نجم سیٹھی کی ٹامک ٹوئیاں یا پھر کوئی سیاسی مہم جوئی؟



  • (تبصرہ: ندیم سعید): نجم سیٹھی کا شمار پاکستان کے معتبر صحافیوں میں ہوتا ہے جن کے تجزیے جذباتی کی بجائے عقلی استدلال پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان کا پروگرام ’آپس کی بات‘ رات گئے نشر ہونے کے باوجود دیکھا جاتا ہے۔ ان کا شمار بھی پاکستان کے ان نیک نام لوگوں میں ہوتا ہے جو نظام کو تنہا درست کرنے کے خبط میں ملکی تاریخ کے کسی نہ کسی موڑ پراسٹیبلشمنٹ کے ہمرکاب بھی رہے اور اب بھی اسی سراب تک پہنچنے کے شارٹ کٹ کے طور پر اس رفاقت پر مائل نظر آتے ہیں۔

    تبھی وزیر اعظم سید یوسف رضاگیلانی اور عدلیہ کے درمیان رسہ کشی کے دوران انہوں نے لائیو ٹی وی پر کیمرے کے سامنے ہاتھ جوڑ کر گیلانی سے ’جان چھوڑنے‘ کا مطالبہ کردیا تھا۔اپنی گفتگو میں وہ حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کی مایوسی کا ذکر کرتے نہیں تھکتے اور تاثر یہ دیتے ہیں کہ فوج چاہتی ہے کہ طرز حکمرانی بہتر ہونا چاہیے، معیشت کا پہیہ چلے اور یہ کہ سیاستدان کسی بات پر متفق نہیں ہو سکتے۔ اب یہ سب وہ باتیں ہیں جو دراصل عوام چاہتی ہے یعنی Good Governance، معاشی خوشحالی اور اصولوں پر مبنی سیاست جبکہ فوج نے ہمیشہ ان نعروں کی آڑ میں جمہوری حکومتوں کو چلتا کیا ہے۔

    عوامی خواہشات کو فوج کی سوچ کے طور پر پیش کر کے سیٹھی صاحب شاید نہ چاہتے ہوئے بھی عوام اور سیاستدانوں کے درمیان فاصلے بڑھا رہے ہیں اور عوام اور فوج کے درمیان ایک بار پھر پل کا کام کر رہے ہیں۔

    نجم سیٹھی نے اپنے حالیہ کئی پروگرامز کو علامہ طاہر القادری کی سرگرمیوں پر مرکوز کیے رکھا ہے اور اس دوران انہوں نے ان کا ایک انٹرویو بھی کیا۔ میں سیٹھی صاحب کے پروگرام شوق سے دیکھتا اور ان کی تحریریں غور سے پڑھتا ہوں۔ مصروفیت کے باعث گزشتہ ہفتے ’آپس کی بات‘ کے تینوں پروگرامز نہ دیکھ سکا تو ویک اینڈ پر ایک ہی نشست میں یہ پروگرام دیکھے تو ایک پروگرام میں کی گئی ان کی گفتگو کے دوسرے پروگرام میں کی گئی گفتگو سے تضادات سن کر حیران رہ گیا، یعنی نجم سیٹھی جیسا تجربہ کار اور بڑا صحافی چوبیس گھنٹوں میں اپنا مؤقف بدلتا ہے اور اس پر کسی تاسف کا اظہار بھی نہیں کرتا۔

