New name for caretaker PM Mahmood Khan Achakzai محمود خان اچکزئی



  • جناب شیرازی صاحب

    ایک الیکشن کے وقفے کے بعد جب لوگوں کے کمزور حافظے کے نتیجہ میں یہی تنظیمیں واپس آجائینگی تو پھر وہی دھینگا مشتی اور نظام کو لپیٹنے کی باتیں شروع ہو جائینگی

    میرے خیال میں پاکستان میں جمہوری نظام کی کامیابی کی ایک ہی صورت ہے - ایک مخصوص رحجان رکھنے والی جماعتیں جیسا کہ پیپلز پارٹی ، اے این پی یا پھر بلوچستان کے نیشنلسٹ -- یہ سب لوگ سیاست کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیر بعد کہہ دیں - پاکستان کے طاقتور ترین طبقات یعنی فوج ، پنجاب کا صوبہ ، دائیں بازو کا میڈیا اور مذہبی قوتیں -- وہ کسی ایسے نظام کو چلنے ہی نہیں دیں گی جس نظام میں اس قسم کی تنظیمیں شامل ہوں

    (: (: (:

    جناب بلیک شیپ صاحب

    کیا میں نے یہ مزاحیہ چہرے درست لگانے ہیں یا آپ کے پاس کوئی اور ترکیب بھی ہے



  • @Hakka Bakka Saab

    " پاکستان کے طاقتور ترین طبقات یعنی فوج ، پنجاب کا صوبہ ، دائیں بازو کا میڈیا اور مذہبی قوتیں "

    
    Didn't we see that movie in late 90's. How long that love affair lasted?
    
    :)


  • میرا خیال ہے کہ محمود خان اچکزئی نگراں وزیر اعظم بننے سے معذرت کرلیں گے۔



  • مسلہ یہ نہیں ہے کہ پرویز مشرف کے زیر اثر کیو لیگ زیادہ با اختیار تھی یہ آج کی کولیشن حکومت - مسلہ اتھارٹی اور زمہ داری کی تقسیم کے توازن کا ہے - اس زمانے کے فیصلوں کی اتھارٹی جس کے پاس تھی ، وہی زمہ دار بھی تھا اور گالیاں بھی اس ہی کو پڑیں - اب یہ توازن پہلے سے کہیں زیادہ اسٹبلشمنٹ کے حق میں ہے - انکے فیصلوں کی اتھارٹی میں اگر کوئی فرق پڑا ہے تو وہ انتہائی معمولی سا ہے - ان فیصلوں کی زمہ داری اور نتیجہ کے طور پر اسکی تنقید کا ایک بہت بڑا حصہ سیاستدانوں کے کاندھے پر چلا گیا ہے - اوپر کی تحریر میں ٹرک والی مثال سے یہی اتھارٹی اور زمہ داری والی اکویشن کو بیان کرنا مقصود تھا

