بے نظیر قتل: ہنگاموں میں ایک ارب کی نقد لوٹ مار



  • http://www.topstoryonline.com/rioters-looted-one-billion-cash-from-banks-after-bb-murder

    اسلام آ باد (رؤف کلاسرا) وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پھوٹ پڑنے والے فسادات میں ملک بھر کے بنکوں سے ایک ارب روپے سے زائد کا کیش لوٹا گیا تھا۔ اسمبلی میں کیے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ بنکوں سے لوٹی گئی رقم کا بیشتر حصہ اے ٹی ایم مشینوں کو توڑ کر نکالاگیا تھا۔

    ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنماء بے نظیر بھٹو کے راولپنڈی میں فائرنگ اور خودکش حملے میں قتل کے بعد پورے ملک میں ہنگامے شروع ہو گئے تھے جن میں سرکاری املاک خصوصاً ریلوے اور بنکوں پر حملے شروع ہو گئے تھے اور شرپسند عناصر نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوٹ مار کا بازار خوب گرم کیا۔ وزیر خزانہ سے بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد چار روز تک جاری رہنے والے ہنگاموں میں بنکوں سے لوٹی گئی رقم کے بارے میں سوال ایم این اے سید آصف حسنین نے کیا تھا۔

    حفیظ شیخ نے بتایا کہ سٹیٹ بنک کی طرف سے اکٹھے کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق ستائیس دسمبر سے اکتیس دسمبر دو ہزار سات کے چار دنوں میں بنکوں سے ایک ارب ایک کروڑ نوے لاکھ روپے لوٹے گئے۔ تاہم وزارت خزانہ نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ کس بنک سے کتنے پیسے لوٹے گئے اور کون سا بنک سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ رپورٹ میں اس پہلو کی بھی کوئی تفصیل نہیں کہ ملک کے کونسے علاقوں میں زیادہ لوٹ مار ہوئی۔ وزارت خزانہ کی رپورٹ اس پر بھی خاموش ہے کہ ہنگاموں میں جن لوگوں نے ایک ارب روپے سے زیادہ کی لوٹ مار کی تھی ان کے خلاف کوئی کارروائی بھی کی گئی کہ نہیں۔

    اس سے پہلے پاکستان ریلوے یہ انکشاف کر چکا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد سندھ بھر میں ٹرینوں کو جلایا گیا تھا، جس میں سب زیادہ نقصان ان انجنوں کا ہوا تھا جو کہ چین سے ادھار پر منگوائے گئے تھے اور ان کا قرضہ ابھی تک ادا کیا جا رہا ہے۔ ریلوے کے ایک تخمینے کے مطابق ستائیس دسمبر کے سانحہ کے بعد اسے چھ ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔

    اسی بنیاد پر ریلوے نے حکومت پاکستان سے چھ ارب روپے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا تاکہ جلنے والے انجنوں کی مرمت کرا کے انہیں دوبارہ ٹریک پر لا سکے۔ تاہم حکومت نے چار تک ریلوے کے اس مطالبے پر کان نہ دھرے، جس کا نتیجہ یہ ریلوے کی بدحالی کی صورت میں نکلا ہے۔ چار سال بعد اب کہیں جا کر ریلوے کو چھ ارب روپے کا نیشنل بنک آف پاکستان سے قرضہ لے کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ ریلوے نے کل گیارہ ارب روپے مانگے تھے۔



  • آدھا ملک لوٹ کر وہ اپنے بنک اکاونٹس بھر کر مر گئی - باقی جو بچا تھا اسکے پجاریوں نے لوٹ لیا

    یہ قوم لٹنے کے لیے ہی رہ گئی ہے



  • hor chooooopo



  • یہ قوم لٹنے کے لیے ہی رہ گئی ہے


    اوا بھائی

    اگلے صفحے پر آپ کافی پرامید نظر اتے ہیں کے الله اس ملک کو قایم رکھے گا

    اب یہ لوٹنے کی بات کر کے مجھے آپ مایوس دکھائی دیتے ہیں

    کہیں الله پر توکل کہیں نہ امیدی

    کیا ماجرا ہے بھائی صاحب



  • @ hypocrite

    بھائی جی

    لٹنے میں مایوسی والی کوئی بات نہیں ہے. یہ قوم لٹ کر حساب برابر کر لیتی ہے

    ذرا لوٹنے والوں کے خاندان کا انجام سوچیے اور بتایے کہ کیا مجھے مایوس ہونے کی ضرورت ہے؟



  • یہ قوم لٹنے کے لیے ہی رہ گئی ہے

    لوٹنے والی بھی قوم ہی تھی .. آپ سے گزارش ہے اپنی تحریر کی تصحیح کریے .. یہ قوم لوٹنے اور لٹنے کے لئے ہی رہ گی ہے