عالمی اعزاز حاصل کرنے والا پاکستانی، پہچان کے لیے سوشل میڈیا کا محتاج



  • ’’مسل مینیا مسٹر یونیورس‘‘ میں پاکستان باڈی بلڈر سلمان احمد نے دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس مقابلے میں تمغہ حاصل کرنے والا وہ پہلا پاکستانی ہے تاہم ملک کا نام روشن کرنے والا یہ تن ساز ملک میں بے توجہی پر دلبرادشتہ ہے۔

    گزشتہ ماہ امریکی شہر میامی میں نیچرل باڈی بلڈنگ کا عالمی مقابلہ ’’مسل مینیا مسٹر یونیورس‘‘ منعقد ہوا، جس میں پاکستان سمیت دنیا کے 300 سے زائد تن سازں نے شرکت کی۔ لاہور کی سنٹرل پنجاب یونیورسٹی میں ایم بی اے کے طالب علم سلمان احمد نے اس مقابلے میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔

    پانچ برس قبل تن سازی کی ابتداء کرنے والے سلمان احمد نے ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے اس کیٹیگری میں تمغہ حاصل کیا ’’یہ مقابلہ چار دن تک جاری رہا تھا اور میں نے 185 lb یعنیٰ 80 kg کی کیٹیگری میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔ میں پاکستان کا پہلا کھلاڑی ہوں جو وہاں یہ پوزیشن لے کر آیا ہے۔ امریکا جا کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں جب آپ کی حکومت ہی آپ کو سپورٹ نہیں کرتی تو بہت زیادہ مشکلات سہنی پڑتی ہیں۔ امیگریشن سے لے کر مقابلے تک بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘‘۔

    سلمان کہتے ہیں کہ جب وہ پاکستان پہنچے تو انہیں یہ جان کر شدید صدمہ ہوا کہ ملک میں کسی کو اس کی خبر ہی نہیں تھی کہ ملک کا ایک نوجوان کھلاڑی بیرون ملک بڑی کامیابی حاصل کر کے واپس آیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حکومتی اداروں سے لے کر ٹیلی وژن چینلز تک متعدد لوگوں سے رابطہ کیا مگر ہر طرف سے ان کی حوصلہ شکنی ہی کی گئی۔ لہٰذا مجبوراً انہیں سوشل میڈیا کا سہارا لینا پڑا جس سے انہیں اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا موقع ملا۔ ’’حکومت کی طرف سے تو مجھے ابھی تک نہیں پوچھا گیا ہے لیکن پاکستانی یوتھ مجھے سپورٹ کر رہی ہے اور سراہ رہی ہے۔ مجھے روزآنہ ہزاروں کالز آتی ہیں۔ مجھے سوشل میڈیا کے علاوہ ہر جگہ سے پذیرائی مل رہی ہے اور میرا فیس بک اتنا زیادہ بڑھ گیا ہےکہ مجھے خود سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ سب کچھ کیسے ہو گیا۔ مجھے اس کی توقع نہیں تھی۔ اس کے بعد کافی زیادہ ٹی وی چینلز نے بھی مجھ سے رابطہ کیا۔ اب مسٹر ورلڈ کے لیے مجھے چنا گیا ہے۔ یہ مقابلہ نومبر میں لاس ویگاس میں ہوگا۔ اگر میں وہاں گیا اور جیت کر آیا تو مجھے ایک Pro card مل جائے گا جو کہ پروفیشنل باڈی بلڈنگ کارڈ ہے اور پاکستان کے کسی بھی باڈی بلڈر کے پاس نہیں ہے‘‘۔