    ہکابکا صاحب۔۔۔۔۔۔

    کل شام کو میں بہت جلدی ہی سوگیا تھا لہٰذا آپ کی تحاریر کا جواب نہیں دے سکا۔۔۔۔۔۔

    آپ کا زور اس پر ہے کہ کل جو بااختیار تھے وہی گالیاں بھی کھاتے تھے جبکہ آج ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ اختیار کسی اور کے پاس ہے لیکن سیاپا بریگیڈ، جس میں ٹی وی اینکروں سے لیکر لکھنے والے تک شامل ہیں، کا نشانہ سیاستدان بن جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ آپ کے اس مشاہدہ سے مجھے اتفاق ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن میرا کہنا یہ ہے کہ یہ تو ہونا ہی تھا۔۔۔۔۔۔ کون یہ سمجھتا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔ کم از کم میں تو بالکل بھی ایسا نہیں سمجھتا تھا۔۔۔۔۔۔ نیوٹن کا لاء آف اِنرشیا کہتا ہے کہ جب بھی کسی چیز کی حالت میں تبدیلی آتی ہے تو مزاحمت ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ دوامی مالکان کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات اور سیاپا بریگیڈ کا یہ سیاپا میرے نزدیک وہی لاء آف انرشیا والی مزاحمت ہے۔۔۔۔۔۔ اور یہ بالکل فطری ہے۔۔۔۔۔۔ اگر دو ہزار سات کے الیکشن میں بڑی جماعتیں بائیکاٹ کردیتیں تو مختلف چھوٹے چھوٹے گروپس مل کر حکومت بنالیتے۔۔۔۔۔۔ ان کے ساتھ پاکستان خاکی پارٹی اپنے آپ کو زیادہ آرام دہ محسوس کرتی لیکن ایسا نہیں ہوا جو کہ میری نظر میں اچھی بات ہے کہ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے بہتر سیاسی شعور کا مظاہرہ کیا اور بائیکاٹ کی راہ نہیں اپنائی۔۔۔۔۔۔ لہٰذا دو ہزار آٹھ کے الیکشن ہوتے ہی اس حکومت کے خلاف شور شروع ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔ اور یہ ہونا تھا کیونکہ جو ریاستِ پاکستان کے دوامی مالکان ہیں وہ اپنا ساٹھ سالہ قبضہ اتنی آرام سے چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔۔۔۔۔۔ وہ مزاحمت کریں گے۔۔۔۔۔۔ اور صرف یہ نہیں کہ آج یہ ہورہا ہے۔۔۔۔۔۔ جب بھی دوامی مالکان سے اختیارات لینے کی بات ہوتی تو یہ ہوتا کیونکہ میرے خیال میں یہ ہونا فطری ہے۔۔۔۔۔۔ اب یہاں پر انسانی فطرت کی ایک خصوصیت، صبر کا کام شروع ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ اس پورے معاملے میں صبر انتہائی ضروری ہے۔۔۔۔۔۔

    لیکن یاد رہے کہ ان سب کے نتائج کیا نکلتے ہیں یہ ایک بالکل مختلف عمل ہے۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ چونکہ آج دو ہزار بارہ میں سیاسی جماعتوں نے اختیارات لینے کے چکر میں اپنی بھد بھی اڑوائی اور فائدہ کچھ نہیں ہوا لہٰذا دو ہزار سات کے الیکشن کا بائیکاٹ کا فیصلہ نہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میرے خیال میں سیاستدانوں کی طرف سے اختیارات لینے کے عمل کے نتائج کا بہت زیادہ دارومدار عوام کے سیاسی شعور پر منحصر ہے۔۔۔۔۔۔

    میں آپ کو ایک پڑھی لکھی مثال دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔ غالباً اس فورم پر آنے والوں اور لکھنے والوں کی بڑی اکثریت سوائے مجھ بد نصیب کے بہت پڑھی لکھی ہے۔۔۔۔۔۔ پچھلے پانچ سال کے عرصہ میں خاک پوشوں کی طرف سے اٹھائے گئے کچھ مہم جویانہ اقدامات کی ایک چھوٹی سی فہرست مرتب کرلیں۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ کیری لوگر بل کے خلاف، آئی ایس آئی کو وزارتِ داخلہ کے ماتحت کرنے کے خلاف، ریمنڈ ڈیوس ساگا، اور پھر اپنی ہی طرز کا اکلوتا شاہکار حضرت میمو کمیشن رحمتہ اللہ علیہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔ اگر ہم ایک سروے سیمپل لے سکیں تو یہاں اس فورم کے سیمپل کو میرے ناقص خیال میں پڑھا لکھا سیمپل کہنا چاہئے۔۔۔۔۔۔ اس پڑھے لکھے سیمپل کی ہمدردیاں کس جانب تھیں۔۔۔۔۔۔ آپ معلوم کرلیں تو بہت اچھی طرح اندازہ ہوجائے گا کہ سیاسی شعور کتنا باشعور ہے کہ بقول نصرت جاوید سرخی پاؤڈر لگا کر سیاپا فروشوں کی دکانداری آخر کس طرح اتنی چمک رہی ہے۔۔۔۔۔۔



  • ایک سیاست دان ہی اگر آنے والے وقت کا اندازہ نہ لگا سکے تو پھر اس کو سیاست چھوڑ دینی چاہئے۔۔

    محترم بلیک شیپ صاحب

    آپ کا نکتہ نظر پاکستانی سیاست کی حد تک محدود ہے یا پھر ہر جگه لاگو کیا جا سکتا ہے

    ویسے محمود خان صاحب کا چناؤ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ ایک اصول سے وابستہ تھا. وہ وردی پوش صدر کے کرائے گئے چناؤ میں حصہ نہیں لینا چاہتے تھے گو کے دو ہزار دو کی اسمبلی کا حصہ ضرور تھے

