نگران سیٹ اپ



  • الیکشن قریب سے قریب ہیں مگر نگران سیٹ اپ کی طرف پیش رفت بہت آہستہ نظر آتی ہے، کبھی کوئی خبر/ڈسکشن ہوتی بھی ہے تو وہ نگران وزیراعظم کے بارے میں ہوتی ہے، صوبوں کے بارے میں بالکل ہی خاموشی ہے، سندھ اور بلوچستان میں خاص طور پر مسائل ہیں کہ سندھ میں اپوزیشن لیڈر موجود نہیں اور بلوچستان میں سرے سے حکومت ہی غائب ہے

    کیا یہ معاملات دو چار ہفتوں میں حل ہو سکتے ہیں؟ وہ بھی ایسی صورتحال میں کہ وسیح تر اتفاق رائے درکار ہو



  • میری ناقص را ے میں اب تمام بڑے کھلاڑیوں کو اندازہ ہو گیا ہے ک الیکشن میں حصّہ لئے بنا کوئی چارہ نہیں !! یہ امر قا بل غور ہے کہ آخر کیوں یک دم ہی نواز شریف نے جلسوں پہ زور زیادہ کر دیا ہے؟ کس بات نے زرداری کو لاہور میں ڈ یرے ڈالنے پہ اکسایا ؟

    اور جب یہ دونوں ہی الیکشن کو سر پہ دیکھ رہے ہیں تو ٤ ہفتے تو کیا ، اتفاق را ے ٤ گھنٹوں میں بھی ممکن ہے :)



  • بھائی بات دونوں کے ماننے کی نہیں، سب کے ماننے کی لگتی ہے اس لئے ہو سکتا ہے کہ تان الیکشن کمیشن پر ہی آ کر ٹوٹے



  • نگراں وزیراعظم کے لیے، متفقہ امیدوار کے نام پر صلاح و مشورے کے لیے، حکومت اور حزبِ اختلاف کو دی گئی ہدایات اتنی سہل اور سادہ نہیں ہوسکتی۔

    اگر آپ متفق نہیں ہوپاتے تو پھر دونوں فریقین دو، دو نام پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کردیں۔ اگر کمیٹی میں بھی اس معاملے پر اتفاقِ رائے نہیں ہوپاتا تو پھر فیصلے کے لیے معاملہ الیکشن کمیشن پر چھوڑ دیجیے۔

    انتخابات کے انعقاد کے لیے، نگراں حکومت کے واسطے وزیرِ اعظم کی تقرری پر، آئین میں واضح طریقہ کار بیان کردیا گیا ہے تو پھر یہ ساری ابہامی صورتِ حال کس لیے؟

    صدر، وزیرِ اعظم، وزیرِ اطلاعات، اپوزیشن لیڈر، مسلم لیگ ن کے سربراہ اور بہت سارے سیاستدان، چاہے پارلیمنٹ میں ان کی جماعت کی نمائندگی ہو یا نہ ہو، مگر سب کیمرے کے سامنے آ کر متواتر بیانات دیے چلے جارہے ہیں، ایسا کیوں ہے؟

    یقینی طور پر، بہتر طریقہ تو یہی ہے کہ بند کمرے میں بیٹھ کر باہمی اتفاقِ رائے سے مسئلہ حل کرلیا جائے۔

    ہر بار، جب کسی ایک جماعت نے ممکنہ امیدوار کا تذکرہ کیا، دوسری جماعت نے فوراً اعتراض اٹھادیا۔ یوں ممکنہ نگراں وزیرِ اعظم متنازع بن جاتا ہے۔

    بالکل ایسا ہی اس وقت بھی ہوتا رہا کہ جب ایک طرف سے ججوں اور جرنیلوں کے ناموں کی تجویز دی گئی تو دوسری طرف سے اس پرعدم اتفاق ظاہر کردیا گیا۔

    بالکل اسی طرح کا غیر ضروری عوامی رویہ انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کے حوالے سے بھی دیکھا گیا ہے۔

    حکومت تجویز دیتی ہے کہ وہ وسط مارچ میں، فطری طور پر اسمبلی تحلیل ہونے کی مدت کے قریب، اس کا اعلان کردے گی لیکن ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے احتجاجی لانگ مارچ میں اس کے لیے وسط فروری کی تجویز پیش کردی تھی۔

