کراچی میں ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کو یرغمال بنایا ہوا ہے



  • سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے مطابق کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کا تقرر اور جعلی ووٹر لسٹوں کی درستگی پر عملدرآمد نہ ہونا توہین عدالت ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم نے الیکشن کمیشن کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی میں ’’انجینئرڈ‘‘انتخابات کو کسی بھی صورت قبول نہیں کرے گی۔ جعلی ووٹر لسٹوں کی درستگی کے لئے پاک فوج گھر گھر جاکر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلا می کراچی اور سابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی نے پریس کلب لاہور میں ’’پریس کانفرنس‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ حافظ نعیم الرحمان، برجیس احمد اور سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پنجاب محمد فاروق چوہان بھی موجود تھے۔ محمد حسین محنتی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ کراچی ایم کیو ایم کے مافیاکے ہاتھوں یرغمال شہر بن چکا ہے۔آزاد عدلیہ اور فوج کراچی میں پر امن،شفاف اور آزادانہ انتخابات کو ممکن بناسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن سندھ ابھی تک سپریم کرٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کرواسکا۔یہ اس کی نااہلی اور غیر ذمہ دارانہ طرز عمل ہے۔اگر کراچی میں آئندہ چند روز میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نئی حلقہ بندیوں اور جعلی ووٹر لسٹوں کی درستگی نہ کی گئی تو کراچی کی تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر کے آفس کے باہر شدید احتجاج کریں گے۔انہوں نے کہاکہ کراچی مسلسل ٹارگٹ کلنگ،بھتہ مافیااور بوری بند لاشوں کی تصویر پیش کررہا ہے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔محمد حسین محنتی نے کہاکہ کراچی کی موجودہ تشویشناک صورتحال کی ذمہ دار ایم کیو ایم اور دیگر اتحادی جماعتیں ہیں۔کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ میں گزشتہ چار سالوں میں سات ہزارافراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔عروس البلاد کراچی کا امن تباہ و برباد ہوگیا ہے۔کراچی شہر میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بہت بڑھ گئی ہیں۔کروڑوں روپے روزانہ بھتہ وصول کیا جاتا ہے۔گزشتہ چار سالوں میں کراچی میں سات ہزار افراد مارے گئے۔2012میں 673بوری بند لاشیں مل چکی ہیں اور 2013میں بھی ٹارگٹ کلنگ،بوری بند لاشوں کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک کے مقتدر حلقوں کا یہ فرض ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کروائیں۔کراچی میں شفاف،آزادانہ انتخابات سے بھتہ مافیا اور جرائم پیشہ عناصر کا قلع قمع ہوگا۔کراچی میں بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ،علمائے اکرام اور سیاسی رہنماؤں کا قتل ایک قومی مسئلہ ہے جس کے حل کے لئے تمام قومی،سیاسی اور دینی جماعتوں کو مشترکہ لائحہ عمل ترجیحی بنیادوں پر اختیار کرنا چاہئے۔کراچی شہر میں امن کی بحالی کے لئے ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوری سے نجات کے لئے جرائم پیشہ افراد جن کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو ان کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے بلاتفریق سخت کاروائی کریں اور کراچی میں امن وامان کا قیام یقینی بنایا جائے۔