    محترم ہپوکریئیٹ صاحب۔۔۔۔۔۔

    سب سے پہلے تو واپسی پر خوش آمدید۔۔۔۔۔۔

    میں نے ایسے ہی ایک جملہ لکھ دیا تھا۔۔۔۔۔۔ مقصد صرف محمود خان اچکزئی کی سیاسی سوجھ بوجھ پر بات کرنا تھی۔۔۔۔۔۔

    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کاروبار ہی کرنا ہے تو وہ جنس بیچنی چاہئے جو بازار میں بک سکے اور نہ صرف بک سکے بلکہ دوسرے بیچنے والوں سے مقابلہ بھی کیا جاسکے۔۔۔۔۔۔



  • اگر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی انتخابات کا بائیکاٹ کردیتیں تو شاید آج بھی پرویز مشرف پاکستان کے صدر ہوتے، مسلم لیگ ق آج بھی اکثریتی جماعت ہوتی، پرویز الٰہی نمائشی ڈپٹی وزیر اعظم نہیں بلکہ نمائشی وزیر اعظم ہوتے، کراچی میں نظامت آج بھی ایم کیو ایم کے پاس ہوتی، پنجاب میں شہباز شریف نہیں بلکہ مونس الٰہی وزیر اعلٰی ہوتے، چیف جسٹس افتخار چوہدری نہیں بلکہ ڈوگر ہمارے چیف جسٹس ہوتے، میڈیا کی آزادی کب کی سلب کی جا چکی ہوتی، الیکشن کمیشن غیر جانبدار ہونے کے بجائے جانبدار ہوتا، عمران خان کی تحریک انصاف کبھی سونامی بن ہی نہیں پاتی، نام نہاد شیخ الاسلام کو انتخابی اصلاحات اور اسلام آباد کو تحریر اسکوائر بنانے کا خیال تک نہیں آتا، بلوچستان میں حالات ٹھیک ہونے کی امید کب کی ختم ہوچکی ہوتی، نگراں وزیر اعظم بھی پرویز مشرف کی مرضی سے بنایا جاتا، آج بھی آئین معطل ہوتا، صوبوں کے پاس آج بھی اختیارات نہیں ہوتے، سیاسی کارکن شاید آج بھی احتجاج کر رہے ہوتے اور لاٹھیاں کھا رہے ہوتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جب کہ آج ایسا نہیں ہے بلکہ آج پاکستان میں جمہوریت ہے، آزاد عدلیہ ہے، آزاد میڈیا ہے، آئین اپنی اصل حالت میں بحال ہوچکا ہے، آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن ہے اور آئندہ آنے والے دنوں میں تقریبا” تمام سیاسی جماعتوں کو قابل قبول نگراں وزیر اعظم پر بھی اتفاق ہوجائے گا اور ایک منتخب جمہوری حکومت اپنی مدت پوری کرنے والی ہے اور پاکستان عام انتخابات کی طرف بڑھہ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن 2008 میں انتخابات کا بائیکاٹ کردیتیں تو شاید آج صورتحال مختلف ہوتی۔



  • ???? sahib

    Very well portrayed.

    Hopefully with few more elections we will be able to utilize out votes even more effectively.

    Long live democracy



  • آپ کا زور اس پر ہے کہ کل جو بااختیار تھے وہی گالیاں بھی کھاتے تھے جبکہ آج ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ اختیار کسی اور کے پاس ہے لیکن سیاپا بریگیڈ، جس میں ٹی وی اینکروں سے لیکر لکھنے والے تک شامل ہیں، کا نشانہ سیاستدان بن جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ آپ کے اس مشاہدہ سے مجھے اتفاق ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن میرا کہنا یہ ہے کہ یہ تو ہونا ہی تھا۔۔۔۔۔۔ کون یہ سمجھتا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔۔۔۔ کم از کم میں تو بالکل بھی ایسا نہیں سمجھتا تھا

    ======================

    آپ تو یقینا سمجھتے ہونگے مگر یہ بڑی بڑی پارٹیوں والے ----کاش الله نے انہیں بھی اتنی ہی عقل دی ہوتی -- انکو طبیب اردگان نامی مرض ہو گیا تھا- یہ سمجھ رہے تھے کہ ایک دفعہ اقتدار مل جانے تو پھر فوج کو دیکھ لیں گے

    ایک امریکن دوست پبلک اڈمنسٹریشن کی کتاب کا ایک جملہ بار نار دہراتا ہے

    responsibility without authority is ultimate failure



  • I like Mehmood Achakzai more than names you suggested Khurshid Shah, Ishaq Daar or Raza Rabani simply because they are active members of two main stream parties and it's hard to develop consensus on their names. Mehmood Achakzai is a good choice in that regard but military may have reservations on him and most likely we will end up with someone like Nasar ul Mulk. After Hussain Hiqqani instead of any retd. General Zardari was able to nominate Sherry Rehman as US Ambassador so you never know.

