Give Muhammad a chance



  • کالی بھیڑ صاحبہ

    اگر بنیادی نقطے پر ہی ابھی تک طرفین میں شدید اختلاف رائے موجود ہے تو پھر میرے خیال میں کسی قسم کا مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔

    مشرقی اقدار کے حامی گروپ کا اس نقطے پر مکمل اتفاق ہے کہ میریٹل ریپ کی اصطلاح یا اس اصطلاح کی بنیاد پر بنایا ہوا کوئی بھی قانون یا ضابطہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا حصہ کسی صورت میں نہیں بن سکتا۔ یہ نقطہ ناقابل مذاکرات ہے اور مغربی گروپ کی جانب سے اس نقطے کو تسلیم کیے بغیر کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا جا سکتا۔

    باقی دوسرے سب نقاط غیر اہم کہ آداب مباشرت کیا ہونے چاہیں؟ اور فریقین کی مرضی کتنی اہمیت کی حامل ہے؟ یہ سب نقاط ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔



  • آدابِ مباشرت میں شوہر یا بیوی کی طرف سے جسمانی زبردستی کرنے کے نتیجہ میں سزا وغیرہ کا ہونا یعنی اس پر کسی قانون کا بننا۔۔۔۔۔۔

    ہمارے مغرب نواز دوست ویسے تو بڑے افلاطون بننے کی کوشش کرتے ہیں کہ دنیا جہان کا علم ان کے قدموں تلے ہے لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ پاکستان میں ایسا قانون پہلے ہی موجود ہے اور ابھی حال ہی میں گذشتہ پارلیمنٹ نے 2012 میں ہی منظور کیا ہے۔

    **

    Prevention and Protection Act 2012:**

    **http://www.lawyerscollective.org/files/DV act-- As passed by Senate.pdf

    **

    یہ قانون پریونشن اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2012 کہلاتا ہے جو خواتین اور بچوں پر تشدد کے حوالے سے ہے اور جنسی تشدد کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔ اور وہ خواتین جو جنسی طور پر تشدد کا شکار ہوتی ہیں وہ بھی اس قانون کا سہارا لے کر داد رسی کر سکتی ہیں۔

    لہذا جب ملک میں ایک قانون پہلے ہی موجود ہے ایسے عوامل کے سدباب کے لیے تو پھر میریٹل ریپ کے نام پر ایک نئے قانون کا تقاضا کرنا میرے نزدیک مغربی دلالی اور نمک حلالی سے زیادہ اور کچھ نہیں۔



  • @Shirazi Bhai + Black Sheep Saheb

    "A woman can only bear a child for one man at anytime.

    ذرا اس کی مزید تیکنیکی وضاحت کردیں۔۔۔۔۔۔"

    And I thought you understand basis that while a woman is carrying child of a man she cannot provide the same opportunity to another man. In some cases, she can't be even sexual partner during that time.


    Multiple male sexual partners also places a question who is the father.

    ویسے تو شیرازی صاحب نے اس پر جواب دے دیا ہے مگر میں ایک اور پہلو کی بات کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔ آپ بچے کے باپ کے بارے میں جاننے میں کیوں دلچسپی رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ کیا آپ کا یہ سوال اسی کلچر کے زیرِ اثر رہنے کی وجہ نہیں ہے جس میں مرد کو مرکزیت حاصل ہے۔۔۔۔۔۔

    There is no law to force a man to have a DNA test. Plus, multiple males used as a temporary arrangement could have gone. Man are always hesitant to pay child support even when they are in legal marriage.

    Maybe you didn't want to know who is your father, but every child male or female wants to know their father, that comes from nature not society.


    Plus, it places heavier burden on woman to please multiple males, who have desires irrespective of the day of the month.

    کیا یہ اصول پھر ریورس آرڈر میں بھی اپلائی نہیں کرنا چاہئے؟؟؟؟

    Where I live only women have menstrual cycles. Do men have similar cycles where you live?



