ایک سے زیادہ قومی زبانیں



  • آج ایک اخباری کالم سے اندازہ ہوا کہ پشتو ، سندھی ، پنجابی اور بلوچی کو قومی زبانیں بنانے کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے

    میری نظر میں یہ ایک اچھا اقدام ہے لیکن اس پیش رفت کو اس دلیل کے ساتھ جوڑنا کہ مادری زبان میں پڑھائی بچے کی ذہنی بڑھوتری میں زدہ مددگار ہوتی ہے شائد اتنا مناسب نہیں

    مثال کے طور پر سندھ میں سندھی نصاب میں شامل ہے . لیکن ہر سندھی کی مادری زبان سندھی نہیں . سندھ کے ایک بہت بڑے حصے میں مادری زبان سرائیکی ہے . اسی طرح تھری مارواڑی بہت سے لوگوں کی مادری زبان ہے

    پشتونوں کے آنے سے پہلے خیبر پختون خواہ کی زبان وہ تھی جس اکے ایک حصے کو ہندکو کھا جاتا ہے . پشتو کی اجآرہ داری کے باوجود ابھی تک اس صوبے میں سرائیکی ہندکو وغیرہ بہت سے لوگوں کی مادری زبانیں ہیں

    یہی حال پنجاب کا ہے ٹھوکر نیاز کے بعد لہر ملتان رود پر جانگلی پنجابی شروع ہو جاتی ہے جو خانیوال کے نزدیک سے سرائیکی بن جاتی ہے . اسی ہی صورتحال کھاریاں سے آگے ہے

    رنجیت سنگھ کے دور تک تعلیم مادری زبان میں ہوتی تھی جس کے ساتھ دفتری زبان فارسی پڑھائی جاتی تھی

    پاکستان میں مادری زبانوں اور دفتری زبان کے درمیان صوبائی زبانوں کا اضافہ کوئی اتنا خوش گوار عمل نہیں ہو گا



  • زندہ دل صاحب

    اگر مادری زبان ایک زندہ زبان ہو گی تو یہ ایک اچھا اقدام ہے . میں چھ سال کراچی رہا ہوں جہاں میں دو سال میں سندھی لکھنا اور پڑھنا سیکھ گیا تھا. میرے لئے سندھی سیکھنا ایک خوشگوار تجربہ تھا . اگر ایک بچہ مادری زبان میں بات سن کر آئیڈیا سمج سکھے اور سوچ سکھے تو سیکھنے اور سمجنے کی صلاحیت بڑھ جائے گی . مادری زبان کے علاوہ ایک اور نئی زبان سیکھنا ایک اضافی بوجھ ہے جو سرکاری اسکول میں غریب بچے کے لئے سیکھنا ناممکن ہے. پاکستان میں پڑھائے جانے والے نصاب میں بھی بہتری کی ضرورت ہے اور تمام بچوں کو ایک ہی نصاب پڑھانا چاہیے .



  • لوٹا جی

    پنجاب میں جب ایک عرصے کے بعد پنجابی زبان لکھنا شروع کی گئی تو وہ جالندھر کے مہاجروں کی زبان تھی جس سے پنجابی دیہاتی ناواقف تھا . اسی طرح سندھ میں بہت سے لوگ سکول میں سندھی پڑھ کر گھر میں سرائیکی بولتے ہیں پشاور شہر میں ہر کوئی ہندکو بولتا ہے لیکن سکول میں پشتو

    میرے خیال میں بچوں کا مادری زبان سیکھنا صوبائی زبان سیکھنے سے زیادہ اہم ہے

    اگر پنجاب کے نیے شہروں میں جالندھری ہوشیار پوری پڑھائی جایے تو کوئی حرج نہیں



  • زندہ دل صاحب

    کیا پاکستان میں پنجابی ایک زندہ زبان ہے ؟ یہ گھروں اور شہروں میں تو بولی جاتی ہے مگر اس میں کتنے اخبار یا کتابیں چھپتی ہیں یا پر کتنے ٹی وی چینل ہیں . پنجابی زبان بولنے والے کو جاہل اور گنوار سمجہ جاتا ہے . پنجابی لباس پہنے والا پینڈو سمجہ جاتا ہے. پنجابی کلچر اور پنجابی زبان غیر تہذیب یافتہ ہونے کی نشانی بن چکی ہے. پنجابیوں نے جس زور و شور سے اردو کو اپنایا ہے اب پنجابی سکھوں کی زبان بن کر رہ گئی ہے . پنجابی کو واپس مین سٹریم لانے کے لئے کافی محنت کی ضرورت ہے. جب تک پنجابی شناخت کو بہتر نہیں بنایا جاتا پنجابی کا کوئی فیوچر نہیں ہے . میں آپ سے متفق ہوں مادری زبان میں تعلیم غریب بچوں کے لئے آسانیاں پیدا کرے گی .