    شیرازی صاحب۔۔۔۔۔۔

    میں نے اس تھریڈ پر اپنا پہلا کمنٹ ہی ان الفاظ کے ساتھ شروع کیا تھا کہ لگتا ہے محمود اچکزئی کا میلہ صرف عمران خان کو منانے کیلئے لگایا گیا ہے۔۔۔۔۔۔ کہ کہیں عمران خان اِدھر اُدھر نہ پھسل جائے۔۔۔۔۔۔ قادری عنصر کی آمد کے ساتھ ہی عمران خان کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں نون لیگ اس وقت عمران خان کے آئندہ کے اقدامات کو ہلکا نہیں لے سکتی اور ہر ممکن کوشش ہوگی کہ وہ بھی کہیں جا کے طاہر القادری کے ساتھ نہ مل جائے۔۔۔۔۔۔

    مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس وقت تحریکِ انصاف میں اندرونی طور پر ایک اہم بحث ضرور جاری ہوگی کہ آیا طاہر القادری کا ساتھ دیا جائے یا نہیں۔۔۔۔۔۔ ٹاک شوز میں تحریکِ انصاف کے نمائندوں کے دعووں کی بات الگ کہ ہم کلین سوئیپ کریں گے یہ کریں وہ کریں گے لیکن قبر کا حال کم از کم مردہ تو ضرور جانتا ہے۔۔۔۔۔۔ تحریکِ انصاف کے اندرونی حلقے تو جانتے ہی ہوں گے کہ ان میں کتنا دَم ہے اور وہ کیا کیا کرسکتے ہیں ان کی کتنی پہنچ ہے۔۔۔۔۔۔ اب اگر لمبے عرصہ کیلئے نگراں سیٹ اَپ میں شامل ہونے کا چانس ملتا ہے تو اس کا کتنا وزن ہوگا اور اگر عام انتخابات میں چند سیٹیں جیتتے ہیں تو اس کا کتنا وزن ہوگا۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں جیسے ہی فیصلہ ہوجائے گا وہ اپنی حکمتِ عملی واضح کردیں گے۔۔۔۔۔۔ لیکن میرے خیال میں نون لیگ کی ہر ممکن کوشش ہوگی کہ عمران خان کو اُس راہ پر نہ جانے دے۔۔۔۔۔۔ جس طرح ایم کیو ایم نے ایک فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اس وقت الیکشن کے قریب آکر حکومت سے اپنے آپ کو فاصلہ پر رکھیں گے اور اگر تو کوئی ٹیکنوکریٹ سیٹ اَپ آتا ہے تو جب بھی ایم کیو ایم اس میں شامل ہوجاتی ہے اور اگر ایسا نہیں بھی ہوتا تو کم از کم موجودہ حکومت کی ناکامیوں سے اپنے آپ کو علیحدہ کرلیا جائے۔۔۔۔۔۔ دونوں صورتوں میں ایم کیو ایم فائدہ میں نظر آتی ہے۔۔۔۔۔۔ یہ انتہائی عملی سیاست ہے جس میں اخلاقیات کا ڈھنڈورا صرف اخلاقی ٹھیکیدار پیٹ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں اس کو صرف اس طرح نہیں دیکھنا چاہئے کہ ایم کیو ایم اسٹیبلشمنٹ کی غلام ابنِ غلام ہے جو ان کے ایک اشارہِ ابرو پر تن من دھن نچھاور کردیتی ہے۔۔۔۔۔۔ بلکہ میرے خیال میں یوں ہے کہ ایم کیو ایم کو فوجی آمر وغیرہ کا سیٹ اپ موزوں محسوس ہوتا ہے کہ شہری سندھ کا بلا شرکتِ غیرے اختیار مل جاتا ہے۔۔۔۔۔۔

