Adha Teeter Adha Khanzeer





  • i think finally he realized what he is now, good he wrote this himself what in his mind . Dhair aaay durust aaay.



  • اچھا کالم ہے

    ابھی کچھ دن پہلے انکے بیٹے نے بھی کچھ ایسے ہی موضح پر طبع آزمائی کی تھی

    پیش خدمت ہے

    میرا دوست ،نعمان،ایک پڑھا لکھا ااور ماڈرن شخص ہے ۔سافٹ وئیر کا ماہر ہے ،گو کہ اس کے پاس کسی یو نیورسٹی کی ڈگری نہیں لیکن اس کی قابلیت کا عالم یہ ہے کہ وہ محض اپنی مہارت کے بل بوتے پر اپنی فرم کو اس معیار تک لے گیا ہے کہ اب اس کے پاس کئی ماسٹرز ان کمپیوٹر سائنسز ملازمت کرتے ہیں ۔حال ہی میں اس کو امریکہ کی ایک کمپنی نے سافٹ وئیر ایکسپورٹ کا بہت بڑا آرڈر دیا۔تاہم آرڈر ملنے کے بعدمیں نے نوٹ کیا کہ وہ کچھ پریشان ہے۔وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ میں ایک گناہگار قسم کا مسلمان ہوں لیکن اس کے باوجود چند ایک باتیں ہیں جن سے بچنے کا میں نے عہد کیا ہوا ہے۔مجھے اس کے منہ سے یہ بات سن کر تعجب ہوا ،مزید کریدا تو پتہ چلا کہ موصوف اس وجہ سے پریشان ہیں کہ امریکی کمپنی سے کاروبار کرنے کے لئے بینک میں اکاؤنٹ کھولنا پڑے گا اور اس کی سمجھ کے مطابق بینکوں کا سار ا کاروبار سود پر چلتا ہے جو حرام ہے۔میرے لئے یہ بات بھی باعث حیرت تھی کہ میرا دوست اب تک بغیر کسی بینک اکاؤنٹ کے ہی اپنا کاروبار چلا رہا تھا۔اس نے یہ بھی کہا کہ جو بینک اسلامی بنیادوں پر ”سود سے پاک بینکاری“ کا دعوی کرتے ہیں وہ بھی ایک ڈھکوسلہ ہے اور اس ضمن میں اس کے پاس کسی مولوی صاحب کا فتوی بھی ہے۔

    نعمان کو فی الحال ہم اس کے حال پر چھوڑتے ہیں اور ماسٹر عبد الشکور سے ملتے ہیں ۔ماسٹر صاحب دو سال قبل ایک سرکاری سکول سے سینئر ہیڈ ماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوئے تھے ۔ان کی دو بیٹیاں ہیں جن میں سے ایک بیاہی ہوئی ہے اور اس کا خاوند کوئی چھوٹا موٹا کاروبار چلاتا ہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد ماسٹر صاحب کو پراویڈنٹ فنڈ اور گریجوایٹی کی مد میں جو رقم ملی وہ انہوں نے قومی بچت میں جمع کروانی چاہی تاکہ اس کے ماہانہ منافع سے گھر کا خرچہ چل سکے مگر ان کے داماد نے کہا کہ ایسا کرنا صریحا ً خلاف شریعت ہے کیونکہ اس پیسہ پر منافع لینا جس میں آپ کی کوئی محنت یا ”رسک“ نہ ہو سوائے سود کے اورکچھ نہیں ۔ماسٹر صاحب ایک نیک سیرت آدمی تھے ،خوف خدا رکھتے تھے ،انہوں نے سوچا روز قیامت وہ خدا کو کیا منہ دکھائیں گے کہ سود کھاتے رہے لہذا انہوں نے اپنی جمع پونجی داماد کے حوالے کر دی تاکہ وہ اسے اپنے مرغیوں کے کاروبار میں لگا دے اور ہر مہینے نفع و نقصان میں حصہ دار بنا لے۔داماد بھی ”آفٹر آل داماد “ تھا ،اس نے پہلے چند ماہ تو قومی بچت سے کچھ زیادہ منافع دیا لیکن اس کے بعد ”مرغیاں“ فوت ہونی شروع ہو گئیں ،”کاروبار“ میں نقصان ہو گیا اور ایک سال کے اند ر اندر ماسٹر صاحب کی پوری رقم ”حلال‘ ‘ ہو گئی ۔ماسٹر صاحب اس وقت بستر مرگ پر ہیں ،بڑی بیٹی کی نوبت طلاق تک جا پہنچی ہے اور دوسری کی شادی کے پیسے نہیں ہیں ۔

