گنجینہ ھاے گنج فراز



  • گنجینہ ھاے گنج فراز

    کردار

    گنجینہ ھاے گنج فراز

    چند درباری اور سپاہی

    خدام اور مشیر

    نائب سالار مشاق پروانہ

    پہلا منظر

    آسمان پہ بادل چھا ے ہیں ،ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے،ہرے بہرے مرغزار میں ہرن dدوڑ رہے ہیں. بادلوں کے پیچھے سے جھانکتے ہوئے سورج کی کرنیں میدان میں روشنی کے حلقے بنا رہی ہیں.سبزازار کے وسط مے ایک نور کا گولہ جیسے اس روشنی کو منعکس کر رہا ہے.وسط مے ایک تخت پر گنجینہ ھاے گنج فراز براجمان ہیں،سامنے چند کرسیاں پڑی ہیں .ان کے پہلو مے دو خادم کھڑے ہیں .ایک نے ہاتھ مے تیل کی بوتل تھامی ہے جبکے دوسرا

    گنجینہ ھاے گنج فراز کے سر پر تیل مل رہا ہے.سورج کے کرنیں منعکس ہو رہی ہیں.

    سبزازار کے ایک کونے مے چند خادم ایک مردہ شیر کی کھل اتارنے میں مصروف ہیں.ساتھ ہی بھس کی ڈھیری پڑی ہے .

    اچانک ایک درباری بھاگتا ہوا نمودار ہوتا ہے.اس کے پیچھے چند سپاہی چلے آ رہی ہیں.ان کے پیچھے وردی مے ملبوس نائب سالار مشاق پروانہ ہے.مشاق پروانہ کی شکل دیکھتے ہی گنج فراز کے چہرے پی رونق آ جاتی ہے.اور اس کے استقبال کے لئے کھرے ہونے کی کوشش کرنے لگتے ہیں لیکن مشاق پروانہ اشارہ کر ک روک دیتا ہے،اور سامنے ایک کرسی سنبھال لیتا ہے.

    مشاق:

    حضور بہت مبارک ہو،آپ ایک بار پھر حکمران بن گے.

    گنج فراز:

    سب آپ کی مدد سے ممکن ہوا،ورنہ کہاں ہم اور کہاں حکومت.آپ بتایں آج ہمیں کیسے یاد کیا؟

    مشاق:

    میں تو آپ کے شیر کی موت پر افسوس کرنے حاضر ہوا تھا.سنا ہے آپ کے وزیراعظم بنتے ہی دم توڑ دیا؟

    گنج فراز:

    اجی،کیا بتایں.ہمارا ہر شیر حکومت میں آتے ہی الله کو پیارا ہو جاتا ہے.بڑے بڑے پیروں فقروں سے دریافت کیا مگر کچھ پتا نہ چلا.

    مشاق:

    حضور آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں.میں آپ کے لئے ایک شیر کا نذرانہ لے کر حاضر ہوا ہوں.امید ہے یہ شیر آپ کو دغا نہ دیگا.

    (چند درباری ایک بڑا پنجرہ گھسیٹتے ہوئے آتے ہیں.پنجرے مے ایک خونخوار سیاہ رنگ کا شیر بند ہے اور بار بار دھاڑ رہا ہے.اسکی دھاڑ سن کر خادم سہمے ہوئے دکھائی دے رہےہیں،مگر گنجینہ ھاے گنج فراز کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو چکی ہے.)

    گنج فراز:

    آپ کا تحفہ نہایت شاندار ہے.ہم آپ سے بہت خوش ہیں.جلد ہی آپ کی ترقی کر دی جاے گی.

    مشاق:

    حضور کا اقبال بلند ہو.

    دوسرا منظر:

    گنجینہ ھاے گنج فراز ایوان مے اپنے تخت پر براجمان ہیں.پہلو مے دو مشیر کھڑے ہیں.ایوان میں موجود کرسیوں پر سیاہ رنگ کے غلاف چڑے ہیں.دیواروں پر بھی سیاہ پردوں نے رنگ برنگے پردوں کو ڈھامپ رکھا ہے.گنجینہ ھاے گنج فراز کے علاوہ سب نے ماتمی لباس پہنے ہیں.

