مقدس روحانیت مذہب اور چیف جسٹس فیر صاحب کے فکری غوطے



  • مقدس روحانیت اور مذہب ایک طرح سے ابستراکٹھ کانسپٹ ہیں لیکن بحث کے لئے ان کی محدود قسم کی تعریف کرنے کی ضرورت ہے

    تاکہ آئیڈیا سمجھایا جا سکے

    روحانیت ایک طرح سے مقدس کی تلاش ہے یا اس کوشش کے دوران سوچ اور عقل کی مختلف منزلیں تہ کرنا اور اس پروسیس کے دوران ذاتی تبدیلی کے عمل سے گزرنا اور سبجیکٹو ایکسپیرینس سے گزرنا اور سیککولوجیکل چینج سے گزرنا . مقدس کچھ بھی ہو سکتا ہے جیسے کہ بدھ ازم میں خدا کا کوئی تصور نہیں لیکن پھر بھی وہ ایک مذہب ہے اور اس میں "شعور " حاصل کرنا ایک مقصد ہے . مذہب ایک طرح سے لوگوں کا اکثریتی فیصلہ ہے کہ مقدس تک پونھچنے کا کیا راستہ ہے اور کون سے روحانی عمل انسان کو منزل تک پوھنچاتا ہے . مذہب وال مارٹ اپپروچ کے ذریع روحانی پروسسس کی ہول سیل مارکیٹنگ کرتا ہے اور جب اس میں سے روحانیت غائب ہو جائے تو ایک چیپ چینی پروڈکٹ کی مانند بکتا ہے جو وقتی ضرورتیں تو پوری کرتا ہے لیکن لاسٹنگ ذہنی ، جسمانی اور انسانی فلاح و بہبود کے دور اثر فائدے گول کر دیتا ہے .

    چیف جسٹس فیر صاحب چائنیز مذہب کے چیپ پراڈکٹ پر لعنت بھیج کر ابھی ایک ذہنی لمبو میں ہیں جہاں ان کے ساتھ اس ریل کے ڈبے میں انجمن ستائش باہمی کے اوسط عقل اور فہم کے مضمون نففیس ، ذہنی خلفشار کے شکار ذہنی اور فکری چڑلیں ، صدمے اور شاک سے برپور جاہل جذباتی فکری بیوائیں ( روحی بانو ) اور ایسے کمی اشتراکی جو اپنے کمی پن کے جینیٹک صدمے کی وجہ سے کھل کر اپنے خیالات کے اظہار سے شرماتے ہیں

    چیف جسٹس فیر صاحب سے مودبانہ گزارش ہے کہ مسخروں کے اس ہجوم میں سے اپنے آپ کو غور و فکر کر کے باہر نکالیں اور ذہنی بیماروں اور نفسیاتی مریضوں کے اس ہجوم میں جو اپنے ڈپریشن کا علاج کرنے کے لئے شراب پینے کے شوق میں لبرل بنے ہوے ہیں پر لعنت بھیج کر انھیں اپنی چولیں مرنے کے لئے آزاد چھوڑ دیں .

    ذہنی بیمار اور نفسیاتی مریض چاہے "مذہبی " یا "لبرل" لبادہ اوڑھ لے وہ ہر جگہ فرج کو الماری کہہ کر خریدنے کی کوشش کرتا ہوا پکڑا جاتا ہے

    چیف جسٹس فیر صاحب سے گزارش ہے کہ مذہبی اونٹ سے لبرل اونٹ بننے کی جگہ پہلے اپنے آپ کو سمجھیں اور غصہ میں آ کر پہلے سوچ کے شیر بنیں اور اس کے بعد ایک نیا جنم لے کر دنیا کو ایک نومولود بچے کی طرح ایک نئے اینگل سے دیکھیں

    شاک اور صدمے میں موجود فکری بیواؤں کو ٹاٹا کر کے ایک نئی دنیا میں آئیں





  • Socrates : " Well I am certainly wiser than this man. It is only too likely that neither of us has any knowledge to boast of; but he thinks that he knows something which he does not know, whereas I am quite conscious of my ignorance. At any rate it seems that I am wiser than he is to this small extent, that I do not think that I know what I do not know. "



