لیاری کےگینگ اور گینگ وار



  • کراچی کے علاقے لیاری میں منشیات فروشوں کی موجودگی آج کا مسئلہ نہیں ہے، یہ پاکستان کے قیام کے وقت بھی موجود تھا، لیکن انہیں سیاسی یا انتظامی حمایت حاصل نہ تھی اس لیے ان کا کردار منشیات فروشی تک محدود تھا، جس میں بھی افیون کی فروخت سرِفہرست تھی۔

    پولیس کے ریکارڈ میں لیاری میں سب سے پہلے نبی بخش عرف کالا ناگ کا نام ملتا ہے جس پر سمگلنگ اور کچی شراب کی فروخت کا الزام تھا۔ سمگلنگ کی وجہ سے اسے شہر کے بعض تاجروں کی حمایت حاصل رہی، جو سمگلنگ شدہ سامان کے خریدار بھی تھے۔

    کالا ناگ کی وفات کے بعد داد محمد عرف دادل اور شیر محمد عرف شیرل کے نام نظر آتے ہیں، ایرانی بلوچ نسل سے تعلق رکھنے والے دادل لیاری انڈر ورلڈ کے پہلے ڈان سمجھے جاتے ہیں، جو کراچی، مکران اور ایران تک راج کیا کرتے تھے۔

    فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور سے لیاری کے جرائم پیشہ افراد کو سیاسی پشت پناہی حاصل ہوئی اور ایسا کرنے والوں میں کراچی کے چند معزز خاندان بھی شامل ہیں۔

    گل حسن کلمتی اپنی کتاب ’کراچی سندھ کی مارئی‘ میں لکھتے ہیں کہ سیاسی پناہ ملنے کے بعد ان جرائم پیشہ افراد کا کردار بھی بڑہ گیا۔ سیاسی لوگ انہیں مخالفین کو دھمکانے، ڈرانے، سیاسی جلسوں پر حملے کرانے، پولنگ اسٹیشنوں پر دہشت پھیلانے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔

    جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں دادل کو گرفتار کیا گیا، جو جیل میں چل بسے جبکہ ان کے بھائی شیرل مخالف گروہ کے ہاتھوں مارے گئے۔

    دادل کا بیٹا عبدالرحمان عرف رحمان ڈکیت ان دنوں کم عمر تھا اس لیے گروہ کی قیادت لال محمد عرف لالو نے سنبھالی۔

    لیکن ان دنوں میں ایک اور شخص اقبال عرف بابو ڈکیت جرائم کی دنیا میں داخل ہوا اور دادل کی جگہ لے لی لیکن 1996 میں اسے پولیس گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

    بابو کی گرفتاری کے بعد لال محمد عرف لالو کچھ عرصے کے لیے جرائم کی دنیا کے اکیلے ڈان رہے۔ وہ جرائم کے علاوہ مقامی لوگوں کی مالی مدد بھی کرتے تھے، اس لیے ان کے لیے ہمدردیاں پیدا ہوئیں۔

    اسی عرصے میں عبدالرحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت نے بابو ڈکیت گروہ کے لڑکوں کو جمع کر کے اپنا گینگ بنایا اور اپنے والد دادل کی جگہ واپس لینے کا آغاز کر دیا۔ بابو ڈکیت کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے رحمان کے ساتھ ڈکیت کا نام بھی جوڑ لیا۔

    لالو بنیادی طور پر رحمان کے والد کے گینگ کے ہی رکن تھے اس لیے ابتدا میں دونوں میں کوئی تکرار نہیں ہوئی اور یوں دونوں گروپ غیر اعلانیہ تقسیم شدہ علاقوں میں وارداتیں کرتے رہتے ہے لیکن پھر ایک تاجر کے اغوا کے تاوان پر دونوں میں تنازع کھڑا ہوا ہے اور دشمنی کا آغاز ہوا۔

    2004 میں لالو کو پولیس نےگرفتار کرلیا تو اس گروپ کی قیادت ان کے بیٹے ارشد کے پاس آئی جس کا سامنا عبدالرحمان عرف رحمان ڈکیت سے ہوا جو اس وقت تک لیاری کا ’ڈان‘ بن چکا تھا۔

    رحمان ڈکیت نے لال محمد عرف لالو کی طرح مقامی غریبوں، بیواؤں کی مالی مدد کر کے ہمدردیاں حاصل کیں اور اسی بنیاد پر مقامی سیاست پر اثر انداز ہونا شروع کیا۔

    اس کے جواب میں ارشد پپو نے رحمان ڈکیت کا مقابلہ حاصل کرنے کے لیے شہر کی ایک ایسی تنظیم کی حمایت حاصل کر لی جو لیاری میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی خواہش مند تھی۔

    اس تنازع کے دوران میوہ شاہ قبرستان میں دفن رحمان بلوچ کے والد دادل اور چچا شیرل کی قبریں مسمار کی گئیں اور اس کے علاوہ رحمان ڈکیت کے قریبی سمجھے جانے والے مقامی ٹرانسپورٹر فیض محمد عرف ماما فیضو (امن کمیٹی کے سربراہ عذیر بلوچ کے والد) کو اغوا کر کے قتل کر دیا گیا۔