    گنج فراز:

    مشیر ہمیں بتاؤ کہ آج سب نے ماتمی لباس کیوں پہنے ہیں؟

    سبزازار کے ایک کونے مے چند خادم ایک مردہ شیر کی کھل اتارنے میں مصروف ہیں.ساتھ ہی بھس کی ڈھیری پڑی ہے .

    اچانک ایک درباری بھاگتا ہوا نمودار ہوتا ہے.اس کے پیچھے چند سپاہی چلے آ رہی ہیں.ان کے پیچھے وردی مے ملبوس نائب سالار مشاق پروانہ ہے.مشاق پروانہ کی شکل دیکھتے ہی گنج فراز کے چہرے پی رونق آ جاتی ہے.اور اس کے استقبال کے لئے کھرے ہونے کی کوشش کرنے لگتے ہیں لیکن مشاق پروانہ اشارہ کر ک روک دیتا ہے،اور سامنے ایک کرسی سنبھال لیتا ہے.

    مشاق:

    حضور بہت مبارک ہو،آپ ایک بار پھر حکمران بن گے.

    گنج فراز:

    سب آپ کی مدد سے ممکن ہوا،ورنہ کہاں ہم اور کہاں حکومت.آپ بتایں آج ہمیں کیسے یاد کیا؟

    مشاق:

    میں تو آپ کے شیر کی موت پر افسوس کرنے حاضر ہوا تھا.سنا ہے آپ کے وزیراعظم بنتے ہی دم توڑ دیا؟

    گنج فراز:

    اجی،کیا بتایں.ہمارا ہر شیر حکومت میں آتے ہی الله کو پیارا ہو جاتا ہے.بڑے بڑے پیروں فقروں سے دریافت کیا مگر کچھ پتا نہ چلا.

    مشاق:

    حضور آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں.میں آپ کے لئے ایک شیر کا نذرانہ لے کر حاضر ہوا ہوں.امید ہے یہ شیر آپ کو دغا نہ دیگا.

    (چند درباری ایک بڑا پنجرہ گھسیٹتے ہوئے آتے ہیں.پنجرے مے ایک خونخوار سیاہ رنگ کا شیر بند ہے اور بار بار دھاڑ رہا ہے.اسکی دھاڑ سن کر خادم سہمے ہوئے دکھائی دے رہےہیں،مگر گنجینہ ھاے گنج فراز کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو چکی ہے.)

    گنج فراز:

    آپ کا تحفہ نہایت شاندار ہے.ہم آپ سے بہت خوش ہیں.جلد ہی آپ کی ترقی کر دی جاے گی.

    مشاق:

    حضور کا اقبال بلند ہو.

    دوسرا منظر

    گنجینہ ھاے گنج فراز ایوان مے اپنے تخت پر براجمان ہیں.پہلو مے دو مشیر کھڑے ہیں.ایوان میں موجود کرسیوں پر سیاہ رنگ کے غلاف چڑے ہیں.دیواروں پر بھی سیاہ پردوں نے رنگ برنگے پردوں کو ڈھامپ رکھا ہے.گنجینہ ھاے گنج فراز کے علاوہ سب نے ماتمی لباس پہنے ہیں.

    گنج فراز:

    مشیر ہمیں بتاؤ کہ آج سب نے ماتمی لباس کیوں پہنے ہیں؟

    مشیر:

    حضور کا اقبال بلند ہو،کیا آپ کو کچھ یاد نہیں؟

    گنج فراز:

    نمک حرام (گرجتے ہوئے) تم سے جو بات ہم نے پوچھی ہے اسکا جواب دو.

    مشیر:

    (کا پمتے ہوئے)سرکار آج آپکے والد مجازی ہوائی دھماکے میں شہید ہو گے تھے.