    ہمارا معاشر ہ بڑا بے رحم ہے ،یہ سیونگ سینٹر یا بینک پرافٹ کو تو حرام سمجھتا ہے حالانکہ کوئی کاروبار محض اس لئے حرام نہیں ہو جاتا کہ اس کے ترجمے میں ”سود“ کا لفظ آ گیا ہے بالکل اسی طرح جیسے ہر کاروبار کو محض اس لئے حلال نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں ”تجارت“ کا لفظ آتا ہے ۔جس طرح ہیروئین کی سمگلنگ کرنے والے ”تاجر“ کا کاروبار جائز نہیں ہو سکتا بالکل اسی طرح کوئی منافع محض اس لئے نا جائز نہیں ہو سکتا کہ وہ قرض کے بدلے لیا جا رہا ہے ۔یہاں کاروبار کے نام پرملازمین کا استحصال کرنے والوں ، وقت پر تنخواہ نہ دینے والوں ،لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں ،مکر و فریب سے مال بیچنے والوں اور100روپے فی گھنٹہ کے ریٹ پر پڑھے لکھے نوجوانوں کو ملٹی نیشنل کمپنیز میں بغیر کسی تحفظ ملازمت کے جانوروں کی طرح کام لینے والوں کو ہر طرح کی چھوٹ ہے کیونکہ وہ ”کاروبار “ کر رہے ہیں ۔ایسا کوئی فتوی بھی سامنے نہیں آیا کہ اگر کوئی کاروباری شخص اپنے ملازمین کا استحصال کرے گا تو اس کا کمایا گیا پیسہ حرام ہوگا ۔لیکن اس کے برعکس اگر کوئی مجبور بیوہ کسی سیونگ سینٹر میں اپنی جمع پونجی رکھوا دے تو بیچاری ہر ماہ منافع لیتے وقت اسی

    guilt

    کا شکار رہتی ہے کہ خدا نخواستہ وہ سود کھا رہی ہے

    مولانا مودودی کے مطابق ”قران جس زیادتی کو حرام قرار دیتا ہے وہ ایک خاص قسم کی زیادتی ہے ۔اس لئے اس کو ”الربٰو“ کے نام سے یاد کرتا ہے ۔“(ما فی الاسلام ،جلد ثانی ص 364)۔ربٰو کا ترجمہ عام طور پر

    interest

    کیا جاتا ہے جس کے معنی بیاج اور سود کے بھی ہیں اور نفع کے بھی لیکن جس ربٰو کا ذکر قران میں آیا ہے اس کا ترجمہ