    علاوہ ازیں، اپوزیشن بھی فوری طور پر عبوری نگراں حکومت کے قیام پر زور دے رہی ہے لیکن قبل از وقت پنجاب اسمبلی تحلیل کرانے کی کوئی یقین دہانی نہیں کرارہی۔

    یہ مطالبہ ایسے الزام کی بنیاد پر کیا جارہا ہے کہ جس کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ الزام یہ ہے کہ حکمراں جماعت انتخابات کا التوا چاہتی ہے۔

    ان سب باتوں کا تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں اُن کے دلائل کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ سویلین قیادت پاکستان پر حکمرانی کے لائق نہیں۔

    یہ اپنی جانب متوجہ کرانے کی کوششیں ہیں۔ جیسے جیسے انتخابات قریب آتے ہیں، سیاسی حریف نمبر بڑھانے (پوائنٹ اسکورنگ) کے لیے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے شروع کردیتے ہیں۔ محسوس یہی ہوتا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت بھی یہی سب کچھ کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

    تاہم ایسے میں منگل کو نواز شریف نے جو کچھ کہا، وہ کس حد تک درست ہے۔ چاہے یہ ضروری ہے یا نہیں کہ فوری طور پر نگراں حکومت قائم کردی، جیسا کہ انہوں نے تجویز کیا اور جس پر بحث بھی کی جاسکتی ہے، تاہم ان کا ایک نقطہ یہ تھا کہ مذاکرات میں تعطل جمہوری عمل کے لیے مددگار نہیں ہوگا۔

    حکومت اور اپوزیشن با معنیٰ انداز میں ایک دوسرے سے بات چیت کرتے نظر نہیں آرہے، حالانکہ حقیقی طور پر، پسِ پردہ مشاورت میں ان کی نگاہیں اس انعام پر ٹکی ہیں جو ہموار جمہوری تبدیلی کا ثمر اور خود ان کے اپنے مفاد میں بھی ہے۔

    http://urdu.dawn.com/2013/02/15/talks-overdue-dawn-editorial-aq/



  • After the drop scene of Qadri drama let the dust settle little bit. Let the mourners come out of their mourning period. I think next few weeks are very important in this regard. Zardari wanted to have another shady deal from his new palace in Bahria Town but rightly snubbed by the PMLN as we was plainly asked to follow the constitution whereby it is clearly mentioned that it shall be decided by the leaders of the house and opposition and not by anyone else.



  • somehow I have a feeling that both PPP and PMLN have already decided about the caretaker setup and just passing time until next month to avoid another situation. They don't want outsiders to sabotage the process again by objecting on every nominated person and want to announce names right at the dissolution times. I believe it is a great tactic to let establishment guessing until the very last moment.



  • Asma Jhangir is the perfect candidate for care taker PM post and she has credentials/competence to do this job.



  • @Sulaiman Dar

    آہاں

    تو اس لئے واپس جا کر نواز شریف کی بد اخلاقی و بے مروتی کی خبریں اور کالم لگوایے جا رہے ہیں کہ تعزیت پر نہ آنے دیا، ویسے اخلاقیات کے طعنے سیاست میں عجیب بات لگتی ہے خصوصاً زرداری کی طرف سے جو سب کو سیاست سکھانے کا دعوادار بھی ہے

    :)



  • جیسا کہ رحمان ملک کے بیانات اور حقیقت میں جو تعلق ہوتا ہے، یہاں بھی وہی صورت حال لگتی ہے



  • EasyGo,

    Zardari is nothing but a selfish scoundrel capitulating on the prospects and gains of her deceased wife. He exposed himself quite early when he even disowned his own words during 2008-9 judges restoration movement. Why should we or anyone else respect a person who's not even respected by his own wife as per Ghulam Mustafa Khar.



  • It is good if he still is in the lists. Don't know who should oppose him.