    اس واقعے کے بعد دونوں کی دشمنی میں شدت آگئی اور دونوں گروہوں کے باہمی تصادم میں کئی درجن لوگ مارے گئے۔

    2008 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد لیاری میں امن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا جس کی سربراہی عبدالرحمان بلوچ المعروف رحمان ڈکیت نے سنبھالی۔

    اس دوران ارشد پپو منظر سے غائب ہی رہے۔ اگست دو ہزار نو میں رحمان ڈکیت کو ایک مبینہ پولیس مقابلے میں تین ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا گیا۔

    اس کے بعد یہ خیال کیا جارہا تھا کہ اب گینگ وار کا خاتمہ ہوجائے گا لیکن یہ ممکن نہ ہوا اور رحمان بلوچ کے گروہ کی قیادت ٹرانسپورٹر فیض محمد عرف فیضو کے بیٹے عذیر بلوچ نے سنبھال لی۔

    اسی دوران شیر شاہ مارکیٹ میں تاجروں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد حکومت نے عذیر بلوچ کے سر کی قیمت مقرر کر دی تاہم یہ فیصلہ پچھلے دنوں واپس لے لیا گیا ہے۔

    اب انتخابات سے پہلے ارشد پپو کی ہلاکت کی اطلاعات نے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں کیونکہ یہ ہلاکت ایسے وقت ہوئی ہے جب لیاری سے پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت اختیار کی ہے۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/03/130317_karachi_liyari_gangs_zs.shtml



  • **لیاری گینگ وار کا اہم کردار ارشد پپو’ہلاک‘

    **

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقے لیاری میں مخالف گروہوں کے مابین فائرنگ میں لیاری گینگ وار کے اہم کردار ارشد پپو کی دو ساتھیوں سمیت ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

    کراچی جنوبی کے ڈی آئی جی شاہد حیات نے بی بی سی اردو کے ارمان صابر کو بتایا ہے کہ ’ہمیں یہ یقین ہوچکا ہے کہ ارشد پپو ہلاک ہوگیا ہے حالانکہ ابھی ہمیں اس کی لاش نہیں ملی ہے لیکن ہماری اطلاعات ایسی ہیں جن پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال اس کی لاش ملنے کے بعد ہم اس کی شناخت معلوم کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرائیں گے۔’

    اسی بارے میںگولیوں سے چور لیاریلیاری کا مستقبل کیا ہے؟کراچی: پولیس مقابلے میں دو اہلکار ہلاک

    متعلقہ عنواناتپاکستان, سندھ, کراچیان کا کہنا تھا کہ یہ بھی ایک مفروضہ ہے کہ ارشد عرف پپو کو اغواء کر کے قتل کیا گیا ہو۔

    ارشد پپو کی ہلاکت کی اطلاعات سنیچر کی رات گئے آنا شروع ہوئی تھیں۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق ارشد پپو اپنے ساتھیوں سمیت لیاری میں بروہی چوک پر مسلح گروہ کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے لیکن مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ ارشد پپو کے لیے نوگو ایریا تھا جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہ یہاں تک آئے کیسے، یا پھر انہیں یہاں تک کیسے لایا گیا۔

    ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ارشد عرف پپو، ان کے بھائی یاسر عرفات اور ان کے ایک ساتھی شیرا پٹھان کو اغواء کیا گیا جس کے بعد انہیں تشدد کر کے قتل کیا گیا۔

    پولیس کو ان میں سے شیرا پٹھان کی لاش مل گئی ہے جو قابلِ شناخت ہے تاہم ارشد پپو اور ان کے بھائی یاسر عرفات کی لاش ہنوز نہیں ملی ہے۔

    ارشد پپو کے خلاف اسّی سے زیادہ مقدمات قائم تھے اور وہ گزشتہ سال دسمبر میں ضمانت پر جیل سے رہا ہوئے تھے۔

    اطلاعات ہیں کہ وہ پاک کالونی کے علاقے میں رہائش پذیر تھے جہاں سے وہ دوبارہ اپنے گروہ کو فعال کررہے تھے۔

    ارشد پپو اپنے گروہ کے سربراہ تھے جبکہ ان کا مخالف گروہ سردار عبدالرحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت کا تھا جن کی سربراہی میں لیاری امن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تھا۔ رحمان ڈکیت کو دس اگست سنہ دو ہزار نو کو ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا گیا تھا۔

    ارشد پپو کے والد حاجی لعل محمد عرف حاجی لالو ایک طویل عرصے تک جیل کاٹنے کے بعد گزشتہ برس کے اوائل میں رہا کیا گیا تھا تاہم گزشتہ برس ہی ان کی طبعی موت ہوگئی تھی۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/03/130317_arshad_pappu_dead_tim.shtml



  • Watch this video before commenting on this issue. Tell us which part of media is more biased or chickenhearted? Is there an area of Pakistan without the deep rooted influence of gangism/ feudalism politics?

    http://www.youtube.com/watch?v=cruqLn_6Euw