  • انسان بہت دفعہ اپنے اندر رونما ہونے والی تبدیلیوں کو خارجی سمجتا ہے ، کبی سٹینڈرڈ فورڈ پلاٹو کی ویب سائٹ پر جاتا ہے ، کبی وکیپیڈیا سے لوگوں کو پڑھ کر خود کو تلاش کرنے کی یا چیف جسٹس فیر کو جج کرنے کی فکر میں اپنا وقت برباد کرتا ہے ، کبی رومی کی کونفویزن سے اپنی کونفویزن ملانے کی کوشش کرتا ہے، اپنے خیالات کی ترویج کے لئے دوسروں سے ادھار چیزیں لیتا ہے لیکن آخر میں جب چیف جسٹس فیر کو یہ صدا لگاتا دیکھتا ہے

    سرمۂ مفتِ نظر ہوں مری قیمت یہ ہے

    کہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا

    رخصتِ نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم

    چہرہ لوٹا سے ہو ظاہر غمِ پنہاں میرا.

    پھر رضائی لپیٹ کر سو جاتا اور توبہ کر لیتا ہے کہ آیئندہ یہ کام نہیں کرنا انسان یہ سوچتا ہے کہ شائد اس کے اندر رونما ہونے والی تبدیلیوں. خوشیوں اور غموں کا سارا کریڈٹ باہر کے حالات کو جاتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے تبدیلی انسان کے اندر سے رونما ہوتی ہے اگر وہ خود پر کنٹرول کرنا سیکھ لے تو وہ ہر طرح کے دکھوں غموں اور پریشانیوں سے نجات حاصل کر لیتا ہے -- غم خوشی سب انسان کے اندر ہوتے ہیں ، ریلیٹی مسلسل بدل رہی ہے اور اس کی کوئی ایک شکل نہیں، اس کی تلاش میں کسی چوپرے یا مذہب کے مستقل ادھار جذبات اور احساسات لینے کی ضرورت نہیں، ہر انسان کی حقیقت دوسرے سے مختلف ہوتی ، وہ اپنا آپ خالق ہوتا ہے ، اپنی شخصیت کی اس تشکیل کے لئے اسے کسی محمد یا چوپرے کی میڈی ٹیشن کی ضرورت نہیں -- دنیا میں کوئی بھی منظر مستقل نہیں۔ ہر لمحہ ہر تہذیب ، ہر کلچر بدل رہا ہے انسانی عقل محدود ہے چاہے محمد کی ہے یا بدھا یا چوپڑہ کی، اگر انسانی دماغ بے یک وقت انتنی زیادہ کونفویزن ڈال دی تو اس کا دماغ الٹیاں کالا بازیاں مارنا شروع کر دیتا ہے اس کے نیوران ایسے مس فائرنگ کرتے ہیں کہ وہ اپنی حقیقت بھی کھو دیتا ہے اور چیف جسٹس کی حقیقت منتظر کے پیچھے لگ جاتا ہے اور اپنی حقیقت کھو جاتا ہے یہ بھول جاتا ہے کہ چیف جسٹس تو اپنی حقیقت میں ہزار لباس درد کے پہنے ہوے ہے اس کے کس درد کو کس فلفسے میں ڈانپو گے وہ تو اپنی جستجو میں کن فکان اور حد لامکاں سے گزر چکا ہے

    اگر انسانی سوچ پر اپ یا ملا نفس بکریا کا یا کسی خدا یا لالچ یا خوف کا یا کسی وکی پیڈیا کا پہرا بیٹھا دیا جاے تو وہ کسی بھی تصویر کی منظر کشی صحیح نہیں کر سکے گا بلکے مکمل منظر کو دیکھنے والوں کو کچھ اور بنا دے گا جیسے اپ نے مجھے اوپر کچھ بنانے کی کوشش کی اور اس کے سامنے زندگی ایک فلم بن جاے گی بلکے وہ خود ایک فلم جاتا ہے اور دماغ مداری بن کر دوسروں کو بندر والا تماشا دکھانا شروع ہو جاتا ہے

