لندن پلان ایک عالمی سازش



  • لندن کو بدنام کیوں کرتے ہیں؟جس طرح کے زیرک منصوبے اور چالبازیاں دیکھنے میں آرہی ہیں، ان کے سوتے سورج تلے اُسی سرزمین سے پھوٹتے ہیں جسے مقامی زبان میں رائے ونڈ کہتے ہیں ۔ پنجاب کی ذہین فطین انتظامیہ، جس کے سربراہ خادم ِ اعلیٰ ہیں اور جس کے من میں یہ روشن خیال سمایا کہ علامہ قادری کو سبق سکھانا چاہئے، لند ن میں نہیں ، لاہور میں اپنی موجودگی رکھتی ہے۔ علامہ صاحب کے ماڈل ٹائون کے ایک کنال کے گھر کے باہر لگائے جانے والے بیرئیرز، جن کو لگانے کی اجازت لاہور ہائی کورٹ سے حاصل کی گئی تھی، کو ہٹانے کے لئے کیا جانے والا پررعونت فیصلہ گریٹر کونسل لندن کا نہیں، پنجاب حکومت کا تھا۔ اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے والی فورس، جو پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کو سبق سکھانے آئی ، لندن میٹروپولیٹن پولیس نہیں بلکہ ایسے کاموں کی مہارت اور تاریخ رکھنے والی پنجاب پولیس تھی۔

    اس میںکوئی شک نہیں کہ لندن میں دنیا کے عظیم ترین تھیٹر پائے جاتے ہیں لیکن وہ تمام مل کر بھی ہز ہائی نس گلو بٹ جیسا ایک کردار بھی پیش نہیں کرسکتے... این سعادت بزورِ بازو( بشمول ڈنڈا) است۔ ڈنڈا لہراتے ہوئے گلو بٹ کے مناظر جو کیمرے کی آنکھ نے امر کردئیے، لندن اور اس کے مضافات کے ہرگز نہیں۔ چاہے لندن پولیس نے نشانے بازی کی جتنی بھی مہارت حاصل کررکھی ہو، وہ خواب میں بھی لاہور پولیس کامقابلہ نہیں کرسکتی... گن فائر سے دو خواتین سمیت چودہ افراد ہلاک اور نوے کے قریب زخمی۔ براہ ِراست فائرنگ کے علاوہ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں ، جن میں نوجوان آدمی بھی شامل تھے اور عورتیںبھی،پر بیہمانہ طریقے سے تشدد کرنا ہمارے ماحول کاہی خاصا ہے، لندن کو اس سے معذور ہی سمجھیں۔ اور پھر یہ کوئی انہونی تھی اور نہ ہی کوئی انوکھا واقعہ تھا، بلکہ یہ رائے ونڈ محل کی اہم دفاعی اور خفیہ اداروں کے ساتھ خودساختہ محاذآرائی کی وسیع ترتصویر کا ایک خاکہ تھا۔ مشرف کیس کی کاٹھ کی ہنڈیا.... پہلے اس پر راضی ہوگئے کہ اگر وہ ایک مرتبہ عدالت کے سامنے پیش ہوجائیںتو اُنہیں باہر جانے کی اجازت دے دی جائے گی اور پھر اس مفاہمت سے مکر گئے.... رائے ونڈ محل کے جوشیلے ماحول میں چولہے پر چڑھائی گئی تھی۔ یہ دریائے ٹیمز کے کنارے بننے والی باربی کیو نہیں تھی۔ اگر مشرف کیس برطانیہ کا کوئی مسئلہ ہوتا تو انگریز اس سے مختلف انداز میں نمٹتے۔ وہ کم از کم اتنا خیال ضرور رکھتے کہ اس دوران ہر وہ شخص جس کی شکل پرویز رشید، خواجہ آصف اور سعد رفیق سے تھوڑی سی بھی ملتی جلتی ہے، وہ نہ تو ٹی وی کیمروں کے سامنے آئے اور نہ ہی اپنی زبان کو زحمت دے۔ ان میںسے سعد رفیق کی فخریہ پیشکش کا جواب نہیں ہوتا....’’مرد کا بچہ بن‘‘ ۔ یہ جملہ مشرف کے لئے بولا گیا تھا جب وہ عدالت کے سامنے پیش نہیںہورہے تھے۔دوسری طرف اہل ِ برطانیہ کی پیش کش ، تین جاسوس، نارمن وزڈن، پیٹر سیلرزوغیرہ جیسے کھیل ہوتے ہیں لیکن وہ ان کے کرداروں کا رائے ونڈ کابینہ سے کیا مقابلہ۔

