امریکہ - دوست یا دشمن؟ چند حقائق



  • چھ دہائیوں سے امریکہ کا ایک مضبوط پاکستان کے لۓ پر عظم ساتھ

    http://www.youtube.com/watch?v=jOmQkuEo420

    افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu



  • @Afshan BB,

    You did gr8 job making case for masters however, people on this forum are well aware about budget allocated by state dept for Pak media....



  • یہ ویڈیو دیکھ کر میں یہی کہوں گا کہ ان حرام خور بر اے نام سیاست دانوں اور فوجی آمروں کو ڈوب کر مرجانا چاہیے انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا پاکستانیوں کے لیے - میں ابھی تک یہ سمجھتا رہا کہ یہ سارا انفراسٹرکچر فوج نے بنایا ہے-



  • .

    .

    لگتا ہے افشاں باجی کی یادداشت بہت کمزور ہو گئی ہے یا پھر میرے سوال کا اسکے پاس کوئی جواب نہیں ہے

    میں نے ان سے متعدد بار کہا ہے کہ

    جس امریکی ڈرائیور نے ایک پاکستانی راہگیر عبادالرحمان کو ون وے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریمنڈ ڈیوس کو بچانے کے چکر میں امریکی قونصلیٹ کی گاڑی تلے کچل کر شہید کر دیا تھا

    اپنے آقاوں سے پوچھ کر بتا دیں کہ وہ ڈرائیور اور گاڑی کب ہمارے حوالے کر رہے ہیں؟



  • **

    ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟

    **

    کسی کو دے کے دل ،کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو؟

    نہ ہو جب دل ہی سینے میں، تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو

    وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ،ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں؟

    سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ" ہم سے سر گراں کیوں ہو؟"

    کِیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبّت کو !

    نہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میرا راز داں کیوں ہو؟

    وفا کیسی؟ کہاں کا عشق؟ جب سر پھوڑنا ٹھہرا

    تو پھر، اے سنگ دل! تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو؟

    قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر، ہمدم

    گری ہے جس پہ کل بجلی ،وہ میرا آشیاں کیوں ہو؟

    یہ کہہ سکتے ہو: "ہم دل میں نہیں ہیں" پر یہ بتلاؤ

    کہ جب دل میں تمہیں تم ہو، تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو ؟

    غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ ،دیکھو ، جرم کس کا ہے؟

    نہ کھینچو گر تم اپنے کو، کشاکش درمیاں کیوں ہو؟

    یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے؟

    ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟

    یہی ہے آزمانا، تو ستانا کس کو کہتے ہیں؟

    عدو کے ہو لیے جب تم ،تو میرا امتحاں کیوں ہو؟

    کہا تم نے کہ "کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی؟"

    بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ" ہاں کیوں ہو؟"

    نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تُو، غالبؔ ؟

    ترے بے مہر کہنے سے ،وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو؟



  • **

    “دلالی کا سفر “

    **

    پنگ پونگ سفارتکاری کی پرواز

    ’کسنجر پاکستانی سیکریٹری خارجہ کی ووکس ویگن بیٹل میں ہوائی اڈے آئے‘

    امریکہ اور چین کے درمیان سفارتی روابط قائم کرنے میں پاکستان نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ نو جولائی کو ان روابط کے چالیس سال مکمل ہو جائیں گے۔

    پاکستان کی قومی ائر لائن پی آئی اے کے ذریعے چالیس سال قبل اس وقت کے امریکی قومی سکیورٹی کے مشیر ہینری کسنجر خفیہ ملاقات کے لیے چین گئے۔ جس جہاز پر ہینری کسنجر نے چین کا خفیہ دورہ کیا اس کے کپتان تھے کیپٹن مرزا تیمور بیگ۔ اس نو جولائی 1971 کے سفر کو اس پرواز کے چیف پرسر عبدالحئی نے پی آئی اے کی ویب سائٹ پر دہرایا ہے۔