    سلمان احمد نے شکوہ کیا کہ پاکستان میں سوائے کرکٹ کے کسی بھی کھیل کو نہ تو سپورٹ دی جاتی ہے اور نہ ہی اس کے کھلاڑیوں کو پذیرائی ملتی ہے’’جب پاکستان واپس آیا تو کسی کو پتا ہی نہیں تھا کہ یہ نیچرل باڈی بلڈنگ کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ہوتا ہے۔ اسے آسٹریلیا، کینڈا، امریکا اورر یورپی ممالک سمیت دنیا کے 32 ملکوں میں براہ راست دکھایا گیا اور پاکستان میں کسی کو پتا ہی نہیں ہے کہ ان کا کھلاڑی اس لیول پر جا کر مقابلے میں حصہ لے رہا ہے اور جیت کر آرہا ہے۔ ایک ریکارڈ بنا کر آرہا ہے۔ یہ ایک بڑی کامیابی تھی لیکن جب آپ واپس آتے ہیں تو اپنے ملک میں واپس آکے بتانا پڑتا ہے کہ میں یہ جیت کر آرہا ہوں اور پھر آگے سے سنے کو ملتا ہے کہ اچھا چلو ٹھیک ہے پھر ہم کیا کریں؟۔‘‘

    سلمان کے مطابق ملک میں تن سازی میں کئی نامور کھلاڑی پیدا ہوئے ہیں۔ اس سے وابستہ کئی ایسے افراد ہیں، جو ملک میں بے توجہی کا شکار ہوئے اور دلبرداشتہ ہو کر بیرون ملک چلے گئے ’’ ایک تو معصوم بٹ صاحب ہیں، 91 میں وہ مسٹر پاکستان بھی رہ چکے ہیں۔ ان کو کسی بھی قسم کا سپورٹ نہیں تھا تو وہ بیچارے پاکستان چھوڑ کر چلے گئے۔ اب وہ عالمی سطح پر آئرلینڈ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    اسی طرح 97 میں عاطف انور صاحب تھے۔ کراچی سے انکا تعلق تھا۔ وہ بھی مسٹر پاکستان تھے لیکن یہاں دو وقت کی روٹی کو ترستے تھے۔ اب وہ آسٹریلیا میں اسپانسرڈ ہیں۔ یہ سب پاکستانی کھلاڑی ہیں اور دنیا انہیں اپنے پاس بلا کر اپنے نام سے مقابلوں میں شرکت کرواتی ہے۔ اگر پاکستان میں ان لوگوں کو وہ سہولتیں میسر ہوتیں، پذیرائی ملتی اور ان سے تعاون کیا جاتا تو مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں بھی کم از کم چودہ پندرہ کھلاڑی ایسے ہوتے جن کے پاس Pro card یا پروفیشنل باڈی بلڈنگ کارڈ ہوتا‘‘۔

    سلمان کے مطابق انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ وہ نہایت کم عمری میں ہی بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ گو کہ انہیں ملک میں وہ حکومتی پذیرائی نہیں ملی ہے جس کا ہر کھلاڑی حق دار ہے تاہم وہ آگے بھی پاکستان کا نام روشن کرنے کے لیے مزید بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کریں گے۔

    http://www.dw.de/عالمی-اعزاز-حاصل-کرنے-والا-پاکستانی-پہچان-کے-لیے-سوشل-میڈیا-کا-محتاج/a-17769378



  • بےشک ایک شاندار کارکردگی اور قابل فخر کارنامہ ہے اس قسم کے نوجوانوں پر لاہور ،پنجاب اور پورے پاکستان کے لوگوں کو فخر ہے یہ گللو ،الو اور جٹ انکی پہچان نہیں ہونی چاہیے . اس نوجوان کو چاہیے کے اداکاری کے کسی ادارے سے فن سیکھ کر شان اور موعمر رانا کو آرام کا موقع دے .

    http://musclemania.com/super-lean-year-round/





  • BitterTruth Bhai

    Most of the time people hate Pakistan when it comes to such things. Also British borne boxer Amir khan's parents had offered their beloved son to Pakistan so that he could represent Pakistan in Olympics in order to give Pakistan a better name. They did it just to show how much they loved Pakistan. But, and very regretfully the answer to this great offer was that "Sorry, we can't take this offer due to our financial circumstances." Yes, "due to financial circumstances".... what a shame for those Pakistani Leaders who themselves live in all great luxuries, no matter how much their people suffer for clean water, bread, shelter, electricity alongside with a long list of similar basic needs of daily life they can only dream of. Shame on us and shame on our leaders.

