پاکستان میں آزاد عدلیہ کا مستقبل ، کچھ تجویزات



  • جب عدلیہ آزاد ہوتی ہے تو پھر چوبیس گھنٹوں میں سندھ پولیس شاہزیب کے قاتلوں کو پکڑنے میں کامیاب ہوجاتی ہے، شاہ رخ جتوئی بہتر گھنٹوں میں دبئی سے گرفتار ہوجاتا ہے ، وو سندھ پولیس جو نا مساعد ریسورس کا رونا روتی ہے وو یہ بھی پتا چلا لیتی ہے کہ شاہ رخ جتوئی کہاں ہے اور ملک سے کس طرح فرار ہوا اور توقیر صادق کا سراغ بھی لگا لیتی ہے .. پاکستانی قوم نے آزاد عدلیہ کے لیے جو جدوجہد کی تھی اس کے ثمرات آہستہ آھستہ عوام تک پوھنچنے شروع ہوگے ہیں ...

    لیکن یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے جو کہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے .. اس سوال کی وجہ سے عام آدمی کے ذھن میں عدلیہ کے متعلق شکوک شبہات پیدا ہوتے ہیں جس کو پاکستان کے شاطر سیاستدان، فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے لوگ ، بڑے کاروباری حضرات اور صحافیوں سمیت جن کو آزاد عدلیہ سوٹ نہیں کرتی فایدہ اٹھاتے ہیں

    وو بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا چوبیس گھنٹوں میں سندھ پولیس شاہزیب کے قاتلوں کو پکڑنے میں اور توقیر صادق کا سراغ لگانے کے لیے سپریم کورٹ اوف پاکستان کی مداخلت یاں کسی سو موٹو کی ضرورت تھی ....؟ کیا عدلیہ انتظامیہ اور مقننہ کے اختیارات میں مداخلت کر رہی ہے ....؟ یاں آزاد عدلیہ اپنی کارکردگی کو کیسے بہتر بنا سکتی ہے ...؟

    سپریم کورٹ اوف پاکستان جو ملک کی سب سے بڑی عدالت اور فائنل اپیل کورٹ یاں کورٹ اوف اپیل فارسیکنڈ اینڈ فائنل انسٹینٹ ہے ، کیا ہر معاملے میں اس کی مداخلت ضروری ہے .. کیا سپریم کورٹ اب مجسٹریٹ کورٹ کا کردار ادا کرتی رہے گی ....؟

    اس مسلے کا حل کیا ہے ...جوڈیشری اور آیندہ آنے والی حکومت کو کیا قانونی اصلاحات کرنی ہوگئیں کہ عام آدمی کو جلد انصاف ملے اور عدلیہ ، مقننہ اور انتظامیہ میں کسی قسم کا تصادم نہ ہو اور ملک پاکستان بغیر کسی آئینی تصادم کے نہ صرف ترقی کی شاہرہ پر گامزن ہو بلکہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ملکوں کے لیے مثال بنے ..

    اپنے طور پر ہم نیچے کچھ تجاویز پیش کر راہیں ہیں جن پر عمل درآمد کرتے ہوے نہ صرف عام آدمی کو جلد انصاف ملے گا بلکہ عدلیہ ، مقننہ اور انتظامیہ میں کسی قسم کے تصادم اور آئینی بحران کا خطرہ بھی ٹل جاۓ گا اور آزاد عدلیہ کی کارکردگی بھی بڑھے گی ..

    پہلا بنیادی نقطۂ جو تمام قانونی جریسدکشن میں تسلیم شدہ ہے کہ عدلیہ کو ہر حالت میں مقننہ اور انتظامیہ پر برتری ہوتی ہے ، یہ آ علی عدلیہ ہی ہوتی ہے جو پارلیمنٹ کے بناۓ گے قانون کی تشریح کرتی ہے ،، اس کی وجہ یاں وضاحت یہ ہے کہ پارلیمنٹ عمومی قانون بناتی ہے لیکن یہ قانون ہر وقوعے یاں حالات کو کوور نہیں کرتا ، جب ہم کہتے ہیں کہ یہ آ علی عدلیہ ہی ہوتی ہے جو پارلیمنٹ کے بناۓ گے قانون کی تشریح کرتی ہے تو ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ عدلیہ ہی ہے جو پارلیمنٹ کے بناۓ ہوے ایک خاص قانون کو ایک خاص شخص یاں ادارے کے اوپر ، اس کے ذاتی اور وقوع کے میرٹس کو دیکھتے ہوے تشریح کرتی ہے کہ آیا جو قانون پارلیمنٹ نے بنیا ہے وو ان مخصوص حالات ، شخص یاں ادارے پر کس طرح لاگو ہوگا .. لاگو ہوگا بھی یاں نہیں ..

