اس حمام میں سب ہی ننگے...سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان



  • اس وقت سیاست عروج پر ہے۔ الیکشن کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ الیکشن جیتنے کی تدبیریں سوچی جارہی ہیں اور حسب روایت و تاریخ ہر نااہل اپنے آپ کو اہل اور ہر چور، لٹیرا، راشی اپنے آپ کو فرشتہ بنا کر پیش کررہا ہے۔ حکمرانوں نے پوری قوم اور عدلیہ کو یرغمال بنا لیا ہے۔ حکمراں عدلیہ کا حکم نہیں مانتے اور عدلیہ اس قابل نہیں کہ وہ اپنے احکامات پر عمل کراسکے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ نہ روٹی، نہ کپڑا، نہ مکان اور اب اس میں انصاف بھی شامل ہوگیا ہے۔ خدا جانے اس ملک کا اور اس کے عوام کا کیا حشر ہوگا۔

    پچھلے پندرہ، سولہ سال سے آپ موجودہ حکمرانوں کی رشوت ستانی، فارن بنک اکاؤنٹس اور جائدادوں کی تفصیلات اخبارات میں پڑھتے رہے ہیں اور ٹی وی پر اینکر پرسنز بار بار ان رشوت ستانیوں پر تفصیلات دیتے رہتے ہیں۔ مگر کمال ہے ان حکمرانوں کی موٹی کھال کا کہ اس پر شرم کے پانی کی ایک بوند نہیں ٹھہرتی۔

    آج میں حکمرانوں سے نہیں، عوام سے مخاطب ہوں اور ان کی پرزور الفاظ میں اللہ راب العزت کے احکامات کی جانب توجّہ دلانا چاہتا ہوں: (سورة المائدہ آیات 77 تا 79 )۔ ”اے اہل کتاب اپنے دین کی بات میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو خود بھی پہلے گمراہ ہوئے اور دوسرے متعدد لوگوں کو گمراہ کرگئے اور سیدھے رستے سے بھٹک گئے۔ جولوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد  اور عیسیٰ  ابن مریم  کی زبان سے لعنت بھی کی گئی یہ اسلئے کہ نافرمانی اور حد سے تجاوز کئے جاتے تھے اور بُرے کام جو وہ لوگ کرتے تھے ایک دوسرے کو نہیں روکتے تھے بلاشبہ وہ برا کرتے تھے“۔

    تفہیم القرآن (مولانا مودودی) میں حضرت ابوبکر صدیق  سے منسوب ہے کہ آپ نے ایک خطبہ میں رسول اللہ صلعم کو فرماتے سنا کہ ”جب لوگوں کا حال یہ ہوجائے کہ وہ برائی کو دیکھیں اور اس کو بدلنے کی کوشش نہ کریں، ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو بعید نہیں کہ اللہ اپنے عذاب میں سب کو لپیٹ لے۔ خدا کی قسم تم پر لازم ہے کہ بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو ورنہ اللہ تم پر ایسے لوگوں کو مسلط کردے گا جو تم میں سے بدترین ہونگے اور وہ تم کو سخت تکلیفیں پہنچائینگے، پھر تمہارے نیک لوگ خدا سے دعائیں مانگیں گے مگر وہ قبول نہ ہونگی“- اس کے علاوہ علامہ ابن قیّم سے منسوب ہے کہ ایک شخص ایک دوسرے شخص کو قتل کرنے کی نیت سے اس کا پیچھا کررہا تھاجان بچانے والے بھاگتے ہوئے شخص کو ایک تیسرے آدمی نے پکڑ لیااور پہلے آدمی نے اس آدمی کو قتل کردیا، وہاں ایک شخص کھڑا یہ واقعہ دیکھ رہا تھا اس نے اس میں دخل اندازی نہیں کی اور قاتل کو اس گناہ، جرم کرنے سے نہیں روکا۔ جب یہ مقدمہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے قاتل کو، دوسرے مقتول کو پکڑنے والے شخص کو، تیسرے تماشہ بین شخص کو سخت سزا کا مستحق قرار دیا کہ۔ گویا اس شخص کو بھی مجرم قرار دیا جو کھڑا تماشہ دیکھتا رہا اور اس برے کام (قتل) کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

