The animal within



  • The incarceration of an 11-year-old on charges of blasphemy and threats to her life, the shaving of the eyebrows and the head of a tailor for being tardy and the chopping off the nose, tongue and gouging out the eyes of an adversary during the Eid holidays should have sent shivers down anyone’s spine. In any humane society, under these circumstances, all public gatherings, including Eid khutbas, should have seriously addressed the sinister ways of using religion as a cloak in using perverse forms of violence. The disease is contagious and has taken deep root in Pakistan. Such violence is condoned, defended and glorified through some sections of the media. Names of influential perpetrators are blacked out, while the vulnerable victim and family members are grilled to death. Simply calling for a “report”, on the directives of the head of state of the country, is not enough. At the very least, the perpetrators should be arrested, their acts publicly denounced and persecution in the name of religion, especially against a child and that, too, from a minority religion, deprecated in the strongest way possible.

    http://tribune.com.pk/story/425700/the-animal-within/



  • From Australia up to Europe and across to the American continent, the international media has had a field day with Pakistan’s latest brush with its infamous murderous blasphemy laws. Could someone knowledgeable who has researched the effects of these laws point out what good they have served and how many legitimate cases there have been where the accused and the accusers have been sane or rational?

    http://tribune.com.pk/story/425737/use-and-abuse/





  • پاکستان کی وزارت داخلہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس سے کہا ہے کہ وہ قرآنی قاعدہ جلانے کے مقدمے میں گرفتار ہونے والی عیسائی لڑکی رمشا کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت کریں۔

    وزارت داخلہ نے اسلام آباد پولیس سے مزید کہا ہے کہ اس واقعہ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے افراد کو بھی فی الوقت گرفتار نہ کریں۔

    پولیس نے اس واقعہ سے متعلق ایک ابتدائی رپورٹ بھی وزارت داخلہ کو بھجوائی ہے جس میں ملزمہ کی ذہنی حالت سے متعلق سوالات اُٹھائے گئے ہیں جبکہ اس کے کمسن ہونے کا بھی زکر کیا گیا ہے۔

    **

    اس ابتدائی رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ رمشا پڑھ لکھ نہیں سکتی

    **

    یاد رہے کہ قرآنی قاعدہ جلانے کے واقعہ کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف پولیس نے مقدمہ تو درج کیا ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

    **

    مقامی پولیس کے مطابق مظاہرین میں زیادہ تعداد پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی تھی۔

    **

    اس واقعہ کے خلاف مظاہرین نے نہ صرف کشمیر ہائی وے کو بلاک کردیا تھا بلکہ پتھراؤ کر کے گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا تھا۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/08/120825_rimsha_police_no_action_tim.shtml



  • What bigoted view by the government. If government wanted to provide protection to the girl she could have been housed in one of the safe houses like Ameerul Momineen Osama bin Ladin’s three families were. Just to please the Mullahs government dare not get Ramsha out of prison.



  • کوڑھیوں کا کیا حال ہوگیا ہے؟

    اب کوئی انکے تھریڈ پر تھوکنے بھی نہیں آ رہا ہے اور

    گھسیانی بلی کی طرح خود ہی بار بار کومنٹس پوسٹ کرنے پڑ

    رہے ہیں

    ^^^^^^^ :wink: :wink: ^^^^^^^



  • کر دو یار کوئی تو کوممنٹ کردو بیچارہ کل سی خُد ہی کوممنٹس کے جا رہا ہے. یحییٰ میرے سے ناراض نہ ہونا میں نے تو کوممنٹ کر دیا ہے

    and bawa as well has commented



  • @ SIAT

    بھائی جی

    میں ایک بار اور انکے تھریڈ پر تھوک کر جا رہا ہوں

    آپکو بھی موقع ملے تو مزید انکے تھریڈ اور منہ پر تھوک دیں

    بہت شکریہ



  • باوا جی آپ کے کہنے پر

    آ خ تھو



  • @ SAIT

    شکریہ بھائی جی

    ان کوڑھیوں کے ہر تھریڈ پر ایک آدھ دفعہ تھوک دیا کریں تاکہ ایسا نہ ہو کہ یہ سارے کوڑھی مایوس ہو کر یہاں سے کوڑھی محلے بھاگ جائیں اور اس فورم پر انکی گندی اور غلیظ نسل نایاب ہی ہو جائے

    :) :)



  • بھائی جی ڈرانے والی باتیں نہ کریں- اگر یہ چلے گئے تو سارا مزا خراب ہو جاۓ گا. میں انشااله اپنا فرض نبھاتا رہوں گا اور پابندی سے آخ تھو بھی کرتا رہوں گا