    Often people ask me for the solution of how to get rid of such leaders, I always say that "just do not elect anybody who is not willing to separate religion from politics." I'm sure this is the only solution to drag out our Pakistan out of every filth. God bless Pakistan



  • "Sorry, we can't take this offer due to our financial circumstances."

    Any evidence of that? If so please produce it here on he forum, if not just tender your apologies!



  • Waiting for a clarification please!!



  • @J.A.Khan

    I am waiting for your response either in the form of evidence or an apology for telling an untruth!!!



  • @J.A.Khan

    You are fast losing your credibility on this forum if you do not respond!!!



  • @anjaan sb,

    Are the pics posted by BT, too tempting?



  • Tripe!



  • Amir Khan never tried to represent Pakistan but his younger brother represent Pakistan in common wealth and in London Olympics only after he was overlooked by British selectors.

    http://www.telegraph.co.uk/sport/othersports/commonwealthgames/8034512/London-2012-Olympics-Amir-Khans-brother-Haroon-set-to-pass-on-Games-to-go-pro.html



  • Sports require infrastructure and the crowd that has buying capacity to watch games not just passion. Those opportunities are in developed world - Western Europe and America. Maria Sharapova is Russian but moved to FL when she was barely 10 or 12, something with Messi at 12 moved to Barcelona. Haroon Khan can represent Pakistan but it's not Pakistan's infrastructure that produced him. He is British and they will produce many like him or better because they have established a system that nurtures athletes. There is a reason all soccer talent from globe tries to play in Europe - precisely Western Europe.



  • شیرازی بھائی، انفراسٹرکچر اور نظام تو چیمپئن بنانے کے لئے ہی بناے جاتے ہیں مگر جو لوگ بغیر کسی نظام اور انفراسٹرکچر کے اپنا نام دنیا میں بناتے ہیں انکی قابلیت اور جذبے کو سراہنے میں کنجوسی نہیں کرنا چاہیے



  • itemSharif

    Thanks a lot for helping me out and my ignorance.



  • "Sorry, we can't take this offer due to our financial circumstances."

    Not ignorance but a blatant untruth for self-glorification.

    An apology is in order!



  • Shirazi@

    Sports require infrastructure and the crowd that has buying capacity to watch games not just passion. Those opportunities are in developed world - Western Europe and America. Maria Sharapova is Russian but moved to FL when she was barely 10 or 12, something with Messi at 12 moved to Barcelona. Haroon Khan can represent Pakistan but it's not Pakistan's infrastructure that produced him. He is British and they will produce many like him or better because they have established a system that nurtures athletes. There is a reason all soccer talent from globe tries to play in Europe - precisely Western Europe.

    ==========

    جناب شیرازی صاحب

    کوئی بیس برس قبل اکنامسٹ نامی جریدے میں ممالک کی اسپورٹس میں کارکردگی کو اس ملک کی عمومی ترقی کے ایک ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا - اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ سن ١٩٠٨ میں لندن میں منعقد ہونے والے اولمپک کے فوری بعد امریکہ اور مغربی یورپ کے عالمی اقتصادی پالیسی سازوں نے کسی ملک کی ترقی کو جانچنے کے لئے کچھ پیمانے ترتیب دیے تھے - ایک پیرامیٹر اسپورٹس کے حوالے سے بھی تھا - جسطرح کسی بھی ملک میں امن و امان ، صنعتی پیداوار کی کوالٹی ، صحت کی ڈلیوری کی سہولیات وغیرہ وغیرہ کو کسی بھی ملک کے انفراسٹرکچر کے کامیاب ہونے کا پیمانہ سمجھا گیا اس ہی طرح کھیلوں میں ممالک کی کارکردگی خاص طور پر اولمپکس میں حاصل کردہ تمغوں اور پرفارمنس کو کسی بھی ملک میں موجود انفراسٹرکچر کے " پرفیکٹ " ہونے کی علامت کے طور پر ماں لیا گیا

