سپنا خان - امام بخش



  • Imran Khan’s suicide attack on PTI – by Imam Bakhsh

    عمران خان کا تحریک انصاف پر خودکش حملہ

    تحریر: امام بخش

    میرا ایک بچپن کا دوست ہے جس سے میں بہت تنگ ہوں جو اپنی بیہودہ باتوں سے اکثر مجھے سہا نے سپنوں کی حسین وادیوں سے گھسیٹ کر حقیقت کی دنیا میں لا پھینکتا ہے۔ آج کل اس کا موضوع سخن سپنا خان ہے۔ محترم عمران خان صاحب کو اس نے سپنا خان کا نام دے رکھا ہے۔ میرے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ بضد ہے کہ عمران خان پر صرف یہی نام سجتا ہے کیونکہ اس کے بقول موصوف خواب و خیال کی دنیا کے باسی ہیں اسی لیے تو وہ صرف تنقید کے سہارے کسی ویژن کے بغیر عوام کو جھوٹے اور نا ممکن سپنے دکھانے میں جتے ہوئے ہیں۔

    میں پچھلے چند دنوں سے عمران خان سے بہت متاثر تھا اور ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے بہت خوش تھا۔مگر میری خوشی کو نجانے کس کی نظر لگ گئی اور آج میرے بچپن کا ظالم اورحقیقت پسند دوست میرے ہاں آ دھمکا اور اس قنوطی آدمی نے ہمیشہ کی طرح میری ساری خوشیاں غارت کر دیں۔ آتے ہی اس شکی مزاج اور میرے خوابوں کے دشمن نے مجھ سے میرے چہرے پر خوشی کا سبب پوچھا تو میں نے اپنی خوشی کا راز تفصیل سے بتایا کہ اب جب بھی جنرل الیکشن ہوں گے تو عمران خان صاحب کلین سویپ کر کے پاکستانی عوام کے سارے دکھ درد صرف اورصرف۹۰ دنوں میں چلتا کریں گے اور پھر راوی چین ہی چین لکھے گا۔ میری ساری باتیں سننے کے بعد اس نے تضحیک آمیز زوردار قہقوں سے میری بیوقوفی کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ میں نے لاکھ سمجھا یا کہ عمران خان صاحب اس وقت عوام کا محبوب ترین لیڈر ہے انھوں نے پاکستان کے لیے کرکٹ کا والڈ کپ جیتا، شوکت خانم کینسر ہاسپٹل اور نمل یونیورسٹی ایسےبا کمال ادارے بنائے ہیں۔ ان کے بارے میں آپ کو ایسی باتیں ہرگز ذیب نہیں دیتیں مگر مجال ہے کہ اس کے کان پر جوں تک رینگتی۔ اس کے بعد اس کمبخت نے میرے محبوب لیڈر کے بارے میں سوالوں کے انبار لگا دئیے۔

    ۱۔ یہ اچانک جدی پشتی لوٹوں کی تحریک انصاف پر بارش کیا کسی اشارہ آبرو کے بغیر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    ۲۔ کیا یہ تحریک انصاف میں آنے والے پنجری بٹیرے خود ایک پنجرے سے دوسرے پنجرے میں جانے کی سکت رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    ۳۔ پاکستان کی برائیوں کی اصل جڑ یعنی ”ام الاخبائث” جو سیاست دانوں کو شطرنج کے مہروں کی طرح آگے پیچھے کرتی ہے۔ سپناخان اس کے بارے میں با لکل کیوں خاموش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    ۴۔ آج کل پرویزمشرف ڈکٹیٹر کے بارے میں چپ کیوں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    ۵ ایم کیو ایم کے بارے میں بلند بانگ دعووں کا کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ایم کیو ایم سے سپناخان کی پلے بوائے لائف کے رنگین کارناموں کو ایکسپوز نہ کرنے پر ڈیل ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    ۶۔ سپناخان نے جس نظریہ یعنی امریکہ کی مخالفت کے پرچار سے اپنی سیاست کی اٹھان لی۔ امریکہ پر زبان بندی کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ )کوئی تو خورشید قصوری کی موجودگی میں سپناخان کو ڈاکٹرعافیہ کا نام یاد دلا ئے(۔