  • علاوہ ازیں پہلے ڈرافٹ میں ایک انتہائی اہم بات کا تذکرہ تھا کہ مباشرت کے جملہ پہلوؤں میں دونوں فریقین کی مرضی کو یکساں اہمیت حاصل ہوگی اور کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔ یہ اہم نقطہِ آپ کے بنائے گئے ڈرافٹ میں موجود نہیں ہے۔۔۔۔۔۔

    یار کالی بھیڑ۔۔۔ میں نے کل تم کو ایک مثال دی تھی کہ مشرقی آداب مباشرت میں ہمیشہ خاوند ڈرائیور ہوتا ہے اور بیوی مسافر۔ تمہارے سوال کے جواب میں تم سے میں ایک سوال کرتا ہوں۔

    **

    کیا ایک گاڑی کے دو ڈرا‏ئیور ہو سکتے ہیں؟**

    **اگر ہوں تو کیا وہ گاڑی چل سکتی ہے؟

    **

    مشرقی آداب مباشرت میں ہوتا کچھ یوں ہے کہ مسافت پر نکلنے کا ارادہ تو دونوں اپنی مرضی سے کرتے ہیں بس فرق صرف اتنا ہے کہ اسٹیرنگ ہمیشہ مرد کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور بیوی ساتھ بیٹھ کر صرف مسافت کا مزہ لیتی ہے۔

    چونکہ تمہارا نقطہ نظر مغربی اقدار کے اردگرد گھومتا ہے جہاں عورت کو بھی ڈر‏‏ائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کا چسکا ہوتا ہے تو ایسی صورت میں اکثر اوقات گاڑی چل ہی نہیں سکتی کیونکہ دوںوں فریق یہ طے ہی نہیں کر پاتے کہ آج کون ڈرائیو کرے گا۔ اور پھر اسکا انجام یہی ہوتا ہے کہ دونوں کسی دوسرے انجان مسافر کی گاڑی میں سوار ہو کر اپنی ٹھرک ناجائز طریقے سے پوری کر لیتے ہیں اور گھر میں اجنبیوں کی سی زندگی گذارنے لگتے ہیں۔



  • مغرب کی مباشرت کے تخریبی پہلو

    مرد کے اندر عورت کی ترغیب فطری طور پر موجود ہے۔ جب یہ ترغیب نیام سے نکل کر تلوار بنتی ہے تو زندگی کی وادی میں ہزاروں عورتیں بے دریغ کچل دی جاتی ہیں۔ اس لیے چوری چھپے آشنائی کا حکم نہیں ہے۔ یہ صرف عورت کا تحفظ ہے کہ اس ترغیب کے ہاتھوں وہ روندی نہ جائے۔ نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم ہے، عورت کی حفاظت کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیا سے، پردے سے، خدا کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرد بھی بے زار ہوتا ہے حیا دار عورت سے لیکن عورت محفوظ رہتی ہے۔ وہ قدم قدم پر مرد کے اندر چھپی ہوئی ازلی ترغیب سے پچی رہتی ہے۔

    (من چلے کا سودا سے اقتباس)



  • Duplicate



  • Qarar Saheb,

    "A lot of Pakistanis are part of middle east labor force. They stay away from their wives for years. According to your logic, they can have "mutah', but the wives living alone for years can't?"

    Based on Islamic Jurisprudence I follow, there is a protection for wife also.

    “ It is not permissible for a man to abandon sexual intercourse with his young permanent wife for more than 4 months.”

    Islam provides high moral grounds in every area. We might be ignorant about it, but since one of the main purpose of Besath of our Prophet (pbuh) was to bring to peak the moral, ethical and character traits to peak, all answers to any moral issue are to be found in Islam.



  • @SD Saab

    کیا ایک گاڑی کے دو ڈرا‏ئیور ہو سکتے ہیں؟

    اگر ہوں تو کیا وہ گاڑی چل سکتی ہے؟

    Aeroplanes have two pilots and it flies well even when both are sleeping.

    -;)



  • جب دونوں پائلٹوں میں جہاز چلانے پر جھگڑا ہو جائے یا دونوں سو جائیں تو نتیجہ پرواز ایم ایچ دو سو ستر کی صورت نکلتا ہے

    ;-)

    ہیں جی ، ہاں جی

    گہرے سمندر والی مسکراہٹ کے ساتھ

    ف ج



  • سلیمان ڈار صاحب۔۔۔۔۔۔

    آپ ذرا واضح جواب دے دیں کہ آپ کے نزدیک مباشرت کے جملہ پہلوؤں میں دونوں فریقین کی مرضی کو یکساں اہمیت حاصل ہوگی یا نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔

    اگر تو دونوں فریقین کی مرضی کو یکساں اہمیت حاصل نہیں ہے تو پھر آپ کے ایک پچھلے بیان کو کیسے لیا جائے جس میں آپ بالواسطہ کہہ رہے تھے کہ کسی قسم کی جسمانی زبردستی درست نہیں۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ایسی صورت میں جہاں ایک فریق کی مرضی کو فوقیت حاصل ہے تو وہ فریق تو زبردستی بھی کرسکتا ہے۔۔۔۔۔۔