    اگر دماغ خوف ، خدا یا لالچ سے ہر منظر کی تصویر کشی کرے تو وہ صرف ان منظروں کو زیادہ دیکھے گا جہاں اسے لالچ دکھائی دے گا وہ اسے مزید فوکس کر کے اس کی گہرائی اتر کر زیادہ پیسے کماتا ہے جیسے کہ چوپڑا اور یا محمّد کی ایک مال دار خاتون سے شادی اور پھر غاروں میں میڈی تشن جس منظر میں کوئی فکری چڑیل نظر آ رہی ہو وہاں سے وہ راہ فرار اختیار کرتا ہے۔ اور مسلسل دوڑتا چلا جاتا ہے۔ لالچ اور خوف سے آلودہ سوچ کے حامل دماغ میں ایک ہی کیفیت یا ایک ہی موسم نظر اتا ہے ، آپ یا ملا ، یا نفسی زکریا ، یو پاکی صاحب ہو گئے، یا یہاں جتنے بھی مذبی ہیں اس کی سوچ ایک جگہ ٹھری ہوئی ہے وہ خود سے کچھ نہیں لکھ سکتے پہلے سے رائج شدہ خیالات کا اظہار کرتے ہیں

    انسان کا بچپن بہت خوبصورت ہوتا ہے ، کیوں کہ اس کوئی لالچ یا خوف نہیں ہوتی ، بچہ معصوم ہوتا ہے وہ کسی سے ناراض بھی ہوتا تو پھر اس سے راضی ہو جاتا ہے ، وہ اپنی میڈی ٹیشن خود کر رہا ہوتا ہے کہ لوٹا یا ملا نفسی آتا ہے اور کہتا تم غلط کر رہے ہو ، تم پر ٢٥ دن میں الله کا عذاب انے والا ہے تم ڈرتے ہوے ہو ، اور وہ اپنی فکر کے خلاف رد عمل شروع کر دیتا ہے پھر لوٹا اور ملا اس کو ایک بے حس انسان بنا دیتے ہیں اور اس کا ہرعمل ایک رد عمل بن جاتا ہے کیونکہ کہ اس کی سوچ اپنی نہیں ہوتی لوٹے سے ملا یا محمّد یا چوپرے کی دی ہوئی بن جاتی ہے جن کے پیچھے دو وجہیں چل رہی ہوتی ہیں ایک خدا ، دوسری خوف اور لالچ سب مذبی چوپرے جیسے لوگ اپنے بچوں کی تربیت یوں کرتے ہیں کہ فلاں کام نہں کرنا کیونکہ وہ گناہ ہے اور اس کی سزا ملے گی،۔ اور فلاں کام کرنا ہے کیوں کہ وہ ثواب ہے اور اس کا اجر ملے گا۔ردعمل کا عادی انسان دراصل ایک بےحس وجود ہوتا ہے پھر انسان جیسے جیسے بڑا ہوتا ہے وہ خود کو ڈھونڈنے کی بجاے محمّد کے عرب خدا ، یا چوپرے کے بدھے کو ڈھونڈنے شروع ہو جاتا ہے اور اس دوران اس کا انتقال ہو جاتا ہے اور اس -کے سامنے ایک پوری انسپشن مووی بن جاتی ہے

    تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ

    جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا

    لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز

    لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا

    :

    لوٹا   تم ایک آدمی کو ایک جانور کی طرح نہیں توڑ سکتے ، تم اس کو جتنا جانوروں کی طرح توڑنے کی کوشش کرو گے ، اسے سوٹیوں سے مارو گے وہ اتنا ہی مضبوط ہوگا ایک انسان کو توڑنے کے لیےاس کے دماغ کو قابو کرنے کا ہنر سیکھو ، اس کی مرضی اپنی بنانے کے لئے تمیں اس کا دماغ توڑنا اور قابو پڑے گا لوگ سمجتھے ہیں کہ وہ چیف جسٹس فیر کو توڑ لیں گا لیکن یہ جمالیاتی استعارہ ہے اور مضحکہ خیز بات ہے انسان کا وقار توڑنے کے لئے سب سے پہلے تم اس کو یہ بتاؤ کہ آدمی کیا چیز ہے اس کے دماغ کو قابو کرو پھر تم اس کے پرسنل مونسٹر بن جاؤ گے