    ۷۔ کیا کوئی سنجیدہ سیاست دان کسی ڈکٹیٹر کے وردی میں ہونے کے باوجود اس کے ریفرنڈم کو کسی بھی صورت میں سپورٹ کرسکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    ۸۔ ۲۰۰۷ءکے الیکشن میں سپناخان کا پرویزمشرف اور جنرل احتشام سے ۱۰۰ نشستوں کا مطالبہ، مگران کا اس کی اوقات کے مطابق صرف ۱۰ نشستوں کی رضامندی پر سپناخان کا بائیکاٹ کرنا۔ کیا یقینا اس کی اصول پسندی ظاہر کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    ۹۔ سیانے کہتے ہیں کہ پرانی عادتیں پختہ ہو کر انسان کی فطرت میں شامل ہو جاتی ہیں۔ خان صاحب کی عمر ۲۰۰۲ء میں ۵۰سال سے زیادہ تھی۔ تب کی ڈکٹیٹر کے ریفرنڈم کی سپورٹ اور بعد میں دھاندلی کے ذریعے۱۰۰ نشستوں کے مطالبے والی فطرت کیا اب بدل گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    ۱۰۔ جو آج کل جلسوں پر کاریگر لوگ بھاری مقدار میں اپنی تجوریاں خالی کر رہے ہیں کیا وہ اپنے سنہرے اصول“Give-n-Take” کو بھول کرسپناخان کے حکومت میں آنے کے بعد پہلے سے بھی زیادہ بھاری مقدار میں اپنی تجوریاں نہیں بھریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    ۱۱۔ خان صاحب نے اپنی زندگی کی زیادہ کمائی ۱۹۹۲ء تک کی ہے۔ اگر وہ بقول اپنے سچے اور کھرے ہیں تو ان کی۱۹۹۲ء سے پہلے کی ٹیکس ریٹرنز کہاں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    ۱۲۔ کیا خان صاحب عوام سے بے شمار وعدے کرتے ہوئے پٹواری سے لے کر امریکہ تک سب سٹیک ہولڈرز کو مدنظر رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    ۱۳۔ خان صاحب کو اپنے گھر کو دیکھے بغیر دوسرے سیاست دانوں پر اعتراض ہے کہ ان کے بچے اور سرمایہ پاکستان سے باہر ہیں۔ مگر ان کے خود فرزند کہاں ہیں اور ان کی تربیت کے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اولاد سے بڑا بھی کوئی سرمایہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    ۱۴۔ اگر ہم ڈکٹیٹر ضیاء کے سیکرٹری اطلاعات جنرل مجیب الرحمان کی بات نہ بھی مانیں۔ جن کے بقول انہوں نے ۱۹۹۶ء میں اسٹیبلیشمنٹ کی خواہش پر سپناخان کو سیاست کے میدان میں اتارا تھااوردعوی کیا تھا کہ عمران خان میری پروڈکٹ ہے اور میری پروڈکٹ کبھی ناکام نہیں رہتی۔ تب عبدالستار ایدھی ایسے فقیر منش آدمی کی بات پر کیا کہیں گے جب انہی دنوں کپتان صاحب محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لئے عبدالستار ایدھی کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے خفیہ اداروں کے حواریوں کے ساتھ آکردھمکایا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ سپناخان اسٹیبلیشمنٹ کے پرانے جمہورے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

    میں بھلا ان سوالوں کے جواب کیا دیتا کیونکہ ان سوالوں کے جواب دیتے ہوئے تو میرے لیڈرصاحب کی بھی گگھی بندھ جاتی ہے۔ مگر مجھے اپنے قنوطیت اور حد سےزیادہ حقیقت پسند دوست پربہت غصہ آیا۔ اور میں نے کہا کہ آپ کچھ بھی کہیں مگر میرے نزدیک میرے محبوب لیڈر کی محبوبیت کم نہیں کر سکتے۔

    اس کے بعد اس نے مجھ سے تحریک انصاف کا مطلب پوچھا تو میں نے المختصر بتایا کہ اس جماعت کا مطلب منصفانہ عوامی مفاد کی سیاسی تحریک ہے۔ میں ابھی اور کچھ بولنا چاہ ہی رہا تھا مگر میرے دوست نے کہا کہ رک جائیں ابھی ہم صرف منصفانہ عوامی مفاد کی سیاسی تحریک کو ڈسکس کر لیتے ہیں۔ میرے دوست نے کہا کہ بھئی عمل کے بغیر صرف پارٹی کا نام تحریک انصاف رکھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔صرف نام سے کام چلانا ہو تومسرت شاھین کی پارٹی کا نام تحریک مساوات بھی بہت زبردست ہے۔ اس نے مزید کہا کہ سیاسی پارٹیاں تنقید، غیر سنجیدہ اور کرکٹ کی اصطلاحوں سے نہیں چلتیں بلکہ صرف اپنے نظریات اور اصولوں پر کاربند رہ کر ہی اپنا ارتقائی سفر جاری رکھ سکتی ہیں۔ مگر سپناخان نے اپنے لاہور والے جلسے کے بعد اپنی ہی پارٹی پر تباہ کن خودکش حملہ کر دیا ہے۔ کیونکہ اس نے کسی اصول کو مدنظر رکھنے کی بجائے ہر چھوٹے بڑے لوٹے کے لیے اپنی پارٹی کے دروازے پر آھلاوسھلا کا بورڈ لگا دیا ہے۔ سپناخان کے اس عمل سے سارے اصول اور نظریات بھاڑ میں چلے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری ”سلامتی کے ضامنوں” نے اپنے پرانے اور خاندانی گرکسوں کو کھلم کھلا اشارے دینے شروع کر دئیے ہیں کہ پرانی جگہوں سے کوچ کرواب ہمارا پڑاو تحریک انصاف ہو گا۔ اس کے بعد سدھائے ہوئے اڈاری باز گرکسوں نے ہمیشہ کی طرح وہی کیا جو ان کے آقاوں نے چاہا۔ اور یہ اڈاری باز گدھ ہر نظریاتی اور مخلص کارکن کو لتاڑتے ہوئے ہر اہم پوسٹ پر براجمان ہو گئے ہیں۔ سپناخان نے اپنے ”تبدیلی” کے نعرے کو خوب عملی جامہ پہنایا ہے اور اپنی تحریک انصاف پرخودکش حملے کے بعد اب مزید تبد یلی کی طاقت کسی اور کے پاس چلی گئی ہے۔ ہاں اس کے باوجود اگر)یہ ”اگر” بہت بڑی ہے( سپناخان عوام سے مخلص ہے ۔ تو مستقبل میں اس بات کے بہت امکان بڑھ گئے ہیں کہ آوازیں آئیں ”رضیہ پھنس گئی غںڈوں میں” یا ”عمران خان کوتحریک انصاف سے رہا کراو”۔