    اسلام آباد: نگران وزیر اعظم کے لیے مضبوط امیدوار سمجھے جانے والے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو ایوان صدر میں ظہرانے پر مدعو کیے جانے اور تقریب میں غیر معمولی پروٹوکول ملنے پر سنجیدہ حلقوں میں بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔

    صدر آصف علی زرادری نے اتوار کو فلسطینی صدر محمود عباس کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں اچکزئی واحد رہنما تھے جن کا پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق نہیں تھا۔

    تقریب میں اچکزئی کوغیر معمولی پروٹوکول دیا گیا اور انہیں صدر آصف علی زرداری، صدر محمود عباس اور وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے ساتھ کھانے کی مرکزی میز پر پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بالکل ساتھ بیٹھایا گیا۔

    اس موقع پر پی پی پی کے کئی رہنما اچکزئی کے ارد گرد انہیں خوش کرنے کی کوشش کرتے پائے گئے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ نگران وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں۔

    ظہرانے میں شریک ایک اعلی عہدے دار نے ڈان کو بتایا کہ پی پی پی کے چند وزراء اور سینیئر رہنما اچکزئی کو خوش کرنے میں مصروف لگ رہے تھے۔

    تقریب کے دوران اچکزئی نے صحافیوں سے گفتگو میں نگران وزیراعظم کے موضوع پر بات کرنے سے گریز کیا۔

    تاہم انہوں نے اتنا ضرور کہا کہ سولہ مارچ کو پی پی پی کی اتحادی حکومت کے خاتمے کے بعد ہی الیکشن ہونے چاہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات ہر قیمت پر ہونے چاہیں چاہے ‘اس میں چچا فضل الرحمان ہی کیوں نہ جیتیں’۔

    اچکزئی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ نگران وزیراعظم بننے میں دلچسپی نہیں رکھتے لیکن حال ہی میں انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف انہیں نگران وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔

    واضح رہے کہ آئین کے تحت نگران وزیر اعظم کا انتخاب موجودہ وزیر اعظم اور قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے مرکزی رہنما کے درمیان مشاورت کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ اور اس وقت حزب اختلاف کے قائد کا عہدہ ن لیگ کے پاس ہے۔

    صدر زرداری کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر سے جب پوچھا گیا کہ دوسری سیاسی جماعتوں کے سیاسی رہنماؤں کے برعکس صرف اچکزئی کو ہی ظہرانے کی دعوت کیوں دی گئی تو انہوں نے واضح جواب دینے سے انکار کیا اور صرف اتنا کہا کہ وہ متعلقہ لوگوں سے معلوم کریں گے کہ صرف اچکزئی کو ہی کیوں دعوت دی گئی۔

    البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ میڈیا میں اچکزئی کو نگران وزیر اعظم کے لیے مضبوط امیدوار قرار دیے جانے کے بعد تقریب میں ان کی موجودگی خاصی اہمیت رکھتی ہے۔

    سینیٹر بابر نے بتایا کہ اچکزئی اور صدر زرداری کے درمیان تقریب سے پہلے یا بعد میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

    http://www.urduvoa.com/content/pakistan-set-up-government/1605742.html



  • He is willing and able to head the care-taker government.

    A very good sign for democracy in Pakistan, bad news for establishment.

    http://www.youtube.com/watch?v=6igUnENKOQg



  • This post is deleted!


  • The luckiest person who qualifies as an efficient, capable, honest, ideal


    and is also unanimously acceptable to all of the political parties,

    Could be legalized to stay at the Office of Prime Minister for 5-10 years or more.

    He might perform and deliver better than any Elected Representative who could be controversial.



  • Army may take over before care taker set up and army general can be a strong candidate for this job.



  • ^^

    Bhai, is this a news or your best wishes for Pakistan.



  • He is willing and able to head the care-taker government.

    A very good sign for democracy in Pakistan, bad news for establishment.

    ======

    Zia Sahib

    How do you see the statement by ISPR two three days ago, that army want timely elections; it has supported democracy for five years and won't change its policy now.

    Quite an unusual and open statement.



  • امریکی پالتوں کو وارنگ دی جاتی ہے

    بھونکے کیلیےکوئی اور نکر وکر تلاش کریں

    حکم عدولی کی صورت میں امریکی پالتوں کو

    پیر کاکے شاہ کالے پانی والے کے تارے میرے کے

    تیل والے ڈنڈے سے سواگت کی جائےگی



  • ایزی گو بھائی

    سلام

    امید ہے آپ خیر خیریت سے ہیں



  • واعلیکم السلام اور شکریہ پروفیسر بھائی

    الله کا شکر ہے اور مزید اچھے وقت کا انتظار ہے

    میرے خیال میں الیکشن وقت پر ہی ہونگے اور کچھ اچھا ہی دیکھنے کو ملے گا