    لوٹا کیا میں نے تمیں کبھی پاگل-پن کی تعریف بتائی ہے پاگل پن مطلب ہے ایک ہی چیز کو بار بار دہرانا ... لوٹا مجھے معلوم ہے تمارے پاگل پن کی وجہ کیا ہے ، تم چیزوں کو دوہرانا شروع کیوں ہو گے ہو ، کیوں کہ تم زندگی میں کہیں ناکام ہو چکے ہو ، اس ناکامی کے سب تم نے چیزوں کو دوہرانا شروع کر دیا ، مجھے معلوم ہے تم غصے میں ہو



  • چیف جسٹس فیر صاحب

    آپ کا سارا جواب پھر چائنیز برانڈ مذہب کی مذمت پر مبنی ہے . آپ مذہب کے اتنے ڈسے ہوے ہیں کہ لالچ اور خوف سے آگے سوچنے سے قاصر ہیں اور اس کے علاوہ باقی تمام پراسیس کو انلائز کرنے سے انکاری ہیں.

    چیف جسٹس تو اپنی حقیقت میں ہزار لباس درد کے پہنے ہوے ہے اس کے کس درد کو کس فلفسے میں ڈانپو گے وہ تو اپنی جستجو میں کن فکان اور حد لامکاں سے گزر چکا ہے


    لالچ خوف ڈر اور درد


    چیف جسٹس فیر صاحب اگر آپ اپنے کہنے کے مطابق اپنی حقیقت سے واقف ہیں تو یہ جذبے آپ کے حواس پر چاھے کیوں ہوے ہیں ؟

    آپ کے کہنے کے مطابق

    انسان یہ سوچتا ہے کہ شائد اس کے اندر رونما ہونے والی تبدیلیوں. خوشیوں اور غموں کا سارا کریڈٹ باہر کے حالات کو جاتا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے تبدیلی انسان کے اندر سے رونما ہوتی ہے اگر وہ خود پر کنٹرول کرنا سیکھ لے تو وہ ہر طرح کے دکھوں غموں اور پریشانیوں سے نجات حاصل کر لیتا ہے -- غم خوشی سب انسان کے اندر ہوتے ہیں ، ریلیٹی مسلسل بدل رہی ہے اور اس کی کوئی ایک شکل نہیں، اس کی تلاش میں کسی چوپرے یا مذہب کے مستقل ادھار جذبات اور احساسات لینے کی ضرورت نہیں، ہر انسان کی حقیقت دوسرے سے مختلف ہوتی ، وہ اپنا آپ خالق ہوتا ہے ، اپنی شخصیت کی اس تشکیل کے لئے اسے کسی محمد یا چوپرے کی میڈی ٹیشن کی ضرورت نہیں -- دنیا میں کوئی بھی منظر مستقل نہیں۔ ہر لمحہ ہر تہذیب ، ہر کلچر بدل رہا ہے انسانی عقل محدود ہے


    تو پھر یہ ہر وقت لالچ خوف ڈر اور درد کا رولا کیوں ؟

    امیر بیوہ سے شادی .....کوشش کرو حسد نہ کرو

    چیف جسٹس فیر صاحب

    زندگی میں ناکامی تب ہے جب انسان لالچ خوف ڈر اور ان کی وجہ سے درد میں ہو

    غصہ تب اتا ہے جب انسان جو کہنا چاہتا ہے وہ کسی کو بتا نہ سکے


    انسان کا وقار

    اس پوسٹ کا مقصد انسان کا وقار تھوڑنا نہیں

    بلکہ آئیڈیا عدالت میں پیش کرنا تھا

    جب معزز عدالت لالچ خوف ڈر اور ان کی وجہ سے درد سے نکل جائے گی تو بات بھی سمج ا جائے گی