    ماڈل ٹائون کیس دائرکرنے سے انکارلندن میں ہوا تھا؟ مانا کہ تاریخ انگریزوںکی چالبازیوںسے بھری پڑی ہے کیونکہ نوآبادیاتی نظام پر مبنی وسیع وعریض سلطنت ایسے ہی تو قائم نہیںہوگئی تھی لیکن محال ہے کہ لندن میں ایسا پلان بنے کہ چودہ افراد کو سفاکی سے گولی ماردی جائے اور اس کا مقدمہ بھی درج نہ ہونے دیا جائے۔ کسی برطانوی شہری کو یہ بات بتائیں (قتل کا مقدمہ درج نہ ہونے والی) اور پھر اس کا جواب سن کر یاد رکھیں۔ یہاں دو ماہ تک صوبائی حکومت نے پوری کوشش کی کہ مقدمہ درج نہ ہو، لیکن پھر ایک دلیر سیشن جج صاحب نے ایسا کرنے کا حکم دیا۔اس کے بعد بھی اس میں نامزد وزراء لاہور ہائی کورٹ میں چلے گئے جہاں ایک فاضل جج صاحب نے ایسا فیصلہ سنا دیا کہ عدالتی تاریخ اس کی مثل پیش کرنے سے قاصر ۔ اُنھوںنے پولیس کوہدایت کی کہ اُس وقت ملزموں کو گرفتار نہ کیا جائے جب تک ان کے خلاف ٹھوس ثبوت نہ مل جائیں۔ اگر اس کو سند بنالیا جائے تو پھر قتل کا ہر ملزم خوشی سے شادیانے بجاسکتا ہے۔

    کیا پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے لاہور کے ہر انتخابی حلقے میں کی جانے والی دھاندلی کا پلان MI 6نے لندن میں بنایا تھا؟لندن والے بچارے تو دھاندلی کے ایسے گرُ خواب میں بھی نہیں سیکھ سکتے۔ یہاں ہر پولنگ اسٹیشن پولیس سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اتنی پولیس کبھی انتخابات کے موقع پر نہیں دیکھی گئی۔ انتخابات سے پہلے تمام واقعاتی شواہد مل رہے تھے کہ شہری علاقوں میں حمایت کی چلنے والی ہوا کا رخ عمران خان کی طرف ہے، لیکن شام تک ہوا تو کیا رُت ہی بدل گئی۔ تمام شہرحیرت سے انگلیاں کاٹ رہا تھا کہ ووٹ جس کو بھی ڈالے گئے تھے، گنتی رائے ونڈکی حمایت میں ہی ہوئی۔

