ڈیموکریسی الیکٹو کریسی



  • ڈیموکریسی ایسے نظام کا نام ہے جس میں عوام اس توقع پر اپنے میں سے زیادہ ذمہ دار ، معتبر اور قابل افراد کو با اختیار بناتے ہیں تاکہ وہ ایک مخصوص مدت کے لیے منتخب ہونے کے بعد عوام کی بنیادی ضرورتوں اور آزادیوں کو بلا امتیاز یقینی بناتے ہوئے روزمرہ اور دورس داخلی و خارجی مسائل کو اخلاص کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کریں۔جو اس آزمائش میں پورے اترتے ہیں انہیں دوبارہ موقع مل جاتا ہے۔جو نہیں اترتے انہیں ووٹر عارضی یا مستقل طور پر گھر یا حزبِ اختلاف کی بنچوں پر بھیج دیتے ہیں۔

    جبکہ الیکٹو کریسی ایسے نظام کا نام ہے جس میں کچھ پیشہ ور خواب فروش عوام کو بار بار سپنوں کا دھتورا پلا کر خود کو منتخب کرواتے ہیں اور ہر مرتبہ نئے خوابوں میں نیا نشہ ملا کر بیچتے ہیں۔اور جب یہ نسخہ کام نہیں کرتا تو سیاسی و سماجی پلاسٹک سرجری کروا کے سادہ لوحوں کو کسی نئے سپنے کے بانس پر بٹھا دیتے ہیں۔اور جب اس سے بھی کام نہیں چلتا تو نشہ اور تیز کرنے کے لیے خواب میں تعصب کی اجوائن ، جوارشِ مغلظات ، تنگ نظر قوم پرستی کا معجون ، جوشاندہِ سازش ، برگِ فرقہ ، سفوف ِ برادری ، شربتِ وعدہ اور عرقِ معذرت ملا کر خوب گھوٹتے ہیں۔

    یہ آمیزہ پی کر جب دھت ووٹر بیلٹ بکس کی طرف بڑھتا ہے تو پیر کہیں پڑتا ہے اور ووٹ کہیں ۔وہ خوش خوش گھر واپس آتا ہے اور سوجاتا ہے۔جب نشہ اترتا ہے تو وہی خواب فروش سامنے پاتا ہے کہ جنہیں بدلنے کے لیے اس نے اتنا کشٹ کاٹا ۔

    پچھلے پینسٹھ برس سے یہاں ہر وردی اور شیروانی والا ننگ دھڑنگ لوگوں کو ڈیموکریسی کے نام پر الیکٹو کریسی بیچ رہا ہے۔تم نے پچھلی دفعہ ووٹ دیا تھا تو تمہیں شلوار ملی تھی نا۔اس دفعہ ووٹ دو گے تو قمیض بھی ملے گی۔تین حامی اور لاؤ تو جوتا بھی دیں گے۔خود جاؤ گے تو جوتا بھی نہیں پڑے گا۔

    لوگ واقعی چھٹکارا پانا چاہتے ہیں۔ لیکن مافیا ، کارٹیل اور گلڈ کی سفاکی سے کیسے چھٹکارا پائیں جہاں سائے نے بھی سائے سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے۔جہاں وقت بھی اندر خانے پروفیشنل خرکاروں سے ملا ہوا ہے۔رات اپنے شکار کو اگل کر جعلی دن کے حوالے کردیتی ہے اور دن پھر اس شکار کو چچوڑ چچاڑ کر رات کے سیاہ جبڑوں میں واپس دے دیتا ہے۔

    یہ کروڑوں بے سکون و بے چہرہ لوگ اس بے چارے کی طرح ہیں جو بدفعلی کی خبر سن کر مدرسے پہنچا اور چیختے ہوئے کہا کہ اب میں اپنے بچے کو ایسی واہیات جگہ نہیں پڑھاؤں گا۔مدرسہ انچارج مسکراتے ہوئے بولا ’ تھکنے سے کوئی فائدہ نہیں۔جہاں بھی داخل کراؤ گے نصاب کم وبیش یہی پاؤ گے‘۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/05/120513_baat_say_baat_nj.shtml



  • EasyGo sahib.

    What are your thoughts on this article? Or this copy and paste is a public service pro bono event?

    Would be nice if Wusat Ullah write a satire about the Pakistani ballot process itself. As a matter of fact I have yet to see a comprehensive investigative report from any journalist about massive irregularities of electoral process.

    I have about 200 immediate relatives living all over Pakistan. Most of them from middle to upper middle income brackets. I have asked them if they voted in last three elections. The answer was negative. A few of them actually participated in the local elections of early 90s. I asked about the reason for not voting. "Our vote would not count because of massive rigging" was the common answer. And our cousin local bodies candidate of the 90s actually was declared winner by vote tallies from all the station in the evening. But in the morning, the district election commissioner made someone else the winner. Recent Supreme Court verdicts about the bogus vote confirms such sentiments.

    Do you expect next election under Zardari will be without massive rigging. I am afraid not. So dream on for the change.



  • خان صاحب

    آپ نے صحیح نشاندہی کی کہ میں نے اپنے کومنٹ کے بغیر ہی تھریڈ شروع کر دیا، دراصل وسعت اللہ کا مضمون اتنا اچھا اور سچا لگا کہ مجھے مزید کچھ اضافہ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی

    آپکی ووٹنگ پروسیس کے بارے میں رایے اور مشاہدہ سے بھی اتفاق ہے کہ ووٹنگ کی شرح زیادہ ہونی چاہیے اوربوگس ووٹ کم

    البتہ پہلے کی نسبت پڑھا لکھا اور پوش طبقہ سیاسی دھارے میں آتا لگ رہا ہے اور میرے خیال میں اسکا کریڈٹ عمران خان کو بھی جاتا ہے

    باقی امید لگائی ہوئی ہے کہ جمہوری عمل چلتا رہے گا تو تھوڑی تھوڑی کرکے ہی سہی بہتری آ جاۓ گی

    زرداری سے فئیر الیکشن کی توقع کم ہے، لیکن زرداری اکیلا اتنا طاقتور بھی نہیں ہے

    اور بھی بہت کھلاڑی ہیں میدان میں، بلکہ سیاستدانوں کے علاوہ بھی