He Wrote In 1934



  • یہ اقتباس خلیل جبران کی اک ایسی نظم سے لیا گیا ہے جو اس نے لبنان کی حالت زار پر غالباً 1934 میں لکھی تھی۔ مگر ذرا غور کیجیئے کہ اسکا اک اک حرف وطن عزیز کے لہو روتے حالات کو بیان کرتا ہے۔

    میرے دوستو اور ہم سفرو

    افسوس اس قوم پر جو یقین سے بھری لیکن مذہب سے خالی ہو

    افسوس اس قوم پر جو ایسا کپڑا پہنے جسے اس نے خود بنا نہ ہو

    جو ایسی روٹی کھائے جسے اس نے اگایا نہ ہو

    ایسی شراب پیےجو اس کے اپنے انگوروں سے کشید نہ کی گئی ہو

    افسوس اس قوم پر جو دادا گیر کو ہیرو سمجھے

    اور جو چمکیلے فاتح کو سخی گردانے

    افسوس اس قوم پر جو خواب میں کسی جذبے سے نفرت کرے

    لیکن جاگتے میں اسی کی پرستش کرے

    افسوس اس قوم پر جو اپنی آواز بلند کرے

    صرف اس وقت جب وہ جنازے کے ہم قدم ہو

    ڈینگ صرف اپنے کھنڈروں میں مارے

    اور اس وقت تک بغاوت نہ کرے

    جب تک اس کی گردن مقتل کے تختے پر نہ ہو

    افسوس اس قوم پر جس کی رہبر لومڑی ہو

    جس کا فلسفی مداری ہو

    جس کا فن پیوندکاری اور نقالی ہو

    افسوس اس قوم پر جو ہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول تاشے سے کرے

    اور رخصت گالم گلوچ سے

    اور وہی ڈھول تاشے ایک نئے حاکم کے لیے بجانا شروع کر دے

    افسوس اس قوم پر جس کے مدبر برسوں کے بوجھ تک دب گئے ہوں

    اور جس کے سورما ابھی تک پنگھوڑے میں ہوں

    افسوس اس قوم پر جو ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہو

    اور ہر ٹکڑا اپنے آپ کو قوم کہتا ہو

    ٭

    افسوس اس قوم پر جس کی رہبر لومڑی ہو جس کا فلسفی مداری ہو جس کا فن پیوندکاری اور نقالی ہو افسوس اس قوم پر جو ہر نئے حکمران کا استقبال ڈھول تاشے سے کرےاور رخصت گالم گلوچ سے اور وہی ڈھول تاشے ایک نئے حاکم کے لیے بجانا شروع کر دے. افسوس اس قوم پر جس کے مدبر برسوں کے بوجھ تک دب گئے ہوں اور جس کے سورما ابھی تک پنگھوڑے میں ہوں. افسوس اس قوم پر جس کے رہنما جھوٹے ہوں اور دانا خاموش. افسوس، صد افسوس ان لوگوں کی قوم پر جو اپنے حقوق کو غصب ہونے دیتی ہے