    انسانی دماغ جیسے ریالٹی بنانے کی کوشش کرتا ہے

    ویسے ہی درد بھی ایک نقلی چیز ہے جو دماغ کریٹ کرتا ہے

    نہ فکرِ سلامت نہ بیمِ ملامت

    ز خود رفتگی‌ہاۓ حیرت سلامت



  • لوٹا جی

    اپ تو کوئی ڈھنگ کا جواب ہی نہ دے سکے ، حلانکے کہ اپ کو پورا موقع دیا گیا اپنا دفاع کرنے کا آپ تو اپنا دفاع بھی نہ کر سکے کسی کا کیا کریں گے وجہ کیوں کہ اپ کہ نظریات اپ کے سب اعتقادات پراے لوگوں کی سوچ پر مبنی ہے اپنی سوچ نہ بنانے کا یہ نقصان ہوتا ہے کہ انسان اپنا دفاع کرنے سے بھی رہ جاتا ہے ، کوئی چوپڑا ، کوئی ارسطو ، کوئی وکی پیڈیا کوئی وکیل اپ کے لئے نہیں بولے گا ، کیوں کہ اب کوئی لنک نہیں چلنے والا اپ کو خود بولنا ہو گا ، اس چیز نے اپ کو کافی عرصے سے فکری پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے ، آپ خود سے دو سطروں سے اوپر کوئی چیز نہیں لکھ سکتے جو لکھتے ہیں اس میں بھی زیادہ میٹریل کسی اور کا ہوتا ہے ، یہ کیا اپنا تقدس پامال کرنے والی بات نہیں ہے ، کہ انسان خود کو دوسروں کے راستے بیان کرے ،

    آپ نے اتنا عرصہ وکی پیڈیا کے لنک پڑھ پڑھ کر کیا کمایا ، جو آپ کے پاس تھا وہ بھی گیا ، اور خدا کے کانسپٹ آپ نے اس کی ایسی بکری بیٹھا دی ہے کہ خدا بھی اب "میں" "میں" "میں" کی آوازیں لگا رہا ہے ، کل رات کو مجھے ایک خواب آیا جس میں میری سامنے حقیقت ظاہر ہوئی ، خداوند بہت پریشان تھے ، میں نے پوچھا ارے کیا ہوا ، کہنے لگے یار اب کچھ نہ پوچھو، مرے لئے بتہر میرا نہ ہونا ہے ، کیوں کہ لوٹا اور ملا نے جو میرا بلات کار کیا ہے اس سے میرا ہونا خطرے میں پڑھ گیا ، میں اگر سامنے بھی ا گیا تو خود شرم سے ڈوب جاؤں گا ، اس لئے جو لوگ مرے وجود سے انکار کرتے ہیں ، وہ ٹھیک کرتے ہیں -- کیوں کہ میرا دنیا کے لئے ہونا ایک ذلت بن چکا ہے ، اور لوٹا اور ملا اور مجھے ثابت کرنے کے چکر میں مجھے پھسوانا چاہتے ہیں ، پھر رب قدوس نے مجھے بشارت دی کہ تم جو کر رہے وہ اچھا اور نیکی کا کام ہے ، لوگوں کے ذہنوں سے گزرا ہوا زمانہ مٹا دو ، وہ جو نقش بن نہیں سکتا اسے مٹا دو ، یہ دیکھ کر میں اٹھا تو صبح کے آٹھ بجھے ہووے تھے اور خدا واقعی ہی سچا تھا کیوں کہ آفس پونچھتے ہی چھوٹے خدا ڈائریکٹر نے میری چھترول کی

    مذہب کا وجود انے والے دنوں میں خطرے میں پڑتا جا رہا ہے کیوں کہ دنیا سیانی ہوتی جا رہی ہے ، جو لوگ خدا کو چھوڑنا نہیں چاہتے وہ بھی صرف اور صرف کسی لالچ سے اس سے چپٹے ہوے ہیں ، اور جہاں تک مرے خوف و ہراس کی بات میں کسی سے خوف زدہ نہیں میں ایک سرکار کے ادارے میں کافی عرصے سے سے لکھ رہا ہوں ، اگر ہوتا یوں نہ کرنا اپ کے پاس کوئی ثبوت ہے کہ میں خوف زدہ ہوں تو بیان کریں