    (یہ سنتے ہی گنج فراز پر غشی کے دورے پڑنے لگتے ہیں،خادم ان کو اٹھا کر ایوان سے لے جاتے ہیں)

    تیسرا منظر

    موسّم ویسا ہی خوشگوار ہے،آسمان پر بادل زیادہ گھرے ہو چکے ہیں.سبزازار کے ایک کونے میں ایک لاغر اور نحیف سیاہ شیر لیٹا ہےاسکا جسم ہر کسم کی بندش سے آزاد ہے .اسکے سامنے ایک بہت بڑے طشت میں گوشت پھرا ہے،مگر شیر اسمے سے کچھ کھانے کی بجاتے اپنے پاس لیٹے ہوئے ہرن کی طرف دیکھ رہا ہے.سبزازار کے وسط مے گنجینہ ھاے گنج فراز تخت پر بیٹھے ہیں،سامنے چند کرسیاں پڑی ہیں.پہلو مے دو خادم کھڑے ہیں.

    (ایک درباری مشاق پروانہ کی آمد کی اطلا ع دیتا ہے،

    مشاق پروانہ سٹیج پر آتا ہے،چند لمحے ادھر ادھر دیکھتا ہے.پھر شیر کی طرف دیکھتے ہی ہکا بکا رہ جاتا ہے.ہرات کے مارے اس کا منہ آدھا کھلا ہے .ایک خادم اس سے بازو سے سنبھال کر کرسی پی بیٹھا دیتا ہے.)

    مشاق:

    سرکارآ پ کے اس شیر کو کیا ہوا،جو میں نے آپکو تحفہ دیا تھا ؟

    گنج فراز:

    قدرت کی ستم ظریفی ہے جناب.ہمارا ہر شیر خدا جانے کیوں مسند حکومت سنبھالتے ہی ہوا ہو جاتا ہے.

    مشاق:

    حضور قدرت کے کاموں مے کس کو دخل ہے.

    گنج فراز:

    میں نے آپ کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے اس لئے آپ کو بلوایا ہے .یہ ہماری فوج کا سالار بلکل ہی فضول انسان ہے.میں نے دو مرتبہ اسے اپنے پاس طلب کیا لیکن ہر بار بھا نہ کر کے ٹال دیا.میں نے اس کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا ہے.اسی لئے آج سے آپ ہماری فوج کے نے سالار ہیں.

    (مشاق پروانہ گنج فراز کے قدموں مےگر پڑتا ہے )

    مشاق:

    حضور،آپ سا مہان آدمی کبھی پیدا نہی ہوا،میں اپکا سری زندگی غلام رہوں گا.

    چوتھا منظر

    آسمان پی سیاہ بادل چھا ے ہوئے ہیں.کبھی کبھی بادلوں کی گرج بھی سنائی دیتی ہے.سبزازار کے ایک کونے میں ایک سیاہ مرنجان شیر اپنی سانسیں گن رہا ہے.باغ کے وسط میں تخت پڑا ہے .گنج فراز تخت کے ساتھ ہی تہل رہے ہیں،ستہ ہی ایک قطار میں بہت سے درباری اور خادم کھڑے ہیں.گنج فراز کے چہرے پر پریشانی دکھائی دیتی ہے.

    ایک درباری دوڑتا ہوا آتا ہے.

    درباری:

    حضور غضب ہو گیا،آپکے ایک نمک خوار نے نمک حرامی کر دی.

    گنج فراز:

    مجھے پتا ہے ہے کے تم مشاق پروانہ کی بات کر رہے ہو.تم صرف مجھ تازہ ترین صورت حال کا بتاؤ.

    درباری:

    حضور،مشاق پروانہ نے تاج پر قبضہ کر لیا ہے اور خود کو بادشاہ بھی کہنے لگا ہے.مجھ ابھی ابھی جاسوسوں نے خبر دی ہے کے وہ آپکے چپاے ہوئے خزانے کے بارے میں لوگوں کو بتا کر آپکو مروانا چاہتا ہے.

    گنج فراز:

    اب بتاؤ میں کیا کروں؟

    درباری:

    سرکار ہم آپکے وفا دار ہیں،آپکے بھاگنے کے لئے پورا بندوبست ہو گیا ہے ..ایک جہاز تیار کھڑا ہے کہ آپ سوار ہون اور وو آپکو اڑا لے جا ے .