    جنگ عظیم دوم کے بعد

    General Agreement on Tariffs and Trade

    نامی معاہدہ ہوا جس میں تجارت اور انویسٹمنٹ کے قابل ممالک میں کسی بھی ملک میں اسپورٹس میں کاردگی ، امن و امان کی صورتحال وغیرہ وغیرہ کو اہم اور حساس پیمانوں کے طور پر تسلیم کیا گیا

    ======

    اب اگر ہم سپورٹس اور خاص طور پر اولمپکس کی کارکردگی کو کامیاب اور پرفیکٹ انفراسٹرکچر کے طور پر مان لیں تو میرے خیال میں مغربی یورپ کے ممالک کے انفراسٹرکچر کو اچھا تو کہا جا سکتا ہے مگر "ٹاپ کلاس " نہیں - نیچے ایک لنک میں اب تک منعقد ہونے والے ہونے والے گرمیوں اور سردیوں کے اولپکس میں کارکرکردی کا ایک ٹیبل درج ہے

    اسکے مطابق امریکہ نے اب تک سب سے زیادہ یعنی ٢٦٨١ میڈل حاصل کر چکا ہے - امریکہ اڑتالیس مرتبہ ان مقابلوں میں شریک ہو چکا ہے - امریکہ میں انفراسٹرکچر کو سنجیدہ اور سانسی انداز میں ڈیویلپ کرنے کا سلسلہ صدیوں سے جاری ہے -

    دوسرے نمبر پر سابقہ سوویت یونین کی کار کردگی بہت نمایاں ہے - سوویت یونین نے ان مقابلوں میں اٹھارہ مرتبہ شرکت کرکے بارہ سو چار تمغے جیتے ہیں - اس سے پہلے یہی خطہ روسی سلطنت (رشین امپائر ) کے طور پر مقابلوں میں شرکت کرتا رہا - بعد میں سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد آج کا روس مغربی یورپ کے تقریبا تمام ممالک سے بہتر کارکردگی دکھاتا رہا ہے

    برطانیہ ان مقابلوں میں لگ بھگ پچاس مرتبہ شریک ہوا اور ٨٠٦ تمغے جیتے - یہاں بھی انفراسٹرکچر میں جدید خطوط صدیوں سے استوار ہو رہے ہیں

    ماضی میں مغربی اور مشرقی جرمنی الگ الگ ان مقابلوں میں حصہ لیتے رہے ہیں اور کم و بیش ہر بار ہی مشرقی جرمنی کے حاصل کردہ تمغوں کی تعداد مغربی جرمنی کے مقابلے میں دوگنی ہوتی تھی

    میڈرڈ (یعنی اسپین) کے انفراسٹرکچر کو آپ ارجنٹینا کے فٹ بالر کے عظیم ہونے کا سبب قرار دے رہے ہیں - یہاں خود اسپین کی کارکردگی اولمپکس کے مقابلوں میں قابل ذکر نہیں - اسپین کی کار کردگی (چالیس مقابلوں میں ١٣٣ تمغے ) سے کہیں بہتر کار کردگی "دنیا کے عظیم ترین ملعون " یعنی کیوبا سے بھی نیچے ہے جس نےصرف انیس مقابلوں میں حصہ لے کر ٢٠٨ تمغے حاصل کیے

    یہاں آپ سے میرا ایک سوال اور بھی بنتا ہے - کیا میسی کی طرح میرا ڈونا یا ترقی پزیر ممالک کے دیگر عظیم کھلاڑی بھی امریکہ اور یورپ میں پلتے بڑھتے اور ٹریننگ حاصل کرتے رہے تھے ؟