    دوسرا نقطۂ جو حالات یاں واقعیات پارلیمنٹ نے کسی بھی قانون کو بناتے ہوے سامنے رکھے ہوں ، عدلیہ کسی قانون کی تشریح کرتے ہوے ان سے تجاوز نہیں کر سکتی ، صرف بہت مخصوص حالات میں جہاں ایک مخصوص قانون بہت بڑے لیول پر پاکستانی عوام کے عمومی مفادات کے خلاف ہوں پارلیمنٹ کو واپس جایزہ لینے کے لیے بھجا جا سکتا ہے ، اس کی ایک مثال این ار او کیس ہے جہاں مجودہ سپریم کورٹ نے اس کو پارلیمنٹ کو واپس کیا تھا

    تیسرہ دیر یاں بدیر ، جوڈیشری اور حکومت کو مجسٹریٹ کورٹ کے سسٹم کو فعال کرنا ہوگا .. مجسٹریٹ کی تعداد کو بڑھانا ہوگا ، انھیں بہت اچھی تنخوا اور مراعات دینی ہوگی ، انھیں آپریشنل آزادی دینی ہوگی اور ان کی ملازمت کو آئینی تحفظ دینا ہوگا . عمومی طور پر بیس ہزار لوگوں کے لیے ایک مجسٹریٹ ہونا چاہے ، جس کا مطلب ہے کہ ایک کروڑ افراد کے لیے تقریبا 750 مجسٹریٹ.. ہر دیوانی یاں فوجداری مقدمہ پہلے مجسٹریٹ کورٹ میں دائر ہونا چاہے ، اور مجسٹریٹ کیس کے میریٹ کو دیکھتے ہوے ایک دو یاں تین کی بینچ فورمیشن میں بیٹھے اور بہت توجوہ اور پورا وقت لیتے ہوے کسی بھی مقدمے کا فیصلہ کریں .. مجسٹریٹ بننے کے لیے حکومت پاکستان سے تسلیم شدہ کسی بھی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم اور کم سے کم پانچ سال کا مجسٹریٹ کورٹ اور سیشن کورٹ میں کام کا تجربہ ہونا ضروری قرار دیا جاۓ

    چوتھا مجسٹریٹ کے ہر فیصلہ کے خلاف ہارنے والے فریق کو سیشن کورٹ میں آٹومیٹک اپیل کا حق ہونا چاہے ، اور اپیل کی صورت میں ایک ، دو یاں تین سیشن جج مقدمے کے میریٹ کے حساب سے بیٹھیں اور مجسٹریٹ کے فیصلہ کی اپیل پر بہت غور او حوض کے بعد فیصلہ دیں .. سیشن جج بننے کے لیے جو شراط مجسٹریٹ بننے کی ہیں وو لازمی ہونگی اور اضافی طور پر پانچ سال مجسٹریٹ رہنا ضروری ہو ..

    پانچواں سیشن کورٹ کا فیصلہ قانونی جریسدکشن کے حساب سے آخری اسٹیج ہوگی اور سیشن جج کے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں آٹومیٹک اپیل کا حق نہیں ہوگا