    گنج فراز:

    ہم تیار ہیں.

    درباری:

    سرکار ہمارے لئے کوئی اور حکم؟

    گنج فراز:

    ہماری غیر موجودگی مے اس شیر کا خاص خیال رکھنا .ہمارے جانے کے بعد اسکی صحت بھال ہو جاے تو اسکو لوگوں کے پاس لے جانا اور انھیں بتانا کے ہم بھی اس شیر جیسے مضبوط ہیں.اور یہ کے اگر وو ہمیں واپس بلائیں گے تو ہم ہمیشہ کی طرح شیر بن کر انکی حفاظت کریں گے.

    (بادل زور سے گرجنے لگتے ہیں،اور آسمان پی بجلیاں چمکتی نظر آتی ہیں.سٹیج پہ پردہ گر جاتا ہے)



  • But Imran Khan has now covered his "ganj" with transplanted hair, so why such a long story about him and his ganj?



  • Adonis

    Bhai Ji Aap Cha Gaey hain ::))



  • گنجینہ ھاے گنج نواز شریف ... بہت بری گنج ہے نوا ز کے پاس

    ;)



  • pata pata boota boota haal hamara jaaney hey

    jaaney na jaaney Adonis hi na jaaney pkpolitics to sara jaanay hey

    :)

    Bila Unwan story pay Adonis nay apni ghair zummadaarnan comments say raaz tasht az baam kar dia kay asal mein story kis kay baarey thi ...

    jay ho...



  • bohot khoob rafay.



  • (Somehow text format got completely ruined,so I'm posting it again with some editing in the format.I don't know much about using urdu text on forums and I feel sorry for that.I hope you enjoyed reading it.)

    گنجینہ ھاے گنج فراز

    کردار:-

    گنجینہ ھاے گنج فراز

    چند درباری اور سپاہی

    خدام اور مشیر

    نائب سالار مشاق پروانہ

    پہلا منظر:

    آسمان پہ بادل چھا ے ہیں ،ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے،ہرے بہرے مرغزار میں ہرن دوڑ رہے ہیں. بادلوں کے پیچھے سے جھانکتے ہوئے سورج کی کرنیں میدان میں روشنی کے حلقے بنا رہی ہیں.سبزازار کے وسط مے ایک نور کا گولہ جیسے اس روشنی کو منعکس کر رہا ہے.وسط مے ایک تخت پر گنجینہ ھاے گنج فراز براجمان ہیں،سامنے چند کرسیاں پڑی ہیں .ان کے پہلو مے دو خادم کھڑے ہیں .ایک نے ہاتھ مے تیل کی بوتل تھامی ہے جبکے دوسرا

    گنجینہ ھاے گنج فراز کے سر پر تیل مل رہا ہے.سورج کے کرنیں منعکس ہو رہی ہیں.

    سبزازار کے ایک کونے مے چند خادم ایک مردہ شیر کی کھل اتارنے میں مصروف ہیں.ساتھ ہی بھس کی ڈھیری پڑی ہے .

    اچانک ایک درباری بھاگتا ہوا نمودار ہوتا ہے.اس کے پیچھے چند سپاہی چلے آ رہی ہیں.ان کے پیچھے وردی مے ملبوس نائب سالار مشاق پروانہ ہے.مشاق پروانہ کی شکل دیکھتے ہی گنج فراز کے چہرے پی رونق آ جاتی ہے.اور اس کے استقبال کے لئے کھرے ہونے کی کوشش کرنے لگتے ہیں لیکن مشاق پروانہ اشارہ کر ک روک دیتا ہے،اور سامنے ایک کرسی سنبھال لیتا ہے.

    مشاق:

    حضور بہت مبارک ہو،آپ ایک بار پھر حکمران بن گے.

    گنج فراز:

    سب آپ کی مدد سے ممکن ہوا،ورنہ کہاں ہم اور کہاں حکومت.آپ بتایں آج ہمیں کیسے یاد کیا؟

    مشاق:

    میں تو آپ کے شیر کی موت پر افسوس کرنے حاضر ہوا تھا.سنا ہے آپ کے وزیراعظم بنتے ہی دم توڑ دیا؟

    گنج فراز:

    اجی،کیا بتایں.ہمارا ہر شیر حکومت میں آتے ہی الله کو پیارا ہو جاتا ہے.بڑے بڑے پیروں فقروں سے دریافت کیا مگر کچھ پتا نہ چلا.