    ساتھ ساتھ مجھے یہ بھی کہنے دیں کہ یہ عین ممکن ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی محمود اچکزئی کے کارڈ کو دکھا کر بلف کر رہے ہوں۔۔۔۔۔۔ ٹیبل پر بارگیننگ چپس جتنی زیادہ ہوں اچھی بات ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔

    :-) ;-) :-)



  • آپ تو یقینا سمجھتے ہونگے مگر یہ بڑی بڑی پارٹیوں والے ----کاش الله نے انہیں بھی اتنی ہی عقل دی ہوتی - یہ خود نہیں سمجھتے تھے -

    محترم ہکا بکا صاحب۔۔۔۔۔۔

    حتیٰ کہ میرا ایک مڈل پاس دوست بھی یہی کہتا ہے کہ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ فوج کا پچاس ساٹھ سال کے عرصہ کا قبضہ کوئی دو چار سال میں ختم ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔ اپنے اس مڈل پاس دوست کی بات سن کر پتا نہیں کیوں مجھے یقین ہوتا جاتا ہے عام تعلیم اور سیاسی شعور دراصل دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔۔۔۔۔۔ اور پھر آپ کے مطابق اس فورم کے ان گنت یو کے پاکیوں(اول تا آخر) کو دیکھ کر تو میرا یقین اور بھی پکا ہوتا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔

    میرے خیال میں بڑی پارٹیوں والے بھی یہ بات سمجھتے ہوں گے۔۔۔۔۔۔ اگر ہم اتنے عرصہ کی زرداری کی سیاسی حرکیات کا جائزہ لیں تو یہ بات سمجھ آتی ہے۔۔۔۔۔۔ میں نے جب بھی زرداری اور نواز شریف کی سیاسی ذہانت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے تو ایک بات ہمیشہ نظر آئی ہے جو زرداری کا نواز شریف پر ایج ہے۔۔۔۔۔۔ وہ ہے زرداری کا ٹھنڈا کرکے کھانا۔۔۔۔۔۔ مجھے پتا نہیں کیوں نواز شریف کی سیاسی حرکیات میں زرداری کے مقابلے میں جلد بازی کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔۔۔۔۔۔ ہوسکتا ہے میں غلط ہوں لیکن مجھے ایسا لگتا ہے۔۔۔۔۔۔

    خیر میرے خیال میں یہ اتھل پتھل اچھی چیز ہے۔۔۔۔۔۔ لاء آف انرشیا ان ورکنگ۔۔۔۔۔۔

    :-) :-) :-)



  • Before Tahir ul Qadri landing it seemed like everyone including Army was waiting for elections and Justice Nasir ul Mulk type - the no harm seemed like good choice. But after Tahir ul Qadri nobody trustable establishment no matter how many press release ISPR issues. Now PPP & PMLN are not looking for no harm technocrat who can budge under establishment pressure. They are looking for Politician who can stand firm against establishment designs. Vocally Achakzai is not much far from Asama Jhangir, lets see if establishment accepts him. Remember few months back they rejected Makhdoom Shahab u din.



  • جناب سوالیہ نشان صاحب

    میں آپ کے تجزیے سے کافی مطمئن ہوں سواۓ چند نکات کے

    گر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی انتخابات کا بائیکاٹ کردیتیں تو شاید آج بھی پرویز مشرف پاکستان کے صدر ہوتے

    =========================================

    الیکشن میں کوئی حصہ لیتا یا نہ لیتا ، مشرف صاحب کے دن گنے جا چکے تھے

    چیف جسٹس افتخار چوہدری نہیں بلکہ ڈوگر ہمارے چیف جسٹس ہوتے

    ==============================

    کاش کے اب بھی ایسا ہی ہوتا

    عمران خان کی تحریک انصاف کبھی سونامی بن ہی نہیں پاتی

    =======================

    یعنی ایک اور عذاب الہی ٹل جاتا

    بلوچستان میں حالات ٹھیک ہونے کی امید کب کی ختم ہوچکی ہوتی

    ==================================

    بلوچستان ٹوٹ کر علاحدہ ہوگیا ہوتا- بنگالیوں کی طرح بلوچیوں کو بھی فوج جیسی موزی بلا سے چھٹکارا مل گیا ہوتا

    جب کہ آج ایسا نہیں ہے بلکہ آج پاکستان میں جمہوریت ہے، آزاد عدلیہ ہے، آزاد میڈیا ہے،