    چھٹا سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ میں جانے کے لیے پہلے اپیل کرنے کی اجازت طلب کرنا ہوگی ، یہ اجازت پہلے سیشن کورٹ کا ایک جج صرف کاغذات کے اوپر دیکھے گا جو بینچ میں بیٹھنے والے سیشن ججز میں سے نہیں ہوگا ، اگر سیشن جج یہ محسوس کرتا ہے کہ سیشن ججز کے فیصلہ میں کوئی قانونی سقم ہے یاں مقدمہ من حاصل مجموعی عوامی مفاد میں ہے تو ہائی کورٹ میں اپیل کی اجازت دے دے گا اور اجازت ملنے کی صورت میں سیشن ججز کے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپپل کا حق آٹومیٹک ہوجاۓ گا اور اور تین ہائی کورٹ کے ججز کا بینچ سیشن کورٹ ججز کے فیصلہ کے خلاف اپیل سنے گا .. لیکن اگر سیشن جج اپیل کی اجازت نہیں دیتا تو اپیل کی اجازت کے لیے ڈائریکٹ ہائی کورٹ میں ایک درخواست دی جاسکتی ہے اور ایسی درخواست کی صورت میں ایک ہائی کورٹ کا جج سیشن کورٹ کے ججز کے فیصلہ کو کاغذات کے اوپر دیکھے گا کہ کوئی قانونی سقم ہے یاں مقدمہ من حاصل مجموعی عوامی مفاد میں ہے تو ہائی کورٹ کا جج ہائی کورٹ میں اپیل کی اجازت دے دے گا اور اجازت ملنے کی صورت میں سیشن ججز کے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپپل کا حق آٹومیٹک ہوجاۓ گا اور تین ہائی کورٹ کے ججز کا بینچ سیشن کورٹ ججز کے فیصلہ کے خلاف اپیل سنے گا

    ساتواں . اگر ہائی کورٹ کا جج بھی اپیل کی اجازت نہیں دیتا تو سیشن کورٹ کے ججز کا فیصلہ فائنل ہوجاۓ گا اور مقدمے کے اپیل کا حق ختم ہوجاۓ گا اور مقدمہ ختم تصور ہو گا .. ہائی کورٹ کا جج اپیل کی اجازت کو کاغذات کے اوپر دیکھے گا اور کوئی سماعت نہیں ہوگی ، لیکن بہت زیادہ حساس کیسوں میں جیسے قتل ، جبری زنا ، یاں وو مقدمات جن میں پاکستانی قانون کے مطابق سزا موت ہے اس صورت میں کاغذات کے اوپر اپیل کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں دوبارہ درخواست ہائی کورٹ میں دی جاسکتی ہے کہ اپیل کی اجازت کے لیے ہائی کورٹ میں ایک ہیرنگ سیٹ کی جاۓ ، اس صورت میں بھی اپر والا اصول ہے کہ ایک ہائی کورٹ کا جج ہیرنگ میں دی گی دلیل کو سننے کے بعد اوپر دیے گے اصول کے مطابق یاں اجازت دے دے گا یاں اجازت نہیں دے گا .. اور اجازت ملنے کی صورت میں سیشن ججز کے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپپل کا حق آٹومیٹک ہوجاۓ گا اور تین ہائی کورٹ کے ججز کا بینچ سیشن کورٹ ججز کے فیصلہ کے خلاف اپیل سنے گا اور اجازت نہ ملنےکی صورت میں اپیل کا حق ختم ہوجاۓ گا اور سیشن ججز کا فیصلہ فائنل ہوجاۓ گا

    آٹھواں سیشن کورٹ کے ججز کے فیصلے کے خلاف اپیل کی اجازت ملنے کے بعد ہائی کورٹ کے تین ججز کا جو بینچ اپیل سنے گا وو کورٹ اف اپیل فار فرسٹ انسٹاتنٹ کہلاۓ گا .. ہائی کورٹ کے جج بننے کے لیے وو تمام شرطیں جو سیشن جج بننے کے لیے ہیں لازمی ہونگی اور اضافی طور پر کم سے کم پانچ سال سیشن جج کے طور پر کام کرنے کا تجربہ ہونا ضروری ہے .