    مشاق:

    حضور آپ کیوں پریشان ہوتے ہیں.میں آپ کے لئے ایک شیر کا نذرانہ لے کر حاضر ہوا ہوں.امید ہے یہ شیر آپ کو دغا نہ دیگا.

    (چند درباری ایک بڑا پنجرہ گھسیٹتے ہوئے آتے ہیں.پنجرے مے ایک خونخوار سیاہ رنگ کا شیر بند ہے اور بار بار دھاڑ رہا ہے.اسکی دھاڑ سن کر خادم سہمے ہوئے دکھائی دے رہےہیں،مگر گنجینہ ھاے گنج فراز کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو چکی ہے.)

    گنج فراز:

    آپ کا تحفہ نہایت شاندار ہے.ہم آپ سے بہت خوش ہیں.جلد ہی آپ کی ترقی کر دی جاے گی.

    مشاق:

    حضور کا اقبال بلند ہو.

    دوسرا منظر:

    گنجینہ ھاے گنج فراز ایوان مے اپنے تخت پر براجمان ہیں.پہلو مے دو مشیر کھڑے ہیں.ایوان میں موجود کرسیوں پر سیاہ رنگ کے غلاف چڑے ہیں.دیواروں پر بھی سیاہ پردوں نے رنگ برنگے پردوں کو ڈھامپ رکھا ہے.گنجینہ ھاے گنج فراز کے علاوہ سب نے ماتمی لباس پہنے ہیں.

    گنج فراز:

    مشیر ہمیں بتاؤ کہ آج سب نے ماتمی لباس کیوں پہنے ہیں؟

    مشیر:

    حضور کا اقبال بلند ہو،کیا آپ کو کچھ یاد نہیں؟

    گنج فراز:

    نمک حرام (گرجتے ہوئے) تم سے جو بات ہم نے پوچھی ہے اسکا جواب دو.

    مشیر:

    (کا پمتے ہوئے)سرکار آج آپکے والد مجازی ہوائی دھماکے میں شہید ہو گے تھے.

    (یہ سنتے ہی گنج فراز پر غشی کے دورے پڑنے لگتے ہیں،خادم ان کو اٹھا کر ایوان سے لے جاتے ہیں)

    تیسرا منظر:

    موسّم ویسا ہی خوشگوار ہے،آسمان پر بادل زیادہ گھرے ہو چکے ہیں.سبزازار کے ایک کونے میں ایک لاغر اور نحیف سیاہ شیر لیٹا ہےاسکا جسم ہر کسم کی بندش سے آزاد ہے .اسکے سامنے ایک بہت بڑے طشت میں گوشت پھرا ہے،مگر شیر اسمے سے کچھ کھانے کی بجاتے اپنے پاس لیٹے ہوئے ہرن کی طرف دیکھ رہا ہے.سبزازار کے وسط مے گنجینہ ھاے گنج فراز تخت پر بیٹھے ہیں،سامنے چند کرسیاں پڑی ہیں.پہلو مے دو خادم کھڑے ہیں.

    (ایک درباری مشاق پروانہ کی آمد کی اطلا ع دیتا ہے،

    مشاق پروانہ سٹیج پر آتا ہے،چند لمحے ادھر ادھر دیکھتا ہے.پھر شیر کی طرف دیکھتے ہی ہکا بکا رہ جاتا ہے.ہرات کے مارے اس کا منہ آدھا کھلا ہے .ایک خادم اس سے بازو سے سنبھال کر کرسی پی بیٹھا دیتا ہے.)

    مشاق:

    سرکارآ پ کے اس شیر کو کیا ہوا،جو میں نے آپکو تحفہ دیا تھا ؟

    گنج فراز:

    قدرت کی ستم ظریفی ہے جناب.ہمارا ہر شیر خدا جانے کیوں مسند حکومت سنبھالتے ہی ہوا ہو جاتا ہے.