    میری سمجھ نہیں آرہا کہ آپ اس سوال کا ہاں یا نہیں میں واضح جواب دینے سے اتنے بھاگ کیوں رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ ایک سادہ سی بات ہے جس کا جواب ہاں یا نہیں کی صورت میں دیا جاسکتا ہے کہ نہیں دونوں فریقین کی مرضی برابر تصور نہیں سمجھی جائے گی اور اس ناانصافی کی فلاں فلاں وجوہات ہیں، بجائے گاڑی چلانے کے اور ڈرائیونگ اور پسنجر سیٹ پر بیٹھنے کے۔۔۔۔۔۔ پہلے آپ ذرا کا ہاں یا نہیں میں جواب دے دیں پھر میں آپ سے ہر قسم کی ڈرائیونگ کے جملہ امور بھی بات کرلوں گا۔۔۔۔۔۔

    میں نے پہلے بھی آپ سے پوچھا تھا لیکن آپ بات کو کہیں اور لے گئے تھے۔۔۔۔۔۔

    ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔ اب فیئر صاحب کی طرح اس موضوع اپنے بیانات تبدیل نہ کریے گا۔۔۔۔۔۔

    یعنی کہ آپ کا اور باجوہ صاحب کا اتفاق ہے کہ عورت کا موڈ نہ ہو تو اس کے ساتھ زبردستی کسی صورت نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔ البتہ اس کا موڈ بنانے کیلئے کوشش کرنے میں بہرحال کوئی حرج نہیں۔۔۔۔۔۔

    کیا میں صحیح سمجھا ہوں؟؟؟؟



  • آپ ذرا واضح جواب دے دیں کہ آپ کے نزدیک مباشرت کے جملہ پہلوؤں میں دونوں فریقین کی مرضی کو یکساں اہمیت حاصل ہوگی یا نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔

    کالی بھیڑ صاحبہ

    یار پھر وہی گردان کہ مرغی کی ایک ٹانگ

    آپ جیسے لوگوں کاالمیہ یہ ہے کہ آپ لوگ ہمیشہ مغرب کے قائم کردہ معیار کو بنیاد بنا کر مشرق کو جانچنے کی کوشش کرتے ہیں

    اگر آپ لوگوں نے بحث مشرقی معاشرے پر کرنی ہے تو خدارا مغربی تعصب کی عینک اتار کر پہلےمشرقی اقدار و روایات کو سمجھیں اور مشرقی معیار کے مطابق کسی بھی مسلے پر بحث کریں

    مشرقی آداب مباشرت کے مطابق اس عمل سے پہلے میاں بیوی کے درمیان نہ تو کوئی حلفیہ قول و اقرار ہوتا ہے کہ میاں بیوی سے پوچھے کہ کیا آج کی رات تمہیں یہ مباشرت کا عمل قبول ہے اور جواب میں بیوی کہے کہ جی ہاں قبول ہے، قبول ہے یا پھر صاف انکار کر دے اور نہ ہی کسی دستاویز پر دونوں کے دستخط مہر ضبط کیے جاتے ہیں تاکہ بعد میں کسی بھی جھگڑے کی صورت میں سند رہے

    مشرقی روایات کے مطابق مباشرت کا آغاز انتہائی برجستہ انداز میں ہوتا ہے اور عموماً خاوند ہی اسکی شروعات کرتا ہے۔ بیوی کی مرضی اور رضامندی کا تعین اسکی مزاحمت سے کیا جاتا ہے۔ اگر وہ اس عمل کی مزاحمت کرے تو خاوند اسے بیوی کا انکار سمجھتا ہے اور اگر وہ مزاحمت نہ کرے تو پھر اسے بیوی کی مرضی اور رضامندی ہی تصور کیا جاتا ہے

    اب آپ پوچھو گے کہ اگر بیوی مزاحمت کرے تو؟

    تو میرا جواب پھر وہی ہے کہ ایسی صورت میں خاوند کو بیوی کی مزاحمت کے اسباب معلوم کر کے پہلے اسکا سدباب کرنا چاہیے اور پھر اس عمل کو آگے بڑھانا چاہیے۔ اگر خاوند کےاقدامات کےباوجود بیوی کی مزاحمت مستقل جاری رہے تو پھر خاوند کو جسمانی تشدد کے بل بوتے پر جبری دخول ہرگز نہیں کرنا چاہیے



