دولت اسلامیہ کا مال غنیمت



  • ماہرین کا کہنا ہے کہ ساڑھے چار ہزار کے قریب افراد اب بھی دولت اسلامیہ کے قبضے میں ہیں، جن میں تین ہزار خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    نوجوان یزیدی خواتین اور لڑکیوں کو مالِ غنیمت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور علاقے بھر میں ان کی غیر قانونی خرید و فروخت جاری ہے۔ صرف چند ہی لڑکیاں اپنی جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

    زاخو کے علاقے کے ایک کیمپ میں پناہ لینے والی ادلہ اپنے شوہر سے پھر مل پائی ہیں۔ ان کو دیگر خواتین کے ساتھ اپنے گاؤں سے اٹھایا گیا اور 38 دنوں کے لیے قید رکھا گیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’پہلے تو مجھے موصل میں ایک بڑے گھر میں لے جایا گیا جو خواتین سے بھرا ہوا تھا۔ ان لوگوں نے ساری کھڑکیاں اور دروازے بند کر دیے اور گھر کے چاروں طرف محافظ کھڑے کر دیے۔‘

    ادلہ کو جگہ جگہ سے منتقل کیا گیا اور اس کی سہیلیوں کو ریپ اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    ادلہ نے کہا کہ کچھ عرصے کے لیے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے ان کے ساتھ کسی قسم کی زبردستی نہیں کی کیونکہ وہ امید سے تھیں۔ لیکن بعد میں انھیں اپنے بارے میں فکر ہونے لگی۔

    مجھے ایک سکول میں پناہ لینے والی نوجوان خاتون ملیں جنھوں نے دولت اسلامیہ کے ہاتھوں اپنے اوپر تشدد کی خوفناک کہانی سنائی۔

    انھوں نے کہا: ’وہ ہمیں تاروں سے مارتے تھے، بھوکا رکھتے تھے اور یہاں تک کہ ہمیں اپنے چہرے پیٹرول کے ساتھ دھونے پر مجبور کرتے تھے۔ انھوں نے میری دوست کو لے جانے کی کوشش کی لیکن اس نے اپنی کلائیاں کاٹ دیں۔ دو اور خواتین نے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کر لی۔‘

    یہ خاتون صرف اس وقت دولت اسلامیہ کے قبضے سے فرار ہو پائیں جب ان پر عراقی فوج کی طرف سے فضائی حملے ہوئے اور وہ تین دن تک پناہ کی تلاش میں چلتی رہیں۔ اب وہ ان خواتین کے لیے پریشان ہیں جنھیں وہ پیچھے چھوڑ آئی ہیں۔

    انھوں نے کہا: ’وہ نو برس سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کو بیچ رہے ہیں۔ کچھ مردوں نے دو خریدیں، کچھ نے تین، اور کچھ نے تو ایک ہی بار میں چار یا پانچ خرید لیں۔ یہ بہت شرم کی بات ہے۔‘

    More...

    http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2014/09/140924_iraq_yazidis_ak.shtml



  • جو مسلمان اس غم میں مارے جارہے ہیں کہ کاش وہ چودہ سو سال پہلے کے "عظیم" مسلمان ادوار میں پیدا ہوجاتے ....ان لوگوں کے لیے اسلام عرب میں دوبارہ زندہ ہوگیا ہے