چین کی ایک بچہ پالیسی



  • عصر حاضر میں دنیا کی آبادی اس قدر تیز رفتاری کے ساتھ بڑھ رہی ہے کہ اس کو دھماکہ خیز اضافہ آبادی (Population Explosion) کا نام دیا جا رہا ہے، اور ترقی پذیر ممالک میں تو یہ مسئلہ انتہائی سنگین ہو چکا ہے۔

    ادی کے مسئلہ کو سماجی علوم بالخصوص سماجیات اور معاشیات میں بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس موضوع پر سب سے پہلے تھامس مالتھس نے 1978ء میں ایک مضمون شائع کیا، جو اپنی نوعیت کا پہلا تجرباتی اور تحقیقی مطالعہ تھا، جس نے آگے چل کر علم آبادیات کی بنیاد ڈالی۔ مالتھس کا کہنا ہے کہ انسانی آبادی میں 25 سال میں دوگناہ ہو جانے کا رجحان پایا جاتا ہے جب کہ زرعی پیدوار میں اس شرح سے اضافہ نہیں ہوتا، اس لئے اگر آبادی کے اضافہ کی رفتار پر کنٹرول نہ کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بالآخر سخت بحرانی حالات سے سماج کو دوچار ہونا پڑے گا۔

    چہ اگر مصنوعی اور سائنسی طریقہ سے آبادی پر قابو نہ پایا جائے تو ایک طرف غربت اور افلاس کی وجہ سے بیماریاں پھیلیں گی تو دوسری جانب جنگیں شروع ہو جائیں گی۔ مالتھس کے نظریہ آبادی پر بہت اعتراضات کیے گئے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آبادی اور پیدائش دولت کے مابین مسابقت کی جانب مالتھس نے جو اشارہ کیا تھا وہ بہرحال قابل توجہ ہے اور خصوصاً موجودہ صدی میں دوسری جنگ عظیم کے بعد اس مسئلہ کی اہمیت پر ازسرنو توجہ دی جانے لگی ہے۔ خوشحال اور مضبوط قوم کیلئے کم آبادی کا نعرہ لگانے والوں میں خصوصاً چین، چاپان اور روس جیسے ممالک شامل ہیں۔

    60ء کی دہائی تک چین میں سرکاری سطح پر افرادی قوت کے لئے زیادہ بچوں کی ترغیب دی جاتی تھی۔ اور یہی وجہ تھی کہ آج بھی چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، جو دنیا کی کُل آبادی کا 19.16فیصد بنتی ہے۔ ستر کی دہائی میں چینی حکام نے اپنے تمام تر سماجی، معاشی اور ماحولیاتی مسائل کا ذمے دار زیادہ آبادی کو ٹھہرا کر اس سلسلہ میں ایک بچہ پالیسی متعارف کروا دی۔

    یہ پالیسی 1978ء میں متعارف کروائی گئی اور 1979ء کے اوائل میں اس پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا۔ پالیسی پر عمل نہ کرنے والوں کو جرمانہ (جو خاندان کی آمدن کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیا جاتا) اور عمل کرنے والوں کو مفت تعلیم، صحت کے ساتھ حکومت کی طرف سے دیگر مراعات بھی دی گئیں۔ صوبائی سطح پر پالیسی کا نفاذ شروع کیا گیا تو اس کے لئے باقاعدہ مہم بھی چلائی گئی۔

    حکام کا دعویٰ ہے کہ 1979ء سے 2011ء تک 4 سو ملین (40کروڑ) بچوں کی پیدائش کو روکا گیا، لیکن آزاد اسکالرز کے مطابق یہ اعداد و شمار درست نہیں کیوں کہ اس عرصہ میں4نہیں بلکہ ایک سو ملین پیدائش رک سکیں۔ اس پالیسی کے نفاذ کے باوجود چین کے کروڑوں شہری ایک سے زائد بچے رکھتے ہیں۔ 2007ء میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق ملک بھر میں 35.9 فیصد افراد نے سختی سے ایک بچہ پالیسی پر عمل کیا ( جن کی کُل تعداد 48 کروڑ کے لگ بھگ ہے) 52.9 فیصد افراد ایک سے زائد بچے رکھتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی پہلی اولاد بیٹی تھی یا پھر ان میں کوئی ذہنی یا جسمانی خامی تھی۔ 9.6فیصد افراد کو 2 بچوں کی باقاعدہ اجازت دی گئی۔ اور آخر میں 1.6فیصد وہ لوگ ہیں، جو بچوں کی تعداد کے معاملہ میں کسی قسم کی پابندی کے زیر اثر نہیں اور یہ تبت کے باشندے ہیں۔ اس حکمت عملی کے باعث چین میں شرح پیدائش جو 50ء یا 60ء کی دہائی میں 1.9فیصد تھی، کم ہو کر اب 0.7 پر آ گئی۔

    .

    .

    .

    .

    .

    .

    .

    .

    http://www.express.pk/story/97464/





  • پاکستانی سیاستدان بھائی

    میں نے تو سنا تھا کہ ایک بچہ پالیسی کی وجہ سے چین کو مین پاور کا مسئلہ ہو رہا ہے، جوان لیبر کم ہے جبکہ اکانومی کی ڈیمانڈ زیادہ ہے، اس لئے وہ تھوڑا ریلیکس کرنے کا سوچ رہے ہیں، مگر اوپر چارٹ میں چین کی آبادی ٢٠٥٠ میں کم ہوتی نظر آ رہی ہے



  • EasyGo sahab,

    Main reason for China's population expected decline is bulk of their population is above the maturity level. So by the year 2050, much of that will expire. India on the other hand has bulk of the population stays behind the life maturity bell curve. You are correct in pointing manpower shortages causing pains to their growing economy.



  • ایزی گو بھائی

    آپ نے ٹھیک سنا ہے اس آرٹیکل میںبھی اس بات کا ذکر ہے کہ چین کو مین پاور کے مسائل کا سامنا ہوگا اس لئے چین اپنی اس پالیسی کو ریلیکس کرنے کی سوچ رہا ہے، مگر ابھی تک ریلیکس کیا نہیں گیا ہے۔ باقی رضوان قائم خانی صاحب کے کمنٹس سے میں اتفاق کروں گا۔



  • شکریہ

    رضوان صاحب کی بات منطقی ہے

    میرے خیال سب باتوں کے باوجود چین نے یہ ضرور ثابت کر دیا ہے کہ زیادہ آبادی کو اگر صحیح طرح استمعال کیا جایے تو یہ بہترین ریسورس بھی ہے



  • میرے خیال سب باتوں کے باوجود چین نے یہ ضرور ثابت کر دیا ہے کہ زیادہ آبادی کو اگر صحیح طرح استمعال کیا جایے تو یہ بہترین ریسورس بھی ہے


    Easy Go Sahib

    اور ایک منڈی بھی جو ملک کی معشیت کو آگے بڑھا سکتی ہے

    ویسے جن ممالک میں تفریح کے محددود مواقعے موجود ہوتے ہیں وہاں آبادی تیزی سے بڑھتی ہے

    آ



  • Our population has increased very dangerously , We can not make any progress in this position . Just check ! Has any party said any word abbot this ?



  • I started my service as Family Planning Officer in 1967, @ Malkahans Distt., Sahiwal.

    Where, I had to face the toughest opposition from JI and some other religious fundamentalist Pressure Groups--- what helped me to understand their hypocrisy.

    “The problem is not Islamic Fundamentalism, but the fundamentals of Islam "- Sam Harris