    میرے خیال میں نہ ہی ایک مضبوط انفراسٹرکچر کی فراہمی سپورٹس میں اچھی کار کردگی کی ضامن ہے اور نہ ہی اسپورٹس کی کارکردگی کو حتمی طور پر کسی ملک کی ترقی یا انفراسٹرکچر کی کامیابی کا پیمانہ سمجھا جا سکتا - اگر سمجھا جاسکتا ہے تو کم از کم اولمپکس کے حوالے سے مغربی یورپ دراصل مشرقی یورپ کے مقابلے میں (خاص طور پر ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ) کچھ پیچھے ہی نظر آتا ہے ٠

    http://en.wikipedia.org/wiki/All-time_Olympic_Games_medal_table



  • یہاں آپ سے میرا ایک سوال اور بھی بنتا ہے - کیا میسی کی طرح میرا ڈونا یا ترقی پزیر ممالک کے دیگر عظیم کھلاڑی بھی امریکہ اور یورپ میں پلتے بڑھتے اور ٹریننگ حاصل کرتے رہے تھے ؟

    ہکابکا صاحب۔۔۔۔۔۔

    اگر تو میں اس سوال کا جواب دوں تو میرا کہنا ہے کہ ہمیں دو چیزوں کو الگ الگ دیکھنا چاہئے۔۔۔۔۔۔ اول کسی بھی کھلاڑی کی قدرتی مہارت، دوئم کھلاڑیوں کو حاصل ہونے والی سہولیات۔۔۔۔۔۔

    میں اس معاملہ میں ایک رَف سی مثال دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔ دو اشخاص ہیں۔۔۔۔۔۔ پہلے شخص کا ذہانت کا معیار اول کیٹیگری(آئی کیو کہہ لیں یا کچھ اور) کا ہے اور اس کو ہفتہ میں چار گھنٹے درکار ہیں کسی بھی ایک مضمون میں ایک گریڈ حاصل کرنے کیلئے۔۔۔۔۔۔ دوسرے شخص کی ذہانت کا معیار پہلے شخص کی طرح نہیں ہے اور اس کو کسی مضمون میں اے گریڈ حاصل کرنے کیلئے نہ صرف دس گھنٹے فی ہفتہ درکار ہیں بلکہ کچھ مزید ٹیوشنز بھی درکار ہیں تب جا کر وہ اے گریڈ حاصل کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ اب یہ جو دوسرے شخص کو مزید محنت اور ٹیوشنز درکار ہیں یہی انفرا اسٹرکچر ہے۔۔۔۔۔۔ ترقی پذیر ممالک میں صرف وہ لوگ تو پھر بھی کچھ حد تک کامیاب ہوسکتے ہیں جن کی ذہانت(یا کوئی اور مہارت) کا معیار مثال میں دیے گئے پہلے شخص کی مانند ہو لیکن ترقی پذیر ممالک میں وہ انفرا اسٹرکچر عموماً مَیسر نہیں ہوتا جو اوسط یا اوسط درجہ سے زیادہ کی ذہانت یا مہارت رکھنے والے شخص کو اونچے درجہ تک لے جا سکے۔۔۔۔۔۔

    آپ نے میراڈونا کی بات کی۔۔۔۔۔۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ جنوبی امیریکہ کے فٹبالرز عموماً اپنی قدرتی مہارت کی بناء پر ہی ٹاپ لیول پر پہنچتے رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ جبکہ یورپ میں پھر بھی ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ وہاں عموماً انفرا اسٹرکچر کی بدولت کھلاڑیوں کو ٹاپ لیول پر لایا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ لیکن اگر کسی قدرتی مہارت رکھنے والے کھلاڑی کو انفرا اسٹرکچر کی بدولت سہولیات مل جائیں مثلاً مناسب غذا، ٹرینرز، کھیل کے میدان، ایکوئپمنٹس تو کہاں کا کہاں پہنچ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ انفراسٹرکچرز ضروری ہیں۔۔۔۔۔۔