    نووان کورٹ اف اپیل فار فرسٹ انسٹاتنٹ جو سیشن کورٹ کے فاصلے کے خلاف اپیل سننے گی اس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ اوف پاکستان جو کہ فائنل اپیل کورٹ یاں کورٹ اوف اپیل فار سیکنڈ اینڈ فائنل انسٹینٹ ہے میں اپیل کا حق ہوگا لیکن اس کے لیے بھی اپیل کی اجازت کی ضروری ہوگی اور طریقہ کار وو ہی ہوگا جو سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ میں اپیل کی اجازت کا ہوگا ، کورٹ اف اپیل سے سپریم کورٹ میں جانے کے لیے اضافی شرط یہ ہوگی کہ کم سے کم تین ایڈووکیٹ اس اپیل کی اجازت کی درخواست پر دستخط کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جس اپیل کے لیے وو سپریم کورٹ میں جانے کی اجازت مانگ رہیں ہیں وو میریٹ پر ہے اور کس قانونی سقم کے علاوہ مقدمہ من حاصل مجموعی پاکستانی عوام کے مفاد میں ہے

    دسواں سیشن کورٹ کے فیصلوں کی اپیل سننے کا علاوہ ہائی کورٹ اہم آئینی معملات میں سپر ویضری کورٹ (نگران ) کے طور پر فرسٹ کورٹ کا کردار ادا کرے گی اور عدالتی ریویو کی پٹیشن ہائی کورٹ میں لانچ کی جاسکتی ہوگی جس کو پہلے ایک ہائی کورٹ کا جج سنے گا اور اس کے فیصلے کے خلاف کورٹ اف اپیل فار فرسٹ انسٹاتنٹ میں اپیل کا حق آٹومیٹک ہوگا جس میں اپیل کورٹ کے تین جج اس آئینی پٹیشن کا جایزہ لیں گے جن کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ اوف پاکستان جو کہ فائنل اپیل کورٹ یاں کورٹ اوف اپیل فار سیکنڈ اینڈ فائنل انسٹینٹ ہے میں ہوگا لیکن اس کے لیے بھی اپیل کی اجازت کی ضروری ہوگی اور طریقہ کار وو ہی ہوگا جو سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ میں اپیل کی اجازت کا ہوگا

    گیاروا ان ہر پاکستانی شہری جو سیشن کورٹ یاں آ علی عدالتوں تک اپنا کیس لیجانے کے لے حکومت سے مالی مدد کا متمنی ہے ، وزارت قانون پر لازم ہوگا کہ کیس کے میرٹس کو سامنے رکھتے ہوے اس پاکستانی شہری کی مکمل مالی معاونت کرے ، اس کے لیے وزارت قانون ایک علیحدہ سے آزاد ادارہ بھی بنا سکتی ہے جس کا دفتر ہر مجسٹریٹ کورٹ ،سیشن کورٹ کی بلڈنگ میں اپنے دفتر بناۓ گی اور مالی معاونت کی درخواست پر ایک ہفتے میں فیصلہ دینے کی پابند ہوگی ..

    یہ کچھ تجاویز ہیں جس سے امید کی جاسکتی ہے کہ ہمارے عدالتی سسٹم میں بہتری ہوگی اور عام آدمی کو انصاف کا حصول آسان ہوگا اور اور عدلیہ ، مقننہ اور انتظامیہ میں کسی قسم کا تصادم نہیں ہوگا اور ملک پاکستان بغیر کسی آئینی تصادم کے نہ صرف ترقی کی شاہرہ پر گامزن ہو بلکہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ملکوں کے لیے مثال بنے ..

    آپ ساتھیوں سے گزارش ہے کہ اس آرٹیکل پر اپنی قیمتی راۓ سے نوازیں ..

    (اس آرٹیکل کے ماخذ آرٹیکل کے مصنف ایم کے صدیقی کی ڈگری کلاس اسائنمنٹ کے ٹاپک ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے عدالتی نظام ، تجاویز سے لیے گے ہے )



  • @MKS

    Very good suggestions; are they yours? if they are then you are a very intelligent person.

    Justice system MUST be speedy, cheap and free of political interference for every citizen.



  • @ایم کے صدیقی

    Brother, what are you doing in this forum, pakistan needs you.

    Jokes apart, I agreed on most of your points with minor alteration.

    But do you really think it is possible or it is just a sweet dream as our law maker and respected parlimentarian will remain those feudalists and capitalists only who make law for thier own benefit, kingship and business and don't care for middle and lower classes.



  • جس درخت کی زیادہ تر جڑھیں گل سڑ گئیں ھوں. اس کی شاخ و برگ کی گلاب پاشی کا کیا فائدہ.