    میرے دوست نے اپنی بات کو بڑھاتے ہوئے کہا کہ سب جمہوروں کا انجام ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اسٹیبلیشمنٹ کے پہلے جمہورے کے پاس دھن دولت وافر مقدار میں ہے اور اس نے سیاست تجارت کی طرح کی ہے اور اپنے خزانے کی چمک سے ہی میڈیا سے اپنے حق میں بھی خوب طبلے بجوائے ہیں۔ مگر جب ۱۹۹۹ء میں ”ہمارے اکلوتے خیرخواہوں” نے سمجھا کہ جمہورا بگڑ گیا ہے تو انھوں نے اس کو چلتا کیا تو جمہورے کے زیادہ تر ساتھی مختلف صورتوں میں اس کا ساتھ فورا چھوڑ گئے۔ اب یہ پہچاننا کون سا مشکل ہے کہ اس وقت پرانے جمہورے کے ساتھ یہی ابن الوقت تھے جو نئے جمہورے سپناخان کے ساتھ مل رہے ہیں۔ اور یہ بھی سمجھنا کون سا مشکل نہیں ہے کہ یہ جدی پشتی ابن الوقت فنکار ہمیشہ کی طرح اپنی فنکاری سے باز نہیں آئیں گے۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ نئے جمہورے کے پاس دولت کی فراوانی نہیں ہے اور ان کا ایک ہی چندے کا دھندہ ہے جو اور تو اور صرف میڈیا کی سارنگیوں اورطبلوں کے لیے ناکافی ہے۔ کیونکہ سرپرست تو اپنے مطلب تک اپنے جمہوروں کی خوب پروجیکشن کرتے ہیں ان کے لیے ”آئی جے آئی” بھی بن جاتی ہے، انھیں ہر طرح کی لاجیسٹک سپورٹ مہیا ہوتی ہے، فنڈز کی فراوانی اتنی کہ بنک تک ڈبو دیے جاتے ہیں اور جمہوروں کو دو تہائی اکثریت دلوانا بھی ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ مگر جیسے ہی جمہورا ان کے حکم پرگھومنا یا الٹ بازیاں لگانے میں سستی کرتا ہے تو وہ اسے کھلونا سمجھ کر توڑ دیتے ہیں۔ پھر جمہورے کی منزل اٹک قلعہ یا سرور پیلیس ہی ہوتی ہے۔ مثالیں تو بہت زیادہ ہیں مگر میں صرف ایک اور مثال جمہوروں کی سناوں گا۔ وہ یہ کہ دو نسلوں سے سیاست کا گہرا تجربہ اور وسیع تر تعلقات رکھنے والے چوہدری برادران کا آج کل حال دیکھ لیں۔ پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں۔

    اگر کل کو نیا جمہورا )سپناخان(اپنے آقاوں کے حکم پر گھومنا یا الٹ بازیاں لگانا بند کرے گا تو یہ اندازہ لگانا کون سا مشکل ہے کہ خاندانی گرکس پھر اپنے آقاوں کے حکم پر ایک نئے مردار کے لیے اڑان نہیں بھریں گے؟ اور نئے جمہورے کے آقا اسے کھلونا سمجھ کر نہیں توڑیں گے؟ ایسی صورت میں سپناخان پر بہت ترس آئے گا۔ کیونکہ ادھر تو گیند بلے اور چندے کے دھندے کے علاوہ کوئی عملی تجربہ ہی نہیں اور دوسرا سپناخان کا اپنا تو کچھ بھی نہیں ہے بلکہ کتا تک پرویز مشرف کا دیا ہوا ہے۔

    اس کے بعد میرا دوست میرا مذاق اڑاتا ہوا اور یہ گانا گاتا ہوا چلا گیا۔

    کھلونے تیری زندگی کیا، تیری زندگی کیا

    کب تک جان بچائے گا، اک دن ٹوٹ ہی جائے گا

    اور نیا آ جائے گا، ارے وہ بھی ٹوٹ جائے گا

    کھلونےتیری زندگی کیا، تیری زندگی کیا۔۔۔۔۔۔۔۔

    http://criticalppp.com/archives/69435/comment-page-1#comment-242215

    http://critical ppp.com/archives/69435/comment-page-1#comment-242215