    گزشتہ اٹھارہ ماہ سے عمران خان نے ہر قانونی اور عدالتی دروازہ کھٹکھٹا کے دیکھ لیا۔ وہ صرف چار انتخابی حلقوں میں دوبارہ گنتی کا مطالبہ کررہے تھے، اور دوبارہ گنتی کا آئین میں طریقہ موجود ہے، لیکن کسی نہ کسی بہانے سے اُنہیں ٹالا جاتا رہا۔ مجبور ہوکر اُنہیں اپنے آئینی حق کے لئے سڑکوں پر آنا پڑا۔ کیا یہ کسی لندن پلان کا حصہ تھا؟وزیر ِ اعظم نواز شریف اور ان کے نابغہ ٔ روزگار، فخر شاہجہان بھائی کا کیا ہے، وہ اپنے مسائل کے لئے داعش یا باکوحرم کو مورد ِ الزام ٹھہراسکتے ہیں، لیکن اس تمام معاملے پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے بھی تمام بات عیاں ہوجاتی ہے کہ اپنے پائوں سے کانٹا نکالے بغیر بیل کو سرخ کپڑا دکھانے کی عادت نے اُنہیں یہ دن دکھائے ہیں۔ اس میں لندن پلان نہیں، اپنے خبط کا شاخسانہ کارفرماہے۔ اگر سچ بولنے پر کوئی انعام ہوتا تو اُس پر فنانس منسٹر اسحٰق ڈار کا حق ہوتا.... بالکل جیسے پاکستانی فٹ بال ٹیم آسانی سے جرمنی یا برازیل کو ہرا کر اکثر ورلڈ کپ جیت لیتی ہے۔ مسٹر ڈار کی طرف سے کیے گئے بہت سے معاشی تجزئیے فکشن کے عالمی ادب میں جگہ پاسکتے ہیں۔ وہ ایسے دعوے کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے کہ پاکستان میں معاشی انقلاب آیا ہی چاہتا تھا بس دھرنوں اور فلڈ نے کام خراب کردیا۔ہمارے ہاں بہت سے معتبر ماہر ین ِ معاشیات موجود ہیں۔ ان کے تجزئیے پڑھیں تو ڈارصاحب کے دعووں کی قلعی کھل جائے گی۔

    حکمران خاندان، جو اس سرزمین کو دور دور تک اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہے، کو سمجھ نہیں آرہی کہ بنیادی مسلۂ ہے کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ذہنی طور پر ابھی بھی ضیا دور میں جی رہے ہیں جب اقتدار اور مالیات میں عقد ِ ثانی ہوا کرتا تھا۔ بنک قرضہ جات حاصل کرنے اور معاف کرانے جیسے معاشقوں کی بھی گنجائش موجود تھی اور سیاسی طاقت سے ہی کاروبار پر بہار آتی تھی اور گلوں میں رنگ بھرتے تھے۔تسلیم کرنا پڑے گا کہ اُس دور میں ان معاملات میں رائے ونڈکی ہمسری کاشاید ہی کوئی دعویدار ہو۔ 1990 کی دہائی میںبنکوں کے کنسورشیم سے چار بلین روپے کے حاصل کردہ قرض سے آج تک ایک پائی واپس نہیں کی۔ یہ تو ان کے ہنر کی ایک ادنیٰ سی کہانی ہے ، ورنہ اس الف لیلیٰ کے دفتر کے دفتر سیاہ ہیں۔ مہران گیٹ اسکینڈل، جس میں آئی ایس آئی اور دیانت داری کے پیکر جنرل (ر) اسلم بیگ نے مہران بنک کے یونس حبیب سے رقم لے کر پی ایم ایل (ن) کے رہنمائوں، جن میں ہمارے دوست جاوید ہاشمی بھی شامل تھے، میں تقسیم کی۔ پاکستان کے شہری علاقوں میں رہنے والے تعلیم یافتہ افراد کو آج سے پہلے سیاست میں زیادہ دلچسپی نہیں تھی۔ اسی طرح نوجوان، طلبہ اور پیش ور افراد بھی روایتی طرز ِ سیاست سے بیزارتھے ، لیکن یہ لوگ اب عمران خان کی دوٹوک باتوں اور علامہ قادری کی شعلہ بیانی کو سن رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے اندر جذبے تحریک پارہے ہیں۔ یادرہے، یہ پاکستانی لوگ ہیں اور ان میں بیشتر کبھی لندن نہیں گئے ۔ اس لئے یہ کسی لندن پلان کا حصہ نہیں ہوسکتے۔ یہ پاکستان میں برپا ہونے والی تبدیلی کے آثار ہیں۔ آپ اس کا نام جو مرضی پلان رکھ لیں، اگر ہماری قسمت نے یاوری کی تو پرانے تخت الٹے جانے کا وقت آن پہنچا ہے۔

    http://jang.com.pk/jang/sep2014-daily/27-09-2014/col2.htm