  • MKS

    Kuddos to you for the compilation if you have done it yourself. But it is not developing the constitutions and laws, they all look great. In essence, it is the implementation of the law. You came up with these brilliant suggestions but what would be your next step, would you approach to your MP, party leader etc, see that is where the real play begins. Also just come up with few suggestions is not enough, you need to have your framework setup, you need to thoroughly perceive it from all possible angles and in all possible situations and most important is how every relevant party will benefit or react to it. A couple of questions to you: how it is different than what we currently have and what is the duration for an average case to be completed and how much time we will save.



  • @ Rizwan Qaimkhani

    You came up with these brilliant suggestions

    .

    .

    رضوان بھائی

    تعریف کا شکریہ ، آپ کی طرف سے آنے والے اچھے کومنٹس ہمارے لیے خاص طور پر حوصلہ افزائی کی وجہ ہیں

    اپر دیے گے آرٹیکل میں اکثریت لیگل رولز پاکستان میں ہیں ہی نہیں ، پاکستانی عدالتی نظام میں ان رولز آف لیگل بزنس آنے سے نہ صرف انصاف کی فراہمی یقینی ہوگی بلکہ بہت ساری لیگل کومپلکشن سے بچا جا سکتا ہے .. اگر ان رولز آف لیگل بزنس کو اختیار کیا جاۓ تو انصاف کی فراہمی میں تیزی کے علاوہ بہت سارے غیر ضروری لٹیگیشن سے بچا جا سکتا ہے ..

    باقی کچھ مزید تحقیق کے بعد آنے والی حکومت اور جوڈیشری میں کومپیئں چلائی جا سکتی ہے کہ اس طرح کا عدالتی سٹرکچر شروع کیا جاۓ



  • @RQ and ایم کے صدیقی

    is every thing OK, you guys getting agree on something? Allah kheer kareey!!!!

    just shocked..



  • @ expakistani

    آپ کیوں ہماری لڑائی کروانا چاہتے ہیں

    ویسے آپ جیسے لوگ ہوتے ہیں جو بلی اور چوہے کی لڑائی کروا کر دودھ خود پی جاتے ہیں

    پیار بھری مسکراہٹ کے ساتھ



  • btw i like your suggestion... ( pheli bar achi post ke hey!!!).

    I like to see speedy justice... may be every Jama Masjid have some sort of judges and penchaiyat ( educated and qualified ones only.. not like Wadeerey ke log) who can sort out issues like "talaq" & "karye dar malik makan"



  • @ expakistani

    btw i like your suggestion. pheli bar achi post ke hey..I like to see speedy justice

    .

    .

    .

    شکریہ ایکس پاکستانی بھائی صاحب

    اگر آپ پاکستانی عدالتی اسٹرکچر کو دیکھیں اور خاص طور پر ہماری عدالتیں آج کل جس قسم کے مسایل کو نبٹنے کی کوشش کر رہیں ہیں ان میں بہتری لانے کے یہ تجویز مدد گار ثابت ہونگی .. آج کل جس کا دل کرتا ہے منہ اٹھا کر سپریم کورٹ میں پٹیشن ڈال دیتا ہے ،، چھوٹے چھوٹےمسایل کے لیے صرف سپریم کورٹ کا ہی فورم رہ گیا ہے ..

    یہ بات بھی درست ہے کہ ماجوده زرداری ٹولے کی کرپشن کے آگے بند سپریم کورٹ نے ہی باندہ ہے ، جس طرح حکومت نے نون لیگ اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کے پریشر پر چاہتے یاں نہ چاہتے ہوے اٹھارویں، انیسویں اور بیسویں آئینی ترامیم کی ہیں اور جس کے اچھے اثرات (آزاد الکشن کومیشن ، کیر ٹیکر حکومت اپوزیشن جماتوں کی مشاورت کے ساتھ اور خاص طور متفقہ فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں کیر ٹیکر حکومت کا اختیار بھی الکشن کومیشن کے پاس چلا جاتا ہے ) کم سے کم اب محسوس کیے جا سکتے ہیں .. بلکل اسی طرح عدالتی سٹرکچر میں اوپر دی ہوئی تجاویز کو مدے نظر رکھتے ہوے ریفارمز لائیں تو بہت جلد اس کے اثرات بھی نظر آنا شروع ہوجائیں گے ...