  • اپ کے پاس کوئی ثبوت ہے کہ میں خوف زدہ ہوں تو بیان کریں


    حیف جسٹس فیر صاحب

    ڈر خوف لالچ اور چھترول کے بعد درد کمی کے ساتھ یہ پچھلے ستر ہزار سال سے ہو رہا ہے (ہو سکتا ہے یہ اس سے بھی پہلے ہو رہا ہو مگر تاریخ میں ذکر نہیں ملتا یا میں ڈھونڈ نہیں سکا). سمیریا کے رہنے والوں اور فرعون حکمرانوں کو پتا تھا کہ زمین سورج کے اردگرد گھوم رہی ہے. انہوں نے اپنے شودروں کو علم نہیں دیا . انہیں پتا تھاکے اگر ان شودروں کو اپنا علم اور ٹیککنولوجی دے دی تو یہ کہیں ہمارے مقبلے پر نہ آجائیں. برہمن جب گیتا کی تلاوت کرتا اور کوئی شودر اسے سن لیتا تو اس کے کانوں میں پگلا ہو سیسہ ڈال دیتا . انفورمشن کی چوری روکنا ضروری تھی ورنہ ڈاکٹر عبدل قدیر اس وقت بھی انی ڈال دیتا . شودر جب اکبر کے دربار میں اپنی باجی جودہ بائی کو بھیجتا تو اسے ہدایت کرتا بادشاہ کو خوش کرنا میری ڈرامے بازی بادشاہ کی اشرفیوں پر چلنی ہے . ان بویائل ہو سارہ ہو یا سیتا سیم ٹوپی ڈرامہ ہے یہ اور بات ہے کہ بعد میں کہانی بن جاتی ہے کہ باجی بادشاہ کی مہمان تھیں اور سات سال بادشاہ نے ہاتھ نہیں لگایا (جو شائد سچ بھی ہو) . خاوند خود بھائی بن کر بادشاہ کے دربار میں کسٹرڈ انجونے کرتا ہے اور بعد میں تیس کتابیں لکھ دیتا ہے کے کیسے بیوی (باجی ) پیشاب کرتی تھی اور فرشتے وضو کرتے تھے .

    کمی یا شودر جب فرعون یا پنڈت سے انفورمشن چوری کر کے مذہب بناتا ہے تو دو نمبر انفورمشن کی وجہ سے اس میں کمی رہ جاتی ہے . نقل کے لئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے . کمی کو طاقت ملے تو اپنے پیغمبر کا ڈی این آئے بھی کربلا میں مٹا دیتا ہے . ڈر ، خوف ، لالچ اور ان کی وجہ سے چھترول کے درد کا ڈر چیز ہی ایسی ہے .

    کمی اپنے کسی بھی روپ میں اپنے جینیٹک ڈر خوف لالچ چول پن اور چھترول کے خوف سے چھٹکارا نہیں پا سکتا . ایسا شائد قدرتی جینیٹک اداپٹشن کے ذریع ممکن ہے یا پھر اس عمل کو آپ ہسٹری میں یتیم اور غریب کمیوں کے پیغمبر بننے کے عمل کے دوران دیکھ سکتے ہیں . انہوں نے جتنا رائز ابوو کیا ہے اس سے سری دنیا حیران اور پریشان اس بات کو معجزہ که کر انھیں فولو کر رہی ہے .

    کمی روشن خیال بھی بن جائے تو اپنی اوقات شراب کے دو گلاس پی کر دیکھا دیتا ہے . کمی علامہ کے روپ میں ہو تو بھی سیم گند کرتا ہے .

    کمی لندن بھی پوھنچ کر قدرت کی چھترول کے بعد سکتے میں گونگی باندری کی شکل میں یا میں ایک کمی ہوں اور کچھ نہیں کر سکتا کی کتاب لکھتا نظر آئے گا .

    چیف جسٹس فیر صاحب آپ نے اپنے حلفیہ بیان میں اپنی جاب پر ڈائریکٹر سے اپنی چھترول کو مانا ہے

    ذمے داریاں زنجیروں کی طرح ہیں جن کی وجہ سے انسان کو برداشت کرنا پڑھتا ہے

    آپ کی پوسٹ پھر مذہب جو کے ایک اکثریتی فیصلہ ہے کہ خدا تک پوھنچنے کا راستہ جاودا لبھر نے کیا دیا ہے پر اصرار ہے

    شودر یا کمی جب فرعون اور پنڈت کی نقلی انفورمشن پر مذہب بنائے گا تو اس میں گند تو ہو گا

    آپ اس کیچڑ میں پھس گئے ہیں

    فور بائی فور گیر تب لگے گا

    جب ڈر لالچ خوف اور چھترول کا ڈر دل سے نکل جائے گا

    چیف جسٹس فیر صاحب امیر بیوائیاں آپ کا انتظار کر رہی ہیں

    وہ آپ کی میڈی ٹیشن کا خرچہ بھی اٹھائیں گی آپ کو بزنس بھی کرائیں گی اور آپ کی ڈائریکٹر کی چھترول سے جان بھی چھڑ وائیں گی

