سفید فام حسینہ کے تڑکے میں امریکی ہولناکیاں جائز؟



  • امریکی سی آئی اے اور نیوی سیلز کے مئی دوہزار گیارہ میں اسامہ بن لادن کے خلاف مشترکہ آپریشن پر مبنی ہالی وڈ کی فلم ’زیرو ڈارک تھرٹی‘ پر الجزیرہ ٹی وی کی ویب سائٹ پر امریکی پروفیسر اور حقوق نسواں کی علمبردار زلے آئزنسٹائن کا ایک تبصرہ چھپا ہے جو فلموں پر کیے جانے والے عام تبصروں سے مختلف ہے، اسی بناء پر اسے قارئین کے لیے اردو ترجمے کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔


    فلم ایک کالی خالی سکرین سے شروع ہوتی ہے اور آپ صرف گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے دن ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے جڑواں ٹاورز میں پھنسے لوگوں کی آوازیں سنتے ہیں۔ میں نے خود سے کہا کہ یہ آغاز اس لیے ہے کہ ہم اس افسوسناک دن کی یادوں میں کھو جائیں اور یہ کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی اور یہ فلم اس زیادتی کا انتقام لے گی۔ لیکن یہ انداز مجھ پر کام نہ کرسکا، چنانچہ فلم بھی مجھے متاثر نہ کرسکی۔

    میرا خیال ہے کہ کہانی اور اس کا بیان بدعنوان ہے جو امریکی پرتشدد چالاکیوں کو بغیر کسی تنقید کے نمایاں کرتی ہے۔ فلم بغیر کسی پشیمانی، ہچکچاہٹ یا شبے کہ چیخ چیخ کر نائن الیون کے بعد پیدا ہونے والے انتقامی رویے کا پرچار کرتی ہے۔

    اس فلم کے حوالے جو بات زیربحث ہے وہ تفتیش میں تشدد اور ایذاء رسانی کااستعمال اور امریکی حکومت اور سی آئی اے کی اس ضمن میں خاموش رضامندی ہے۔ فلم کی ڈائریکٹر کیتھرین بائجلو کا کہنا ہے کہ فلم میں حقائق ان کی حمایت یا مذمت کے بغیر بیان کیے گئے ہیں ۔ لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا۔ نیو یارکر کی جین میئر، جس نے تشدد و ایذاء رسانی پر کافی لکھا ہے، سمیت کئی نقاد ڈائریکٹر کے دعوے سے اختلاف کرتے ہیں۔

    میئر کا کہنا ہے کہ فلم امریکی کلچر میں تشدد کے استعمال کو معمول کے معاملے کے طور پر پیش کرتی ہے جبکہ دوسرے نقاد کا کہنا ہے کہ فلم میں تشدد کے ذریعے معلومات اگلوانے کے طریقہ کار کی کامیابی کو غلط طور پر پیش کیا ہے۔

    میں میئر سے اتفاق کرتی ہوں لیکن اس حوالے سے میرا مؤقف ذرا مختلف ہے۔ فلم میں تشدد دکھایا گیا ہے لیکن بہت محتاط اور محدود انداز سے، پردہ سکرین پر تشدد کے مناظر دیکھتے ہوئے میں نے کئی دفعہ ارادہ کیا کہ اب آنکھیں پھیرنے کا وقت آگیا ہے کیونکہ اس سے آگے تشدد شاید میں نہ دیکھ پاؤں ، لیکن یہ برداشت کی حد سے آگے نہیں بڑھا۔ ہمیں تشدد کی ہولناکیاں نہیں دیکھنی پڑیں، صرف جھلکیاں تھیں، باقی فلم بینوں کے تصور کی آنکھ پر چھوڑ دیا گیا یا وہ بھی نہیں۔

    ہم نے تشدد کے نتیجے میں انسانی روح کی تباہی اور ٹوٹی ہوئی انسانیت کی ہولناکی نہیں دیکھی۔ تشدد تو سانس لینے کی گنجائش بھی نہیں چھوڑتا، اس کا خوف ناقابل برداشت اور تذلیل قابو سے باہر ہوتی ہے۔ فلم اگراتنی جرات مندانہ ہوتی کہ تشدد اور اس کے تادیر اثرات بھی دکھاتی تو اس کی حمایت یا اسے معمول کی بات کے طور پر پیش کرنے کا تاثر نہ ابھرتا۔

    اس لیے فلم ’زیرو ڈارک تھرٹی‘ کے حوالے سے میرا مسئلہ یہ کہ یہ دیکھنے والوں اور امریکی عوام کو یہ سوچنے دیتی ہے کہ ہولناک چیزیں جائز ہیں کیونکہ یہ ممکن ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف امریکی بیان و طرزعمل کی جرات مندانہ تصویر پیش کرنے کی کوشش تنقید اور ہمت انکار کا تقاضا کرتی ہے۔