  • صدیقی صاحب

    آپ کے خیالات قابل ستائش ہیں لیکن اور یہ بہت بڑا لیکن ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا

    میری ناقص رائے میں عدالتی ڈھانچہ یا عدالتوں کا سست روی پر مبنی رویہ اصل مسئلہ نہیں ہے . اصل مسئلہ ہے ہمارا پولیس کا ناقص تفتیشی نظام اور پولیس کے کاموں میں سیاسی مداخلت .ہمارا معاشرتی رویہ بھی ایک بہت بڑا عامل ہے جس میں بجائے قانون کی حکمرانی کے دوستی یاری ، رشتہ داری واقفیت اور تعلق داری آڑے آ جاتی ہے اور قانون کا نفاذ اندھیرے کنویں میں پھینک دیا جاتا ہے

    ہمارا پولیس کا رویہ ہی اصل خرابی کی جڑ اور بنیاد ہے ، اگر کوئی خلاف قانون واقعہ ہوتا ہے تو پیلس والے بجائے وقوعہ پر پہنچنے اور شہادتوں کو اکٹھی کرنے کے اور مقدمہ درج کرنے کے اس انتظار میں باتھ جاتے ہیں کہ مدعیاور ملزم میں سے کون کون بڑی سفارش اور تگڑی رشوت لے کر آتا ہے ، پولیس کا رویہ اور ذہنیت بجائے اسکے کہ جرم ہوا ہے اور معاشرے میں بد امنی اور فساد پھیلا ہے اور یہ ریاست کے خلاف کام ہوا ہے وہ اس کو مدعی اور ملزم /مجرم کے درمیان معاملہ سمجھتے اور دیکھتے ہیں ، پاکستان میں شائد کاغذوں کی حد تک ہی کسی جرم کو ریاست بمقابلہ ملزم کے طور پر پیش کیا جاتا ہو

    آپ جتنی مرضی عدالتی اصلاحات لیکر آ جائیں ، جب تک آپ برائیوں کی اصل جڑ اور بنیاد یعنی ہماری پولیس کا مائنڈ سیٹ یعنی رویہ اور طرز عمل کی درستگی اور اس میں سیاسی مداخلت کو نہیں روکیں گیں ، عدالت اور عدالتی کاموں میں کوئی اصلاح نہیں ہونے والی

    آپ نیچے والی خبر پڑھ لیں تو سب واضح ہو جاتا ہے کہ خرابی کہاں پر ہے

    ف ج



  • @MA Siddiqui Saab

    The steps that you proposed essentially cutting down appeal courts is no solution. If speedy trial is goal then why not Taliban's instant Justice? The more powers that you are giving to Judges will achieve one goal - future generations of magistrate and session court Judges don't need to work. High court and Supreme court Judges's generations don't work anyway.

    You graciously gave credit of Shahrukh Jatoi's arrest to Judiciary and didn't bother to share it with other organs of state machinery, from police to immigration, media to social network - those who did the actual work. Do you do the same when cases are not resolved? Do you blame Judiciary or then you pass on the blame to weak prosecution and other corrupt state machinery?

    I also strongly differ with you that Judiciary is superir than other state organs namely legislative and executive. Pundits like you are better off overseas.

    I 'd anxiously wait for your sequel once this "independent" judiciary will give some verdit against Sharif brothers.

    My 2 cents:

    Jury trial as oppose to bench trial like US and Canada may improve things a bit but not by whole lot as we as nation are corrupt. It will be hard to compile a jury that can't be influenced. Until then the simpler solution - just give money to Judges works better for those who know how to make it work.

    :)



  • @ FJ_ Pak

    جی جذباتی بھائی ، بہت شکریہ آپ کی قیمتی آرا کا

    آپ بلکل ٹھیک کہہ رہیں ہیں ، ہم آپ کی راۓ سے بلکل متفق ہیں

    پولیس کو ٹھیک کرنے کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے کہ پولیس کو اپریشنل آزادی دی جاۓ .. ہم پولیس ریفارمز کے اوپر بھی کام کر رہیں ہیں اور انشاللہ ایک نیا تھریڈ اس ویک اینڈ تک شروع کریں گے جس میں پولیس سٹرکچر کو ٹھیک کرنے کی تجاویز ہونگی ..

