بد قسمتی



  • ١ . ہندوستان کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ ملک بنانے کا خیال پیدا ہوا

    تو انہوں نے محمد علی جناح صاحب کو قائد ا عظم بنا لیا

    ٢. پاکستان کے عوام کو آمریت سے نجات کا خیال پیدا ہوا

    تو انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو قاید عوام بنا لیا

    ٣. مشرقی پاکستان کے عوام میں جب اسلام آباد سے الگ ہونے کا خیال پیدا ہوا

    تو انہوں نے شیخ مجیب الرحمان کو باباے قوم بنا لیا

    پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے مسائل اور مشکلات کا ماتم جاری ہے .

    دہشت ، وحشت اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے

    لیکن ابھی تک دور دور تک نہ تو کوئی محمد علی جناح ، نہ کوئی ذوالفقارعلی بھٹو اور نہ ہی کوئی

    شیخ مجیب الرحمان کی طرح مقبول لیڈر نمودار ہوتا دکھائی دیتا ہے جوآئیندہ انتخابات میں لینڈ سلایڈ کامیابی حاصل کر سکے

    بد قسمتی کی انتہا ہے کہ پاکستان کی پوری آبادی شدید اختلافات کا شکار ہوتی جا رہی ہے

    اور اس وقت دو سو سے زیادہ سیاسی گروہ انقلاب کا شور مچا تے ہوے دندناتے پھر رھے ہیں

    جب کسی ملک میں اتنے انقلابی لیڈر پیدا ہو جایں تو پھراس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجنا لازم ہو جاتا ہے



  • شیخ صاحب، کیا آپ لِکھ کے ایک دفعہ سوچتے بھی ہیں کہ آپ نے کیا لکھ دِیا ہے؟ اگر آپ کا جواب نہیں میں ہے تو پلیز پوسٹ کا بٹن دبانے سے پہلے کئی دفعہ پڑھ لیا کریں ، پھر ٹاس کِیا کریں کہ پوسٹ کروں کہ نہیں۔

    پاکستان ایک عشق، ایک جنون

    بے خطر کُود پڑا آتشِ نمرود میں عِشق

    عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی



  • اور یہ پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے والی بات نہ کیجیے گا دوبارہ، آپ کی مہربانی، ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں پاکستان کی اندرونی مشکلات کو اور آپ کو آج بتا ہی دیں کہ سب کا حِساب کتاب رکھا جاتا ہے اور تخمینہ بھی ، تھوڑا سا اشارہ ہے کیونکہ کہاوت ہے کہ ”عقلمند را اشارہ است”

    پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے والوں کا الحمدللہ ایسا بندوبست تیار کیا ہوا ہے کہ ایسا سوچنے والوں کی سوچ کی بھی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی، انشاءاللہ