    ان آیات اور حدیث اور ابن قیّم کی روایات کی روشنی میں اب میں حکمرانوں سے مخاطب نہیں بلکہ عوام سے مخاطب ہوں اور ان کی توجہ اس اہم بات و فرض کی جانب مبذول کرنا چاہتا ہوں کہ موجودہ حکمرانوں کی ناہلی، اقربا پروری اور رشوت ستانی میں ان کی اعانت یا خاموشی ان کو مجرموں اور ظالموں کے زمرے میں شامل کرتی ہے، ان کی خاموشی اور اعانت ان کو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں گناہ کار اور مجرم بنا رہی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایسے کردار کے لئے نہایت ہی شدید اور تکلیف دہ عتاب سے خبردار کیا ہے۔ آئیے اب ان حکمرانوں کے مصدقہ کرتوت کا تذکرہ کرتا ہوں۔ موجودہ حکمرانوں اور پچھلے حکمرانوں کو شاید یہ پسند نہ آئے گا مگر خاموش تماشائی بن کر گناہ گار نہیں بن سکتا۔

    میں آپ کی توجہ ایک کتاب Capitalism's Achilles Heel کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ اسکے مصنف Raymond W. Baker ہیں۔ یہ انٹرنیٹ پر www.ebooks.com/238482/, capitalism-s-achilles-heel/baker پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کتاب میں بینظیر بھٹو، آصف زرداری اور نواز شریف کی رشوت لینے کی داستانیں ہیں۔ بیان کیا گیا ہے ضیاء الحق کی حادثہ میں ہلاکت کے بعد جب بینظیر وزیر اعظم بن گئیں تو تقریباً 26000 جیالوں کوسرکاری اداروں میں ملازمتیں دیدیں اور اس میں قومیائے ہوئے سرکاری بنک بھی شامل تھے۔ یہی نہیں بلکہ بینظیر اور زرداری نے اربوں روپیہ کے قرضے ان بنکوں سے اپنے دوستوں اور یاروں کو دلوائے جن کے لئے کوئی مناسب زمانت نہیں تھی۔ کہا گیا ہے ان دونوں نے یہ قرضے اپنے نمائندوں کے نام سے لئے اور اس میں سے 41 کروڑ روپیوں سے تین شوگر ملوں میں اکثریتی حصّے خرید لئے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زرداری نے پاکستان اسٹیل ملز کے لئے سامان کی خریداری میں اپنے نمائندے (عثمان فاروقی؟) کی معرفت چار کروڑ روپے لے لئے۔ مصنف نے یہ بھی بتایا (جو کہ پوری قوم کو پتا ہے) کہ سوئزلینڈ کی کمپنی SGS سے پاکستان میں آنے والی اشیاکی پیشگی جانچ پڑتال کے ٹھیکے دینے کے بدلہ میں زرداری اور بینظیر کو 12 ملین ڈالر دیے گئے جو کہ برٹش ورجن آئیلینڈ میں دو کمپنیوں کے اکاؤنٹ میں جمع کئے گئے اس کے بعد پولینڈ سے 83 ملین ڈالر کے ٹریکٹر خریدے گئے اور اس پرکمپنی کے ریکارڈ کے مطابق تقریباً 5.8 ملین ڈالر رشوت لی گئی اور ٹریکٹروں پر سے درآمدی ڈیوٹی معاف کردی جس سے ملک کو ایک ارب ستّر کروڑ روپیہ کا نقصان ہوا۔ اس کے بعد فرانس سے میراج جہازوں کی 4 ارب ڈالر کی خریداری پر تقریباً دو سو ملین ڈالر رشوت لی گئی۔ کچھ لوگوں کو ملک میں بلا ڈیوٹی سونا لانے کی اجازت دی گئی اور ریکارڈ کے مطابق اس میں 10 ملین ڈالر کی رشوت لی گئی اور کچھ ہی عرصہ میں یہ رقم 40 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ کتاب میں مزید انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف کے اہلکاروں نے غیرسرکاری سراغ رسانوں سے یہ تمام معلومات ایک ملین ڈالر میں خرید لیں۔ غالباً یہ سیف الرحمن نے کام کیا ہوگا جس کو ایک سابق وزیر قانون خالد انور نے ایک پریس کانفرنس میں شرلک ہومز بنا کر پیش کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کاغذات جینوا میں زرداری کے فرنٹ مین جینس شلیگیل مِلش(Jens Schlegelmilch) کے دفتر سے حاصل کئے گئے تھے۔ کتاب میں ان تمام جائدادوں، فرنٹ کمپنیوں اور لاتعداد غیرملکی اکاؤنٹ نمبروں کی تفصیلات درج ہیں۔ بعد میں نیویارک ٹائمز نے اس پر تبصرہ کرکے بینظیر اور زرداری کی رشوت ستانی کا ذمہ دار مغربی پراپرٹی ڈیلرز، وکلاء، بنکس اور مغربی دوستوں کو ٹھہرایا۔ بعد میں سوئٹزرلینڈنے ان دونوں کے 17 بنک اکاؤنٹ منجمد کردیے۔ دونوں پر منی لانڈرنگ اور SGS سے رشوت وصول کرنے کے الزام میں 2003 میں جرمانہ اور سزائے معطل دیدی گئی۔ ان کی اپیل پر یہ مقدمہ دوبارہ سنوائی کے لئے متعلقہ پرازیکیوٹرز کو بھیج دیا۔ بینظیر کے اس بیان پر کہ ہم عوام کو محبت و خلوص دیتے ہیں اور ہمیں محبت اور خلوص ملتا ہے مصنفنے لکھا کہ ”اپنے آنسو محفوظ رکھو۔ دنیا کے ملک بدر حکمرانوں میں بینظیر بھٹو یقینا سب سے کم ہمدردی کی مستحق لیڈر ہے۔