    ہمارے خیال میں اوپر والی عدالتی اصلاحات اور آنیدہ آنے والی پولیس ریفارمز کی تجاویز کو اکٹھا کرکے دیکھیں گے تو ہمیں پورا یقین ہے ایک قابل عمل حل مل جاۓ گا جو بتدریج ہمارے سسٹم کو بہتری کی طرف لے جاسکتا ہے



  • @ Shirazi

    شیرازی بھائی ہم آپ کے اٹھاۓ گے سوالوں کا انشاللہ تفصیلی جواب رات کو دیں گے ، ابھی تھوڑا سا مصروف ہیں .



  • میری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے لوگوں کی عقلِ شریف کو آخر ہوا کیا ہے جو وہ ججوں کو تمام اختیارات کا مالک دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ویسے تو پسند اپنی اپنی لیکن ان بزرجمہروں سے میرا صرف ایک سادہ سا سوال ہے کہ فرض کریں کہ اگر کل کلاں کو ایسے ججز اعلیٰ عدالتوں میں آگئے، جو آپ کی ہی نظر میں برے ہوں، تو ان سے آپ کیسے نمٹیں گے کیونکہ سارے اختیارات تو آپ نے پہلے ہی ان غیر عوامی نمائندوں کے حوالے کردیے ہیں۔۔۔۔۔۔

    :-) ;-) :-)



  • @ BlackSheep

    ہم آپ کے اٹھاۓ گے سوالوں کا انشاللہ تفصیلی جواب رات کو دیں گے



  • @Siddiqui bahi

    Ghalib requested God to strike the balance on day of judgement ...

    نہ کردا گناہوں کی حسرت کی بھی میلے داد

    یا رب اگر ان کردا گناہوں کی سزا ہے

    I will request you to do the same while analyzing Judiciary's performance. You can't just give them credit for every good that you see around and divert the blame of bad to everything else.

    :)



  • @ BlackSheep

    اتنی دیر تک آپ ہمارے آرٹیکل میں دیا ہوا پہلا نقطۂ پڑھیں جو ہمیں آپ کے سادہ سوال سے لگ رہا ہے کہ آپ نے نہیں پڑھا ، امید آپ کو جواب مل جاۓ گا ، لیکن تفصیلیجواب انشاللہ رات کو گھر واپسی کے بعد

    .

    .

    .

    ں ، جبہم کہتے ہیں کہ یہ آ علی عدلیہ ہی ہوتی ہے جو پارلیمنٹ کے بناۓ گے قانون کی تشریح کرتی ہے تو ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ عدلیہ ہی ہے جو پارلیمنٹ کے بناۓ ہوے ایک خاص قانون کو ایک خاص شخص یاں ادارے کے اوپر ، اس کے ذاتی اور وقوع کے میرٹس کو دیکھتے ہوے تشریح کرتی ہے کہ آیا جو قانون پارلیمنٹ نے بنیا ہے وو ان مخصوص حالات ، شخص یاں ادارے پر کس طرح لاگو ہوگا .. لاگو ہوگا بھی یاں نہیں



  • میری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے لوگوں کی عقلِ شریف کو آخر ہوا کیا ہے

    ہمارے لوگوں کی عقلِ شریف کو کچھ نہیں ہوا یہ شریفوں کی عقلِ شریف کو کچھ ہوا ہے



  • @ Shirazi and BlackSheep

    امید ہے آپ کے کچھ سوالوں کا جواب بھی اس دوسرے پواینٹ میں مل جاۓ گا

    .

    .

    پارلیمنٹ نے کسی بھی قانون کو بناتے ہوے سامنے رکھے ہوں ، عدلیہ کسی قانون کی تشریح کرتے ہوے ان سے تجاوز نہیں کر سکتی ، صرف بہت مخصوص حالات میں جہاں ایک مخصوص قانون بہت بڑے لیول پر پاکستانی عوام کے عمومی مفادات کے خلاف ہوں پارلیمنٹ کو واپس جایزہ لینے کے لیے بھجا جا سکتا ہے ، اس کی ایک مثال این ار او کیس ہے جہاں مجودہ سپریم کورٹ نے اس کو پارلیمنٹ کو واپس کیا تھا


Log in to reply
 

Looks like your connection to Discuss was lost, please wait while we try to reconnect.