کیپیٹلزم، سوشلزم، کمیونزم اور اسلامی معاشی نظام؟



  • کیپیٹلزم کیا ہے؟

    سوشلزم کیا ہے؟

    کمیونزم کیا ہے؟

    کیپیٹلزم، سوشلزم اور کمیونزم میں کیا فرق ہے؟

    کیا وجہ ہے کہ کیپیٹلزم نے سوشلزم اور کمیونزم کو شکست دے دی ہے؟

    کیا کیپٹلزم کو آئندہ آنے والے سالوں میں کسی اور معاشی نظام سے کوئی خطرہ ہے؟

    اسلامی نے بھی کوئی معاشی نظام دیا ہے یا نہیں؟ اگر دیا ہے تو وہ کیا ہے؟ کیا کبھی وہ کسی زمانے میں کسی ملک میں نافذ رہا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ آج تمام اسلامی ممالک میں بھی کیپیٹلزم نافذ ہے؟



  • دراصل اسلام کے ٹھیکیداروں کے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل ہے کہ اسلام میں چندمعاشی اصول تو ضرور دیے گئے ہیں مگر کوئی نظام نہیں دیا گیا۔

    ان لوگوں کے لیے یہ تسیم کرنا بھی مشکل ہے کہ اسلام کے معاشی اصول چند اختلافات کے ساتھ کیپیلزم ہی کی حمایت کرتے ہیں۔



  • A very comprehensive read about the topic;

    Thoughts, in any nation, are the greatest wealth the nation possesses if the nation is newly born; and they are the greatest gift that any generation can receive from a preceding generation, provided the nation is based on an enlightened thought.

    With regard to material wealth, scientific discoveries, industrial inventions and the like, all of these are of much lower importance than thoughts. In fact, to excel in these fields is dependent upon the level of thought and their preservation also depends upon the level of thought.

    If the material wealth of a nation is destroyed, it is possible for it to be restored quickly as long as the nation preserves its intellectual wealth. However, if the intellectual wealth collapses and the nation retains only its materialistic wealth, this wealth will soon vanish and the nation will return to poverty. Most of the scientific achievements which the nation once made can be regained, provided it does not lose its way of thinking, whereas, if it lost the productive way of thinking, it would soon regress and lose its discoveries and inventions. Therefore, it is necessary to take care of the thoughts first. Based upon these thoughts, and according to the productive way of thinking, material wealth is gained, and the achievement of scientific discoveries, industrial inventions and the like is sought.

    What is meant by thoughts is the existence within the nation of the process of thinking related to events and the affairs of life, such that the majority of its individuals use the information that they have when considering events, in order to judge them. This means that they have thoughts which they contrive to use in life and by using these thoughts frequently and successfully, a productive way of thinking results................

    http://islamicsystem.blogspot.com/2006/11/difference-between-capitalist.html



  • Naam Nihad G,

    Please read the link and i am sure this will add to your knowledge about Islamic economics, which is lack severely..



  • اسلامی معاشی سسٹم کا کوئی وجود نہیں ہے اور نا ہی یہ کبھی رہا ہے

    زکات ایک مذہبی فریضہ ہے اور یہ ایک خیراتی کام ہے یہ کہنا کہ زکات ٹیکس کی طرح ہے اور یہ غربت دور کردے گی غلط ہے ، زکات اسلامی سے پہلے یہودیوں میں بھی فرض تھی اور آج بھی یہودی دس فیصد زکات دیتے ہیں

    اسلام کا ابتدائی دور ایک قبائلی معاشرہ تھا جس کا آج کے دور کی معیشت سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے ، وہ مولوی جو اسلام کو ہر جگہ فٹ کرنے میں لگے ہوتے ہیں معیشت میں بھی زبردستی فٹ کر رہے ہیں



  • پولیٹیکل انٹرپریٹشن آف اسلام

    https://docs.google.com/document/d/1u1OnNGYWEpXiv26CPf9_Dfq4T9fEtn_Q1YClzqplL5Q/edit



  • Zalaan, If you would read the link, you would have not given such an ill-informed comment. PLEASE go through the link and try to understand. Let me quote someone here who is considered as the father of your modern economics "...the empire of the Caliphs seems to have been the first state under which the world enjoyed that degree of tranquility which the cultivation of the sciences requires". * Adam Smith, ‘History of Astronomy’, the Essays of Adam Smith (London, 1869), p. 353



