تحریکِ انصاف کا ایک اور عظیم کارنامہ



  • کالم نگار: ابنِ مفتی

    دوستو ، آپ کو یاد ہو گا ۔ کہ جب کچھ سالوں پہلے رمضان کے مہینے میں تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے سستا تندور کا نعرہ مستانہ بلند کیا تھا ۔ تو پنجاب کے خادم اعلیٰ کے جبیں پر گھبراہٹ اور پسینے کے آثار نمودار ہو گئے تھے ۔ اور جیسے ہی پنجاب میں سستا تندور کے پروجیکٹ کو عوام نے پذیرائی تھی ۔ تو خادمِ اعلی نے بھی روٹی کی قیمت کم کرنے کا ہمالیائی اعلان کر کے اپنی گھبراہٹ کا سیاسی اعلان کیا اور بعد ازاں روٹی کے سائز کو کم کر کے اپنے روایتی سیاسی ذہن کی تسکین کا سامان بھی کیا ۔ بکری نے دودھ تو دیا مگر ساتھ ہی مینگنیاں بھی کر دیں۔ مقتدر قوتیں پاکستان کی تاریخ میں ایسے کئی پروجیکٹس کا اعلان کرتی آئی ہیں ۔ کچھ میں کامیابی ملتی ہے ۔ اور کچھ میں انکا روایتی سرخ فیتہ اور انکی نیت ِ بد کی وجہ سے انہیں ناکامی ملتی ہے ۔ تحریک کے قائد عمران خان نے سیاست میں آنے سے سالوں کسی بھی مقتدر قوت کا سہارا لئے بغیر قبل شوکت خانم اسپتال کا ارادہ کیا تو یار لوگوں نے اسکو ایک ناقابلِ عمل منصوبہ قرار دے کر رد کردیا ۔ غیر ممالک سے آئے ہوئے ڈاکٹرز نے عمران کے ارادہ کو توڑنے کی کوشش کی ۔ مگر آج دنیا کا یہ عظیم پروجیکٹ کسی سرکاری مدد کے بغیر آج بھی کامیابی سے چل رہا ہے ۔ پھر تحریکِ انصاف کے قائد نے نوجوانان ِ پاکستان کو ایک مستند علمی یونیورسٹی کا وژن دیا اور نمل کالج کی صورت میں ایک پسماندہ علاقے میں آج نمل کالج غریب طلباء کو وہ ڈگری دیتا ہے ، جسکے حصول میں وہ غیر ممالک جایا کرتے تھے ۔

    مینارِ پاکستان کے جلسے سے جہاں عمران کی مقبولیت کا سونامی سر چڑھ کر بولا ۔ وہاں انکے وژن کو بھی انکی پارٹی کے ورکرز نے اپنی ذہن و دل کا تاج بنا لیا ۔ آج کوئی انصاف اسکول بنا رہا ہے تو کوئی اسکے علاوہ قوم کی خدمت کرنے کا جذبہ لیکر میدانِ عمل میں اتر چکا ہے ۔ غیر مقتدر ہوتے ہوئے عوامی ، سماجی فلاح کے کام کرنیوالے بہت سے نام آج تحریک انصاف کا پرچم اٹھائے اس قافلے میں شامل ہوچکے ہیں ۔ ابرارالحق جو سہارا تنظیم کے تحت سماجی کام کرتے ہیں ۔ وہ آج تحریک کے ایک کارکن کی حیثیت سے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں ۔

    تحریک انصاف کی خواتین قائدین محترمہ فوزیہ قصوری ، زہرہ شاہد حسین ، ناز بلوچ ، نازلی واڈا اور پوری خواتین ونگ نے اجتماعی طور پر ایک ایسا ہمالیائی کارنامہ سرانجام دے دیا ہے ۔ جسکی جتنی تعریف کی جائےکم ہے ۔ جی ہاں اب ٹیلی ڈاکٹر ، ٹیلی لائرز، اور ٹیلی سوشل سروسز پر مبنی انصاف کال سینٹر ایک ٹال فری نمبر کے ذریعے پورے اہالیانِ پاکستان کی دن رات خدمت کسی بھی معاوضے کے بغیر کرے گا ۔ اور اس انصاف کال سینٹر کا باقاعدہ افتتاح تحریکِ انصاف کے مرکزی قائد اور نائب صدر شاہ محمود قریشی نے کردیا ہے ۔ پورے پاکستان سے مرد وحضرات ٹیلی ڈاکٹر کو کال کرکے اپنے میڈیکل ایشوز کو ڈسکس کرسکیں گے ۔ اور یوں اپنی جمع پونجی کو کسی اور اچھے کام میں استعمال کرسکیں گے ۔ اسی طرح وہ ٹیلی لائرز کو کال کر کے فری لیگل ایڈوائس لے سکیں گے ۔ اور عوام کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنے میں یہ کال سینٹرز خاصا بنیادی رول پلے کرسکیں گے ۔( کیا عجب کہ آخر کار ٹیلی ڈاکٹرز کے اس کال سینٹر سے عوام کو فری پریسکریپشن کی سہولت اور ٹیلی لائرز کے ذریعے فری لائرز کی سہولت بھی مل جائے )۔

    میں اہالیان ِ پاکستان سے ایک درد مندانہ سوال کرتا ہوں ۔ کیا ان عملی باتوں کےبعد بھی کوئی شک رہ جاتا ہے ۔ کہ پاکستان کے مسائل کا سیاسی مسیحا کون ہے ۔؟

    میری ان تمام حضرات و خواتین سے گذارش ہے جو اب بھی عمران خان کے متعلق تحفظات رکھتے ہیں۔ غیر مقتدر رہتے ہوئے تحریک انصاف کے مقابلے میں کسی پاپولر تحریک کا نام تو لیجئے۔ آپ بے اختیار دعا کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کہ اللہ کریم عمران کی قیادت جلد از جلد نصیب فرمائے اور قائدِ اعظم کے پاکستان بنانے کے اس کے خواب کو عملی جامہ پہنانے میں اسکی مدد فرمائے ۔

    پاکستان کی واحد اردو ویب سائٹ ڈیلی انصاف نیوز ڈاٹ کام کی جانب سے انصاف کال سینٹر کے اس ہمالیائی پروجیکٹ پر محترمہ فوزیہ قصوری، زہرہ شاہد حسین ، ناز بلوچ ، نازلی واڈا اور پوری خواتین ونگ کو ڈیلی انصاف نیوز کی جانب سے دلی مبارکباد اور نیک تمنائیں اور تحریک انصاف کے عمران خان ، شاہ محمود قریشی ، جاوید ہاشمی اور دیگر قائدین ِ کرام کو بھی اس سینٹر کے اجراء پر بے حد مبارکباد ۔

    قدم بڑھاؤ عمران خان ، قوم تمہارے ساتھ ہے



  • Boht aala



  • Reshaping Politics .. thats my leader.

    Lekin abhi jald, Sharif call center ka aghaz hone wala hai :P Call waha mille gee, lekin divert Insaf call center he pay jaey gee :P



  • Indeed it is a great revolutionary step which no one in the world ever thought of before.

    Now when anyone has a cough, he can just call PTI's tele-doctor help line and PTI's tele-doctors will diagnose the underlying problem just by listening to the voice of the caller without any need of any sort of tests. Then these tele-doctors can also provide medicine through telephone lines. The patient will just need to put his telephone receiver on top of a cup and the cough syrup will magically start pouring out of the receiver.

    However, there will be some technical issues in medicine delivery when someone is calling from a mobile phone. But surely, the great geniuses in PTI will very soon find a solution to that issue as well.



  • Excellent!!