  • لوٹا جی

    پنجابی کے خلاف سازش انگریز نے اس وقت کی تھی جب پنجاب تِشت بک بنا کر اس کی تمام قابل ذکر آسامیوں پر یو پی کے لوگ تعینات کر دئیے گئے تھے

    پنجابی کو زندگی دینا اتنا آسان نہیں اتفاق کی بات ہے کہ اس وقت پنجابی کو زندہ رکھنے کی جدوجہد وہ لوگ کر رہے ہیں جو اپنے گھر میں انگریزی بولتے ہیں اس جدوجہد میں جب تک نچلا متوسط طبقہ شامل نہیں ہو گا یہ تحریک کامیاب نہیں ہو گی

    ویسے انگریزی بولنے والی کلاس کا اس جدوجہد میں حصّہ برا بھی نہیں

    میرے پاس تازہ معلومات نہیں لیکن کسی زمانے میں جنرل صفدر کی این سی اے سے پڑھی ہوی آ ئیڈ لسٹ بیٹی لاہور گرامر میں پنجابی پڑھاتی تھی جہاں کے بچے نہ صرف صوفی شاعری پرھتے تہے بلکہ بلھے شاہ پر مضمون بھی لکھ سکتے تہے





  • مومن صاحب

    ہمیں پتہ تھا آپ کا فورم نہیں چلے گا اور آپ کو ادھر ہی آنا پڑے گا

    بھائی اب معزز بلاگر کو آزاد کردو تاکہ وہ بھی واپس آجائیں



  • کیا واقعی اصل مسلہ بچوں کو پشتو ، پنجابی ، سندھی اور بلوچی من تعلم دینے کا ہے ؟



  • زندہ دل اور لوٹا صاحب۔۔۔۔۔۔

    آپ اس بات کو کیسے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اندر جو احساسِ کمتری اپنی مادری زبانوں کے حوالے رچ بس گیا ہے اسے کیسے دور کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔ خاص کر تعلیم کے حوالے سے۔۔۔۔۔۔

    گلوبلائزیشن کی وجہ سے مادری زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے پر کیا نئے پہلو سامنے آئے ہیں۔۔۔۔۔۔

    مزید یہ کہ ایک بہت بڑے پیمانے پر ترجمہ کرنے والے ادارے کی غیر فعالیت کی وجہ سے مادری زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے میں جو دشواریاں حائل ہیں۔۔۔۔۔۔ کیا انہیں اب اتنی آسانی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔

    میں چاہوں گا کہ اگر ممکن ہو تو فارغ جذباتی صاحب اور شیرازی صاحب بھی اس اہم موضوع پر اپنا نکتہِ نظر لکھیں۔۔۔۔۔۔



  • یہ ایک اچھا فیصلہ ھے --بچوں کو اگر انکی مادری زبان میں تعلیم دی جائے تو آسانی رہتی ھے ،


    بشرطیہ کہ انکے اسکول گھوسٹ اسکولوں میں تبدیل نہ ھوچکے ھوں --- دوسرے اس سے وہ زبانیں جو پیچھے رہ گئیں ہیں انکی ترقی میں بھی مدد ملے گی



  • زندہ دل صاحب ...اچھا موضوع ہے ....میرے ذاتی خیال میں بائی لنگوئل ہونا تو ایک اچھی چیز ہے

    بھارت میں ایک سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں ....علاقائی زبان ہے ، ہندی ہے اور پھر انگریزی ہے ....سنگاپور میں اوسطاً دو یا تین زبانیں ہر گھر میں بولی جاتی ہیں ...یورپ میں انگریزی ، فرانسیسی اور جرمن مختلف کومبینیشنز میں شامل ہیں ..وسط ایشیائی ریاستوں میں لوکل زبانیں بھی ہیں مگر روسی زبان ہر سطح پر موجود ہے ....کینیڈا میں انگریزی اور فرانسیسی زبانیں سرکاری زبانیں قرار دی گئی ہیں ...امریکا میں بڑی ہسپانوی آبادی نے ہسپانوی زبان کو امریکا میں دوسری زبان کا درجہ دلا دیا ہے ...اور اندرون امریک اجہاز میں سفر کرتے وقت دونوں انگریزی اور ہسپانوی گریٹنگ سننے کو ملتی ہے

    پاکستان میں بچے اگر گھر میں ایک زبان سنتے ہیں اور سکول میں اچانک اردو سیکھنی پڑتی ہے تو یہ صرف پاکستان میں نہیں ہے ...دوسرے ملکوں میں بھی ایسا ہی ہے ...سوئٹزر لینڈ کے ایک کولیگ نے ایک دفعہ یہی کہانی سنائی تھی کہ بچے گھر میں ایک زبان بولتے ہیں مگر سکول میں اکثر جگہ جرمن پڑھائی جاتی ہے....