    interest

    کی بجائے

    usury

    زیادہ صحیح ہے یعنی قرض کی رقم پر حد سے زیادہ غیر قانونی نفع کی شرح وصول کرنا۔چونکہ ربوا بھی بظاہر فائدہ اور نفع ہی دکھائی دیتا ہے اس لئے اسے بھی انٹرسٹ کہا جانے لگا حالانکہ انٹرسٹ ایسے نفع کو بھی کہتے ہیں جو بالکل جائز ہو(کمرشل انٹرسٹ کی فقہی حیثیت از مولانا محمد جعفر شاہ پھلواری)۔یہ عجیب بات ہے کہ جس سود کو حرام قرار دیا گیا ہے وہ اس سود کی شکل ہے جس میں قرض لینے والے کا استحصال ہو جبکہ جو ادارے ہمارے ملک میں قرض لے رہے ہیں وہ حکومتی ادارے (نیشنل سیونگز)یا پھر کمرشل بینک ہیں جو خود استحصال کریں تو کریں ان کا استحصال کون مائی کا لعل کر سکتا ہے ۔اور رہی بات بنکوں سے قرض لینے کی تو اصل معاملہ یوں ہے کہ قرض لینے والا اپنے تجربے اور عقل سے اندازہ لگاتا ہے کہ اس رقم کو تجارت میں لگانے کے بعد نفع و نقصان کو ملا کر بھی اتنی بچت ہوگی جس میں وہ قرض دینے والے کوبھی چلتا کردے گا اور اسے خود بھی منافع ہوگا۔یہ صورتحال ایسی ہے کہ اگرچہ قرض دینے والے کو صرف منافع ہی حاصل ہوتا ہے لیکن دراصل وہ اس نقصان میں بھی شریک ہوتا ہے جو قرض لینے والاکاروباری شخص دوران تجارت اٹھاتا رہتا ہے ۔فرق یہ ہے کہ منافع تو اسے نظر آتا ہے مگر نقصان نظر نہیں آتا،اسے جو کچھ منافع ملتا ہے وہ دراصل نفع و نقصان دونوں سے چھن کر آتا ہے۔ بقول مولانا جعفر پھلواری ، اگر کمرشل انٹرسٹ کو جائز قرار دیا جائے تو اس کے لئے یہ ثابت کرنا ضروری نہیں کہ یہ سو فیصد مضاربت ہے بلکہ اس کے لئے صرف اسی قدر ثابت ہونا کافی ہے کہ یہ ربوا نہیں ہے۔

    کمرشل انٹرسٹ پر ایک اعتراض ”مفت خوری“ کا لگایا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ اس میں مفت خوری کا شائبہ موجود ہے لیکن کیا یہی صورت مکان کا کرایہ لینے میں نہیں ہوتی ؟ کیا اس سے کہیں بڑھ کر ظالمانہ حد تک مفت خوری جاگیرداری میں موجود نہیں ؟ لیکن کیا کسی مفتی نے کرائے یا جاگیردار کی آمدن پر حرام کا فتوی لگایا؟سرمایہ دار کے پاس تو دو راستے ہیں ،یا تو اپنا سرمایہ بند رکھے جس میں اس کا فائدہ ہے نہ دوسروں کا۔یا اسے تجارتی منافع کی شرط پر کسی کو دے دے ،جس میں اگرچہ مفت خوری کا شائبہ تو پایا جاتا ہے لیکن دولت گردش میں رہتی ہے ،خود سوچ لیں دونوں میں سے کون سا بہتر ہے ؟جو لوگ آئے دن معصوم عوام کو اس بات سے ڈراتے ہیں کہ اس مملکت خداد اد پر ایک دن اس لئے عذاب نازل ہوگا کیونکہ یہاں سود کا کاروبار چل رہا ہے ،ان سے دست بدستہ گذارش ہے کہ اپنی توپوں کا رخ ان تاجروں کی طرف موڑ دیں جو صریحا ً غریبوں کااستحصال کر رہے ہیں کیونکہ انہی کی شکل میں ہم پر عذاب مسلط ہے

    http://jang.net/urdu/details.asp?nid=613057



  • Qasmi Sahib doesn't have much to write about these days except to praise duo-Sharifs, hence the standard of his writing has gone drastically down.....

    He criticizes people a lot about their non-performances, someone must ask him about his performance when he served as Pak ambassador in Norway (or was it Sweden?) during Nawaz Sharif's RULE, and the follow up question should be "was Qasmi sahib's appointment as ambassador on merit?"



  • Any journalist who give up neutrality also stakes his credibility.

    But these days neutral sort of journalists are rare.Most of them owe their loyalty to some political party.



  • obviously sheep-herd have no clue what the Ata ul Haq Qasmi have written in this column, he is simply referring that simple things such as attending somebodys funeral or just praying 5 times a day and fasting in Ramadan is not going to get you through on the Day... along with all these you need to give up your habit of eating others right, or steeling what doesn't belong to you... but i guess this is to much for our ilzaami brigade to understand



  • @Khanamer...thank you very much for enlightening the rest of us on how Qasmi sahib rediscovered a very well known truth again....no one had any idea about this philosophical conclusion until Qasmi sahib and then you pointed it out.........lolllzz

    The question is, does he practice what he preach others? Highly unlikely!!!!

    To me, Qasmi sahib's thought process has abandoned him so he chews on candies already licked and spilt by many...this normally happens to those in boot polishing business for too long!!!