  • آج سے سو سال پہلے کی کسی کتاب میں اسلامی معاشی نظام کا لفظ نہیں تھا ، جب کمیو نظم ، سوشلزم اور کپیٹل ازم آے تو اس کے مقابلہ میں اسلامی نظام اور اسلامی معیشت کو میدان می لیا گیا کہ ہمارا منا بھی کسی سے کم نہیں



  • zalaan papu

    وہ آنکھ کہ ہے سرمہ افرنگ سے روشن

    پرکار سخن ساز ہے! نمناک نہیں ہے

    حیات تازہ اپنے ساتھ لائی لذتیں کیا کیا

    رقابت خود فروشی ، ناشکیبائی ، ہوسناکی



  • علامہ اقبال کی آنکھ بھی سرما افرنگ سے روشن ہوئی تھی , افرنگ جا کر وہاں کے فلسفیوں کی کتابوں کو پڑھ کر اور پھر احساس کمتری کا شکار ہو کر اپنے آپ کو عربوں اور اسلام سے جوڑ کر ایک گڑبڑ گٹالے جیسی شاعری دی



  • fear bhai

    yeh aap nai tau mushkil tareen sher arz kardiya hai.

    javaid zalaan sheikh sirf yahoodi ka jahiliya sodee nizaam ki zubaan saujhta hai.



  • علامہ اقبال کی آنکھ بھی سرما افرنگ سے روشن ہوئی تھی

    papu

    خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ

    سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف



  • گرجوں سے کہیں بڑھ کہ ، بنکوں کی عمارات

    شاعر گڑبڑ گٹالے کو یہ اعتراض تھا کہ گرجا گر چھوٹا اور بینک بڑے بڑے ہیں ، عجیب آدمی تھا جو روحانیت اور مذہب کو عمارتوں میں ناپ رہا تھا

    ویسے آج کل مدارس بہت بڑے بڑے بن گئے ہیں جہاں شاعر گٹالے کی تعبیر کے مطابق شاہین ، عقاب اور دوسرے جنگلی جانور بیت الله محسود ، مسلم خان ، منگل باغ کی شکل میں پیدا ہو رہے ہیں



  • zalaan

    papu yeh baat aglay 5 saal tak na samj sako chor do. tuhamaray bas se bahir hai, apnay zehen ki chitni na banao...



  • اسلامی بینکاری یا سودی بنکاری

    " فرق پڑتا ہے کیا پیارے ، یہ منی ہے کہ شیلا ہے "



  • Zalaan sahib, read the link, i am sure you would learn a lot from it. You understanding of Islam is very weak, i must say... stop relying on propaganda materiel and study authentic books.

    Read the link and let me know of your views, otherwise what you are doing is nothing but "hawai firing" :)



  • @ zalaan

    صحیح کہا آپ نے۔

    اقبال کا نظریۂ خودی اور مرد مومن کا تصور دراصل فریڈرک نیٹز کا ایک چربہ ہے۔

    پاکستانی جو مغرب میں رہ کر وہاں کی سہولتیں انجواۓ کرتے ہیں، وہ شناختی بحران کا شکار ہو کر اسلام کے چیمپیئن بن جاتے ہیں۔



  • اکستانی جو مغرب میں رہ کر وہاں کی سہولتیں انجواۓ کرتے ہیں، وہ شناختی بحران کا شکار ہو کر اسلام کے چیمپیئن بن جاتے ہیں۔

    No it is in the other way!!!

    Those students who chose to adopt the European way of life became victim of inferiority complex. Perhaps they could not change their color and background and perhaps they could not abandon their Muslim identity.



  • مشرق کے لوگ جب احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں تو پھر فضولیات پر مبنی مشرقی روایات کا سہارا لے کر اپنے آپ کو مغرب سے برتر محسوس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    کسی قوم کی بڑائی علم و دانش کے میدان میں اس کے کارناموں سے ناپی جاتی ہے۔



  • I think this thread is about the comparative economic systems and not Dr. Iqbal and his vision.