  • تھوڑی سی بات ذرا اس موضوع پر بھی ہو جائے جس کا اصل میں جھگڑا ہے۔۔

    کیا بنی مغربین کی جانب سے میریٹل ریپ کی گردان بند ہونے کا یہ مطلب لیا جائے کہ اس مدعے پر مشرقی گروپ کا دعوی قبول کر لیا گیا ہے کہ یہ اصطلاح مغربی ہے اور اسکا اطلاق مشرق پر نہیں ہو سکتا؟



  • دانشوروں نے تجربے اور تحقیق کے بعد اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ

    زنا ، یعنی گناه میں لذت ہے

    جماع میں سکون ہے

    حصول لذت اور حصول سکون کا سلسلہ قیامت تک چلتا رھے گا



  • مونیکا لیونسکی کے ساتھ افیئر کی وجہ سے اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کو زبردست سیاسی مخالفت اور مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    وینٹی فیئر نامی ایک میگزین میں شائع ہونے والے مضمون میں مونیکا لیونسكي نے بل کلنٹن کے ساتھ اپنے جنسی روابط پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    **

    لیونسکی نے بل کلنٹن کے ساتھ تعلقات کو اپنی مرضی کے خلاف بتاتے ہوئے کہا ہے کہ صدر نے میرا فائدہ اٹھایا۔

    **

    1998 میں رپبلکن پارٹی نے مونیکا لیونسكي کے ساتھ بل کلنٹن کے جنسی رشتے کو ایک بڑا مسئلہ بنا کر انھیں صدر کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔

    لیکن اب جبکہ بل کلنٹن کی اہلیہ ہلیری کلنٹن 2016 میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل ہیں، لیونسکی کا معاملہ ایک بار پھر سے امریکہ میں سیاسی بحث کا موضوع بن گيا ہے۔

    بعض مبصرین کا خیال ہے کہ شاید رپبلکنز اس پرانے معاملے کو ہلیری کلنٹن کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

    وینٹی فیئر میگزین نے لیونسکی کے مضمون کے جو اقتباسات جاری کیے ہیں اس میں لیونسکی کہتی ہیں کہ وہ اپنی اس کہانی کو دوبارہ عوام کے سامنے لانا چاہتی ہیں۔ ان کے مطابق انھیں آج بھی امریکہ میں جانا پہچانا جاتا ہے اور وہ میڈیا پر اپنا نام دیکھتی رہتی ہیں۔

    وہ لکھتی ہیں: ’میرے اور صدر کلنٹن کے درمیان جو کچھ بھی ہوا، مجھے اس پر گہرا افسوس ہے۔ میں دوبارہ یہ بات کہتی ہوں، جو کچھ بھی ہوا مجھے اس پر بہت افسوس ہے۔‘

    لیونسکی نے لکھا ہے کہ 1998 میں اس سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد انھیں بدنامی اور استحصال سے گزرنا پڑا۔ لیونسکی کا کہنا ہے کہ صدر کلنٹن کو بچانے کے لیے انھیں قربانی کا بکرا بنا دیا گیا۔

    لیونسكي لکھتی ہیں کہ’ کلنٹن انتظامیہ، خاص کر استغاثہ کے چمچے، حکمران اور اپوزیشن کے سیاسی کارکن اور میڈیا میری ایک شبیہ بنانے میں کامیاب ہوئے اور وہی شبیہ چلتی رہی کیونکہ اس پر اقتدار کی طاقتوں کا رنگ چڑھا دیا گیا تھا۔‘

    اس واقعے کے بعد مونیکا لیونسکی کو کافی مشکلات سے گزرنا پڑا۔ صدر کلنٹن کی انتظامیہ کی ملازمت چھوڑنے کے بعد مونیکا نے کچھ دنوں تک ہینڈ بیگ ڈیزائنر کے طور پر کام کیا۔ پھر انھوں نے ایک ريئلٹي ڈیٹنگ شو کی میزبان کے طور پر بھی کام کیا۔

    اس کے بعد وہ گریجویشن کرنے لندن چلی گئیں۔ مونیکا تسلیم کرتی ہیں کہ ان کے ماضی کی وجہ سے انھیں امریکہ میں ملازمت ملنے میں بہت مشکلات پیش آئیں۔

