جھلا کی لبدا پھرے؟ - دیوانہ کیا ڈھونتا پھرے؟



  • A fool is looking for what? (with permission from Shirazi)

    یار سمپورن سنگھ ، تجھے یہ کیا سوجھی کہ بارڈر پار کرتے ہی تو جہلم کے دینہ چلا گیا۔نہ صرف چلا گیا بلکہ جنم بھومی دیکھ کر جذباتی سا بھی ہوگیا۔ رہا نا کیس کٹانے کے بعد بھی سردار کا سردار ۔۔۔ٹھیک ہے تو دینے کے کلرا گاؤں میں پیدا ہوگیا تھا پر تو ہے تو انڈین ۔جیسے میرا باپ ٹونک راجھستان میں پیدا ہوگیا تھا پر تھا تو وہ پاکستانی ۔۔۔جہاں تو نے ستتر میں سے ستر سال دینہ جائے بغیر گزار دیے وہاں صرف پانچ سات سال کی تو اور بات تھی۔

    ویسے تو دینے سے نکلا کب تھا ؟ اس بڑھاپے میں بھی جب تو ممبئی کے باندرہ جمخانے میں ہر صبح ٹینس کی بال اچھالتا ہے سچی سچی بتا نیٹ کے دوسری طرف دینہ کے علاوہ اور کیا ہوتا ہے ؟؟؟؟

    اسی بارے میںگلزار کی پاکستان سے اچانک بھارت واپسیبالی وڈ راؤنڈ اپثقافتی شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے سائے

    متعلقہ عنواناتفن فنکارجھلا کی لبدا پھرے

    یارو او گھر کیہڑا

    لوکاں توں پچھدا پھرے

    جھلا ہسدا پھرے ، جھلا روندا پھرے

    جھلا گلی گلی رلدا پھرے۔

    مسافر ہوں میں یارو

    نا گھر ہے نا ٹھکانہ

    مجھے چلتے جانا ہے بس ۔۔۔

    چلتے جانا۔۔۔۔۔

    او ماجھی رے ۔۔۔۔

    اپنا کنارہ

    ندیا کی دھارا ہے۔۔۔

    تجھ سے ناراض نہیں ہوں زندگی

    حیران ہوں میں ۔۔پریشان ہوں میں۔۔

    قطرہ قطرہ ملتی ہے

    قطرہ قطرہ جینے دو

    زندگی ہے پینے دو

    پیاسی ہوں میں پیاسی رہنے دو۔۔۔۔

    اوئے سمپورن مجھے ایک بات تو بتا ۔۔۔۔تو نے آخر اتنے برسوں میں سیکھا کیا ؟ اتنا تیرا نام ہے ۔۔۔کیسی بانکی من موہنی تیری شکل ہے۔۔۔ایک سو بیس فلموں کے تو نے گانے، انیس فلموں کے ڈائیلاگ اور اتنی ہی فلموں کی کہانیاں لکھیں۔ بائیس فلموں کو ڈائریکٹ کیا ۔دو فلمیں جیب سے بنائیں ، مرزا غالب سمیت تین ٹی وی سیریلز پیدا کئے ، بارہ میوزک البم تخلیق کیے ۔اکتیس فلم فئیر ایوارڈز ، ایک آسکر ، ایک گریمی اور ایک پدم بھوشن سینے پہ ٹانک لیا ۔تین شعری مجموعے اور ایک کہانیوں کا مجموعہ چھاپ مارا۔ایک ذہین بیٹی کو دنیا میں لایا۔

    ’اپنے آپ راتوں کو سیڑھیاں دھڑکتی ہیں ، چونکتے ہیں دروازے‘ ۔۔۔جیسی طلسماتی لائنیں نغمے میں ڈھال دیں۔۔۔پر نہیں سیکھی تو زندگی گذارنے کی مصلحتی الف ب نہیں سیکھی۔۔۔

    تجھے اب دینے جانے کی آخر کیا ضرورت پڑ گئی تھی ؟ وہاں کیا دھرا ہے ؟ ہوگیا نا ایک دفعہ پیدا تو ، ہوگئی ایک دفعہ پارٹیشن ، دھکیل دیا گیا تیرے جیسے لاکھوں خاندانوں کو ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر ۔اب کیوں اپنے اور دوسروں کے زخموں کو کریدنے کے شوق میں مرا جارہا ہے۔۔۔۔

    سات دن تجھے رہنا تھا پاکستان میں۔۔رہتا لاہور کے ہیپی گو لکیوں کے درمیان اور کراچی کے ادب میلے میں اور پھر بند گھروں میں عیاشی کے ساتھ ۔۔دیتا اپنے مرضی کے چینلوں کو انٹرویو۔۔۔کرتا میٹھی میٹھی ملاؤنی باتیں۔۔۔اور سوار ہوجاتا جہاز میں نم آلود آنکھوں کے ساتھ یہاں کی آْؤ بھگت کی تعریفیں کرتے کرتے۔۔

    جب تو نے ان لائنوں والی نظم بھی لکھ دی تھی کہ

    آنکھوں کو ویزا نہیں لگتا

    بند آنکھوں سے روز سرحد پار چلا جاتا ہوں

    سپنوں کی سرحد کوئی نہیں۔۔۔۔

    تو اس کے بعد کھلی آنکھوں دینہ جانے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی؟

