عراق جنگ: بش اور بلیئر کے خلاف مقدمہ چلنا چاہیئے



  • ’اچھے لیڈر وہ ہواکرتےہیں جو اخلاقیات کو سربلند رکھیں۔ مسٹر بلیئر اور مسٹر بش کو چاہیئے تھا کہ وہ اپنے آپ کو صدام حسین کی سطح تک نہ گراتے‘: آرک بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو

    آرک بشپ ٹوٹو نے کہا کہ دنیا میں مشکلات کا موجب اور انسانی جانوں کےنقصان کا سبب بننے والے حضرات اُسی راہ پر گامزن ہیں جس پر اُن کے افریقی اور ایشیائی پیش رو رہ چکے ہیں، جنھیں آج ھیگ میں اُن کےکرتوتوں کا سامنا ہے۔

    امن کے نابیل انعام یافتہ شخصیت نے سوال کیا کہ ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں، کہ لیڈروں کے لیے یہ قابل قبول ہے کہ وہ جھوٹ کی بنیاد پر سخت ترین اقدام کریں اور جب اُن کا دعویٰ غلط ثابت ہو تو وہ معذرت بھی نہ کریں۔

    http://www.urduvoa.com/content/article/1500384.html

    کبھی کبھی لگتا ہے کہ لیڈرشپ کا بحران ہر جگہ ہی ہے

    کبھی کبھی لگتا ہے طاقتور کا نہ کوئی احتساب کر سکتا نہ اسے جھٹلا سکتا ہے، سوایے قدرت کے