    اپ دوسرے گیر میں انے کی ہمت تو کریں

    اپنے دل سے لالچ ڈر خوف اور چھترول کے ڈر سے چھٹکارا تو پائیں

    کام اتنا آسان نہیں ورنہ اپنے خیالات والے چیتے گم سم لچھو بانندری کے روپ میں پھس نہ جاتے

    علامہ اقبال ذہین آدمی تھے لیکن زندگی کے ہاتھوں مارے گئے

    چیف جسٹس فیر صاحب آپ اگر اپنے صحیح پوٹینشل پر پوھنچھیں تو امیر بیوائیں آپ کے ارد گرد گھیرا ڈال کر آپ کے خوابوں کو روزانہ سنیں گی

    جو بھی کمی اس پوسٹ کو پڑھے گا اسے لگے گا کہ اس پوسٹ میں میں توہین عدالت کر رہا ہوں

    اس کی غلطی نہیں

    یہ ان لوگوں کا بچہ ہے جنھیں انگریز کہتا تھا پنکھا بند کرو

    تو وہ سوئچ اوف کرنے کی جگہ ڈانگ استعمال کر کے پنکھا روکتا تھا



  • “Beyond our ideas of right-doing and wrong-doing,

    there is a field. I’ll meet you there.

    Rumi

    ایک نمبر ویگن یہاں پر نہیں اتی .

    دو نمبر ویگن لے کر پاگل خانے کے اگلے والے اسٹاپ پر اتر جائیں



  • تم میں کوئی امیر بیواؤں کا چاہنے والا ہی نہیں

    جلوہ طور تو موجود ہے موسیٰ ہی نہیں



  • لوٹا جی

    آپ پتا نہیں کیا چولیں مار رہے ہیں میری چھوٹی سی سمجھ سے باہر ہے ، شائد آپ کو کوئی شک ہو گیا ہے یا شائد اپ ستیا گۓ ہیں زیادہ پڑھ پڑھ کر ، یہ آپ کے لئے بہت خطرناک ہے یا پھر آپ میری پوسٹوں کو اپنی توہین میں لئے جا رہے ہیں حلانکے میں نے آپ کی کسی پوسٹ کو نہیں لیا ، سمیرہ میں رہنے فرعونوں کو کچھ نہیں پتا تھا وہ سب چول تھے اور سورج کے پجاری تھے اور اپنے اپ کو سورج خدا کا بیٹا کہتے تھے شائد اپ کی طرح کسی غرور میں مبتلا تھے کہ ان کو ہر چیز کو خبر ہوتی ہے اگر آپ مصری آرٹ دیکھیں تو اس میں آپ کو ایک خدا ملے گا جس کا سر بھڑیا کی طرح اور اس نے ہاتھ میں لوٹا اٹھایا ہوا ہے شائد وضو کرنے کہیں جا رہا ہے ممکن ہے آپ میں اس کی روح ا گئی ہے کیوں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ ١٠٠ سال بعد روح کسی انسان میں منتقل ہوتی ہے اصل میں ہوا یوں کہ ١٣٠٠ صدی قبل مسیح میں موسیٰ فرعون کے شاہی خاندان میں جنرل تھا ، فرعون اور اس کے بیٹے نے موسیٰ سے مل کر کسی تیسری فوج پر حملہ کرنا تھا ، فرعون آخری سانسیں لے رہا تھا اس کے پاس مجود نجومی نے اسے کہا اس جنگ میں کوئی نہیں جیتے گا اور موسیٰ اور تمارے بیٹے میں جو دوسرے کی جان بچانے گا وہ آنے والا بادشاہ ہو گا ، موسیٰ دوہریا تھا یعنی کسی خدا کو نہیں مانتا تھا اس نے نجومی کی پشین گوئی کو جٹلا دیا اور کہا میں ایسی چولوں پر یقین نہیں رکھتا نجومی نے اس کو خبر دار کیا تم کمی ہو اپنی اوقات میں رہو ایک بیوہ سے شادی کرو گے اور جب جنگ شروع تو وہاں ایک ایسا سین آیا جس کی پیشن گوئی نجومی نے کی تھی اس میں موسیٰ فرعون کے بیٹے کی جان بچاتا ہے ، یہ دیکھ کر فرعون کے بیٹے نے موسیٰ سے دشمنی لگا لی اور اس پر تھریڈ لگانا شروع کر دیے کہ اس کمی سے میری بادشاہت کو خطرہ ہے اور تھریڈ میں پتا نہیں کیا کیا چولیں مارنا شروع کر دی ، شروع میں تو موسیٰ کو بھی کچھ سمجھ نہیں ائی کہ یہ معاملہ کچھ اور ہے