    بچہ وہ زبان سیکھتا ہے جو اسے سیکھنی پڑتی ہے ...یعنی سکول میں ہے ....اگر آپ گھر میں پنجابی بولتے ہیں اور بچے کو بھی وہی زبان سکھاتے ہیں تو بچہ پنجابی تو سیکھے گا ہی ، سکول میں جا کر اردو یا انگریزی بھی سیکھ جاۓ گا کہ یہ اس کی مجبوری ہوگی ...اس نے ٹیسٹ پاس کرنے ہیں ...اسائنمنٹ کرنی ہیں ...شروع میں اسے مشکل ہو گی مگر یہ عارضی ہے ....اس کے برعکس اگر سکول میں بھی پنجابی پڑھائی جاۓ تو بچے کے لیے کوئی انسینٹو نہیں کہ وہ اردو یا انگریزی سیکھے اور وہ نہیں سیکھے گا یا اردو اور انگریزی میں ہمیشہ کمزور رہے گا ....اگر آپ مادری زبان میں نصابی کتاب پڑھوانا چاہتے ہیں تو یہ ایک قدم واپس جانے کے مترادف ہو گا....یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ دفتری زبان کیا ہے

    یہ بات درست ہے کہ دو زبانیں سیکھنے کا بچے کی انٹیلیجنس پر اچھا یا برا اثر نہیں پڑتا ....مگر پاکستان کے ماحول میں ایک بات یاد رکھئے کہ کبھی آپ کو کاروبار یا جاب کے سلسلے میں دوسرے صوبے میں آباد ہونا پڑ سکتا ہے .....ایک پنجابی بچہ ایک پشتو یا سندھی یا بلوچ سکول میں کیسے فٹ ہوگا؟ اور یہی حال باقیوں کا پنجاب آنے پر ہوگا ...بچہ دوسری زبانیں بھی سیکھ لے گا مگر اب آپ نے ایک اور مقامی زبان کا بوجھ ڈال دیا ہے

    اردو میں غالب ہے میر ہے اور اقبال ہے ...اس میں کوئی برائی نہیں ...ہاں میں اس بات سے متفق ہوں کہ بچے کو گھر میں مادری زبان ہی سکھانی چاہئیے ....اکثر پنجابی خاندان بچوں سے اردو میں بات کرتے ہیں جو غلط ہے ...پہلے دو چار سالوں میں دماغی نشو و نما کے لیے مادری زبان سیکھنے کے کافی فوائد ہیں



  • اگر ہم یہ کیہ رہے ہیں کہ بچوں کو پشتو پنجابی بلوچی اور سندھی سکھائیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو ان کی مادری زبان کی بجایے انگریزی اردو کے ساتھ ایک اضافی زبان سکھا رہے ہیں جیسے سرائیکی بولنے والے بچے کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پشتو ، ڈیرہ غازی خان میں پنجابی ، ڈیرہ مراد جمالی میں بلوچی اور دادو میں سندھی سکھا رہے ہیں

    اس صورتحال میں مادری زبان کے حقوق اور سیکھنے کے فوائد کا کیا بنے گا ؟



  • زندہ دل اور لوٹا صاحب۔۔۔۔۔۔

    آپ اس بات کو کیسے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اندر جو احساسِ کمتری اپنی مادری زبانوں کے حوالے رچ بس گیا ہے اسے کیسے دور کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔ خاص کر تعلیم کے حوالے سے۔۔۔۔۔۔

    گلوبلائزیشن کی وجہ سے مادری زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے پر کیا نئے پہلو سامنے آئے ہیں۔۔۔۔۔۔

    مزید یہ کہ ایک بہت بڑے پیمانے پر ترجمہ کرنے والے ادارے کی غیر فعالیت کی وجہ سے مادری زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے میں جو دشواریاں حائل ہیں۔۔۔۔۔۔ کیا انہیں اب اتنی آسانی سے ختم کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔۔


    ایک کلچر کی زبان اس کلچر کے لوگوں کے لئے اس کلچر کے خیالات ، پیغامات ، آئیڈیا اور پیغام رسانی کا ذریع ہوتی ہے. اس کلچر کی زبان میں لفظ اس کلچر کی مجموعی سوچ کا عکاس ہوتے ہیں . ایک کلچر کی زبان کو تباہ کرنا اس کلچر کو تباہ کرنا ہے . زبان وہی زندہ رہتی ہے جو بولی جائے اور لوگوں کے استعمال میں ہو. زبان استعمال میں ہو گی تو اس میں میر، غالب اور اقبال بھی پیدا ہو جاتے ہیں . طاقتور کلچر کی زبان استعمال میں رہتی ہے. کسی دوسرے کی زبان میں سوچنا غلامی کا راستہ ہے . جو کلچر کسی دوسرے کلچر کے زیر اثر ا جائے وہ ہارا ہوا کلچر ہے.



  • مگر پاکستان کے ماحول میں ایک بات یاد رکھئے کہ کبھی آپ کو کاروبار یا جاب کے سلسلے میں دوسرے صوبے میں آباد ہونا پڑ سکتا ہے .....ایک پنجابی بچہ ایک پشتو یا سندھی یا بلوچ سکول میں کیسے فٹ ہوگا؟ اور یہی حال باقیوں کا پنجاب آنے پر ہوگا ...بچہ دوسری زبانیں بھی سیکھ لے گا مگر اب آپ نے ایک اور مقامی زبان کا بوجھ ڈال دیا ہے


    پنجابی اسکول میں پنجابی پشتو سکول میں پشتو بلوچی سکول میں بلوچی ...ہر جگہ مادری زبان میں تعلیم ہونی چاہیے . اگر بچوں کو اس ڈر سے مادری زبان نہ سکھائی جائے کہ ایک بچہ اگر پنجاب سے بلوچستان جائے گا تو کیا کیا جائے ؟ تو پھر اگر یہ بچہ جاب کے سلسلے میں اگر کوریا ، جاپان یا جرمنی چلا جائے تو پھر کیا کیا جائے ؟ اب سب بچوں کو کورین اس بچے کے لئے پڑھائی جائے ؟؟ ہر صوبے کی دفتری زبان بھی مقامی ہونی چاہیے .



  • بچہ وہ زبان سیکھتا ہے جو اسے سیکھنی پڑتی ہے


    بات مادری زبان کی ہو رہی ہے جو بچہ گھر پر بولتا ہے .

    http://en.wikipedia.org/wiki/First_language

    http://en.wikipedia.org/wiki/Sociolinguistic



  • لوٹا صاحب ...اگر ہر صوبہ اپنی مادری زبانیں ہی رائج کرے گا تو یہ بتائیے کہ فیڈرل لیول پر کون سی زبان ہو گی جہاں مختلف صوبوں سے لوگ ملازمت حاصل کرتے ہیں؟

    لوکل زبانوں کو دفتر اور سکولوں میں نافذ کرنے سے کیا آپ لوگوں کی ایک صوبے سے دوسرے میں جانے ، ملازمت کرنے یا بزنس کرنے کی حوصلہ شکنی نہیں کررہے؟ مختلف صوبوں کے لوگوں کے درمیان ایک رابطے کی زبان نہ ہونا کس لحاظ سے بہتر ہے؟

    دنیا گلوبلائزیشن کی طرف جا رہی ہے اور آپ لوکلایزشن کی طرف ....زیادہ زبانیں آنا اچھا ہے ..اس میں برائی کیا ہے ؟



  • نو جماعتیں پاس کرنا مختلف زبانیں سیکھنے سے زائدہ اہم ہے. ایک مڈل پاس بچہ جاہل بچے سے بہتر ہے. اگر اس نکتے کو سمج لیں. ایک بچہ جو زبان گھر میں بولتا ہے وہ اس کی مادری زبان ہے . اس بچے کو سب سے زائدہ مضبوط اپنی مادری زبان میں ہونا چاہیے . اگر بچہ سعودی عرب جا کر ملازمت کرنا چاہتا ہے تو پورے پنڈ کو عربی سکھانے کی کیا ضرورت ہے ؟ اردو پاکستان میں صرف آٹھ فیصد لوگوں کی مادری زبان ہے اس کو مشرقی اور مغربی پاکستان میں کیوں قومی زبان بنایا گیا یہ میری سمج سے باہر ہے. ایک ملک کی ایک سے زائدہ قومی زبانیں ہو سکتی ہیں.



  • We Muslims are one nation. Our real language is Arabic. I think we must adopt Arabic as your mother tongue and hence develop our linguistic unity as the Muslim nation.