    اکتیس دسمبر کے پروگرام میں ان کے تھیسس کا لب لباب یہ تھا کہ طاہر القادری کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے اور اس ضمن میں انہوں نے اس کی اے، بی اور سی حکمت عملی کچھ یوں بتائی کہ طاہر القادری کا ملین مارچ اگر اسلام آباد میں ’التحریرسکوائر‘ برپا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو فوج اور عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑا گی، اگر ایسا نہیں ہوپاتا تو پلان بی کے طور پر عمران خان کو بھی اس میں جھونک دیا جائے گا اوراگر اس سے بھی (اسٹیبلشمنٹ کا) کام نہ بنا تو انتخابات ہونے دیے جائیں گے اور حکومت سازی کے وقت گڑبڑ کا ماحول پیدا کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے جائینگے۔ (کلپ دیکھیے 13:00 سے لیکر آخر تک)۔

    http://www.dailymotion.com/video/xwdico_apas-ki-baat-31-dec-2012-part-2_news

    نجم سیٹھی کی ٹامک ٹوئیاں یا پھر کوئی سیاسی مہم جوئی؟

    Published on 07. Jan, 2013

    (تبصرہ: ندیم سعید): نجم سیٹھی کا شمار پاکستان کے معتبر صحافیوں میں ہوتا ہے جن کے تجزیے جذباتی کی بجائے عقلی استدلال پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان کا پروگرام ’آپس کی بات‘ رات گئے نشر ہونے کے باوجود دیکھا جاتا ہے۔ ان کا شمار بھی پاکستان کے ان نیک نام لوگوں میں ہوتا ہے جو نظام کو تنہا درست کرنے کے خبط میں ملکی تاریخ کے کسی نہ کسی موڑ پراسٹیبلشمنٹ کے ہمرکاب بھی رہے اور اب بھی اسی سراب تک پہنچنے کے شارٹ کٹ کے طور پر اس رفاقت پر مائل نظر آتے ہیں۔

    تبھی وزیر اعظم سید یوسف رضاگیلانی اور عدلیہ کے درمیان رسہ کشی کے دوران انہوں نے لائیو ٹی وی پر کیمرے کے سامنے ہاتھ جوڑ کر گیلانی سے ’جان چھوڑنے‘ کا مطالبہ کردیا تھا۔اپنی گفتگو میں وہ حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کی مایوسی کا ذکر کرتے نہیں تھکتے اور تاثر یہ دیتے ہیں کہ فوج چاہتی ہے کہ طرز حکمرانی بہتر ہونا چاہیے، معیشت کا پہیہ چلے اور یہ کہ سیاستدان کسی بات پر متفق نہیں ہو سکتے۔ اب یہ سب وہ باتیں ہیں جو دراصل عوام چاہتی ہے یعنی Good Governance، معاشی خوشحالی اور اصولوں پر مبنی سیاست جبکہ فوج نے ہمیشہ ان نعروں کی آڑ میں جمہوری حکومتوں کو چلتا کیا ہے۔

    عوامی خواہشات کو فوج کی سوچ کے طور پر پیش کر کے سیٹھی صاحب شاید نہ چاہتے ہوئے بھی عوام اور سیاستدانوں کے درمیان فاصلے بڑھا رہے ہیں اور عوام اور فوج کے درمیان ایک بار پھر پل کا کام کر رہے ہیں۔

    نجم سیٹھی نے اپنے حالیہ کئی پروگرامز کو علامہ طاہر القادری کی سرگرمیوں پر مرکوز کیے رکھا ہے اور اس دوران انہوں نے ان کا ایک انٹرویو بھی کیا۔ میں سیٹھی صاحب کے پروگرام شوق سے دیکھتا اور ان کی تحریریں غور سے پڑھتا ہوں۔ مصروفیت کے باعث گزشتہ ہفتے ’آپس کی بات‘ کے تینوں پروگرامز نہ دیکھ سکا تو ویک اینڈ پر ایک ہی نشست میں یہ پروگرام دیکھے تو ایک پروگرام میں کی گئی ان کی گفتگو کے دوسرے پروگرام میں کی گئی گفتگو سے تضادات سن کر حیران رہ گیا، یعنی نجم سیٹھی جیسا تجربہ کار اور بڑا صحافی چوبیس گھنٹوں میں اپنا مؤقف بدلتا ہے اور اس پر کسی تاسف کا اظہار بھی نہیں کرتا۔