    حکمرانہ تفاخر کو جرات سے تشبہیہ نہ دیں۔ امریکہ نے جو چاہا بغیر کسی روک ٹوک کے کیا۔اسامہ بن لادن کو مارنے کے لیے اس نے اکیلے پاکستان گھسنے سے بھی احتراز نہیں کیا، اگرچہ ایک عرصے سے یہ غیر واضح تھا کہ اسامہ اب خطرہ بھی ہے کہ نہیں کہ اس کے لیے اس طرز کی انتقامی کارروائی کی جاتی۔

    حکمرانہ نسوانیت

    عراق اور افغان جنگوں کے آغاز میں بھی میں نے لکھا تھا کہ بش انتظامیہ حقوق نسواں کے نام پر بم نہ گرائے، ان جنگوں اور ہلاکتوں کو طالبان کے خلاف خواتین کے حقوق کی علمبرداری کی آڑ میں جائز قرار نہ دے۔ آپ ان خواتین پر بم نہیں گرا سکتے جن کو بچانے کا آپ عزم کیے ہوئے ہیں۔ دہشت کی جنگ کو سنہرے بالوں والی ایک سفید فام حسینہ کے چہرے کی مدد سے صاف کرنے کی کوشش نہ کریں۔دہشت کی جنگ کے ہولناک پہلوؤں سے صنفی غیرجانبداری کی آڑ میں توجہ نہ ہٹائیں۔

    میرا کہنا ہے کہ امریکی انتقامی جنگ کو جائز ثابت کرنے یا اس کی وضاحت کرنے کے لیے ایک خوبصورت حسینہ کو سامنے نہ لائیں جو فلم میں نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ کو پکڑنے کے جنون میں مبتلا ہے۔ انتقام میں کچھ نسوانی نہیں ہے۔ہمیں انڈیا میں نسوانی حقوق کے علمبرداروں سے سیکھنا چاہیے جو ’جیوتی سنگھ پانڈے کیس‘ میں ملزموں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ نہیں کر رہے، ان کا کہنا ہے کہ صنفی انصاف کو بحث و جدوجہد کا مرکز ہونا چاہیے ناکہ سزائے موت کو۔

    فلم کی ہیروئین سی آئی اے ایجنٹ مایا کا کردار ناقابل یقین ہے، جو کہ ایک ایسی جنونی اور مقصد پر یقین رکھنے والے فلمی کردار کی ترجمانی کرتا ہے جو روایتی طور پر سطحی ہے اور جس کا کوئی دوست نہیں۔ وہ کہتی ہے کہ وہ نیوی سیلز استعمال کرنے کی بجائے بم گرانے کو ترجیح دے گی۔وہ کہتی ہے کہ وہ سو فیصد جانتی ہے کہ اسامہ اسی عمارت میں ہے اور وہ ہی ’مادر ۔۔۔ ہے‘ جس نے سب سے پہلے اسامہ کا پتہ لگایا ہے۔ وہ آپریشن کرنے والے مرد سیلز کو یقین دلاتی ہے کہ اسامہ ادھر ہی ہے اور وہ اس کی خاطر اسے مار دیں۔

    فلم دیکھتے ہوئے میں سوچ رہی تھی کہ یہ ہم سے نفرت کرتے ہیں، اس لیے کہ ہم قابل نفرت ہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ فلم پوری دنیا میں دکھائی جائے گی۔ اسے ایک سفید فام حسینہ کے تڑکے کے ساتھ تاج امریکہ کی ایک اور کہانی کے طور پر پڑھا جائے گا، یہ ان سب امریکیوں کے ساتھ کتنی ناانصافی ہے جو انتقام اور قتل کا انتخاب نہیں کرتے۔ یہ میرے ان پاکستانی دوستوں کے ساتھ کتنی زیادتی ہے جو امریکی شہری بھی ہیں۔ یہ ہم سب کے ساتھ زیادتی ہے۔

    یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انصاف کے بغیر کوئی حقوق نسواں نہیں اور انصاف کے بغیر کوئی امن نہیں۔


    الجزیرہ کے مقبول ٹاک شو ’Empire‘ میں ہالی وڈ اور امریکی جنگی مشین کے تعلق پر بھی ایک پروگرام کیا گیا جو دیکھنے لائق ہے۔

    http://www.aljazeera.com/programmes/empire/2010/12/2010121681345363793.html


    http://www.topstoryonline.com/zerodarkthirty-film-review


Log in to reply
 

Looks like your connection to Discuss was lost, please wait while we try to reconnect.