نوجوان سفارت کار، این سمیڈينگھوف،



  • امریکی حکومت افغانستان میں ہفتے کے دن ایک ہولناک حملے میں ایک نہایت قابل اور نوجوان سفارت کار، این سمیڈينگھوف، کی المناک موت پر سخت افسردہ ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی محکمہ خارجہ کے دیگر چار ملازمین زخمی ہوئے، ایک ڈی او ڈی سویلین اور افغان ارکان سمیت امریکی مسلح افواج کے تین اراکين بھی جاں بحق ہوۓ۔ ہم تمام خاندانوں کو دلی تعزیت پيش کرتے ہيں-

    امریکی ملازمین افغانستان ميں ايک محفوظ مستقبل، مضبوط اور زیادہ مستحکم ملک کے حصول کيلۓ افغان عوام کی خواہشات کی راہ ميں انکی مدد کررہے ہيں۔ این اور ان کے ساتھیوں کو اس ليۓ نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ ایک اسکول میں کتابیں فراہم کر رہے تھے اور بچوں کی مدد کرنا واضح طور پر دہشگردوں کے بالکل برعکس ہے کيونکہ يہ لوگ صرف قتل و غارت ہی کر سکتے ہیں.

    http://www.freeimagehosting.net/re6q9

    افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu



  • إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

    May Allah help us all



  • **

    ایک امریکی کا بدلہ دس معصوم اور بے گناہ بچے اور دو خواتین کو مار لر لیا گیا ہے؟**

    **شرم تم کو مگر نہیں آتی

    **

    کیا ان معصوم اور بے گناہ بچوں اور عورتوں کے قتل پر بھی کوئی امریکی سخت افسردہ ہوگا؟

    کیا انکے خون کا بھی کوئی حساب دے گا؟

    کیا انکے خاندانوں کے ساتھ بھی کوئی دلی تعزیت کرے گا؟

    کیا یہ معصوم پھول جیسے بچے بھی افغانستان ميں ايک محفوظ مستقبل، مضبوط اور زیادہ مستحکم ملک کے حصول کيلۓ افغان عوام کی خواہشات کی راہ ميں انکی مدد کے دوران قتل کیے ہیں؟

    کچھ تو بولیے؟ - کچھ تو جواب دیجیے؟ - ان معصوم بچوں کے قتل پر زبانیں بند کیوں ہو گئی ہیں؟

    .

    .

    .

    .

    .

    ظلم پھر ظلم ہے،بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

    خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا

    لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں

    خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ

    جبر کی حکمتِ پرکار کی ایماء سے کہو

    مہملِ مجلسِ اقوام کی لیلیٰ سے کہو

    خون دیوانہ ہے، دامن پہ لپک سکتا ہے

    شعلہ تند ہے، خرماں پہ لپک سکتا ہے

    تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا

    آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلا ہے

    ظلم کی بات ہی کیا، ظلم کی اوقات ہی کیا

    ظلم بس ظلم ہے، آغاز سے انجام تلک

    خون پھر خون ہے، سو شکل بدل سکتا ہے

    ایسی شکلیں کہ مٹاو تو مٹائے نہ بنے

    ایسے شعلے کہ بجھاو تو بجھائے نہ بنے

    ایسے نعرے کہ دباو تو دبائے نہ بنے



  • Very true bawa. Afshan BB if you have any courage to ever come back to your own thread and reply? Perhaps no.



  • This post is deleted!