    میری آج کل ایک امیر بیوہ تو نہیں ہے لیکن امیر ورجن سے بات چل رہی ہے ، لیکن مسلہ یہ ہے کہ اس کی عمر چالیس کے لگ بگ ہے ، وہ مجھ سے سے شادی کرنا چاہتی ہے ، اس کا اپنا کاروبار ہے شائد مرے لئے خدیجہ کا کام کرے میں ابھی اس مسلے پر سوچ رہا ہوں باتوں باتوں میں مجھے کہنے لگی کہ مجھے زہین سا بیٹا دینا میں نے کہا تم تو بوڑھی ہو رہی ہو، جوانی کا سورج ڈھل رہا ہے کہنے لگی تو کیا ہوا ابراہیم کی بھی تو ٨٠ کی سال میں ملا تھا ، میں نے کہا پھر اگر مجھے کوئی خواب آیا بیٹے کو ذبح کر دو ، کہنے لگی چولیں نہ مارو



  • چیف جسٹس فیر صاحب

    اگر فرعون کمیوں کو بتا دیتے یا سمریا والے کمیوں کو بتا دیتے کہ انھیں کیا پتہ ہے تو کمی بھی ان سے سیکھ جاتے. انہوں نے کمیوں کو ایسا الو بنایا ہے کہ کمی ٢٠١٥ میں بھی اس بات کو سمج نہیں سکے کہ فرعون اور سمیریا کو کیا پتہ تھا .

    چیف جسٹس فیر صاحب آپ نے چالیس سال کی ورجن کو بھی پریشان کر دیا ابھی تو رجسٹریشن بھی نہیں ہوئی اور آپ نے بچے ذبح کرنے شوروح کر دیے ہیں

    پی ٹی ایس ڈی پھلانے سے پرہیز کریں

    ہر وقت پریشان ڈر خوف اور چھترول سے پرہیز کیجیے

    چالیس سال کی ورجن کے ساتھ جلو پارک جا کر نہانے کا پروگرام بنائیں

    فیوچر میں بچے کو ڈزنی لینڈ لیجانے کے پلان بنائیں

    اور ہلاکو خان کے خوابوں کی جگہ کوئی باغ میں واک کا پلین بنائیں



  • “Beyond our ideas of right-doing and wrong-doing,

    there is a field. I’ll meet you there.

    Rumi


    لوٹا

    انفرادی طور پر تم ہمیشہ اس جہدو جہد میں رہو کہ تماری شخصیت پر لوگوں کے اثر نہ آ جاۓ . ایسی صورت میں تم کبی کبی خود کو تنہا اور خوف زدہ محسوس کرو گے ، لیکن اپنے آپ کی ملکت حاصل کرنا بجاتے اس کہ کہ لوگ تمارے مالک بن جاے ، یہ بہت سستی سہولّت ہے ، اگر تم جانو ، رومی کیا جانے اس کی تو ہڈیاں بھی گل گئی ہیں

    cheif justic



  • اگر فرعون کمیوں کو بتا دیتے یا سمریا والے کمیوں کو بتا دیتے کہ انھیں کیا پتہ ہے


    اپ نے پھر بات سمجنے میں غلطی کی ، اصل میں ، ان کو وہ کچھ نہیں پتا تھا جو کچھ آپ کو پتا ہے کیوں کہ اس وقت ان کے پاس اپ کی طرح وکیپیڈیا نہیں تھا

    فرعون حکمرانوں کو پتا تھا کہ زمین سورج کے اردگرد گھوم رہی ہے

    ایسا معلوم ہو رہا آپ ان کو وہ کچھ بتانا چاہا رہے ہیں جو کچھ آپ کو پتا ہے ، لیکن آپ کو جو پتا ہے وہ آج کے دور کی بات ہے ، اپ کو شائد ان کوئی فکری ہمدردی ہے