    مشاق:

    حضور قدرت کے کاموں مے کس کو دخل ہے.

    گنج فراز:

    میں نے آپ کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے اس لئے آپ کو بلوایا ہے .یہ ہماری فوج کا سالار بلکل ہی فضول انسان ہے.میں نے دو مرتبہ اسے اپنے پاس طلب کیا لیکن ہر بار بھا نہ کر کے ٹال دیا.میں نے اس کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا ہے.اسی لئے آج سے آپ ہماری فوج کے نے سالار ہیں.

    (مشاق پروانہ گنج فراز کے قدموں مےگر پڑتا ہے )

    مشاق:

    حضور،آپ سا مہان آدمی کبھی پیدا نہی ہوا،میں اپکا سری زندگی غلام رہوں گا.

    چوتھا منظر :-

    آسمان پی سیاہ بادل چھا ے ہوئے ہیں.کبھی کبھی بادلوں کی گرج بھی سنائی دیتی ہے.سبزازار کے ایک کونے میں ایک سیاہ مرنجان شیر اپنی سانسیں گن رہا ہے.باغ کے وسط میں تخت پڑا ہے .گنج فراز تخت کے ساتھ ہی تہل رہے ہیں،ستہ ہی ایک قطار میں بہت سے درباری اور خادم کھڑے ہیں.گنج فراز کے چہرے پر پریشانی دکھائی دیتی ہے.

    ایک درباری دوڑتا ہوا آتا ہے.

    درباری:

    حضور غضب ہو گیا،آپکے ایک نمک خوار نے نمک حرامی کر دی.

    گنج فراز:

    مجھے پتا ہے ہے کے تم مشاق پروانہ کی بات کر رہے ہو.تم صرف مجھ تازہ ترین صورت حال کا بتاؤ.

    درباری:

    حضور،مشاق پروانہ نے تاج پر قبضہ کر لیا ہے اور خود کو بادشاہ بھی کہنے لگا ہے.مجھ ابھی ابھی جاسوسوں نے خبر دی ہے کے وہ آپکے چپاے ہوئے خزانے کے بارے میں لوگوں کو بتا کر آپکو مروانا چاہتا ہے.

    گنج فراز:

    اب بتاؤ میں کیا کروں؟

    درباری:

    سرکار ہم آپکے وفا دار ہیں،آپکے بھاگنے کے لئے پورا بندوبست ہو گیا ہے ..ایک جہاز تیار کھڑا ہے کہ آپ سوار ہون اور وو آپکو اڑا لے جا ے .

    گنج فراز:

    ہم تیار ہیں.

    درباری:

    سرکار ہمارے لئے کوئی اور حکم؟

    گنج فراز:

    ہماری غیر موجودگی مے اس شیر کا خاص خیال رکھنا .ہمارے جانے کے بعد اسکی صحت بھال ہو جاے تو اسکو لوگوں کے پاس لے جانا اور انھیں بتانا کے ہم بھی اس شیر جیسے مضبوط ہیں.اور یہ کے اگر وو ہمیں واپس بلائیں گے تو ہم ہمیشہ کی طرح شیر بن کر انکی حفاظت کریں گے.

    (بادل زور سے گرجنے لگتے ہیں،اور آسمان پی بجلیاں چمکتی نظر آتی ہیں.سٹیج پہ پردہ گر جاتا ہے)



  • واہ واہ

    قیادت لچ تل کے ایک اور نہایت اہل امیدوار

    :)



  • Bht achey, ye kala sher kon hay?



  • Yeh woh sher hen jo har bar rang tabdeel kr ke apni tamamtar beghertion or khabston smet awam ke samne vote lene aa jate hn.



  • With apologies in advance with initiator of this thread, I want to highlight a problem here. There are several Urdu imla mistakes in the thread that indicates the declining standards of education in our society. However, it is a good piece of satire.



  • You are right about he mistakes.I wrote it in Google translitrator and if you have had ever used that then you would know that it isn't much easy to write urdu on a computer.

    I excuse you,for calling it "the declining standards of education". :D