  • I think,despite anything what Qasmi says and writes he is right at this point.Our clerics are mostly the ones who were abandoned by their families,to read in a Madrasa and beg for alms.A man who never have had any respect since childhood and knows nothing else then what he is taught at the Madrsa,acts as Khateeb or Imam,which is one of the highest status that a person could get in an Islamic state.Very serious reforms are required for mosques and Madaris, since they depict the real situation of an Islamic state.

    And it is not just about them,it is also our fault.we do not take any interest in religion and as a result we agree to what we are told by a Molvi.Not just because of ignorance but aslo because it seems pleasing when someone tells you that you will not go to hell because you are inborn Muslim.



  • A good continuation,,,

    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دینی معاملات پر رائے زنی کا اختیار صرف جید علمائے کرام کو ہے کیونکہ عام آدمی دین کا ”سپیشلسٹ“ نہیں ہے ،جس طرح بیمار ہونے کی صورت میں ہم بلاچوں چراں مستند ڈاکٹر سے علاج کرواتے ہیں اسی طرح دین میں بھی ہمیں یہی روش اپنانی چاہئے اور ایسے مسائل کا حل جاننے کے لئے صرف ”کوالیفائیڈ“ علما ء سے ہی رجوع کرنا چاہئے کیونکہ ہمارا دین کا فہم اور مطالعہ بہر حال اتنا نہیں ہو سکتا جتنا کسی عالم دین کا جس نے اپنی ساری عمر اس نیک کام میں گذاری ہو ۔یہ اعتراض نیا نہیں ہے ۔پرانے وقتوں میں کلیسا کی بھی یہی دلیل ہوا کرتی تھی کہ دین کی تشریح صرف اسی کا اختیار جو براہ راست خدا کی طرف سے ودیعت ہے ۔نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ کلیسا اور بادشاہت نے مل کر یورپ کو کئی صدیوں تک جہالت کی تاریکی رکھا ۔لہذا جو احباب یہ دلیل دیتے ہیں غالبا ً وہ یہی چاہتے ہیں کہ آج کا مسلمان بھی

    Dark Ages

    میں واپس چلا جائے جہاں بادشاہ اپنے اقتدار کی طوالت کی خاطر مرضی کے فتوے لیا کرتا تھا۔اس دلیل میں دوسری کمزوری یہ ہے کہ جو لوگ یہ نقطہ نظر رکھتے ہیں ،دراصل وہ یہ بات کرتے ہوئے خود اپنی ہی دلیل کی نفی کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ دینی معاملات پر رائے صرف عالم دین کا اختیار ہے تو ساتھ ہی وہ خود بھی ان معاملات پر اپنی رائے مسلط کرنا شروع کردیتے ہیں ،یہ منطق سمجھ سے بالا تر ہے ۔

    اس دلیل کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ جب آپ جید علمائے کرام کی بات کرتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتے ہے کہ کون سے علما اور پھر عالم دین کی تعریف کیا ہے ؟ کیا وہ جس نے درس نظامی کیا ہو،جو مدرسے سے پڑھا ہو اورجسے فتوی دینے کا اختیار ہو یا وہ قابل احترام شخصیات جو باقاعدہ کسی مدرسے سے دارغ التحصیل نہیں لیکن ایک دنیا ان کی معترف ہے ؟ جو لوگ یہ دلیل رکھتے ہیں ،اکثر اوقات وہ انہی علمائے کرام سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن پھر وہی سوال کہ اگر ان میں سے کسی ایک کی دین کی تشریح مان لی جائے تو دوسرے علمائے دین جو اتنے ہی قابل احترام ہیں ،اس تشریح سے

    180

    ڈگری کا اختلاف رکھتے ہیں،پھر کیا صورت نکالی جائے؟ سوا ارب کیتھولک عیسائیوں کیلئے ویٹیکن پوپ ہی حرف آخر ہے۔

    جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ دین کے معاملے میں رائے زنی صرف ”سپیشلسٹ“ کا حق ہے تو یہ دلیل بھی

    self contradictory

    ہے کیونکہ پھر تو کسی مذہبی پیشوا کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان معاملات کے بارے میں فتوی دے جو اس کی سپیشیلاٹی نہیں ۔مثلاً کلوننگ کے بارے میں کوئی فتوی کیسے جاری کیاجا سکتا ہے یا پھر ڈارون کی

    Natural Selection

    کی تھیوری کے بارے میں کوئی عالم دین کیسے رائے دے سکتا ہے جبکہ وہ حیاتیات کا ماہر ہے اور نہ ہی کسی نے

    On the origin of species

    پڑھ رکھی ہے؟اس دلیل کی اگلی کمزوری یہ ہے کہ آج کے دور میں علم کی جستجو بہت بڑھ گئی ہے اور ساتھ ہی علم تک رسائی بھی سہل ہو چکی ہے،اب دنیا ایک ”کلک“ کے فاصلے پر ہے۔مجھ ایسے گناہ گار کے پاس بھی سا پروگرام ہے جس میں قران بمع چھ تراجم ،تفاسیر،حدیث کی تمام کتب فقط

    500 MB

    میں محفوظ ہیں ،جہاں چاہیں جب چاہیں جس موضوع پر چاہیں ،اس میں ”تلاش“ کا بٹن کلک کریں ،آپ کے سامنے اس موضوع سے متعلق تمام آیات بمع ترجمہ و تفسیر اور متعلقہ احادیث سامنے آ جائیں گی ۔جس خدا کے بندے نے بھی یہ پروگرام بنایا ہے یقینا اس نے عظیم کام کیا ہے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عام آدمی اس سے استفادہ نہ کرے اور اپنی عقل استعمال کئے بغیر چپ چاپ کسی مذہبی پیشوا کو فالو کرنا شروع کردے ؟یقینا ایسا نہیں ہے ،خود قران کہتا ہے ”ہم نے اس (قران) کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ہے ،تو کوئی ہے جو سوچے اور سمجھے ۔“اب اللہ کی کتاب کے آگے تو ہر دلیل باطل ہے ۔حضرت علی کا قول ہے ”یہ مت دیکھو کہ کون کہہ رہا ہے ،یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے ۔“یعنی ایک طرف تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور جب کوئی اللہ کا بندہ دین کو سمجھنے کے لئے اس کا مطالعہ شروع کرتا ہے تو فوراً فتوی آتا ہے کہ نہیں جناب آپ اس معاملے میں کوئی رائے نہیں دے سکتے کیونکہ آپ سپیشلسٹ نہیں ہیں،یہ کام مذہبی پیشواؤں کا ہے ،آپ صرف انہیں فالو کریں ،عجیب منطق ہے ۔یعنی ان کے لئے سند یہ ہے کہ فلاں معاملے میں یہ بات فلاں عالم دین نے کہی لہذا مستند ہے حالانکہ یہ دلیل نہیں ، رائے ہے اورجدید ریاست میں حتمی رائے دینے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو ہے ۔لیکن اب اس کا کیا کریں کہ آدھے مذہبی پیشوا جمہوریت کو ہی حرام سمجھتے ہیں

    http://jang.net/urdu/details.asp?nid=614714



  • SAK,

    Best i can say is, it is your hatred against qasmi which is speaking here, otherwise this particular article has nothing to do with politics, but Ilzami kids when they hate someone they hate everything about them as well...



  • lolllzz@"when they hate someone they hate everything about them as well".....at least they are honest...lollllz

    Haven't you noticed even your best is not good enough, just like Qasmi's.......lolllz

    wow what a sweeping statement coming from a person who calls "Ilzami kids" when referring to PTI supporters, that is pure & simple frustration, too bad you can't do anything about it....lolllz

    Yours statement just matches the Qasmi sahib's article...Doosron Ko Naseehat, Khud Mian Fazeehat.....lolll

    I like it when you blush!!!! hahaha



  • OK man, go ahead call everyone who opposed you and opposes you Kafir or whatever you want, but then if everyone is wrong and it is so obvious to you then why the sheep-herds waste time reading them???



