قانون کی اس شق پر سخت اعتراض کیا تھا کہ انہیں پچیس فیصد سیٹوں پر غریب بچوں کو داخلہ دینا ہوگا۔

    پرائیویٹ سکولوں نے اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور ان کا بنیادی موقف یہ تھا کہ اس قانون سے ان کے اختیارات کو زک پہنچتی ہے اور اتنی بڑی تعداد میں غریب بچوں کو سکول میں داخلہ دینے کا مالی بوجھ وہ برداشت نہیں کرسکیں گے۔

    عدالت میں سکولوں نے کہا کہ آئین کے تحت انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت کی مداخلت کے بغیر اپنے سکول چلا سکیں۔ لیکن حکومت کا موقف تھا کہ وہ سماجی اور اقتصادی طور پر کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کو تعلیم کا مساوی حق فراہم کرنا چاہتی ہے۔

    لیکن قانون کے اطلاق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن اور وکیل اشوک اگروال نے کہا کہ سکولوں کے اعتراض میں کوئی دم نہیں کیونکہ ایک تو ان کے پاس مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں اور دوسرے خود حکومت ان سکولوں کو فی طالب علم اتنی رقم فراہم کرے گی جو وہ خود اپنے زیر انتظام چلائے جانے والے سکولوں میں خرچ کرتی ہے۔

    "سکولوں کے اعتراض میں کوئی دم نہیں کیونکہ ایک تو ان کے پاس مالی وسائل کی کوئی کمی نہیں اور دوسرے خود حکومت ان سکولوں کو فی طالب علم اتنی رقم فراہم کرے گی جو وہ خود اپنے زیر انتظام چلائے جانے والے سکولوں میں خرچ کرتی ہے۔"

    لیکن سپریم کورٹ نے کہا کہ اس فیصلے سے صرف ان اداروں کو استثنی حاصل ہوگا جو حکومت یا بلدیاتی اداراوں سے ایک بھی پیسے کی امداد نہیں لیتے۔ اس کے علاوہ بورڈنگ سکول بھی اس فیصلے کے دائرے سے باہر رہیں گے۔

    مقدمے کی سماعت چیف جسٹس ایس ایچ کپاڈیا کی سربراہی والی ایک بنچ نے کیا تھا جس نے اپنا فیصلہ تین اگست کو محفوظ کر لیا تھا۔

    بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے قومی کمیشن کی سربراہ شانتا سنہا نے فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امیر گھروں سے آنے والے بچوں کو غریبوں کی زندگی کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا۔

    حکومت نے چھ سے چودہ سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کے لیے آئین میں ایک نئی شق شامل کی تھی لیکن سکولوں کا دعوی تھا کہ اس شق سے آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2012/04/120412_education_rte_sc_sz.shtml



  • When is Fauzia Phasoori announcing 25% free education for poor orphan kids in her Beacon School system?



  • ^^^ Brother, its Khursheed Yahoodi/Pasoori.



  • All in the family brother sister



  • شکریہ علامہ بھائی

    کیا اچھی خبر لگائی ہے آپنے

    مجھے تو یہ سوچ کر ہی مزا آ رہا ہے

    کہ ایچیسن کے گھوڑوں پر عام نوجوان بھی بیٹھے ہوں

    لیکن ابھی بہت مرحلے ہیں

    سب سے پہلے سب کو بنیادی تعلیم کی سہولت میسر آ جایے

    امید ہے پھر چیزیں بہتری کی طرف گامزن ہو جائینگی



  • ویسے اگر عمران خان نے اس پالیسی کو اگر اپنے انتخابی منشور کا حصّہ بنا لیا تو مجھے یقین ہے کہ خورشید قصوری تحریک انصاف کو چھوڑ کر نون لیگ کو جوائن کر لے گا

    :)



  • @IP

    I guess you havent read, its thier 'goverment' that passed such a law, so first you need to ask your governments to pass such a law and then ask anyone to obey it. And get over with your IK/PTI obcession.

    And part of the law is that Government will provide these private schools with funds per child equivalent to what government spends in its own schools, so you provide them with 16,000 per month per child and they surely would jump to grab the oppurtunity.



  • It is Far better idea than Danish Schools ....



  • humaray han bhi mumkin ??



  • ویسے اگر عمران خان نے اس پالیسی کو اگر اپنے انتخابی منشور کا حصّہ بنا لیا تو مجھے یقین ہے کہ خورشید قصوری تحریک انصاف کو چھوڑ کر نون لیگ کو جوائن کر لے گا

    +++++++++++++++++

    At last PTI friends start realising problems in Pakistan system and how difficult to bring change.

    OK political parties have education mafias like Kasoori

    Why dictators could not implemented such decision in Pakistan?

    Is it possible to implement in Army cadit schools?

    Is IK & other leaders be ready that their children study with children of Gama/Saja of Pakistan?



  • Nazobillah...

    Allama jee... kasi kufrana dhaka shroo kia hay aap nay....

    Aap ko sharam nahee atee Musalmano ko Hunduana chal chalan sikhatay howay?? Kia howa hay aap kay jazbay imani aur muhib-watni ko?? Yani ab hum log hindoon say misaly lain gain aur un kee naqali kee batain karain gain....

    Lahool-e-walaquat.....



  • It can be possible in pakistan because, in our society is much much more divided then indian,

    Let consider ideally, it will be ordered by supreme court or bill passed by any assembly (never possible even in next 10 years minimum)

    one firaq school is only for thier poor peoples, cadet schools allocate quota to sipahi childeren.

    Rich people schools allocate quota to their home servants with a special back yard enterence for these students.........

    I am surprise on easy go he said first we have to give basic education.

    these schools are providing PHD in space science............???

    these are all providing primary/secondry educatoion of all systems (britcih, american, arabic, desi)


Log in to reply
 

Looks like your connection to Discuss was lost, please wait while we try to reconnect.