    باقی آپ نے مختلف ممالک کے درمیان اولمپکس میڈلز کے تقابل پر بات کی تو میرا کہنا یہ ہے کہ اولمپکس میڈلز کو اس مذکورہ ملک کی آبادی کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ زیادہ بہتر میٹرک ہوگا۔۔۔۔۔۔ مثلاً سوا ارب کی آبادی کا چین اگر سو تمغے لیتا ہے اور تیس کڑوڑ کی آبادی کا امریکہ نوے تمغے حاصل کرتا ہے تو میرے نزدیک امیریکہ کی صورتحال زیادہ بہتر ہے۔۔۔۔۔۔

    مزید یہ کہ آپ جانتے ہی ہوں گے کہ مشرقی جرمنی اولمپکس میں ایک بہت بڑا پاور ہاؤس تھا۔۔۔۔۔۔ میرے نزدیک شاید اس معاملہ کو وہاں کی حکومتوں نے ریاستی سطح پر لیا ہوا تھا کہ انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام کے حامل ممالک سے زیادہ میڈلز حاصل کرنے ہیں۔۔۔۔۔۔ میرے نزدیک یہ حکمتِ عملی کچھ صحیح نہ تھی۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں ان کے نزدیک کھیلوں میں اونچا درجہ حاصل کرنے کے بجائے اس کو کیپیٹلسٹ بمقابلہ کمیونسٹ کی جنگ بنایا جارہا تھا۔۔۔۔۔۔

    کافی عرصہ پہلے مشرقی جرمنی کے کھلاڑیوں کے حوالے سے ایک اسکینڈل کا پڑھا تھا۔۔۔۔۔۔

    http://en.wikipedia.org/wiki/Doping_in_East_Germany

    http://www.bbc.co.uk/sport/0/athletics/22269445



  • میں بھی ابھی یہ ڈاکومنٹری دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔

    https://www.youtube.com/watch?v=VvKQ2kVBwTU



  • @Hakka Bakka Saab

    I don't think olympic medal is a good yardstick. In olympics 90% of medals are distributed in sports that ordinary people don't compete in. Beside swiming I don't know anyone in US who takes part in olympic kind of sports. The reason US is able to get those medals is perhaps they approach it scientifically at some point. Same thing that Chiense successfully did.

    I think the better gauge is sports leagues like NFL, NBA, MLB, NHL, IPL, EPL, La Liga, Bundesliga, Serie A, Ligue 1 etc. We need to look at the size and volume of those leagues. How are they able to maintain the same standard year after year, decade after decade. The successful leagues are run very efficiently and creatively perhaps better than many industries.

    There is no denying in Latin American soccer or baseball talent, no questions about African atheletic abilities despite lack of resources. But to me top medal tally or titles like WC is secondary. The primary purpose of sports is, as Bitter Truth Saab said somewhere, to entertain people and to genrate revenues based on passion of the people. Leagues share part of it with foreign atheltic talent but good chunk of it remains where it is generated from. The leagues play important role in many forms and shapes in any country's lives. People go and watch games in stadiums - not just on TV. People spend money not only on tickets but peripherals that boost up economy activity. They provide sports stars as model to sell all kind of goods. Most importantly they keep people busy in harmless sports bickering as oppose to potentially dangerous political upheavals.

    On the contrary the national sports and olympic tally is not much more than a feel good factor. Winning and loosing is secondary the real contribution of sports is keeping public engaged through the year and economic activity that touchj masses not just few athletes who play in foreign leagues. That's where developed world has distinct advantage on developing world. Exceptional talent is like a big fish you caught but more important and lasting thing is mechanism by which establish a system to catch a fish - the infrsatructure. Not just the facilities and stadiums but buying capacity of passionate followers.