    تیرا کیا خیال تھا کہ وہاں جو بچے تیرے ساتھ لکن میٹی کھیلتے تھے ان کی عمریں منجمد ہو چکی ہوں گی؟ وہ درخت جنہیں تیرا نام یاد تھا ان کی یاداشت اور بینائی آج بھی تازہ ہوگی؟ جس آنگن میں تو دوڑتا تھا اس کی اینٹوں کا رنگ ویسا ہی لال لال ہوگا ؟ جس کمرے کی دیواریں تیری سوتیلی ماں اور بہن بھائیوں کی ڈانٹ اور پیار سے تیرے باوا نے گوندھی تھیں ان کا پلستر وہیں کا وہیں جما ہوگا ؟؟۔۔۔۔۔

    یار سردار جی تجھے اتنی سی بات پلے نہیں پڑی کہ جس جگہ کو چھوڑ دو اس کی طرف مت لوٹو ۔کہیں وہ تصویر بھی برباد نہ ہوجائے جو دل کے ڈرائنگ روم میں یاد کی کیل سے ٹنگی ہے۔

    اب تو اچھا رہا۔۔۔۔دل کا دینہ بھی تیرے ہاتھ سے گیا ۔۔۔۔

    سمپورن سنگھ ایک تو مجھے تیری آج تک سمجھ نہیں آئی ۔ایک طرف یہ مصرعہ لکھتا ہے کہ،

    نظر میں رہتے ہو جب تم نظر نہیں آتے

    اور پھر اس کے بالکل الٹ تو دینہ چلا گیا۔وہ بھی اپنی نظروں سے دیکھنے۔۔۔۔

    پتہ ہے کیا؟ اب میں تجھے تھوڑا تھوڑا سمجھنے لگا ہوں ۔۔۔تو ہنسنے ، رونے ، چیخنے والا جھلا بالکل نہیں۔تو ایک اذیت پرست آدمی ہے۔۔۔تو وہاں اس لیے گیا تھا کہ غم و اندوہ ، ٹوٹ پھوٹ کا تازہ سٹاک مل جائے اور پھر تو اس خام مال سے باقی زندگی نغماتی و نثری بت تراشے۔۔۔یہ تم جیسے تخلیق کاروں کی بڑی پرانی ٹکنیک ہے۔۔۔۔

    دیکھ اگر تو اپنی خود غرضی کی قربانی دے دیتا اور دینہ نا جاتا تو کتنے ہزار لوگ تجھے لاہور اور کراچی میں دیکھ کر ، سن کر اور سوچ کر گلزار ہوجاتے۔۔۔مگر تو نے ان کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔۔۔ اب تو کہہ رہا ہے کہ جلد پاکستان واپس آئے گا ۔۔۔۔۔یار سمپورن اپنی عمردیکھ اور اپنے وعدے دیکھ۔۔۔۔

    اب جب کہ تو لوٹ گیا ہے ۔اب تو بتا دے تجھے دینہ جانے کا مشورہ دیا کس نے تھا؟؟؟؟

    http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2013/02/130213_gulzar_returns_to_india_rk.shtml



  • Mr. Gulzar's sudden return was result of a wrong signal by the Indian High commissioner.

    There could be something 'serious' behind the curtain.


  • administrators

    For those who do not know the context of the above satire:

    Sampooran Singh Kalra (born August 18, 1929 [age 83] Dina, Jhelum District, Punjab, British India now in Pakistan), known popularly by his pen name Gulzar, is an Indian poet, lyricist and director. He is the husband of famous actress Raakhee and the father of a rising Indian director and screen writer, Meghna Gulzar.


    ISLAMABAD: Sampooran Singh Kalra, better known as the poet ‘Gulzar’, visited his birthplace in Dina, Jhelum District on Tuesday to rekindle his childhood memories.

    http://tribune.com.pk/story/506995/homecoming-gulzar-inaugurates-school-block/


    Gulzar returns from Pak due to Afzal Guru fallout

    New Delhi, Feb 13: The hanging of Afzal Guru continues to sour relations between India and Pakistan and the latest victim is poet and film maker Gulzar. He is in Pakistan and today the Indian High Commission asked him to return to India as situation was not suitable for his stay. Gulzar has since returned to India through Wagah border.

    http://news.oneindia.in/2013/02/13/gulzar-returns-from-pak-due-to-afzal-guru-fallout-1149168.html


    KARACHI: Realising the dismay that his early return to India from Lahore would have caused to his admirers in Pakistan, Indian poet and filmmaker Gulzar on Thursday wrote a letter to the founder and organiser of the Karachi Literature Festival, Ameena Saiyid.

    http://dawn.com/2013/02/15/gulzar-apologises-to-people-festival-organiser/



  • Dear Admin,

    Thanks for sharing such information.

    Mr. Gulzar is one of the most respectable and innovative living legends in Show Business.



  • ہمسایے سے خوامخواہ نفرت نہیں ہونی چاہیے

    اچھے روابط اور تجارت ہونی چاہیے

    نصاب سے ازلی دشمن کا تاثر ختم ہونا چاہیے

    مگر

    ایک طرف صوبوں کو مزید تقسیم کی باتیں اور دوسری طرف سرحدیں ختم کرنے کے خیالات، کیسے ممکن ہے

    تالی ایک ہاتھہ سے بجانا، کیسے ممکن ہے



  • ایزی گو بھائی جی

    ہمسائے سے اچھے تعلقات اچھی بات ہے لیکن یہ تعلقات یکطرفہ نہیں ہوتے ہیں

    ہمسایہ لاشیں بھیجے تو اسے جواب میں پھول نہیں بھیجے جا سکتے

    .

    .



  • Incidentally, the lyricist of the song and the adopted title of this satire “Jhalla Ki Labda Phiray” / Challa Ki Labda Phire is Gulzar.

    http://www.youtube.com/watch?v=xVjkxRLSVOg

    Lyricist: Gulzar

    Music Director: A R Rahman

    Singer: Rabbi Shergill

    Film Director: Yash Chopra