لوڈ شیڈنگ اور عوام کی حالت



  • سبزی والے کے پاس کھڑے ایک نوجوان نے پانچ روپے سبزی والے کو دئیے اور اس صرف ایک ٹکڑامانگا جو سبزی والے نے دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ بھائی صاحب 30روہے کلو کے حساب سے پانچ روپے کا آتا ہی کیا ہے جو میں آپ کو دوں ؟ مگر نوجوان بابار دوکاندارے سے تقاضہ کرتا رہا میں وہاں کھڑا مشکل میں پڑ ھ گیا کہ اگر میں اس نوجوان کی مدد کروں تو شاید وہ برا نہ محسوس کرے برحال میں نے سبزی والے کو آنکھ سے اشارہ کیا کہ وہ اس کامطالبہ پورا کردے ادائیگی میں کردونگا۔

    لوڈ شیڈنگ ، گیس کی بندش ،کارخانے بند ،عوام بے رو ز گار آج حالت یہ ہے کہ ایک وقت کی روٹی لئے غریب عوام ترس رہے ہیں مگر حکمرانوں کو ذرا برابر شرم نہیں اگر یہی حال رہا تو نوبت قحط سے بھی بری ہوجائے گی اور عوام بوڑھے ،بچے بھوک سے مر جائیں گے ۔میں ایسے کئی لوگوں کو جانتا ہوں جو لوڈ شیڈنگ کی وجہ شدید متاثر ہوئے ہیں اور انکی سفید پوشی کا بھرم بھی جاتا رہا ۔

    ہمار ے حکمران جو اقتدار کے نشے مست ہیں انہوں نے تو اپنی اولادوں اور انکی بھی آنے والی نسلوں تک کا انتظام کررکھاہے بجلی ہو نہ ہو ان کو اس سے کوئی پرواہ نہیں ان کے بچوں کی شامیں پیرس میں اور دن لندن میں ہوتے ہیں ،جاگتے ہیں حسینوں کے بانہوں میں سوتے ہیں تو نرم ملائم بستروں پر ،سفر کرتے ہیں تو عوام کی لوٹی ہودولت سے کروڑوں کی بلٹ پروف گاڑیوں میں ان کو کب خبر ہوتی ہے کہ غریب عوام کی کیا حالت ہو رہی ہے یہ ڈاکوں ،چور ،لٹیرے ،کرپشن کے کنگ جب اپنی لوٹی ہوئی دولت میں کمی محسو س کرتے ہیں تو حکومت میں موجود اپنے آلہ کاروں کی مدد سے ملک کنگال کرنے کا کوئی نیا منصوبہ بنا لیتے ہیں چن چن کر اپنے ارد گرد حرام خور اکھٹے کر رکھے ہیں جو نت نئے کرپشن کے ذرائع نکال کر ملکی دولت سمیٹنے میں مصروف ہیں اوپر سے انتہائی ڈھٹائی سے خود کو دوبارہ اقتدار میں آنے کی عوام کو خوشخبری سناتے ہیں شرم محسوس کئے بغیر خود کو عوامی حکومت قرار دیتے ہیں ۔

    خدا کی پناہ پانچ سالوں میں ایک دن آرام سے نہیں گزرا یہ عوامی حکومت ہے ؟ بجلی یہاں نہیں ،گیس یہاں نہیں روز مرہ کی اشیا ء عوام کی قوت خرید سے باہر ہیں اب تو تن ڈھانپنے کیلئے کپڑا تک ٹھیک طرح سے میسر نہیں رہا ۔روٹی ،کپڑا ،اور مکان کا نعرہ لگانے والے تو سب کچھ عوام سے چھین لینے پر تلے ہوئے ہیں ۔

    اگر سلسلہ یوں ہی چلتا رہا تو ملک کی بقاء خطرے میں پڑھ سکتی ہے اور ملک سالمیت اور بقاء کو خطرہ لاحق ہو تو ملک بچانے کے لئے نوجوانوں کو سر پر کفن باندھنا ہوگا ۔وقت دور نہیں جب ہمارے ہاتھ کچھ نہیں رہنے والا ۔ (اٹھو،نکلو اور بچا لو پاکستان)

    نکالوں چوروں کو ان کے محلات سے جنہوں نے تمہارا آنے والا کل تاریک کردیا ۔ہمیں لڑنا ہے اپنے ملک کے لئے ، ہمیں لڑنا ہے پاکستان کی بقا کے لئے ۔