    عبدالحئی لکھتے ہیں ’اس وقت پی آئی اے اکثر انتہائی اہم شخصیات یعنی وی وی آئی پی کے سفر کے لیے بھی استعمال ہوتی تھی۔ ان انتہائی اہم شخصیات کے سفر کے لیے سکیورٹی اقدامات کیے جاتے تھے جن میں مسلح محافظوں کی موجودگی میں جہاز کی چیکنگ اور جہاز کے عملے کی پہلے ہی سے سکیورٹی کلیئرنس شامل تھی۔‘

    ہمیں رات تین بجے کہا گیا کہ پرواز کے لیے تیار ہو جائیں۔ ہمارا جہاز اسلام آباد ہوائی اڈے پر پاک فضائیہ کے ہینگر میں سخت سکیورٹی میں کھڑا تھا۔ روانگی سے آدھا گھنٹہ قبل ایک چینی نیویگیٹر کی آمد ہوئی اور ہم صرف ایک مسافر کے ساتھ پیکنگ جو اب بیجنگ کہلاتا ہے کے لیے روانہ ہوئے۔وہ لکھتے ہیں ’میں جولائی 1971 میں لاہور چھٹیوں پر تھے جب مجھے فوراً راولپنڈی ڈیوٹی پر پہنچنے کے لیے کہا گیا۔ کیپٹن مرزا تیمور بیگ کی قیادت میں جہاز کے عملے کو انٹر کانٹیننٹل ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔ عملے کو وی آئی پی پرواز کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ ہمیں خاص ہدایات دی گئی تھیں کہ کسی سے بھی کسی قسم کا رابطہ نہیں کرنا اور کسی بھی وقت ہمیں پرواز کے لیے روانہ ہونا ہو گا۔‘

    ’ہمیں رات تین بجے کہا گیا کہ پرواز کے لیے تیار ہو جائیں۔ ہمارا جہاز اسلام آباد ہوائی اڈے پر پاک فضائیہ کے ہینگر میں سخت سکیورٹی میں کھڑا تھا۔ روانگی سے آدھا گھنٹہ قبل ایک چینی نیویگیٹر کی آمد ہوئی اور ہم صرف ایک مسافر کے ساتھ پیکنگ جو اب بیجنگ کہلاتا ہے کے لیے روانہ ہوئے۔‘

    ’پیکنگ میں مختصر قیام کے دوران ایک چینی اعلیٰ عہدیدار اور چینی ترجمان جہاز پر سوار ہوئے اور یوں ہم ان دونوں کو لے کر پاکستان واپس پہنچے۔‘

    پی آئی اے کی ویب سائٹ پر لکھتے ہوئے عبدالحئی کے مطابق ’اسلام آباد واپسی پر ہمارا جہاز دوبارہ فضائیہ کے ہینگر میں کھڑا کردیا گیا اور ہمیں دوبارہ ہوٹل پہنچا دیا گیا۔ ہمیں دوبارہ کسی سے بھی کسی قسم کے رابطے سے منع کیا گیا۔ اسلام آباد ہوائی اڈے پر کوئی خاص ہلچل نہیں تھی۔ تاہم میں نے دیکھا کہ ٹارمک پر یو ایس ون (US ONE) جہاز کھڑا تھا۔‘

    تقریباً رات دو بجے ووکس ویگن بیٹل گاڑی فرست کلاس لاؤنج کے سامنے رکی۔ یہ گاڑی پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سلطان محمد خان چلا رہے تھے۔ اندھیرے کے باعث یہ دیکھنا مشکل تھا کہ ان کے ساتھ کون ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ آگے بڑھے تو ہم ششدر رہ گئے کہ سیکریٹری خارجہ کے ہمراہ ڈاکٹر ہینری کسنجر تھے۔نو جولائی کی رات کو ہمیں دو بجے کی روانگی کا حکم دیا گیا۔ ہمیں دوبارہ فضائیہ ہی کے ہینگر میں جہاز کو پرواز کے لیے تیار کرنا تھا۔ سب سے پہلے جن دو افراد کو ہم پیکنگ سے لائے تھے وہ پہنچے۔‘

