اینکرز اور انتشار



  • ایک ایسا عنصر جو تمام انتخابات کا لازمی جزو ہے، وہ نظر نہیں آرہا۔ یہ ہے مرکز ہو یا پھر وفاق، حکومت میں ہوں یا آنے کے خوہشمند، ان کے درمیان کارکردگی کی بنیاد پر بحث و مباحثہ۔

    چند ایک کے سوا، الیکٹرانک میڈیا کے کچھ ساتھی اس تناظر میں مسائل پر توجہ دیتے ہوئے متواتر متوازن بحث کررہے ہیں۔

    اگر مقصد سامعین کی دکھتی رگوں کو چھیڑ کر، مصالحانہ انداز میں کردار ادا کرکے اپنی طرف توجہ مبذول کرانا ہے تو ایسے بھی کئی پروگرام نشر ہورہے ہیں۔

    مثال کے طور، ٹاک شو کے درمیان عموماً تین مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے بیٹھے ہوتے ہیں، جنہیں اُکسا کر ایک دوسرے پر مشتعل انداز میں جواب دینے کی فضا بنادی جاتی ہے۔

    اُنہیں مکمل طور پر بے وقوف بنادینے میں ‘کامیاب’ مہنگے سوٹ میں ملبوس مسکراتا ہوا اینکر پرسن انہیں خاموش کرانے اور جھگڑنے سے روکنے میں ناکام رہ کر، بے بس نگاہوں سے دیکھتا رہتا ہے۔

    لیکن جب ‘کمرشل بریک’ ہوتا ہے تو یہ اینکر پرسن ایسا نہیں رہتا۔ اس بات میں پھر کوئی شک نہیں رہتا کہ وہی اس ‘پروگرام’ کا انچارج ہے لیکن جیسے ہی بریک ختم ہوتا ہے، منظر پہلے جیسا ہوجاتا ہے۔

    اگر یہ مسئلہ ایک ہو تو چلو شاید اس پر چُپ بھی سادھ لی جائے لیکن بعض چینلز کے میزبان نہایت خطرناک راستے پر چل پڑے ہیں۔ ان میں سے کچھ کو میں جانتا بھی ہوں اور اسی لیے انہیں ‘انارکی اینکر’ (یا انتشاری میزبان) کہتا ہوں۔

    http://urdu.dawn.com/2013/01/09/can-anchors-anarchy-end-aq/