چار حلقے بمقابلہ تمام جمہوریت



  • جمہوریت خطرے میں ہے........... یہ خبر کچھ سنی سنائی لگتی ہے

    گزشتہ دور حکومت میں جب افتخار چودھری اپنے از خود نوٹس اور عسکری طاقتیں اپنی سازشوں کے ذریعے یکے بعد دیگرے کبھی سوئس کیس اور کبھی میمو گیٹ جیسے تیروں سے اس وقت کی حکومت یعنی پیپلز پارٹی کو ہدف بناتے تو پیپلز پارٹی کی طرف سے یہی آواز آتی تھی :

    **

    جمہوریت خطرے میں ہے………

    **

    لیکن پیپلز پارٹی کے اس خدشے کے رد کرتے ہوۓ تمام محب وطن دانشواران، صحافی برداری ، تجزیہ نگاروں اورحکومت مخالف جماعتیں یکذباں ہو کر کہتی تھیں کہ:

    “پیپلز پارٹی غلط فہمی میں مبتلا ہے، جمہوریت نہیں حکومت خطرے میں ہے اور حکومت اور جمہوریت میں بہت فرق ہے، اگر ایک حکومت چلی بھی جا ئے تو دوسری آجائے گی اور جمہوریت چلتی رہے گی.“

    موجودہ حکومت کو درپیش حالیہ بحران اور اسی بنیاد پہ حکومتی خدشہ کہ جمہوریت خطرے میں ہے کچھ مختلف نہیں لیکن محب وطن دانشواران، صحافی برداری، تجزیہ نگاروں اور حکومت مخالف جماعتوں کا اس حکومتی خدشے کی مد میں رد عمل خاصا مختلف ہے. سوائے ان جماعتوں کے کہ جنہوں نے حکومت مخالف مہم چلا رکھی اور انکے مطابق

    “جمہوریت نہیں بلکہ بادشاہت اور آمریت کو خطرہ ہے، مجودہ حکومت جمہوریت نہیں بلکہ بادشاہت ہے یا آمریت ہے.

    سیاسی جماعتوں کے رویے تو عموما سیاسی ہی ہوتے ہیں تمام سیاسی جماعتیں موقع و محل کی مناسبت سے اپنی جگہ کا تعین اور حکمت عملی اختیار کرتیں ہیں مگر دانشوارن، صحافی برادری اور تجزیہ نگاروں کا "جمہوریت خطرے میں ہے" کے خدشے پر حکومت اور جمہوریت میں فرق پہ روشنی ڈالنے کے بجائے اس خدشے پہ حکومت کا ہم آواز ہونا یہ بتاتا ہے کہ جمہوریت واقعی خطرے میں ہے.

    **

    سوال یہ پیدا ہوتیں ہیں کہ جمہوریت کیوں خطرے میں ہے؟**

    **

    کیا جمہوریت صرف چار حلقوں کی وجہ سے خطرے میں ہے؟

    کیا خواجہ سعد رفیق اور ایاز صادق اور دیگر دو متنازع ارکان قومی اسسمبلی کا فارغ ہونا جمہوریت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے؟

    کیا وزیر اعلی پنجاب، جو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں نہ صرف متنازع بلکہ ملزم بھی قرار دیے جاتے ہیں، کا مستعفی ہو جانا جمہوریت کو خطرے میں ڈال دے گا؟

    **

    **کیا میاں صاحب کا وزارت عظمیٰ کا عھدے سے سبکدوش ہونے سے جمہوریت ختم ہو جاتے گی؟

    **

    یہ تھریڈ اسی امید پر کھولا ہے کہ شاید ان سوالات کے جوابات مل سکیں اور جمہوریت کو بچانے اور اس سے زیادہ جمہوریت کو سمجھنے کا موقع ملے.



  • BitterTruth Saheb

    I think Javed sheikh Saheb says it well that: Both NS and IK are fighting for their ego only. Also I'm sure that both of them are using Jamhooriat as their personal Londi. Both seem hungry for power only, I think so.



  • اس ملک کا کیا بنے گا جہاں ٢٦٨ سیاسی جماعتیں ہوں اور ہر ایک جماعت اپنے کو اٹھارہ کروڑ عوام کا نمایندہ سمجھتی ہو؟

    ذرا سوچئے



  • @Respected Sheikh Sahab

    You are right but recently we have seen Zardari, how he tackled many critical situations through reconciliation and by relinquishing powers and sacrificing PM and other important personalities from his govt just to achieve the greater objectives and for the continuity of democracy in country.