    ’تقریباً رات دو بجے ووکس ویگن بیٹل گاڑی فرست کلاس لاؤنج کے سامنے رکی۔ یہ گاڑی پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سلطان محمد خان چلا رہے تھے۔ اندھیرے کے باعث یہ دیکھنا مشکل تھا کہ ان کے ساتھ کون ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ آگے بڑھے تو ہم ششدر رہ گئے کہ سیکریٹری خارجہ کے ہمراہ ڈاکٹر ہینری کسنجر تھے۔‘

    ’چیف پرسر ہونے کے ناطے میں نے آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا اور اپنا تعارف کرایا۔ ڈاکٹر کسنجر نے اپنے ہمراہ امریکی اہلکاروں کا تعارف کرایا۔ ان کے ہمراہ ونسٹن لارڈ، جان ہولڈرج اور رچرڈ میسر تھے۔ ان مسافروں کے جہاز میں بیٹھتے ہی سیکریٹری خارجہ جہاز سے اتر گئے اور ہم پیکنگ کی جانب روانہ ہو گئے۔‘

    ’جہاز کے اڑان بھرتے ہی ڈاکٹر کسنجر چینی عہدیدار کے ساتھ میٹنگ میں مصروف ہو گئے۔ صبح ہوتے ہی گرما گرم امریکن ناشتہ دیا گیا۔‘

    ایک موقعے پر ہینری کسنجر نے مجھ سے کہا کہ نتھیاگلی کے بارے میں کچھ معلومات دو کیونکہ جب میں واپس جاؤں گا تو میڈیا مجھ سے نتھیا گلی کے بارے میں پوچھے گی۔’سفر کے دوران ڈاکٹر کسنجر بڑے پرسکون تھے لیکن ایک موقعے پر وہ تھوڑے پریشان ہوئے۔ ان سے جب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ خفیہ سفر تھا اس لیے ان کے سٹاف نے ان کے سارے کپڑے نتھیا گلی بھجوا دیے ہیں اور اب ان کے پاس دوسرا جوڑا نہیں ہے۔ ‘

    ’دوپہر ڈھائی بجے ہم پیکنگ کے ہوائی اڈے پر اترے۔ ڈاکٹر کسنجر اور ان کی ٹیم کو کالے شیشے والی گاڑی میں لے جایا گیا۔ میٹنگ کے بعد یہی جہاز ڈاکٹر کسنجر کو گیارہ جولائی کو دوپہر بارہ بجے اسلام آباد واپس لے آیا۔ واپسی کے سفر میں ڈاکٹر کسنجر اور ان کی ٹیم رپورٹیں لکھنے میں بہت مصروف رہے۔‘

    ’تاہم ایک موقعے پر ہینری کسنجر نے مجھ سے کہا کہ نتھیاگلی کے بارے میں کچھ معلومات دو کیونکہ جب میں واپس جاؤں گا تو میڈیا مجھ سے نتھیا گلی کے بارے میں پوچھے گی۔‘

    اسلام آباد آمد پر پاکستان کے سیکیٹری خارجہ ڈاکٹر کسنجر کو لینے آئے ہوئے تھے۔ لیکن اس بار ان کو ہوائی اڈے پر گاڑیوں کا کارروان آیا ہوا تھا۔ جب ڈاکٹر کسنجر روانہ ہو گئے تو سیکریٹری خارجہ نے جہاز کے عملے کو اکٹھا کیا اور کہا کہ ہم چند لوگ ہی ہیں جن کو یہ معلوم ہے کہ اس جہاز پر کون کہاں گیا۔ اور یہ بات اس وقت تک کسی سے نہیں کرنی جب تک کہ ڈاکٹر ہینری کسنجر خود اعلان نہیں کرتے۔‘

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/06/110622_pia_nixon_flight_rh.shtml


Log in to reply
 

Looks like your connection to Discuss was lost, please wait while we try to reconnect.