    =======================================

    عدلیہ آزاد، میڈیا آزاد، آزاد، آزاد -- یہ سارے صورت حرام لوگ آزاد اداروں میں ہی کیوں ہوتے ہیں

    آئین اپنی اصل حالت میں بحال ہوچکا ہے

    =====================

    صادق امین والی شق باسٹھ اور حدود آرڈننس سمیت

    (: (: (:



  • گر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی انتخابات کا بائیکاٹ کردیتیں تو شاید آج بھی پرویز مشرف پاکستان کے صدر ہوتے

    الیکشن میں کوئی حصہ لیتا یا نہ لیتا ، مشرف صاحب کے دن گنے جا چکے تھے

    محترم ہکا بکا صاحب۔۔۔۔۔۔

    مجھے تو واقعی اس سطر پر ہنسی آئی تھی۔۔۔۔۔۔

    پاکستان میں بہت سے لوگ اور حلقے خاص طور پر ہمدردانِ و جانثارانِ افتخار اس بات پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں کہ مشرف کو وکلاء نے ہٹایا تھا۔۔۔۔۔۔

    :-) ;-) :-)



  • صادق امین والی شق باسٹھ اور حدود آرڈننس سمیت


    Not to forget Blasphemy Law.



  • @Hakka Bakka Saab

    I am curious if thats how you postpartum the analysis that you are satisfied with what 'd you do with one that irritates you.

    ;)



  • I wish Qazi Saab could be alive today. Pakistan is few hours or I should say few wickets away from raising a flag on red fort.

    ;)



  • میرے خیال میں بڑی پارٹیوں والے بھی یہ بات سمجھتے ہوں گے۔

    ============

    جناب بلیک شیپ صاحب

    ہو سکتا ہے آپ ہی درست کہہ رہے ہوں - مجھے تو اس زمانے کے بیانات اور باڈی لنگویج میں تو صرف نشہ طبیب اردگانی ہی نظر آتا تھا



  • While we are deliberating

    Na hota Zardari toh Musharaaf hota

    US has fired 10 missiles on different targets presumably some more strategic assets ...

    ;)



  • محترم ہکا بکا صاحب۔۔۔۔۔۔

    مجھے تو واقعی اس سطر پر ہنسی آئی تھی۔۔۔۔۔۔

    پاکستان میں بہت سے لوگ اور حلقے خاص طور پر ہمدردانِ و جانثارانِ افتخار اس بات پر ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں کہ مشرف کو وکلاء نے ہٹایا تھا۔۔۔۔۔۔

    :-) ;-) :-)

    ========

    جناب بلیک شیپ صاحب

    یہاں بھانت بھانت کے نشے ہیں - ایک نشہ جسکا نام ' نشہ اعتزاز احسنی ' ہے ، یہ اس زمانے میں اعزازی طور پر تقسیم کیا گیا تھا



  • ایم کیو ایم نے ایک فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اس وقت الیکشن کے قریب آکر حکومت سے اپنے آپ کو فاصلہ پر رکھیں گے اور اگر تو کوئی ٹیکنوکریٹ سیٹ اَپ آتا ہے تو جب بھی ایم کیو ایم اس میں شامل ہوجاتی ہے اور اگر ایسا نہیں بھی ہوتا تو کم از کم موجودہ حکومت کی ناکامیوں سے اپنے آپ کو علیحدہ کرلیا جائے۔۔۔۔۔۔ دونوں صورتوں میں ایم کیو ایم فائدہ میں نظر آتی ہے۔۔۔۔۔۔ یہ انتہائی عملی سیاست ہے

    شیپ جی

    بہت پرسکون جگہ لگ رہی ہے تو ایسے ہی ذرا عادت کے تحت

    :)

    اگر عملی سیاست کے نام پر ہر لکیر عبور کی جا سکتی ہے تو پھر دوسری سیاسی جماعتوں اور لوگوں کو طعنہ کس بات کا

    جمہوریت پسندی و آمریت مخالفت کا تقاضہ کیا ہے؟ کیا ایسی چیزوں کو آسانی سے ہضم کیا جایے اوردوسروں کو بھی تلقین کی جایے؟ کیا ہمیں اپنی رایے بناتے ہوے ایسی باتوں کو مثبت سمجھنا چاہیے یا منفی؟


Log in to reply
 

Looks like your connection to Discuss was lost, please wait while we try to reconnect.