    جہاں تک سوئس کیسز کا تعلق ہے 29 اکتوبر2007 کو تحقیقاتی مجسٹریٹ نے زرداری اور بینظیر کو سزا سنائی تھی اور اس کے خلاف ان دونوں کی اپیل بھی کورٹ آف اپیل نے 19 مارچ 2008 کو مسترد کردی تھی اور اب صرف کورٹ نے ان مجرموں کو سزا سنا کر جیل بھیجنا تھا۔ یہاں این آر او کام آیا اور زرداری اور گیلانی نے فوراً بے ضمیر اٹارنی جنرل ملک عبدالقیوم کو خط لے کر بذات خود سوئزرلینڈ بھیجدیا کہ اب یہ مقدمہ ختم ہوگیا ہے کچھ عرصہ بعد سرے پیلس کیس میں ملوث لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے خود جنیوا جاکر وین بھر کر تمام کاغذات اُٹھالیے۔ سرے پیلس کے بارے میں زرداری اور بینظیر نے مسلسل کہا کہ ان کا نہیں ہے مگر جب اس کا نیلام ہوگیا تو زرداری نے فوراً دعویٰ کرکے تقریباً 4 یا5 ملین پونڈ حاصل کرلئے

    http://jang.net/urdu/details.asp?nid=614976



  • ڈاکٹر عبد القدیر کے کالم ان کے خود کے لکھے ہوے نہیں ہوتے ہیں ، یہ اک غیرت بریگیڈ گروپ ان کے نام سے لکھتا ہے ، ڈاکٹر عبد القدیر ہمیشہ اک غیر سیاسی اور غیر مذہبی آدمی رہے ہیں ، جب کبھی بھی انہیں کسی پروگرام میں بلایا گیا تو انہوں نے کبھی ایسی باتیں نہیں کیں جیسی ان کے کالموں میں ہیں

    زالان



  • جب کبھی بھی انہیں کسی پروگرام میں بلایا گیا

    ڈکٹر قدیر پروگرام میں نہیں جاتے .. وہ ان کا ہم شکل ہے جو ان کی جگا بولتا ہے

    ;)



  • @Oblivion...Aha duddoo dekha after a long time.....how is your tax-free croaking going???



  • oblivion,

    Zalaan bhi pkp par nahi lekhta, kisi ne is ki double id bana kar is jaga ye comment diya he ;)



  • Wa wa kia baat hai Doctor sahab ke. Keep it up doctor sahab keep exposing everyone.

    Shabash!





  • اس حمام میں سب ہی ننگے...سحر ہونے تک

    سحر کے بعد کیا کپڑے مفت تقسیم ہونگے؟



  • اس حمام میں سب ننگے ہیں بس ڈاکٹر عبد القدیر خان چوری کی ہوئی ایٹمی انڈر ویر پہنے ہوے ہیں

    زلان