    اکتیس دسمبر کے پروگرام میں ان کے تھیسس کا لب لباب یہ تھا کہ طاہر القادری کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے اور اس ضمن میں انہوں نے اس کی اے، بی اور سی حکمت عملی کچھ یوں بتائی کہ طاہر القادری کا ملین مارچ اگر اسلام آباد میں ’التحریرسکوائر‘ برپا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو فوج اور عدلیہ کو مداخلت کرنا پڑا گی، اگر ایسا نہیں ہوپاتا تو پلان بی کے طور پر عمران خان کو بھی اس میں جھونک دیا جائے گا اوراگر اس سے بھی (اسٹیبلشمنٹ کا) کام نہ بنا تو انتخابات ہونے دیے جائیں گے اور حکومت سازی کے وقت گڑبڑ کا ماحول پیدا کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کر لیے جائینگے۔ (کلپ دیکھیے 13:00 سے لیکر آخر تک)۔

    مطلوبہ مقاصد وہی کہ معاشی بدحالی اور بری حکومت سے نالاں فوج چاہتی ہے کہ ایسی حکومت ہو جو (سیاسی موقع پرستی سے بالاتر) ہوکر ٹھوس فیصلے کرے جو کہ موجودہ مخلوط حکومت اور انتخابات کے بعد بھی ممکنہ مخلوط حکومت کے بس کی بات نہیں۔

    لیکن زیادہ خطرناک بات جو انہوں نے کی وہ یہ کہ عمران خان کے حامی تو Militant ہیں، وہ قادری کے بریلوی پیروکاروں کی طرح پر امن تھوڑی رہیں گے، وہ تبدیلی چاہتے ہیں، وہ توڑ پھوڑ کرینگے۔کیا ان کی یہ بات تشدد پر اکسانے کے مترادف نہیں؟

    سب جانتے ہیں کہ عمران خان کے حامی زیادہ تر نوجوان طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن کیا سیٹھی صاحب ان کی طرف سے پرتشدد کارروائیوں کی کوئی ایک مثال بھی دے سکتے ہیں؟ عمران خان کا ایک نوجوان حامی تو تقریباً اس بات پر رو پڑا تھا کہ وہ چلچلاتی دھوپ میں سڑکوں پر نکل کر انقلاب لانا چاہتے ہیں اور پولیس ان پر لاٹھی چارج کر رہی ہے۔

    یکم جنوری کے پروگرام میں نجم سیٹھی نے ایک بار پھر کہا کہ (قادری کے لانگ مارچ کے) لوگ پرامن رہے تو کچھ نہیں ہونے والا اور یہ کہ عمران خان کے حامی توڑ پھوڑ کرینگے تو تبدیلی آئے گی۔

    اس پروگرام میں میزبان منیب فاروق نے جب سوال کیا کہ ڈاکٹر قادری کے پیچھے کون ہے تو انہوں نے مسکراتے ہوئے الٹا سوال کر ڈالا کہ این آر او کے پیچھے کون تھا۔ میزبان نے پہلے سے طے شدہ جواب دیا ’ظاہر ہے برطانیہ اور امریکہ‘ تو سیٹھی صاحب نے فرمایاکہ یہ اسی کا ’ری پلے‘ ہے۔کہنا ان کا یہ تھا کہ دوہری شہریت کی وجہ سے الطاف حسین اور ڈاکٹر قادری دونوں بین الاقوامی دباؤ برداشت نہیں کر سکتے اور جیسے این آر او کے وقت برطانیہ اور امریکہ نے بینظیر بھٹو اور پاکستانی فوج کے درمیان پل کا کام کیا تھا ، یہی کچھ اب ہو رہا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں اس بات پر اتفاق ہے کہ موجودہ نظام بے نتیجہ ثابت ہورہا ہے اور یہی (پاکستانی) اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ اگر یہ repeat ہوا تو ملک کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔

    ان کا مزید یہ کہنا تھا کہ امریکہ (صدر آصف علی) زرداری سے مایوس ہوا ہے اور نواز شریف کے بارے میں بھی اس کے تحفظات ہیں کہ وہ شدت پسندوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ پچھلے پروگرام میں سیٹھی صاحب ڈاکٹر قادری کی کارروائیوں کو اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈا قرار دے چکے تھے لیکن اس پروگرام میں انہیں بین الاقوامی قوتوں کارفرما نظر آئیں جبکہ بقول ان کے اسٹیبلشمنٹ خاموش تماشائی کے طور پر سب دیکھ رہی ہے کیونکہ اس کا اس میں کوئی نقصان نہیں، اور وہ بھی برطانیہ اور امریکہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ (کلپ دیکھیے 8:05 منٹ سے لیکر 12:40 منٹ تک)۔

    http://www.dailymotion.com/video/xweq8d_apas-ki-baat-with-najam-sathi-2nd-january-2013-part-3_videogames

    یکن دو جنوری کے پروگرام میں انہوں نے اپنی ’چڑیا‘ کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی اپنے دو سابقہ پروگرامز میں پیش کیے گیے تجزیات، جن میں پہلے انہیں ڈاکٹر قادری کے پیچھے فوج کا ہاتھ نظر آیا تھا اور پھر بین الاقوامی قوتوں کا، کے برخلاف یہ کہتے سنا کہ ’عرض ہے کہ نہ کوئی فارن ایجنڈا ہے ۔۔۔ اور فوج بھی خودکو اس سے distant کر رہی ہے‘۔ (کلپ دیکھیے 53سیکنڈ سے 1:22 تک)۔

    http://www.dailymotion.com/video/xwe7qk_apas-ki-baat-01-jan-2013-part-2_news

    سیٹھی صاحب کی پیشن گوئیاں سچ ثابت ہونے پر ان کے پروگرام میں ان کے پرانے پروگراموں کے کلپ دکھائے جاتے ہیں، لیکن اپنے تھیسس میں مسلسل تبدیلی کرنے اور آخر کار ان سب کے الٹ بات کرتے ہوئے نہ تو انہوں نے تسلیم کیا کہ پورے پاکستان کی طرح وہ بھی ڈاکٹر قادری کے اسرار کا راز جاننے کے لیے ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے ہیں اور نہ پروگرام کے میزبان نے ہمت کی کہ انہیں یاد کراتا کہ صاحب پچھلے دو پروگرامز میں آپ کچھ اور کہتے رہے ہیں۔

    اب یہ قلا بازیاں کوئی نوآموز اینکر مارتا تو کہا جاسکتا تھا کہ فارمی مرغی سے عقل اور پھرتی کی توقع نہیں کی جا سکتی، لیکن سیٹھی صاحب تو میدان صحافت کے اصیل کھلاڑی ہیں اور ان کی ان چالوں کے پیچھے کوئی نہ کوئی حکمت عملی تو ہوگی۔ لیکن صحافت کے ایک طالبعلم کے طور پر میرے لیے حیران کن بات یہ ہے کہ سیاست، امور ریاست اور خارجہ امور جیسے معاملات پر ملک کا ایک سینیئر ترین صحافی قیاس آرائیوں پر مبنی گفتگو پر تکیہ کیے ہوئے ہے۔

    http://www.topstoryonline.com/najam-sethi-groping-in-the-dark



  • Najam Sethi had me confused by his contradictory statements as i pointed it out a few days back...

    http://pkpolitics.com/discuss/topic/najam-sethi-dissecting-dr-tahir-ul-qadri#post-424304



  • طاہر لقادری کے معاملے پر سیٹھی صاحب نے بڑا مایوس کیا ہے .میں انکے تجزیوں کو بوہت غور سے سنتا ہوں قطعہ نظر اسکے کہ میں ان سے متفق ہوں کے نہیں .ایم کیو ایم سے مخالفت کے باوجود سیٹھی صاحب ان کے بارے میں بھی متوازن راے دیتے ہیں

