End of Qadri Circus



  • **

    قادری اور حکومتی معائدے کا انجام

    **

    سپریم کورٹ کی طرف سے چھترول کرنے کے بعد اب حکومت نے بھی قادری کے ساتھ کتے والی سے کم نہیں کی ہے. دھرنے اور اسکے بعد ہونے والے حکومت وفد اور بابے قادری کے درمیان مذاکرات میں طے پایا تھا کہ

    ایک: اسمبلیاں اپنی مدت پوری ہونے سے قبل یعنی سولہ مارچ سے پہلے تحلیل کر دی جائیں گی

    دو: اسمبلیوں کی تحلیل کا اعلان ایک ہفتے میں کر دیا جائے گا

    تین: اسبملیاں تحلیل ہونے کے بعد الیکشن نوے دن کے اندر کروائے جائیں گے

    چار: الیکشن لڑنے والے امیدواروں کی آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ کے مطابق سکرونٹی کا کام الیکشن کمیشن ایک ہفتے کی بجائے تیس دن میں مکمل کرے گا

    پانچ: الیکشن کمیشن کی تحلیل پر مذاکرات کیے جائیں گے اور اسکے نتیجے میں الیکشن کمیشن کی ممکنہ تشکیل نو کی جائے گی

    چھ: نگران وزیر اعظم کے لیے قادری سے حکومت مشورہ کرے گی اور متفقہ طور پر دو ناموں پر اتفاق کیا جائے گا

    سب سے پہلے تو قادری کو اسوقت منہ کی کھانی پڑی جب دھرنے کے دوران حکومت کو یزیدی ٹولہ قرار دینے کے بعد اسی حکومت سے مذاکرات کرنے پڑے جسے ایکس ایکس ایکس قرار دیا تھا اور اسی وزیر اعظم سے معائدہ کرنا پڑا جسے گرفتار کرنے کا حکم جاری کرنے پر سپریم کورٹ کو بار بار مبارکباد دی گئی تھی اور یہ اعلان کیا گیا تھا کہ "میرا آدھا کام آج مکمل ہوگیا ہے اور باقی آدھا کل مکمل ہو جائے گا". اسکے بعد حکومت کی طرف مذاکرات کو بابے قادری نے اپنے ایجنڈے کی کامیابی قرار دیا تھا اور "یزیدوں" سے جپھیاں ڈال کر جشن منایا تھا اور دھرنہ ختم کر دیا

    اس معائدے کے تحت الیکشن کمیشن کی تحلیل اور تشکیل مذاکرات سے ہونا تھی لیکن بابا قادری اس معائدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھاگا بھاگا سپریم کورٹ گیا تھا اور وہاں اس کی جو درگت بنی وہ ہم سب جانتے ہیں. امید ہے کہ اب وہ کبھی سپریم کورٹ کا نام زبان پر نہیں لائے گا

    جو تھوڑی بہت بچ گئی تھی وہ آج حکومتی وفد نے پوری کر دی ہے. آج حکومتی وفد اور بابے قادری کے درمیان مذاکرات کے بعد اب اس معائدے کی اصل صورتحال جو سامنے آئی ہے وہ کچھ یوں ہے

    ایک: اسمبلیاں اپنی مدت پوری ہونے سے قبل یعنی سولہ مارچ سے پہلے تحلیل نہیں ہونگی بلکہ اپنی مدت پوری ہونے پر سولہ مارچ کو تحلیل ہونگی

    دو: اسمبلیوں کی تحلیل کا اعلان ایک ہفتے میں کرنے کا جو معائدہ کیا گیا تھا وہ حکومت نے قادری کے منہ پر دے مارا اور اب یہ اعلان شاید نہیں ہوگا اور اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرکے خود بخود ختم ہو جائیں گی

    تین: اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد قادری نے اسبلیوں کی تحلیل کے نوے دن کے اندر الیکشن کروائے کا بڑے فخر اور دعوے سے ذکر کیا گیا تھا اب اس پر پسپائی اختیار کرکے ساٹھ دن تسلیم کر لیا گیا ہے

    چار: الیکشن لڑنے والے امیدواروں کی آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ کے مطابق سکرونٹی کا کام الیکشن کمیشن ایک ہفتے کی بجائے تیس دن میں مکمل کرنے کا دعوا بھی تھوک کر واپس لے لیا گیا ہے اور اب یہ سکرونٹی تیس دن کی بجائے چودہ دن میں مکمل کی جائے گی جو ناممکن ہے. اس طرح آئین کی شق باسٹھ اور تریسٹھ کے مطابق سکرونٹی اور وہ بھی تیس دن میں والا ڈرامہ بھی اختتام پزیر ہوا

    پانچ: الیکشن کمیشن کی تحلیل اور تشکیل نو پر مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنے کی بجائے قادری نے سپریم کورٹ جا کر اسے انجام تک پہنچا دیا

    چھ: نگران وزیر اعظم کے لیے زرداری حکومت قادری سے جو مشورہ کرے گی اور اسے جو اہمیت دے کی وہ ہم خوب جانتے ہیں. آخر نگران وزیر اعظم کا فیصلہ اپوزیشن لیڈر اور وزیر اعظم نے ہی کرنا ہے یا پھر انکے اتفاق نہ ہونے کی سورت میں اسکا فیصلہ آئین کے مطابق ہوگا نہ کہ قادری کی خواہش کے مطابق اور میرا خیال ہے کہ اپوزیشن لیڈر اور وزیر اعظم میں جسٹس اسلم ناصر زاہد پر اتفاق ہو چکا ہے

    یوں کروڑوں روپے خرچ کرکے کیا جانے والا قادری ڈرامہ اور قادری اور حکومتی معائدہ بابے قادری کی مکمل رسوائی اور چھترول پر اختتام پزیر ہو چکا ہے

    ================

    اسلام آباد مذاکرات کے اختتام پر بابے قادری کی تقریر

    .

    .

    http://www.youtube.com/watch?v=6Ov5wB_stI8

    .

    .

    آج کے مذاکرات کے بعد اصل صورتحال

    .

    .

    http://e.jang.com.pk/02-17-2013/lahore/images/2117.gif