  • oh boy@khanamer......I what???? hey bro take it easy, i would be the last person to be judgmental, much less to call anyone a "Kafir"....

    for god sake it is a public forum and we are here to debate, debug, detract, defuse so on and so forth.....I hope you are not taking too serious whats go on in here???

    okay if it makes you feel better, Qasmi Sahib Zindabad, Qasmi Sahib is the greatest thinker, philosopher and jester, all in one.....ab khush???...lolll



  • No Sultan Sahib, that is not enough

    You hurt my feelings as well

    I posted two articles of Yasir Peerzada

    Now if you say some good words for Yasir as well,

    only then we will think of a truce



  • hahaha@EasyGo......ab ek din mein itna jhoot nahi bol sakta....used up today's quota already, I will try some more tomorrow....lollz



  • الله تعالیٰ کچھ ایسا کرنے کی ہمت دے کہ دل مطمئن ہو جایے

    EasyGO Bahi,

    Aap ne aik thread per opar lekha hoya comment post kiya tha. Kiya yasir pirzada ke ye do article adher post kar kar aap ka dil mutmain he?

    “یعنی ایک طرف تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور جب کوئی اللہ کا بندہ دین کو سمجھنے کے لئے اس کا مطالعہ شروع کرتا ہے تو فوراً فتوی آتا ہے کہ نہیں جناب آپ اس معاملے میں کوئی رائے نہیں دے سکتے کیونکہ آپ سپیشلسٹ نہیں ہیں

    humare parhe lakhe hazrat ka ye masla he ke thore sa din ka mutala kartte hain aur foran apni raye dina shoro kar dete hain aur thora bohot aiman jo mutale se ya mutala karne se pehle bana hota he osko apne bewaja itraz ki waja se tehes (noqsan) pohnchate hain.

    Din ki sahih samaj mutale se nahi balke mujahede se ati he.

    “Wallazina Jahadu Fina, lanahdeyannahum subulana, Innallaha lamaal Muhseneen” [Al-Ankabut, 29:69];

    Translation: As for those who strive in Us, We surely guide them to Our path, and Lo! Allah is with the good (Al-Muhseneen). Amen!





  • آصف بھائی

    شکریہ آپکے پوسٹ سے بہت سے سوال ابھرے ہیں

    کیا ایمان کی پیمائش ممکن ہے کیا سوچنے اور سوال کرنے سے یہ کمزور ہوتا ہے یا مضبوط

    کیا پڑھے لکھے دین کو باقی علموں کی طرح پڑھ سکتے ہیں یا دین کا علم صرف علما کے لئے ہے

    کیا پڑھے لکھے اپنی رایے بنا سکتے ہیں یا دوسروں کی رایے پر ہی انحصار کرنا چاہیے

    کیا الله تعالیٰ کا پیغام ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ جس کے لیے ہے اس کو سمجھ نہ آیے اور وہ کلی دوسروں کا محتاج ہو

    کیا ہم ایک ایک آیت کو سمجھنے کے لیے مولویوں کے محتاج ہیں

    کیا قران کو پڑھ کر باتیں اور نصیحت کرنے والا بہتر ہے یا خاموشی سے پیغام الہی کو سمجھہ کر اپنی رایے بنا کر اس پر نیک نیتی سے عمل کرنے والا



  • @EasyGo you raised very legitimate questions and I think serious thoughts should be given in answering these queries...

    having said that, I think what we all should do is atleast start reading Quran with translation and try to understand its message. Thanks to Ullema, the translation is made in such an easy-to-understand way that by and large we understand the Quranic message...However, where we get stuck we can always refer to an Aalim (thru personal meeting, writing a letter, on the net or many other means of communication available)....The sky is the limit, I shall say.

    But what is actually happening is that we take this excuse "oh Quran is very difficult to understand, or Moulvis made it very controversial".....

    Under this excuse we do not take the first step of reading Quran and exploring to understand its message by ourselves but rather find it quite convenient to blame Moulvis for anything and everything....

    Honestly, we got to show some commitment in understanding Quran/Islam and this process should come from within ourselves....Once that first-step takes place, rest is easy to follow....Believe me there are true Islamic scholors who are not only easily available but would love to guide us to resolve any confusion that we might have....WE GOT TO SHOW THE RESOLVE OF UNDERSTANDING ISLAM OURSELVES FIRST!!!



  • آدھا مگر مچ