    مگر طاہر لقادری کے بارے میں تو انکے تجزے انتہائی بودے اور ذاتی پرخاش پے مبنی محسوس ہوتے ہیں



  • جو بھی نجم سیٹھی کا تجزیہ سنتا ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ خود نجم سیٹھی کے تجزیوں میں سے اس کے فلپ فلاپ کو اصل تجزیہ سے الگ کر کے دیکھے۔۔۔۔۔۔

    اور خاص طور پر جب سے نجم سیٹھی نے جیو ٹی وی کے ساتھ پروگرام کرنا شروع کیا ہے تو ان کے فلپ فلاپ کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے۔۔۔۔۔۔ جیو ٹی وی کی طرف سے کم از کم ایک پارسا شخصیت، جو کہ قوم کیلئے وجہ افتخار بھی ہے، کے خلاف بات کرنے پر پابندی بھی ہے۔۔۔۔۔۔

    :-) ;-) :-)



  • سیٹھی صاحب كے اس خیال كہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لیکن زیادہ خطرناک بات جو انہوں نے کی وہ یہ کہ عمران خان کے حامی قادری کے بریلوی پیروکاروں کی طرح پر امن تھوڑی رہیں گے، وہ تبدیلی چاہتے ہیں، وہ توڑ پھوڑ کرینگے ۔۔۔۔۔۔

    كے جواب میں قادری صاحب نے پنجاب حكومت كو دھمكی دے دی ہے كہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چالیس لاكھ كا آدھا یعنی بیس لاكھ لاہور كا رخ بھی كر سكتا ہے ۔



  • @ajhons bahi

    I know it's time for you to go home but when you get a chance could you please be little more specific what on Tahir ul Qadri saga riked you from Najam Sethi Saab.



  • I think Sethi Saab said both local and international establishment are behind Tahir ul Qadri and he also said they are not. And that certainly was mixed signal. There is a good chance both are even though both have denied. But other than that he was quite consistent and clarified his position very well in later programs.



  • شیرازی چوری سے جائے لیکن سیٹھی کی مالش سے نا جائے

    منیب والی مسکراہٹ کے ساتھ

    ف ج



  • منیب والی مسکراہٹ کے ساتھ

    کہیں شیرازی بھائی منیب ہی تو نہیں ہیں

    ::))



  • اب بندہ نجم سیٹھی صاحب کا تجزیہ سننے سے پہلے ذہنی طور پر تیار ہوجائے کہ اس نے اس میں سے فلپ فلاپ جن کی تعداد اب بڑھتی جارہی ہے کو الگ کرنا ہے، اور تجزیے کے دوران ٹامک ٹوئیوں یعنی فلپ فلاپ کو آئیڈنٹفائی کرتا رہے تاکہ اصل تجزیے جو کہ سیٹھی صاحب کا اصل وجہ افتخار ہے تک رسائی حاصل ہوسکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حد ہوتی ہے۔

    اس قسم کی عجیب سی سمائلی کے ساتھہ

    :-) ;-) :-)

    پی کے پی



  • A mature and professional journalist always reflects the ground reality and existing situation without getting committed or aligned to a particular position.

    Mr. Najam Sethi helps his audience to make an honest and rational judgment out of current affairs, without imposing his personal agenda.

    His program is mostly and comparatively, more educative.



  • "His program is mostly and comparatively, more educative."

    وہ شائد اس لئے بھی کہ نجم سیٹھی صاحب ہمیشہ شیخ صاحب کی فون کال اپنے پروگرام میں شامل کر لیتے ہیں

    جھینپی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ

    ف ج



  • @FJ Saab and Ajhons abhi

    ہاں وہ نہیں خدا پرست جا و وہ بےوفا سہی

    جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جا ے کیوں

    :)