    بل کلنٹن سے تعلقات کے وقت مونیکا لیونسکی کی عمر تقریباً 23 برس تھی۔

    رپبلکن پارٹی نے بل کلنٹن پر مونیکا لیونسكي کے ساتھ جنسی تعلقات کےحوالے سے وفاقی تفتیش کاروں سے جھوٹ بولنے کا الزام لگایا تھا۔ اسی الزام میں رپبلکن پارٹی نے کلنٹن کے خلاف مواخذہ بھی شروع کیا لیکن وہ ناکام رہے۔ بل کلنٹن نے اپنے عہدہ صدارت کی مدت مکمل کی اور وہ سنہ 2000 تک امریکہ کے صدر رہے۔

    اس دوران ہلیری کلنٹن سینیٹر منتخب ہوئیں اور صدر براک اوباما کے دور میں وزیر خارجہ بھی رہیں۔ ہلیری کو فی الحال 2016 کے صدارتی انتخاب کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے ممکنہ دعویدار سمجھا جا رہا ہے۔

    سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے مونیکا لیونسکی سے اپنے تعلقات کو ایک ’خوفناک اخلاقی غلطی‘ قرار دیا تھا

    ادھر رپبلکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار سینیٹر رینڈ پال نے کچھ دنوں پہلے کہا تھا: ’باس کو اپنے دفتر کی نوجوان ملازماؤں کا استحصال نہیں کرنا چاہیے۔‘

    **

    انھوں نے کہا کہ ’بل کلنٹن نے اپنے دفتر میں کام کرنے والی ایک 20 سالہ انٹرن سے فائدہ اٹھایا۔ اس پر کوئی بہانے بازی نہیں چلے گی، یہ جارحانہ طرز عمل ہے۔‘

    **

    اپنے مضمون میں لیونسکی نے لکھا ہے کہ اتنے برسوں بعد وہ اپنی خاموشی اس لیے توڑ رہی ہیں کہ اپنے ماضی کو کوئی مقصد دے سکیں۔

    وہ لکھتی ہیں: ’اپنی کہانی بیان کر کے مجھے لگتا ہے کہ شاید میں شرمندگی کے دور سے گزرنے والے لوگوں کی مدد کر سکوں۔‘

    لیونسکی اب آن لائن شرمندہ ہونے والے اور جنسی طور پر استحصال کے شکار متاثرین کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں۔ وہ ان موضوعات پر عوامی فورم پر آواز اٹھانا چاہتی ہیں۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/05/140507_monica_breaks_media_silence_zz.shtml



  • اگر خاوند کےاقدامات کےباوجود بیوی کی مزاحمت مستقل جاری رہے تو پھر خاوند کو جسمانی تشدد کے بل بوتے پر جبری دخول ہرگز نہیں کرنا چاہیے

    سلیمان ڈار صاحب۔۔۔۔۔۔

    آپ کے واضح جواب کا شکریہ۔۔۔۔۔۔

    تو پھر دونوں مکتبہِ فکر ایک ہی صفحہ پر ہیں کہ اگر بیوی ہم بستری کیلئے راضی نہ ہو تو اس کے ساتھ کسی قسم کی جسمانی زبردستی نہیں کی جائے گی۔۔۔۔۔۔

    اب ہم بات کرسکتے ہیں کہ اگر کسی فریق کی طرف سے جسمانی زبردستی ہوتی ہے تو کیا اس مخصوص معاملے پر پہلے سے کوئی قانون ہے جو اس زیادتی پر متاثرہ فریق کو انصاف فراہم کرسکے۔۔۔۔۔۔ اور اگر نہیں ہے تو آپ کے خیال میں کیا اس پر قانون سازی ہونی چاہئے۔۔۔۔۔۔

    مشرقی اقدار کے حامی گروپ کا اس نقطے پر مکمل اتفاق ہے کہ میریٹل ریپ کی اصطلاح یا اس اصطلاح کی بنیاد پر بنایا ہوا کوئی بھی قانون یا ضابطہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا حصہ کسی صورت میں نہیں بن سکتا۔ یہ نقطہ ناقابل مذاکرات ہے اور مغربی گروپ کی جانب سے اس نقطے کو تسلیم کیے بغیر کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا جا سکتا۔

    چونکہ آپ کو میریٹل ریپ کے لفظ سے شدید چڑ معلوم ہوتی ہے لہٰذا آپ کے خیال میں اگر کوئی فریق دوسرے فریق کے ہم بستری پر راضی نہ ہونے کے باوجود جسمانی طور پر زبردستی کرتا ہے تو اس عمل کیلئے کیا نام ہونا چاہئے۔۔۔۔۔۔ آپ اپنی پسند کا کوئی بھی نام تجویز کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔۔